رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے
پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی
ڈین فیکلٹی دینیات،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
رسول کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی معرفت کا راستہ بھی دکھایا اور اس کی عبادت کا طریقہ اور سلیقہ بھی سکھایا۔ رسو کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقۂ عبادت کو صحابہ کرامؓ نے سیکھا، اپنی عملی زندگی میں ڈھالا اور تابعین تک منتقل کیا۔ اس طرح نسل در نسل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ عبادت آج تک پہنچا۔ رسول کریم ؐ عام دنوں میں اور خاص طور پر رمضان المبارک میں کس طرح روزے رکھتے تھے، کن چیزوں کا اہتمام فرماتے تھے اور کن باتوں سے پرہیز کرتے تھے ان سب کا صحابہ کرام ؓاور ازواج مطہراتؓ نے مشاہدہ کیا اور اگلی نسل تک اسے بلاکم وکاست پہنچادیا۔
معاذہ نام کی ایک خاتون نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر ماہ میں تین روزے رکھتے تھے؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ ہاں! معاذہ نے پوچھا کہ کن دنوں میں روزہ رکھتے تھے ؟ حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا کہ مہینہ کے دنوں کی پروا ہ نہیں کرتے تھے کسی بھی دن روزہ رکھ لیتے تھے۔(سنن ابی داؤد، کتاب الصیام، باب من قال لایبالی من ای شہر )
حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ کی ابتدائی تاریخوں میں تین روزے رکھتے تھے۔(ایضاً، باب فی صوم الثلاث فی کل شہر) بعض دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایام بیض کے روزے رکھتے تھے۔ یعنی ہر ماہ کی تیرھویں، چودھویں اور پندھوریں تاریخ کو روزہ رکھتے تھے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ کے تین روزوں کے علاوہ کبھی تسلسل سے بھی روزہ رکھتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہؓ اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی مہینہ میں پورے ماہ کا روزہ نہیں رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی مسلسل روزے رکھتے تھے۔ حتی کہ کہنے والے کہتے کہ آپ روزہ ترک نہیں کریں گے۔ اور کبھی آنجنابؐ مسلسل افطار کرتے حتی کہ کہنے والے کہتے کہ آپؐ کبھی روزہ نہیں رکھیں گے۔(الصحیح البخاری، کتاب الصوم، باب مایذکر فی صوم النبی صلی اللہ علیہ وسلم )
رمضان المبارک کی آمد سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینہ میں بھی کثرت سے روزہ رکھتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان المبارک کے علاوہ شعبان سے زیادہ کسی مہینہ میں روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔(الصحیح لمسلم، کتاب الصیام، باب صیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی غیر رمضان)
شعبان ۲ہجری میں رمضان المبارک کا روزہ فرض ہوا۔ (ابوالفداء اسماعیل ابن کثیر، السیرۃ النبویہ، جلد ۲، ص۳۷۷) رسول کریم ؐ شعبان کے آخری دنوں میں صحابہ کرامؓ کو جمع کرتے اور رمضا ن کی فضیلت اور روزہ کی فرضیت سے آگاہ فرماتے۔ روزوںکے تقاضے پورے کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔
حضرت سلمان فارسی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہم لوگوں کو مخاطب کیا اور فرمایا کہ اے لوگو! تمہارے اوپر ایک ماہ عظیم سایہ فگن ہورہا ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس کی ایک رات ہزار مہینوں کی راتوں سے بہتر ہے۔ اللہ نے اس مہینہ کا روزہ تمہارے اوپر فرض کیا ہے اور رات کا قیام نفل بنایا ہے۔ جو شخص اس ماہ میں بھلائی کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کرے گا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے فریضہ ادا کیا۔ اور جس نے اس ماہ میں فرض ادا کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے گویا ستر فرض ادا کیے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ یہ ہمدردی کا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں مومن کا رزق بڑھایا جاتا ہے۔ اس ماہ میں جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا وہ اس کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ ثابت ہوگا اور جہنم سے آزادی کا پروانہ بنے گا۔ اس کو روزہ دار کے برابر اجر ملے گا اور روزہ دار کے اجر میں کمی نہیں ہوگی۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر شخص کے پاس اتنی استطاعت نہیں ہے کہ روزہ دار کو افطار کرائے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کو بھی یہ اجر دے گا جو ایک گھونٹ لسّی سے روزہ دار کو افطار کرائے گا یا ایک کھجور یا پانی سے افطار کرائے گا۔ جو روزہ دار کو آسودہ کرے گا اس کو اللہ میرے حوض سے اس طرح سیراب کرے گا کہ وہ پیاسا نہیں رہے گا یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت ہے، درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ جہنم سے آزادی کا ہے۔ جو شخص اس ماہ میں اپنے غلام کی محنت میں کمی کردے گا اللہ اس کی مغفرت کرے گا اور اسے جنت میں داخل کرے گا۔(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الصوم، الفصل الثالث)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرامؓ کو رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کی تلقین فرماتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے رسول کریم کا یہ حکم نقل کیا ہے کہ ’’جب تک چاند نہ دیکھو روزہ نہ رکھو اور روزہ چھوڑو بھی نہیں جب تک (شوال کا) چاند نہ دیکھو۔ اگر بادل وغیرہ چھاجائے تو تیس کی تعداد پوری کرو‘‘۔(الصحیح البخاری،کتاب الصوم، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا رأیتم الہلال فصوموا)
حضرت طلحہ بن عبیداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب چاند دیکھ لیتے تو یہ دعا فرماتے:
]اے اللہ اس چاند کو ہمارے اوپر امن وایمان اور سلامتی واسلام کے ساتھ طلوع فرما ۔[(سنن ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما یقول عند رویۃ الہلال)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں روزہ، نوافل، تلاوت اور عباد ت کابہت اہتمام فرماتے تھے۔ ماہ رمضان میں آپؐ روزہ کی حالت میں ازواج مطہرات کے ساتھ لیٹتے بھی تھے مگر اپنی جنسی خواہش کو قابو میں رکھتے تھے جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ کی روایت سے معلوم ہوتاہے۔(الصحیح لمسلم، کتاب الصیام، باب بیان ان القبلۃ فی الصوم لیست محرمۃ)
روزہ کی شروعات حضرت رسالت مآبؐ سحری سے کرتے تھے اور طلوع فجر سے پہلے سحری کھانا بند کردیتے تھے۔ حضرت زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی، پھر آپؐ نماز فجر کے لیے کھڑے ہوئے۔ راوی نے پوچھا کہ سحری اورفجر کی اذان کے درمیان کتنا وقفہ تھا۔ زید بن ثابت ؓ نے فرمایا کہ پچاس آیات کی تلاوت کا۔(صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب قدر کم من السحور وصلوۃ الفجر)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سحری کھانے پرزور دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی فجر کی اذان سنے اور کھانے کا برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے نہ رکھے یہاں تک کہ اس سے اپنی حاجت پوری کرے، یعنی کھانا پورا کرلے۔(سنن ابی داؤد، کتاب الصیام، باب الرجل یسمع النداء والاناء ۃ علی یدہ)
طلوع فجر سے غروب آفتاب تک روزہ رکھنے کے بعد آپؐ افطار کرتے تھے اور افطار میں جلدی کرتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے پاس ابن عطیہ آئے اور کہا کہ ایک صحابی افطار اور نماز میں جلدی کرتے ہیں جب کہ دوسرے صحابی افطار اور نماز میں تاخیر کرتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے پوچھا کہ کون صاحب افطار اور نماز میں جلدی کرتے ہیں؟ ابن عطیہ نے کہا کہ عبداللہ ابن مسعودؓ ۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔(الصحیح لمسلم، کتاب الصیام، بال فضل السحور وتاکید استحبابہ)
خادم رسول حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب سے پہلے تازہ کھجوروں سے افطار کرتے تھے۔ اگر تازہ کھجوریں نہ ہوں تو خشک کھجوروں سے افطار کرتے تھے۔ اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے تھے۔(سنن ابی داؤد، کتاب الصیام، باب ما یفطر علیہ)
افطار کے بعد آپ یہ دعا فرماتے تھے۔ ذھب الظماء وابتلت العروق وثبت الاجر ان شاء اللہ(ایضاً، باب القول عند الافطار)پیاس بجھ گئی۔نسیں ترہوگئیں اور اللہ نے چاہا تو اجر واجب ہوگیا۔ حضرت معاذ بن زہرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اور دعا پڑھتے سنی ہے: اللہم لک صمت وبک آمنت وعلی رزقک افطرت۔(ایضاً، کتاب الصلوٰۃ باب تفریغ ابواب شہر رمضان)اے اللہ میں نے آپ کے لیے روزہ رکھا ،آپ پر ایمان لایا اور آپ کے رزق سے افطار کیا۔
عشاء کی نماز کے بعد آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم تراویح پڑھا کرتے تھے۔ کبھی انفرادی طور پر اور کبھی صحابہ کرامؓ کے ساتھ۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان فرماتی ہیں کہ آپؐ نے بعد عشاء مسجد میں نماز پڑھی تو آپؔ کے ساتھ کچھ اور لوگوں نے نماز پڑھی۔ اگلے دن آپؐ نے پھر نماز پڑھی تو آپؐ کی اقتداء میں نماز پڑھنے والوں کی تعداد بڑھ گئی۔ وہ لوگ تیسری رات بھی مسجد میں جمع ہوئے ، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر نہیں آئے۔ جب صبح ہوئی تو آپؐ نے صحابہ کرامؓ سے فرمایا کہ گزشتہ شب جو تم لوگوں نے کیااسے میں نے دیکھا اور اس لیے تمہارے پاس نکل کے نہیں آیا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہوجائے۔ یہ رمضان کی بات ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں قیام لیل یعنی تراویح کی ترغیب دیتے تھے مگر تاکیدی حکم نہیں دیتے تھے۔ پھر فرماتے تھے کہ جو شخص رمضان کے مہینہ میں تراویح پڑھے گا ایمان واحتساب کے ساتھ اس کے گزشتہ گناہ معاف کردئے جائیںگے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہی معمول رہا، پھر ابوبکر کی خلافت میں یہی معمول رہا اور حضرت عمرؓ کی خلافت کے زمانہ میں یہی معمول رہا۔
حضرت عمر ؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں تراویح پڑھنے والے نمازیوں کو ایک امام کے پیچھے جمع کردیا۔ تراویح کے علاوہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کا بھی اہتمام فرماتے تھے۔ تہجد کی رکعات کے سلسلہ میں آپ کے معمولات کی متعدد روایات کتب حدیث میں موجود ہیں۔ ان میں سب سے مشہور ابوسلمہ بن عبدالرحمن کی روایت ہے۔ انھوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے سوال کیا کہ رمضان المبارک میں رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔
رسول کریم روزہ کی حالت میں منہ اور دانت کو صاف رکھتے تھے اور مسواک کا اہتمام فرماتے تھے۔ حضرت عامر بن ربیعہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روزہ کی حالت میں اتنی بار مسواک کرتے دیکھا کہ میں شمار نہیں کرسکتا۔ (الصحیح البخاری، کتاب الصوم، باب سواک الطیب والیابس)
سفر کی حالت میں رسول پاک کبھی روزہ رکھتے تھے اور کبھی نہیں رکھتے تھے اور اللہ کی دی ہوئی رخصت سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ روزہ کی حالت میں مکہ مکرمہ کا سفر کیا۔ جب مقام کدید تک پہنچے تو آپؐ نے روزہ توڑ دیا اور آپ کے ساتھیوں نے بھی روزہ توڑ دیا۔۲۰؎ ایک صحابی نے آپ سے حالت سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپؐ نے فرمایا ’’ان شئت فصم وان شئت فافطر‘‘۔ (ایضاً، باب اذا صام ایاما من رمضان ثم سافر) ]چاہو تو روزہ رکھو اور نہ چاہو تو نہ رکھو۔[
جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی اور فیاض تھے۔ رمضان المبارک میں آپ کی سخاوت اور غربا پروری میں اضافہ ہوجاتا تھا۔ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے، اور رمضان میں اور سخی ہوجاتے تھے جب آپؐ سے جبرئیل امین کی ملاقات ہوتی تھی۔ جبریل امین رمضان میں ہر رات آپؐ سے ملنے آتے تھے۔ آپؐ ان سے قرآن کریم کا دور فرماتے تھے۔ جب جبریل امین سے ملاقات ہوتی تھی تو آپ تیز رفتار ہواؤں سے زیادہ سخی ہوجاتے تھے۔
رمضان کے آخری عشرہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عبادت وریاضت میں مزید منہمک ہوجاتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ازار کس لیتے، راتوں کو خود بھی جاگتے اور اپنے اہل خانہ کوبھی جگاتے تھے ۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے۔ پھر اللہ نے آپ کو وفات دے دی تو آپؐ کے بعد آپؐ کی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی تھیں۔
وفات سے پہلے کے سال آپؐ نے عذر کی وجہ سے اعتکاف نہیں کیا تو اگلے سال بیس دنوں کا اعتکاف فرمایا۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان میں دس دنوں کا اعتکاف کرتے تھے جس سال آپؐ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے بیس دنوں کا اعتکاف فرمایا۔
رمضان کے اختتام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقۃ الفطر غریبوں میں تقسیم کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر روزہ دار کو لغو اور بے ہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کے کھانے کے لیے فرض کیا ہے۔ لہٰذا جو اسے عید کی نماز سے پہلے ادا کرے گا تویہ مقبول صدقہ ہوگا اور جو اسے نماز عید کے بعد ادا کرے گا وہ عام صدقات میں ایک صدقہ ہوگا۔
عیدالفطر کی صبح سورج نکلنے کے بعد آپ دو رکعت نماز باجماعت ادا کرتے تھے۔ حضرت جابر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن کھڑے ہوئے اور خطبہ سے پہلے نمازادا کی۔ پھر خطبہ دیا جب نماز اور خطبہ سے فارغ ہوئے تو ممبر سے اترے اور نماز میں شریک خواتین کے پاس تشریف لے گئے اور ان کونصیحت کی۔ اس وقت آپ حضرت بلال کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور بلال اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔ خواتین اس میں صدقہ کا سامان ڈال رہی تھیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں پورے ماہ کا روزہ حضور قلب کے ساتھ رکھا۔ دل کی پاکیزگی کے ساتھ جسم اور ذہن کی پاکیزگی کاخیال رکھا۔ رات کے وقت تراویح اور تہجد کی نماز کا اہتمام فرمایا۔ روزہ رکھنے کے ساتھ غریبوں اور ناداروں کی کفالت کی اور انسانی خدمت کا قابل تقلید نمونہ پیش فرمایا۔
Comments are closed.