حجاب پر اپنوں کی سیاست!

 

احساس نایاب ( شیموگہ, کرناٹک )

 

ایک طرف بی جے پی, آر ایس ایس حجاب کو بہانہ بناکر مسلم بچیوں کا مستقبل برباد کرنے کی کوشش میں لگاتار جدوجہد کررہی ہے تو وہیں دوسری جانب مسلم تنظیمیں و جماعتیں بچیوں کے مستقبل کو لے کر بہتر لائحہ عمل تیار کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو موردالزام ٹہرانے میں مصروف ہیں ……

جہاں کامیابی ملتی ہے وہاں پر تو کچھ جماعتین اپنی اپنی پیٹھ تھپ تھپانے لگتی ہیں اور کریڈیٹ لینے کے لئے لائن میں سب سے آگے آکر کھڑی ہوجاتی ہیں

وہیں جہاں حسب معمول کامیابی نہ ملے کسی ایک کو موردالزام ٹہرادیا جاتا ہے ….

 

کرناٹک حجاب / شال تنازعہ میں یہی سب کچھ ہو رہا ہے …..

ہم بھی مانتے ہین کہ سی ایف آئی نے غلطی کی ہے

 

پہلی غلطی اس معاملے کو وہیں پہ رفع دفع نہیں کیا

دوسری بڑی غلطی انصاف کے لئے کورٹ پہنچ گئے

جبکہ ساری دنیا جانتی ہے بھارت کی عدالتوں میں آج فیصلہ اور حکم صادر کیا جاتا ہے نہ کہ انصاف …. پھر بھی گئے سو کہیں نہ کہیں اب پچھتارہے ہیں ……

لیکن غورطلب جس وقت بچیاں کلاس رومس کے باہر بیٹھی رہیں ان جماعت والوں مین کوئی ایسا نہیں تھا جو انہیں تسلی دیتا, صحیح رہنمائی کرتا بلکہ سبھی نے تو اپنی اپنی آنکھیں موندھ لی تھین…..

وہیں عدالت سے اس معاملے کو سلجھانے کے لئے بھی ان جماعت والون نے ہی اکسایا, یہ لعن طعن کرتے ہوئے کہ راستوں پر تماشہ کرنے سے بہتر ہے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے…..

لیکن آج سبھی اپنی بات سے مُکر گئے آور ایک جھوٹی ہوڈ لگا رکھی ہے کہ ہم نے کہا تھا عدالت جانا صحیح نہیں ہے فلاں فلاں فلاں……

دوسری بات یہ کس یقین کس بنیاد پر کہتے ہین کہ حجاب کا معاملہ اُس کالج تک ختم ہوجاتا ؟؟؟

ممکن ہے اس کالج کے بعد کسی آور کالج مین ہوتا پھر دیکھا دیکھی ہر اسکول ہر کالج تک یہ فتنہ پھیلتا کیونکہ پہلے تو یہاں بی جے پی سرکار ہے اور دوسری بات سابق سی ایم یڈیورپہ کو نکالنے کے بعد ان کے پاس اگلے اسمبلی الیکشں کے لئے کوئی ایسا مظبوط چہرہ نہیں ہے جس سے متاثر ہوکر لوگ انہین ووٹ دے سکیں

فی الحال جو سی ایم بنا ہے بسوراج بومئی وہ ایک قسم کا پوپیٹ ہے اس کے علاوہ بی جے پی کی جانب سے کوئی فلاحی کام نہ کہ برابر ہے تو وہ کس بنیاد پر ووٹ مانگتی تو اس دفعہ ان ایک مدعہ چاہئیے تھا تو اپنے لڑکوں کے گلے مین شال پہنا کر انہونے موقعہ کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اور اگر وہ 6 بچیاں ان کی بات مان کر خاموش بھی ہوجاتی تو وہ کسی نہ کسی طریقہ سے اس کو ایشو ضرور بناتے کیونکہ یہ اتنا بڑا ووٹ بینک نہیں گنوا سکتے…….

 

آور یہاں پر ہماری جماعتوں کا علمیہ یہ ہے کہ انہیں بس اپنی اپنی جان چھڑانی ہے اور سیف زون مین رہتے ہوئے اپنی پہچان اپنے وجود کو برقرار رکھنا ہے

ان کے زبانوں ان کے چہروں آور ان کے دلوں مین خوف طاری ہے ……

ان کے پاس مستقبل کے لئے کسی قسم کی پلیننگ نہین ہے ….. بس چندہ زکوٰۃ کے پیسوں مین تھوڑا بہت امدادی کام کرکے اپنی اپنی جماعتوں کو بڑا بنانا ہے…..

آج کرناٹک میں حجاب کا مسئلہ صرف اسکول کالج تک نہیں ہے بلکہ اسپتالوں میں بھی خواتین کو جبرا برقعہ نکلوایا جارہا ہے……

کیا کبھی ان میں سے کسی نے اس کے خلاف آواز اٹھائی ؟؟؟؟

نہیں

یہ ایک اسکول کے معاملے کو وہیں تک روکنے کئ بات کررہے ہئں , کل سارے اسکول کالجس مین ہوگا تو کیا یہ اُں بچیوں کو بھی یہی کہیں گے کہ ہاں مان جاؤ

ایسے تو تمام بچیوں کے حجاب خود سے ہی اتر جائیں گے . وہ بھی بنا مخالفت کے,

جبکہ ان حالات مین اگر اترتے بھی ہئں تو اس بات کی تسلی تو ہوگی کہ چلو ہم نے اپنی طاقت کے اعتبار سے مخالفت تو کی, حکومت سے لے کر عدالتی فیصلے کے خلاف لڑے …..

بنا لڑے ہتھیار ڈالنا تو سراسر بزدلی ہے جس پر حکمت کا چولہ پہنایا گیا ہے……

ابھی بھی ان جماعتوں کے پاس موقعہ ہے, اگر واقعی مین بچیوں کے لئے یہ کچھ کرنا چاہتے ہئں تو مقامی ایم ایل اے اور انسٹیٹیوشنس کے ذمہ داروں سے ملاقات کرکے مل بیٹھ کر آپس مین اس کا حل نکال سکتے ہیں کیونکہ عدالت نے یونیفارم ڈسائڈ کرنے کا حق انسٹیٹیوشنس کو دے رکھا ہے وہ بھی صرف اُں انسٹیٹیوشنس کو جو "سی ڈی سی” کے اندر آتے ہیں …..

الحمدللہ ان کے تعلقات روابط ایم ایل اے جیسے لوگوں سے بہت قریبی ہیں تو اب بھی کچھ کریں, یقینا وہ ان کی بات ضرور مانے گا….. لیکن انہیں کرنا نہیں ہے انہیں مسئلوں میں پڑ کر اپنے تعلقات نہیں بگاڑنے …..

بلکہ یہ تو نہ نہ کرتے ہوئے سب کی طرح خود بھی سپریم کورٹ میں ایک آدھ پیٹیشن ڈائر کرکے اپنی ذمہ داری پوری کریں گے, پھر جب فیصلہ خلاف آئے گا تو دھول بجاتے ہوئے اپنی دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے کہں گے کہ ہم نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا لیکن فلاں فلاں نے بھڑکایا اکسایا ……

بہرحال ان لوگون کا دوغلہ پن نہیں جائے گا لیکن ہاں اس بیچ بچیاں ضرور پس کر رہ جائیں گی ……

کیونکہ ان میں ہمت نہیں کہ جاکر سامنے سے سوال کریں کہ کورٹ کا فیصلہ صرف سرکاری ہائی اسکول اور پی کالج کے لئے ہے جو سی ڈی سی کے اندر ہیں , آپ کیوں ڈگری کالجس کئ بچیوں کا حجاب اتروا رہے ہو ؟؟؟

آپ کیوں ٹیچرس کو بےپردہ کررہے ہو ؟؟؟

یہ سوال پوچھنے کے لئے ان کے منہ میں زبانین نہیں ہیں, لیکن ہاں ایک دوسرے کو موردالزام ٹہرانے کے لئے ہزار دلیلین, ہزار باتیں ……

اللہ انہیں ہدایت دیں ….

یہاں پر ہمارا کسی تنظیم کسی جماعت سے کوئی تعلق نہین ہے, نہ ہی کسی سے ذاتی رنجش ہے

بس جو دیکھ رہے ہین وہ کہہ رہے ہیں, غلطیان سب سے ہوئی ہیں, تنظیم والوں سے بھی جماعت والوں سے بھی لیکن فی الحال یہ وقت ایک دوسری کو ذمہ دار بنانے کا نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کی ذمہ داری مان کر آگے بڑھ کر بچیوں کے حق میں بہتر اقدامات اٹھانے کا ہے ………

Comments are closed.