اسلاموفوبیا اور حرمت رسول

وقار فیض چوہدری
حضرت محمد ﷺ کی حرمت پر ہماری خان بھی قربان ہمارا مال ہمارے گھر والے سب قربان حضور پاک ﷺ کی محبت کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا آپ ﷺ کی ذات بابرکت وہ ذات ہے جس کے لیے اللہ پاک نے کل کائنات کو تخلیق کیا۔
براے کرم اس کالم کو پڑھنے کے لیے اپنی سیاسی عینک کو آزاد لیجیے گا۔دنیا میں اس وقت مسلمانوں کی تعداد 1.5 ارب سے زیادہ ہے ہر مسلمان حضور ہ ﷺ کی حرمت پر مر مٹنے کو تیار بھی ہے ۔پھر کیا وجہ ہوئی کہ کچھ معلون لوگ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے رہے اور یہ سلسلہ وقفہ وقفہ سے جاری رہا جو جس قابل تھا وہ احتجاج کرتا اور اپنے غصے کا اظہار کرتا رہا ریلیاں نکلتی تھی اور احتجاج ہوتے تھے اور اپنے اپنے غصے کا اظہار کیا جاتا رہا ۔ لیکن اگر کچھ نہیں تھا تو مسلم امہ کے پاس ایسا لیڈر نہیں تھا جو سب کو اکھٹا کر سکے۔جو دنیا کے حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بتا سکے ہمیں تمھاری امداد نہیں چاہیے مسلمان مغرب یا کسی اور ملک کی خوشامد میں یہ نہیں بھول سکتے کہ ہماری جان بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر قربان۔ہر حکمران مغرب کے سامنے خود کو اعتدال پسند ثابت کرنے کے لیے الگ الگ اسلام کی تشریح کرتا رہا لیکن کسی نے اس معاملے پر بات کرنے کی جرات نہیں کی۔میرا ایمان ہے اس بات پر کہ ایسی جرات کی توفیق بھی اللہ پاک ہی دیتا ہے۔موقع تو سب کو ملا ،مشرف ،نواز شریف،یوسف رضا گیلانی شجاعت اور کئی حکمرانوں کو اقوام متحدہ میں خطاب کرنے کا،مگر جیسے عمران خان نے امت مسلمہ کے اس درد کو بیان کیا اور یہ مقدمہ لڑا کسی اور کے نصیب میں یہ سعادت نہیں آئی۔عمران خان کی وہ تقریر صدیوں یاد رکھی جائے گی کیونکہ وہ یاد کی ہوئی یا پرچی پر لکھی ہوئی تقریر نہیں تھی بلکہ 1.5 ارب مسلمانوں کے دل کی آواز تھی۔10 نومبر 2019کو جے یو آئی کے سربراہ فضل الرحمان نے سیرتِ النبی کانفرنس کی۔کاش آپ لوگ اس کو سرچ کر کے سن لیں اور خان کی تقریر سے موازنہ کرلیں۔ فضل الرحمان تین منٹ بعد ہی سیاسی مخالفت پر اتر آیا اور یہ کانفرنس سیاسی جلسے میں تبدیل ہو گئی ۔ ایک طرف بلاول زرداری کا بیان آ جاتا ہے سیاست کو مذہب سے علیحدہ رکھا جائے۔کوئی اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرے کہ جو ابھی سے مذہب کو علیحدہ کر رہا ہے وہ انٹرنیشنل لیول پر اسلام کی طرز حکمرانی کو کیا بیان کرے گا۔عمران خان نے بلا شبہ ایک کٹھن راستے کا انتخاب کیا ہے۔او ای سی میں تمام دنیا کے مسلمان ممالک کو یکجا کرنے کی کوشش کی ۔مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ یہ بات مغرب اور غیر مسلم ممالک کے حلق سے نیچے کیسے اترے گی۔جنہوں نے کئی دہائیوں کی مشقت اور بے انتہا سرمایہ کاری کر کے مسلمانوں میں تفرقے پیدا کیے۔حضور پاک ﷺ نے فرمایا ایک وقت مسلمانوں پر ایسا آئےگا کہ ان کی حیثیت خس و خاشاک جیسی ہو گی۔ اصحابہ اکرام نے عرض کی یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیا تب ہم تعداد میں کم ہوں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بہت زیادہ ہوں گے لیکن دنیا کی محبت بزدل بنا دے گی۔آج وہی وقت ہے ۔ ایسے وقت میں اللہ پاک نے امت مسلمہ کو ایسا عاشق رسول عطا کیا ہے جو ساری دنیا میں اسلاموفوبیا کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے ۔ حرمت رسول کے لئے مغرب اور ساری دنیا کو باور کروا دیا ہے کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی بہت بڑا جرم اور مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب ہے۔ ہر سال 15 مارچ کا دن اسلاموفوبیا کے خلاف منایا جائے گا ۔ اس عاشق رسول کے خلاف تمام بیرونی اور اندرونی دشمن اٹھ کھڑے ہوئے۔ غیر مسلم ممالک کیسے اس حکمران کو برداشت کر سکتے ہیں۔شاید یہ لوگ ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں ہمیں ایسا حکمران نہیں چاہیے جو غلامی سے آزادی کی بات کرے جو قوم کے وقار کی بات کرے جو کہے ہم آزاد ملک کے باسی ہیں ہم اپنے مفادات مد نظر رکھ کر خارجہ پالیسی بنائے گے۔ ہمیں تو وہی پرچی والے تابعدار حکمران چاہیے مذہب فروش راہنما چاہیے۔ لیکن اگر روز قیامت اللہ پاک نے پوچھ لیا ایسے حکمران کا ساتھ کیوں نہیں دیا جو میرے محبوب کی حرمت اور دین اسلام کے لئے ہر جگہ کوششیں کر رہا تھا تو کیا کہیں گے آلو ٹماٹر مہنگے تھےیا بلاول زرداری نے کہا تھا دین کو سیاست سے دور رکھو یا شہباز شریف نے کہا تھا مغرب کو ناراض کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

Comments are closed.