حجاب تو محض بہانہ ہے، اصل مقصد مسلم بچیوں کو تعلیم سے محروم کرنا ہے !

احساس نایاب ( شیموگہ کرناٹک )
کرناٹک : 29 مارچ
ریاست بھر میں ایس ایس ایل سی کے بورڈ امتحانات چل رہے ہیں، جو 29 مارچ سے شروع ہوکر 11 اپریل کو ختم ہوں گے۔
اس سال کرناٹک ایس ایس ایل سی امتحان کے کُل 3440 مراکز ہیں، جس کے 48000 ہالوں میں 8.74 لاکھ سے زیادہ طلبا نے امتحان میں شرکت کے لئے اندراج کیا تھا ۔۔۔۔۔۔
کرناٹک پرائمری اور سکینڈری ایجوکیشن ایس ایس ایل سی ڈیپارٹمنٹ کے مطابق جن 869399 طلبا نے امتحانات کے لئے اندراج کیا تھا ، ان میں سے 848405 طلبا حاضر تھے جبکہ 20994 طلبا غیر حاضر ۔۔۔۔۔
غیرحاضر طلبہ میں کئی حجابی طالبات ہیں جنہوں نے بغیر حجاب کے امتحان دینے سے انکار کرتے ہوئے ایس ایس ایل سی امتحان کا بائیکاٹ کیا ، اور امتحان کے مقابلے میں اپنے دین کو ترجیج دی ۔۔۔۔۔
اس دوران حجاب پہن کر امتحان ہال میں آنے والی نور فاطمہ نامی حجابی معلمہ کو بھی معطل کردیا گیا ہے ۔۔۔۔
غورطلب ہے کہ حجاب پر ہائی کورٹ کا فیصلہ صرف سرکاری ہائی اسکولس، سی ڈی سی کے ماتحت آنے والی پی یو کالجس اور اُن کالجس کے لئے ہے جہاں پر یونیفارم قانون نافذ ہے ۔۔۔۔۔
اس کے علاوہ ڈگری کالجس ہوں یا اسٹاف ممبرس ان پہ ہائی کورٹ کا فیصلہ لاگو نہیں ہوتا اور اگر کوئی انسٹٹیوشن عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ عدالت کی توہین ، عدالتی فیصلے کی نافرمانی ہو گی ، جس کی وجہ سے ان انسٹیوشنس کے خلاف قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے یہاں تک کہ ایف آئی آر تک ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔
لیکن افسوس مسلمانوں کی کم علمی اور سنگھی انسٹٹیوشنس کی سنگھی ذہنیت کی وجہ سے حجاب کی آڑ میں مسلم حجابی طالبات اور حجابی ٹیچرس کو پریشان کرتے ہوئے اُن کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے ۔
اور جس سنگھی میڈیا کو بار بار اسکول و کالج کیمپس سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے وہ تمام ہدایات کو توڑتے ہوئے آج بھی حجابی طالبات کی ویڈیوز، تصاویر اُس وقت نکال رہے ہیں جب یہ طالبات کالج کیمپس میں اپنا حجاب اور برقعہ اُتار رہی ہوتی ہیں، پھر بچیوں کا تماشہ بناتے ہوئے ان کی ویڈیوز و تصاویر کو سوشل میڈیا پر شیئرکیا جارہا ہے لیکن افسوس ان کے خلاف کسی قسم کی قانونی کاروائی نہیں کی جارہی ہے بلکہ مسلم رہنماؤں کو جیسے سانپ سونگھ گیاہے، ان پر عجیب سی غنودگی اور بےحسی طاری ہے ۔۔۔۔۔
واضح ہو کہ جنوری کے آغاز میں اڈوپی کی 6 طالبات سے شروع ہوا حجاب تنازعہ ریاست بھر میں جنگل کی آگ کی طرح اُس وقت پھیل گیا جب ہندو تنظیموں نے سنگھی لڑکوں کو کیسری شال پہناکر حجابی طالبات کے مقابلے میں کھڑا کردیا ، جس کے بعد مسلمانوں کو اپنے حق اور انصاف کی خاطر عدالت سے رجوع ہونا پڑا، حجابی طالبات کی جانب سے تقریبا 17 پٹیشنس داخل کئے گئے، جس پہ ہائی کورٹ کے تین ججوں والی بینچ نے مسلسل 11 دنوں تک سماعت کی ، اس دوران ریاست بھر میں حجابی طالبات کی جانب سے لگاتار احتجاج و مظاہرے کئے گئے، باوجود ہائی کورٹ نے حجاب کو اسلام کا لازمی جز قرار نہ دیتے ہوئے 15 مارچ کو حجاب کے خلاف غیرآئینی فیصلہ سنادیا۔۔۔۔۔
ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے حجابی طالبات نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی لیکن سپریم کورٹ نے عرضی گزار کی عرضی پر فوری طور پر سماعت کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ امتحان اور حجاب کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اس لئے اس کو مسئلہ نہ بنایا جائے ۔۔۔۔۔۔ جبکہ یہ مسلم طالبات کے مستقبل سے جڑا معاملہ ہے ۔۔۔۔ کیونکہ آج ریاست بھر میں سنگھی ذہنیت سے متاثر اسکول، کالجس خود اس گندی سیاست کا حصہ بن کر ہائی کورٹ کی جانب سے دئے گئے فیصلے کا غلط استعمال کرتے ہوئے حجابی بچیوں کے مستقبل کے ساتھ سیاست کررہی ہیں ۔۔۔۔اور کل تک طلاق معاملے میں مسلم خواتین کی ہمدرد ، بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کا جذباتی نعرہ لگا کر 2014 اورپھر2019انتخابات میں جیت حاصل کرکے اقتدار میں آنے والی بی جے پی جماعت آج حجاب کی آڑ میں مسلم بچیوں کو تعلیم سے دور کررہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔

Comments are closed.