شب برأت احکام ومسائل

مولاناانیس الرحمن قاسمی
قومی نائب صدرآل انڈیاملی کونسل
وچیرمین ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن،پھلواری شریف،پٹنہ
شعبان اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ ہے،عرب قوم ماہ رجب میں آرام وسکون کرنے کے بعد شعبان میں کاروبار تجارت اوردیگر امور کی انجام دہی کے لیے ملک کے اطراف واکناف میں پھیل جاتے اوردوسرے علاقوں کو نکل جاتے،اسی مناسب سے یہ مہینہ شعبان کہلایا، یا یہ وجہ بھی ہے کہ اس مہینہ میں رمضان کے لیے خوب بھلائی پھیلتی ہے۔اس ماہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے مہینوں کی بہ نسبت زیادہ نفلی روزے رکھا کرتے تھے، جیساکہ درج ذیل احادیث میں ہے۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں کسی مہینے کے پورے روزے نہ رکھتے تھے، سوائے شعبان کے،اسے رمضان کے ساتھ ملادیتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روزے رکھنے کے لیے شعبان کا مہینہ سب سے زیادہ پسند تھا،پھر آپ اسے گویا رمضان ہی سے ملادیتے تھے۔
نیزحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفلی روزہ رکھنے لگتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ رکھنا چھوڑیں گے نہیں اورجب روزہ چھوڑدیتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں،میں نے رمضان کے علاوہ آپ کو کبھی پورے مہینہ کا روزہ رکھتے نہیں دیکھا اورجتنے روزے آپ شعبان میں رکھتے،میں نے کسی اورمہینے میں اسے سے زیادہ روزے رکھتے آپ کو نہیں دیکھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان سے زیادہ نفلی روزے دوسرے مہینوں کی بہ نسبت شعبان میں زیادہ رکھا کرتے تھے۔ان احادیث سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے مہینوں کی بہ نسبت شعبان میں زیادہ نفلی روزے رکھا کرتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ تھی کہ شعبان کے دنوں کی دوسرے مہینوں کی بہ نسبت بہت زیادہ حفاظت فرماتے تھے،انہیں شمار کرتے رہتے اورصحابہ کرام کو بھی حکم دیتے کہ رمضان کے روزے شعبان کے ساتھ خلط ملط نہ کریں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کی تاریخوں کی اتنی نگہداشت رکھتے کہ دوسرے مہینوں میں اتنی نگہداشت نہیں رکھتے تھے،پھر چاند دیکھ کر رمضان کے روزے شروع کرتے،اگر کبھی مطلع ابرآلود ہوتا تو شعبان کے تیس دن پورے کرکے رمضان کے روزے شروع کرتے۔)
ماہ شعبان کی فضیلت کے بارے میں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے کہ شعبان؛ ماہِ رجب اور ماہِ رمضان کے درمیان ایک ایسا مہینہ ہے کہ جس سے لوگ غافل رہتے ہیں،حالانکہ اس میں لوگوں کے اعمال اوپر اٹھائے جاتے ہیں اور میں یہ بات پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اوپر اٹھائے جائیں کہ میں روزے کی حالت میں ہوں۔)
شعبان کی پندرھویں رات ”شب برأت“کے نام سے مشہور ومعروف ہے۔حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو اپنی تمام مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں‘پس اللہ تعا لیٰ اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتے ہیں سوائے مشرک اور کینہ پرور کے۔
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نصف شعبان کی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں‘پس تمام مخلوق کو بخش دیتے ہیں اور کافروں کو ڈھیل دیتے ہیں اور بغض رکھنے والوں کو ان کے بغض کے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کو ترک کر دیں۔
حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاہے کہ جب نصف شعبان کی رات ہوتی ہے تو ایک پکار لگانے والا پکار لگاتا ہے کہ ہے کوئی بخشش طلب کرنے والاکہ میں اس کو بخش دوں؟ ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں اس کو عطا کروں؟ پس نہیں کوئی سوال کرتا کسی چیز کے بارے میں مگر اس کو وہ چیز دے دی جاتی ہے سوائے اُس عورت کے جو اپنی شرم گاہ کے ساتھ زنا کرتی ہے اور مشرک کے۔
شب ِ برأت کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں، حقیقت یہ ہے کہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں، جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی، ان میں سے بعض احادیث سند کے اعتبار سے بیشک کچھ کمزور ہیں اور ان احادیث کے کمزور ہونے کی وجہ سے بعض علماء نے یہ کہہ دیا کہ اس رات کی فضیلت بے اصل ہے؛ لیکن حضرات محدثین اور فقہاء کا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو؛ لیکن اس کی تایید بہت سی احادیث سے ہوجائے تو اس کی کمزوری دور ہوجاتی ہے، اور جیساکہ میں نے عرض کیا کہ دس صحابہ کرام سے اس کی فضیلت میں روایات موجود ہیں،لہٰذا جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام سے روایات مروی ہوں، اس کو بے بنیاد اور بے اصل کہنا بہت غلط ہے۔
امت مسلمہ کے جو خیرالقرون ہیں؛یعنی صحابہ کرام کا دور، تابعین کا دور، تبع تابعین کا دور، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے،لوگ اس رات میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے رہے ہیں، لہٰذا اس کو بدعت کہنا، یا بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں، صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے، اس رات میں عبادت کرنا باعث ِ اجر و ثواب ہے اور اس کی خصوصی اہمیت ہے،اس میں دعا قبول ہوتی ہے،مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت ہوتی ہے،لہذا اس رات گھروں میں نماز،تلاوت اوردعا کا اہتمام کرنا چاہیے۔
البتہ یہ بات درست ہے کہ اس رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کہ فلاں طریقے سے عبادت کی جائے، جیسے بعض لوگوں نے اپنی طرف سے ایک طریقہ گھڑ کر یہ کہہ دیا کہ شب ِ برأت میں اس خاص طریقے سے نماز پڑھی جاتی ہے، مثلاََ پہلی رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے، دوسری رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے وغیرہ وغیرہ، اس کا کوئی ثبوت نہیں،یہ بالکل بے بنیاد بات ہے؛ بلکہ نفلی عبادت جس قدر ہوسکے،وہ اس رات میں انجام دی جائے، نفل نماز پڑھیں، قرآن کریم کی تلاوت کریں، ذکرکریں، تسبیح پڑھیں،دعائیں کریں، یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جاسکتی ہیں؛ لیکن کوئی خاص طریقہ ثابت نہیں۔
اس رات میں ایک اور عمل ہے جو ایک روایت سے ثابت ہے،وہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں تشریف لے گئے، اب چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس رات میں جنت البقیع میں تشریف لے گئے؛اس لیے مسلمان اس بات کا اہتمام کرنے لگے کہ شبِ برات میں قبرستان جائیں،واضح رہے کہ جوچیز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس درجہ میں ثابت ہو، اسی درجے میں اسے رکھنا چاہیے، اس سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے، لہٰذا ساری حیاتِ طیبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمسے ایک مرتبہ جانا مروی ہے، کہ آپ شبِ برات میں جنت البقیع تشریف لے گئے، چونکہ ایک مرتبہ جانا مروی ہے؛ اس لیے اگر زندگی میں ایک مرتبہ چلے جایا جائے تودرست ہے؛ لیکن ہر شب برأت میں جانے کا اہتمام کرنا،التزام کرنا،ٹولیوں میں قبرستان جانا، اس کو ضروری سمجھنا اور اس کے بغیر یہ سمجھنا کہ شب برأت نہیں ہوئی، یہ اس کو اس کے درجے سے آگے بڑھانے والی بات ہے،جوکہ صحیح نہیں ہے۔
ایک مسئلہ شب برات کے بعد والے دن یعنی پندرہ شعبان کے روزے کاہے، ایک روایت(جوکہ سنداً ضعیف ہے)میں ہے کہ شب برأت کے بعد والے دن روزہ رکھو۔اس کے علاوہ پورے شعبان کے مہینے میں روزہ رکھنے کی فضیلت ثابت ہے؛ لیکن 28اور29 شعبان کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے کہ رمضان سے ایک دو روز پہلے روزہ مت رکھو؛ تاکہ رمضان کے روزوں کے لیے انسان نشاط کے ساتھ تیا ر رہے۔

Comments are closed.