رمضان المبارک : کیا کریں کیا نہ کریں!
مفتی عبدالرحمن ابن مفتی عمر صاحب جونپوری
قارئین کرام
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ہرطرف خوشیوں کا ماحول ہے اور خوشی کیوں نہ ہو دو سال کے بعد رمضان المبارک پوری آزادی کے ساتھ گزارنے کا موقع ہاتھ آرہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی قدردانی کی توفیق عطا فرمائے آمین
اب سوال ہوتا ہے کہ رمضان المبارک کی قدر کیا ہے۔۔۔۔رمضان المبارک کی قدر یہ ہے کہ اس ماہ مبارک کو جو چیزیں ناپسند ہیں اس سے غایت درجہ اجتناب کیا جائے اور جو چیزیں پسند ہیں اسے بروئے کار لانے میں انتھک جدوجھد کیا جائے. رمضان المبارک کی پسندیدہ چیزیں
1۔۔۔قرآن پاک کی تلاوت
یاد رکھیں! قرآن پاک اور رمضان المبارک کا تعلق دو جڑواں بھائی کی طرح ہے، قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نےاس تعلق کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔(شھر رمضان الذی أنزل فیہ القرآن ھدی للناس وبینات من الھدی والفرقان)۔
رمضان المبارک کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیاجو لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی ہے اور فیصلے کی روشن باتوں (پر مشتمل ہے)
عام طور پر مسلمان رمضان کو قرآن پاک ہی کا مہینہ سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے اکابر و اسلاف رمضان المبارک میں قرآن پاک کی تلاوت کا اتنا اہتمام کرتے تھے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انہیں قرآن پاک کی تلاوت کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں
2۔۔۔رمضان المبارک کو دعا سے وہ خاص تعلق ہے کہ حدیث پاک میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ رمضان المبارک کے مہینے میں صرف اپنے روزہ دار بندوں کی دعاؤں پر آمین کہنے کے لیے عرش کے اٹھانے والے آٹھ فرشتوں کو مقرر کرتے ہیں جن کا کام رمضان کے مہینے میں روزہ دار بندوں کی دعاؤں پر آمین کہنا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کو دعا سے کتنا تعلق ہے۔۔۔اس لیے زیادہ سے زیادہ رمضان المبارک میں دعا کا اہتمام کرنا چاہیے.
3…تہجد۔۔۔گیارہ مہینہ تو تہجد پڑھنے میں کچھ دشواری پیش آتی ہے لیکن رمضان المبارک میں تہجد پڑھنا کچھ دشوار نہیں اسلیے کہ سحری کھانے کے لئے اٹھتے ہی ہیں اگر ذرا سی ہمت کرکے رمضان المبارک میں دو چار رکعت تہجد پڑھ لیں تو کتنا بڑا ثواب کا خزانہ ہاتھ آجائیگا لیکن ہماری عبادت یہ ہے کہ ہم رمضان المبارک میں تراویح کا اہتمام تو کرتے ہیں لیکن تہجد کا اہتمام نہیں کرتے حالانکہ حدیث پاک میں ہے کہ فرض روزوں کے بعد سب سے افضل روزہ عاشورہ کا روزہ ہے اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز تہجد کی نماز ہے
استاد محترم حضرت مفتی سعید صاحب پالن پوری رحمہ اللہ نے تحفۃ القاری میں لکھا ہے کہ لوگ رمضان المبارک میں تراویح کا اہتمام کرتے ہیں لیکن تہجد کا اہتمام نہیں کرتے حالانکہ تہجد کا مرتبہ تراویح سے بڑھ کر ہے۔۔۔کتنی محرومی کی بات ہے ہم تہجد کے وقت سحری کھانے اٹھتے ہیں لیکن تہجد نہیں پڑھتے پس ہمیں رمضان المبارک میں تہجد کا بھی اہتمام کرنا چاہیے
4۔۔۔ہمدردوغم خواری…. حدیث پاک میں رمضان المبارک کے تعلق سے کہا گیا ہے کہ(وھو شھر المواسات) کہ یہ ہمدردی اور غمخواری کا مہینہ ہے۔۔۔ہمدردی و غمخواری یہ جملہ اپنے اندر وسیع مفہوم رکھتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اس مہینے میں اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں، غریبوں مسکینوں کا خاص خیال رکھیں۔ صدقہ کا خاص اہتمام کریں۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس مہینہ کو نیکیوں سے خاص مناسبت ہے اسی وجہ سے اس مہینہ میں نیکیوں کا بھاؤ اتنا بڑھا دیا گیا کہ نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر فرض کے برابر.
رمضان المبارک میں نہ کرنے والے اعمال
رمضان المبارک کو گناہوں سے بہت نفرت ہے جس طرح اس مہینہ میں نیکیوں کا ثواب بہت زیادہ ہے اسی طرح اس مہینہ میں گناہوں کا وبال بھی بہت زیادہ ہے۔۔لہذا اس مہینہ کی برکتوں سے اگر مالا مال ہونا چاہتے ہیں تو گناہوں سے حد درجہ اجتناب کریں، خصوصاً مندرجہ ذیل گناہوں سے
جھوٹ۔۔۔۔غیبت۔۔۔بدنظری۔۔۔فحش گوئی۔۔۔چغلخوری۔۔۔حسد۔۔۔عداوت۔۔۔عام طور پر ہم ان گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں حالانکہ یہ گناہ ہمارے روزے اور رمضان کی دیگر عبادتوں کو بے اثر کردیں گے.
اخیر میں حضرت شاہ ابرار الحق صاحب رحمہ اللہ کا ایک قول نقل کرکے تحریر مکمل کرتا ہوں ۔ فرمایا کرتے تھے کہ تین گناہ ایسے ہیں کہ اگر ان سے بچنے کی مشق کرلی جائے تو اکثر گناہوں سے بچنا آسان ہو جائے گا اور فرماتے تھے کہ یہ تجربہ کی بات ہے
بدنگاہی۔۔۔۔۔بدزبانی۔۔۔۔بدگمانی۔۔۔۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرمائے اور رمضان المبارک کی برکتوں سے مالا مال فرمائے آمین.
Comments are closed.