روزے کی مشروعیت، حکمتیں اور مصلحتیں
محمد تبریز عالم حلیمی قاسمی
خادم تدریس:دار العلوم حیدرآباد
اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اصل طرزِ حیات اور مقصدِ زندگی ہے،اس طرزِ حیات کی نشوونما میں توحید و رسالت اور دیگر عبادات کے ساتھ روزے کا اہم کردار ہے،اسی لیے کہا جاتا ہے کہ توحید ورسالت کی شہادت کے بعد نماز،زکوٰۃ، حج اور روزہ اسلام کے عناصر اربعہ ہیں۔
اللہ تعالی کی تابعداری اور فرمانبرداری کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ وہ اللہ تعالی کا حکم ہے،رمضان کا روزہ بھی ایک حکم الہی اور بندوں پر فرض ہے،اس لیے مسلمانوں پر روزہ رکھنا نہ صرف یہ کہ ضروری ہے بلکہ یہ بندگی کا تقاضا بھی ہے۔بالفاظ دیگر اسلام نام ہے خدا کے حکم کے سامنے بلا چوں چرا سرِ تسلیم خم کر دینے کا۔ اللہ نے اپنے بندوں کو جن احکام کا پابند بنایا ہے، ان کا مدار نصوص پر ہے، احکام ومسائل کی حکمتیں، مصالح اور اسرار ورموز کا جانناضروری نہیں ہے؛ لیکن بقولِ حضرت تھانویؒ: یہ ضرور ہے کہ بعض طبائع کے لیے ان کا معلوم ہو جانا احکام شرعیہ میں مزید اطمینان پیدا ہونے کے لیے ایک درجہ معین ضرور ہے؛ گواہل یقینِ راسخ کو اس کی ضرورت نہیں۔
یہاں یہ خیال رکھنا اور جاننا بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالی کے اسماء حسنی میں ایک نام الحکیم بھی ہے جو حکم اورحکمۃ سے مشتق ہے،جس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالی کے جملہ احکام مبنی بر حکمت ہیں یعنی اللہ تعالی نے جوبھی احکام مشروع کیے ہیں وہ سب کے سب عظیم حکمتوں سے پر ہیں ، بعض اوقات ہمیں اس کی حکمت کا علم ہوتا ہے اوربعض اوقات ہماری عقلیں اس کی حکمت کا ادراک نہيں کرپاتیں؛کیوں کہ ہماری عقلیں اور ہماری تلاش و جستجو اور سوچ کا دائرہ محدود ہے ، اوربعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم کچھ حکمتوں کا علم رکھتے ہیں اوربہت ساری حکمتیں ہم پر مخفی ہی رہ جاتی ہیں۔
ذیل میں موضوع کی مناسبت سے روزے کی مشروعیت اور اس کی حکمت ومصلحت کا مختصر تذکرہ کیا جا رہا ہے۔
روزے کی فرضیت کا حکم سن دو (2) ہجری میں تحویلِ قبلہ کے واقعہ سے کم و بیش دس پندرہ روز بعد نازل ہوا۔ آیتِ صیام شعبان کے مہینے میں نازل ہوئی جس میں رمضان المبارک کو ماہِ صیام قرار دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ.البقرة، 2 : 185
’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو سراپا ہدایت ،اور ایسی روشن نشانیوں کا حامل ہے جو صحیح راستہ دِکھاتی اور حق وباطل کے درمیان دوٹوک فیصلہ کردیتی ہیں ، لہٰذا تم میں سے جو شخص بھی یہ مہینہ پائے ،وہ اس میں ضرور روزہ رکھے۔‘‘
ہجرت کے بعد روزے کو فرض کرنے کی حکمت یہ تھی کہ جب مسلمان توحید و رسالت، نماز اور ما قبل ہجرت نازل ہونے والے دیگر احکامِ قرآن پر عمل کرنے کے خوگر اور عادی ہوجائیں تو پھر انہیں روزہ حکم دیا جائے۔ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے قبل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عاشورا (دس محرم) کا روزہ رکھتے تھے۔ پھر جب صیامِ رمضان کو فرض کیا گیا تو صومِ عاشورا کا حکم منسوخ ہو گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم عاشورا کا روزہ رکھا اور اس کے رکھنے کا حکم دیا۔ جب رمضان فرض ہو گیا تو اُسے چھوڑ دیا گیا۔
اس سلسلے میں لطف کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہم پر روزوں کو فرض اورمشروع کرتے ہوئے اس کی حکمت کا بھی ذکر کیا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کر دیئے گئے ہیں ، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے ، تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو( البقرۃ: 183 )
معلوم ہوا روزہ تقوی وپرہیزگاری کا وسیلہ ہے ، اورتقوی ایک ایسا جوہر ہے جس سے بندہ دینی اوامر میں مدد حاصل کرتا ہے۔علماء محققین نے روزے کی مشروعیت کی جتنی حکمتوں کا ذکر کیا ہے ان سب میں تقوی و پرہيزگاری کا عنصر غالب ہے۔
مفتی سعید احمد پالن پوری ؒ نے رحمۃ الله الواسعۃ میں لکھا ہے:
اللہ تعالی نے انسان کو روحانیت اور حیوانیت کا نسخہ جامعہ بنایا ہے۔اس کی جبلت میں وہ سارے مادی اور سفلی تقاضے بھی رکھے ہیں جو دوسرے حیوانوں میں ہوتے ہیں۔ اور اسی کے ساتھ اس کی فطرت میں روحانیت کا وہ نورانی جوہر بھی رکھا ہے جو ملأِ اعلی کی خاص دولت ہے ۔انسان کی سعادت کا مدار اس پر ہے کہ اس کا یہ روحانی جوہر حیوانی عنصر پر غالب اور حاوی رہے ۔اور اس کو حدود کا پابند ر کھے ۔ اور یہ جبھی ممکن ہے کہ بہیمی پہلو ملکوتی پہلو کی فرمانبرداری اور اطاعت شعاری کا عادی ہو جاۓ ۔اور اس کے مقابلہ میں سرکشی نہ کرے۔ روزے کی ریاضت کا خاص مقصد یہی ہے کہ اس کے ذریعے بہیمیت کو اللہ کے احکام کی پابندی اور روحانی تقاضوں کی تابعداری وفرمانبرداری کا خوگر بنایا جاۓ ۔اور چونکہ یہ چیز نبوت کے خاص مقاصد میں سے ہے اس لئے تمام پہلی شریعتوں میں بھی روزہ کا حکم رہا ہے۔ ارشاد پاک ہے: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کئے گئے تھے، تا کہ تم میں تقوی پیدا ہو ( سورۃ البقرۃ آیت ۱۸۳) لعلكم تتقون میں روزوں کی حکمت کا بیان ہے یعنی اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ تم میں تقوی پیدا ہو۔ روزہ رکھنے سے عادت پڑے گی نفس کو اس کے متعدد تقاضوں سے روکنے کی ۔ اور وہی بنیاد ہے تقوی کی ( ماخوذ از معارف الحدیث ۳ ۹۳ )*(رحمۃ الله الواسعۃ ص: ۱۹۳ ج:٤)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ لکھتے ہیں :
جس نے بھوک اور پیاس محسوس ہی نہیں کی ہو وہ بھوکوں اور پیاسوں کے حال سے کیوں کر واقف ہو سکتا ہے اور وہ رزاق مطلق کی نعمتوں کا شکریہ علی وجہ الحقیقت کب ادا کر سکتا ہے اگرچہ زبان سے شکر یہ ادا کرے مگر جب تک اس کے معدہ میں بھوک اور پیاس کا اثر اور اس کی رگوں اور پٹھوں میں ضعف و ناتوائی کا احساس نہ ہو وہ نعمتہاۓ الہی کا کماحقہ شکر گذار نہیں بن سکتا کیونکہ جب کسی کی کوئی محبوب و مرغوب مالوف چیز کچھ زمانہ گم ہو جاوے تو اس کے فراق سے اس کے دل کو اس چیز کی قدر معلوم ہوتی ہے ۔
مزید لکھتے ہیں:
روزہ موجب صحت جسم و روح ہے چنانچہ قلت اکل و شرب کو اطِباء نے صحت جسم کے لئے اور صوفیاء کرام نے صفائی دل کے لئے مفید لکھا ہے۔ روزہ انسان کے لئے ایک روحانی غذا ہے جو آئندہ جہان میں انسان کو ایک غذا کا کام دیگا جنہوں نے اس غذا کو ساتھ نہیں لیا وہ اس جہاں میں بھوکے پیاسے ہوں گے اور ان پر اس جہاں میں روحانی افلاس ظاہر ہوگا کیوں کہ انھوں نے اپنی غذا کو ساتھ نہیں لیا۔اور یہ بات ماننے کے لائق ہے جبکہ کھانے پینے کی تمام اشیاء خداوند تعالی ہی کے خزانہ رحمت سے انسان کو ملتی ہیں تو جن اشیاء کو وہ یہاں چھوڑتا ہے ان کا عوض وہاں ضرور دیگا جو یہاں سے بہتر وافضل ہو گا۔
روزہ محبت الہی کا ایک بڑا نشان ہے جیسے کہ کوئی شخص کسی کی محبت میں سر شار ہو کر کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے اور بیوی کے تعلقات بھی اس کو بھول جاتے ہیں ایسے ہی روزہ دار خدا کی محبت میں سرشار ہو کر اسی حالت کا اظہار کرتا،یہی وجہ ہے کہ روزہ غیر اللہ کے لیے جائز نہیں ہے(احکام اسلام عقل کی نظر میں ص: ۱٤٤ )
روزوں کی مزید حکمتیں :
مولانا حبیب الرحمن اعظمیؒ کی ایک تحریر بطور تسہیل و تشریح یہاں لکھنا مناسب ہے
روزہ کی مصلحتیں
(۱) ہمیں اس بات پر یقین کامل ہے کہ روزہ کی فرضیت میں بہت سی حکمتیں ومصلحتیں پوشیدہ ہیں اگرچہ ہمارا نارسا ذہن ان تمام اسرار وحکم اور مصالح تک نہ پہنچ سکے البتہ بعض حکمتیں جو سمجھ میں آرہی ہیں انھیں یہاں بیان کیا جارہا ہے۔
اس سلسلے میں ہمیں سب سے پہلے خود اپنے وجود پر․․․ غور کرنا چاہئے کہ انسان کی اصل حقیقت کیا ہے۔ کیا انسان گوشت و پوست اور ہڈی چمڑے کے اس ظاہری مجموعہ کا نام ہے یا اس کی حقیقت اس ظاہری ڈھانچہ کے علاوہ کچھ اور ہے۔ ظاہر ہے کہ صرف اس ظاہری ڈھانچہ کو انسان کبھی نہیں کہا جاسکتا۔ کیونکہ اس صورت میں انسان سے زیادہ حقیر اور کم درجہ کی کوئی اور مخلوق نہ ہوگی حالانکہ انسان اشرف مخلوقات اور خلاصہٴ کائنات ہے اس لیے لازمی طور پر یہ ماننا ہوگا کہ انسان اس ظاہری شکل و صورت کا نام ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ کسی اور ہی چیز کا نام ہے جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات میں ایک امتیازی مقام رکھتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتاہے کہ آخر وہ کونسی چیز ہے جس کے ذریعہ انسانیت کا وجود متحقق ہوتا ہے تو نفسِ انسانی میں غور و فکر کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ درحقیقت انسان ایک جوہر روحانی کا نام ہے جس کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے غور وفکر کی استعداد وصلاحیت پیدا کررکھی ہے جس کے ذریعہ وہ نہ صرف سمجھتا بوجھتا ہے بلکہ پوری کائنات پر حکومت کرتا ہے اور اسی امتیازی وصف کی بناء پر مسجود ملائکہ بنایاگیا۔ چنانچہ قرآن حکیم اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔
اذ قال ربّک للملائکة انی خالق بشرًا من طین فاذا سوّیتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سَاجدین․ (سورہٴ ص)
(جب کہا تمہارے رب نے فرشتوں سے میں بناتا ہوں ایک انسان مٹی کا۔ پھر جب ٹھیک بناچکوں اور پھونکوں اس میں اپنی رُوح سے تو تم جھک پڑو سجدہ میں۔)
چونکہ خواہشاتِ نفسانیہ کو دبانے سے قوتِ روحانیہ کو تقویت حاصل ہوتی ہے روزہ میں خواہشِ بطن و فرج کی شکست و و ریخت ہوتی ہے۔ اس لیے لازمی طور پر روحانیت کو قوت و طاقت ملے گی اور اسی جوہر روحانی سے آدمی انسان کہلاتا ہے تو گویا روزہ کے ذریعہ انسانیت کی تشکیل و تکمیل ہوتی ہے۔
(۲) روزہ سے جہاں روح کو طاقت ملتی ہے وہیں اس سے بدن کی بھی اصلاح ہوتی ہے اس لیے کہ اکثر امراض معدہ کی خرابی کی بناء پر پیدا ہوتے ہیں (چنانچہ کہا جاتا ہے ”المعدة ام الامراض“ معدہ بیماریوں کی جڑ ہے۔ نبی کریم … نے بھی ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ ”ما ملاء ابن آدم وعاء شرا من بطنہ“ انسان کے لیے سب سے خراب بات اپنے شکم کو پر کرنا ہے۔ لہٰذا جب پیٹ کا بھرنا۔ امراض اور بیماریوں کا پیش خیمہ ہے، تو اس کا علاج یہ ہے کہ پیٹ کو خالی رکھا جائے اور روزہ کے اندر یہی بات ہے کہ پیٹ کو خالی رکھا جاتا ہے۔ جس سے بدن کی اصلاح ہوجاتی ہے اور آدمی بہت سے امراض سے محفوظ ہوجاتا ہے۔
(۳) روزہ کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے آدمی کے اندر صبر و استقامت کی قوت پیدا ہوتی ہے (جو انسان کے لیے بڑی خوبی کی چیز ہے) روزہ دار کے سامنے عمدہ اور مرغوب غذائیں ٹھنڈا اور شیریں پانی رکھا رہتا ہے مگر ان کی طرف نگاہ اٹھاکر بھی نہیں دیکھتا حالانکہ بظاہر اس کو ان چیزوں کے استعمال کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہے۔ لیکن اس کا ضمیر اس کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنے روزہ کو برباد کرکے خدا کے غضب کا مستحق بنے ایک مہینہ کی یہ مشق و تمرین لامحالہ انسان کے اندر استقلال و استقامت کی طاقت پیدا کرے گی۔ چنانچہ ماہرین نفسیات نے اپنے علم و تجربہ کی بنیاد پر یہ بات کہی ہے کہ روزہ سے زیادہ ارادوں میں پختگی اور عزائم میں پائیداری پیدا کرنے والی کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔ اسی لیے نبی کریم … نے بطور خاص جوانوں کو مخاطب کرکے فرمایا ہے۔
یا معشر الشباب من استطاع منکم بائة فلیتزوج فانہ اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء․ (بخاری شریف)
(اے جوانوں! تم میں سے جس کے اندر استطاعت ہو وہ ضرور نکاح کرے اس لیے کہ نکاح نگاہوں کو پست رکھنے والا اور فرج کی حفاظت کرنے والا ہے اور جو نکاح کی طاقت نہیں رکھتا وہ اپنے اوپر روزہ کو لازم کرلے اس لیے کہ روزہ اس کے لیے بندش کا کام دے گا)۔
ایک موقع پر اسی مضمون کو یوں بیان فرمایا:
لکُلّ شیءٍ زکوٰة وزکوٰة الجسد الصوم، والصوم نصف الصبر․
(ہر چیز کی زکوٰة ہے اور جسم کی زکوٰة روزہ ہے اور روزہ نصف صبر ہے)
اس حدیث پاک میں روزہ کو نصف صبر اس لیے فرمایاگیا ہے کہ انسان کے اندر تین قوتیں ہیں ایک قوت شہوانی، دوسری قوت غضبی اور تیسری قوت روحانی اور روزہ سے انسان قوت شہوانی پر غالب آجاتا ہے تو گویا اُسے نصف صبر حاصل ہوگیا۔
(۴) اسلام صرف نام ونمود کا مذہب نہیں ہے بلکہ یہ دین جہاد ہے۔
یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
اور جہاد کے لیے صبر و استقامت ایک لازمی چیز ہے۔ لہٰذا جو شخص اپنی ذات کے مقابلہ میں جہادنہیں کرسکتا وہ اپنے دشمن سے کیا مقابلہ کرے گا۔ اور جس کا اپنے نفس پر قابو نہیں چلتا وہ اپنے دشمن کو کیونکر زیر کرے گا۔ اور جسے ایک دن کی بھوک و پیاس پر صبر نہیں ہوتا وہ گھربار چھوڑنے پر کیسے صبر کرے گا۔ اس لیے سال میں ایک ماہ کے روزے کا حکم دے کر صبر و استقامت کی تمرین کرائی جاتی ہے تاکہ آدمی جہاد کے لیے تیار ہوجائے۔
(۵) روزہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر و منزلت کا عرفان پیدا ہوتا ہے کیونکہ ”تعرف الاشیاء باضدادہا“ جب تک آدمی کو بھوک و پیاس کی شدّت کا احساس نہ ہو اُسے کھانے پینے کی سچی قدر کیا ہوگی اور جب ان نعمتوں کی قدر ومنزلت کی معرفت حاصل ہوگی تو اس کا زیادہ سے زیادہ حق ادا کرنے کی کوشش کرے گا تو اس طرح روزہ اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی عبادت پر آمادہ کرنے میں ایک قوی اثر رکھتا ہے۔ اسی لیے ہمارے آقا ومولیٰ … نے فقر کو غنا پر ترجیح دی۔ چنانچہ ارشاد ہے۔عرض علیّ ربی لیجعل لی بطحاء مکة ذھبا قلت لا یارب ولکن اشبع یوما واجوع یوما فاذا جعت تضرعت الیک وذکرتک واذا شبعت شکرتک وحمدتک․ (ترمذی)
(مجھ پر میرے رب نے یہ بات پیش کی کہ میرے لیے بطحاء مکہ سونا بنادیا جائے تو میں نے عرض کیا اے میرے رب مجھے اس کی ضرورت نہیں میں تو ایک دن آسودہ شکم رہوں گا اور ایک دن بھوکا رہوں گا۔ جس دن بھوکا رہوں گا آپ سے تضرع کروں گا اور آپ کو یاد رکھوں گا۔ اور جس دن آسودہ رہوں گا آپ کا شکراور حمد کروں گا۔)
(۶) پھر روزہ کی وجہ سے جب آدمی بھوک و پیاس کی شدت کو محسوس کرتا ہے تواس کے اندر غرباء ومساکین کی تکلیف کا احساس بیدار ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ناز ونعمت میں پلا ہوا جس نے بھوک و پیاس کی تکلیف کبھی برداشت نہ کی ہو۔ اُسے بھوکوں، پیاسوں کی حالت زار اور اذیت کا کیا علم ہوگا۔ لیکن روزہ کی وجہ سے جب اُسے بھوک کی اذیت کا ذاتی تجربہ ہوتا ہے تو پھر اس کے اندر یہ جذبہ پیدا ہوگا، کہ غریبوں اور ناداروں کی امداد و اعانت کرکے انھیں اس تکلیف و اذیت سے بچائے۔ چنانچہ آنحضرت … کے متعلق اربابِ سیر لکھتے ہیں کہ حیاتِ طیبہ کے آخری دور میں جب اموال فئی کی وجہ سے آپ کی تنگدستی دور ہوگئی تھی اس زمانہ میں آپ نے روزوں کی تعداد میں زیادتی فرمادی تھی۔ اور جب آپ سے اس کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا کہ ”روزہ اس لیے رکھتا ہوں تاکہ غریبوں کو بھول نہ جاؤں“۔
(۷) اور ان سب مصالح کے علاوہ سب سے اہم بات جو روزہ سے حاصل ہوتی ہے وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالہ کردینا ہے اور یہ تسلیم اور خودسپردگی ہر عبادت کا حاصل اور خلاصہ ہے جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے۔
سمعنا واطعنا غفرانک ربّنا والیک المصیر․ (البقرہ)
(ہم نے سنا اور قبول کیا تیری بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے رب اور تیری طرف لوٹ کر جانا ہے۔)
ان صلاتی و نسکی ومحیای و مماتی لِلہِ ربّ العٰلمین․
(یقینا میری نماز اور میری دیگر عبادتیں اور میری حیات اور موت سب اللہ ہی کے لیے ہے)
اور یہ تسلیم و رضا روزہ کے ذریعہ یوں حاصل ہوتی ہے کہ روزہ دار کے سامنے اس کی مرغوبات موجود ہیں جن کے استعمال پر وہ قدرت بھی رکھتا ہے اور ان کے استعمال کی اُسے شدید خواہش بھی ہوتی ہے۔ لیکن وہ محض اللہ کی رضا کے لیے انھیں ہاتھ نہیں لگاتا اور ان کے استعمال سے رُکا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزہ کو بطور خاص اپنی جانب منسوب فرمایا ہے۔
کل عمل ابن آدم لہ الا الصیام فانہ لی وانا اجزیٰ بہ یدع طعامہ من اجلی ویدع شرابہ من اجلی ویدع لذتہ من اجلی ویدع زوجتہ من اجلی․ (ابن خزیمہ)
(انسان کا ہر عمل اس کے لیے ہے البتہ روزہ یہ خاص میرے لیے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا وہ میرے لیے اپنا کھانا چھوڑ دیتا ہے میرے لیے اپنا پینا چھوڑ دیتا ہے، میرے لیے اپنی لذّت چھوڑ دیتا ہے اور میرے لیے اپنی بیوی کو چھوڑ دیتا ہے۔)
(ماہنامہ دارالعلوم ، شمارہ6، جلد:100 ، شعبان1437 ہجری مطابق جون 2016ء)
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں :بلاشبہ کھانے پینے کی وجہ سے خون پیدا ہوتا ہے ، اس لیے جب کھایا پیا جائے تو شیطان کی گردش کی جگہوں میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے جوکہ خون ہے اورجب روزہ رکھا جائے تو شیطان کی گردش والی جگہیں تنگ ہوجاتی ہيں ، جس کی بنا پر دل اچھائي اوربھلائي کے کاموں پر آمادہ ہوتا اوربرائي کے کام ترک کردیتا ہے ۔۔۔مجموع الفتاوی ( 25 / 246 )
علم برائے عمل
یہ بات طئے شدہ اور مسلمات میں سے ہے کہ علم وعمل میں،عمل مقصود ہے،یعنی علم ذریعۂِ عمل ہے،اگر کسی کو کسی شرعی حکم کا علم ہو جاۓ تو اب اس کے لیے ضروری ہے کہ اس پر اخلاص کے ساتھ عمل بھی کرے،اگر علم ہونے کے بعد کوئی شخص عمل کی فکر اور کوشش نہ کرے تو وہ نگاہِ شریعت میں مجرم اور غیر معتبر ہوجاتا ہے،سطور بالا میں روزے کی مشروعیت اور اس کی مصلحت کا ذکر تفصیل سے آچکا ہے،اب ہماری ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ ہم رمضان المبارک کے روزے بشاشت، نشاط اور توجہ الی اللہ کے ساتھ رکھنے کی سعی کریں،دورانِ روزہ روزہ کی مصلحتوں اور حکمتوں کا استحضار رکھیں،تاکہ روزوں کی روحانیت اور اس کے مقاصد سے بہرہ ور ہو سکیں،اپنے دامن میں خوب ثواب جمع کرسکیں نیز اپنے کو ایسا بنا سکیں کہ کل بروزِ جزاء، اللہ تعالی اپنے ہاتھوں سے ہمیں روزے کا بدلہ عطا فرمائیں۔ورنہ عمل سے خالی علم ایسا ہے جیسے سر کے بغیر جسم اور خوشبو کے بغیر پھول۔
Comments are closed.