مہاراشٹر : سیاسی پانی پت کے نت نئے محاذ
ڈاکٹر سلیم خان
پاکستان کی طرح وطن عزیز میں بھی مہاراشٹر وہ صوبہ ہے جہاں تین چوہے مل کر ایک بلی پر حکومت کررہے ہیں۔ یہ ایک ایسا انوکھا سیاسی تجربہ ہے جس کی مثال شاذو نادر ہی ملتی ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں عام طور پر استحکام نہیں ہوتا کیونکہ بہت جلد چوہے آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔ اس لڑائی کےنتیجے میں کسی ایک چوہے کے ناراض ہوکر بلی کی پناہ میں چلے جانے سے تختہ پلٹ جاتا ہے۔ مہاراشٹر میں ایسا کرنے کی خاطر بلی آئے دن اپنے پنجے جھاڑتی رہتی ہے لیکن اس کی ایک نہیں چلتی ۔ وہ جتنا ڈراتی ہے چوہوں کا اتحاد مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جاتا ہے۔ اس تجربے کی کامیابی کا راز بلی کے خوف اور اس کی انا میں پوشیدہ ہے ۔ چوہے جانتے ہیں کہ ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہی بلی انہیں ایک ایک کرکے چٹ کرجائے گی۔ ایسے میں ضرورت تواس بات کی ہوتی ہے خوفزدہ کرنے کے بجائے لالچ دی جائے ۔ اعتماد میں لیا جائے اور قربانی دی جائے لیکن بلی کی آسمان کو چھوتی انا رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو کب کا پہلے مرحلے میں بلا واسطہ اور پھر بلواسطہ بلی کا راج قائم ہوچکا ہوتا ۔
چوہے بلی کے اس کھیل میں ایک دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب 02؍مارچ کوشیوسینا رہنما سنجے راوت نے ایک ٹویٹ میں مہاراشٹر کے بی جے پی لیڈر کریٹ کے بیٹے نیل سومیا کی گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ باپ بیٹے کی جوڑی کو گرفتار کیا جائے گا۔انہوں نے مرکزی ایجنسی کے تین افسران اور ان کے وصولی ایجنٹوں کو بھی جیل بھیجنے کی دھمکی دے کر لکھا مہاراشٹر جھکے گا نہیں ۔ اس سے ایک ہفتہ پہلے سنجے راوت نے سوال کیا تھا کہ پال گھر کے ویور میں نیرو ڈویلپرس میں 260 کروڑ روپئے کس نے لگائے تھے؟ کیا نکاج گرینول پروجیکٹ میں نیل سومیا (کرٹ سومیا کا بیٹا) اور میدھا سومیا (کریٹ سومیا کی بیوی) ڈائریکٹر ہیں ؟ اور ای ڈی کے کون سے ڈائریکٹر نے اس پروجیکٹ میں بے نامی سرمایہ کاری کی ہے؟اس سے قبل فروری میں کریٹ سومیا اور ان کے بیٹے پر سنجے راوت پی ایم سی بینک گھوٹالے میں کروڑوں روپئے کے فراڈ کا الزام لگا چکے ہیں ۔ اس معاملے میں ممبئی پولیس کی اقتصادی جرائم کا شعبہ ای او ڈبلیو تحقیقات کر رہا ہے۔
بات آگے بڑھی تو 5؍اپریل کو ای ڈی نے ہائی کورٹ میں سابق وزیر داخلہ انل دیشمکھ کے اسپتال جانے کو چیلنج کردیا اور اسے فراڈ بتایا ۔ اس نے الزام لگایا کہ انل دیشمکھ نے اسپتال کے بہانے عدالت کے حکم سے بچنے کی کوشش کی ہے نیز انہیں فی الفور تحویل لینے پر کا اصرار کیا ۔ اسی دن مہاراشٹر سرکار نے ودھان پریشد میں بی جے پی کے رہنما پروین دریکر کو ایم آر اے پولس اسٹیشن میں بلا کر ساڑھے تین گھنٹہ تفتیش کرنے کے بعد بیان لکھوایا ۔ دلچسپ بات یہ ہے دریکر کے خلاف عام آدمی پارٹی کے رہنما دھننجے شندے نے شکایت کی ہےلیکن اس سے پہلے جب وہ نونرمان سینا میں تھے تو اس وقت کریٹ سومیاّ نے بھی ان پرممبئی بنک میں 200 کروڈ روپئے کی بدعنوانی کا الزام لگایا تھا کہ دریکر نے فرضی مزدور بن کر بنک کا الیکشن لڑا اور کئی سال صدر بنے رہے ۔ اس دوران ہونے والی بدعنوانی کی جانچ چل رہی ہے اور ان کے گرد شکنجا کسا جارہا ہے۔دریکر پر تعذیرات ہند کے تحت غلط بیانی، جھوٹا حلف نامہ ، مجرمانہ بدعہدی ، دھوکہ دھڑی ، غبن اور سازش جیسی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
بی جے پی کے لیے یہ بڑی شرمندگی کا مقام تھا اس لیے جواباً انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے۵؍ اپریل کو ہی بدعنوانی کے الزام میں دہلی کے اندر عام آدمی پارٹی کے وزیر صحت ستیندر جین کے ساتھ ممبئی شیو سینا کے راجیہ سبھا رکن سنجے راوت کے کروڑوں کی جائیداد کو ضبط کر لیا ۔ اس طرح گویا پروین دریکر سے تفتیش کا بدلہ بیک وقت دونوں جماعتوں لے لیا گیا ۔ سنجے راوت دلیر اور حاضر جواب سیاستداں ہیں انہوں نے اس کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا، ’استیہ میوجیتے‘ (جھوٹ کی فتح)۔ سنجے راوت پر یہ کارروائی ممبئی کی پاتراچال والی زمین پر تعمیر نو کے دوران تقریباً 1,034 کروڑ روپے کی بدعنوانی کے سلسلے میں کی گئی۔ اس بابت ممبئی سے قریب علی باغ واقع میں ان کے 8 فلیٹ اور قلبِ شہر دادر کے ایک مکان کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ یہ جائیداد سنجے راوت کے اہل خانہ کے نام پر ہے اور انل دیشمکھ و نواب ملک کی مانند ای ڈی نے پریونشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت یہ اقدام کیا ہے۔
اس انتقامی کارروائی کی اصل وجہ پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے ایک اور ٹویٹ میں سنجے راوت نے کہا کہ ’’کیا میں وجے مالیہ، میہول چوکسی، نیرو مودی یا امبانی واڈانی ہوں؟ چاہے ہماری پراپرٹی ضبط ہو، گولی مارو یا جیل بھیجو، ہم نہیں ڈریں گے۔ دو سالوں سے خاموش کرنے کی کوشش ہورہی ہے لیکن (کیا میں ) خاموش ہوا؟ جس کو پھدکنا ہے، ناچنا ہے ناچنے دو۔ آگے پتہ چلے گا کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے؟ ‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’ سنجے راوت بالا صاحب ٹھاکرے کے پیروکار اور شیوسینک ہے، ہم لڑیں گے اور سب کو بے نقاب کریں گے‘‘۔سنجے راوت نے جب بی جے پی کی سابق ریاستی حکومت کے خلاف پچیس ہزار کروڈ کی بدعنوانی کا الزام لگایا اور اس سے متعلق دستاویز وزیر اعظم کے دفتر میں بھیجے تو انہیں یہ توقع نہیں رہی ہوگی کہ خود وہی اس جنجال میں پھنسا دئیے جائیں گے ۔اس معاملے میں شیوسینا قابلِ مبارکباد ہے کہ اس نے مرکز کے سامنے اپنی مظلومیت کا ماتم کرنے کے بجائے اس اقدام کے بعد بھی ڈھول تاشوں کے ساتھ اپنے رہنما استقبال کیا ۔ یہ لڑنے اور جیتنے والوں کی نفسیات ہے۔
ای ڈی نے امسال فروری میں منصوبہ بند طریقہ پر پروین راوت کو گرفتار کرکے ان کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ دائر کردی تھی اور اس کے بعد سنجے راوت کی بیوی ورشا سے بھی تفتیش شروع کردی تھی ۔ سنجے راوت کے لیے یہ خطرے کی گھنٹی تھی ۔ ای ڈی کی دلیل یہ ہے دھوکہ دہی کرنے والی کمپنیوں کے مالک پروین راوت اور ان کی بیوی مادھوری کے سنجے راوت اور نہ صرف ان کی بیوی ورشا بلکہ بیٹیوں کے بھی تار جڑے ہوئے ہیں۔ پروین راوت کے خلاف بدعنوانی کے دو معاملوں میں جانچ چل رہی ہے۔ پہلا پی ایم سی بینک کے ساتھ تقریباً 4,300 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کا معاملہ ہے۔ دوسرا پاترا چال کی تقریباً 47 ایکڑ زمین کا تنازع ہے جس میں تقریباً 1,034 کروڑ روپے کے گھپلے کاالزام ہے۔اس معاملے میں سنجے روات کو پھنسانے کی خاطر ای ڈی کو بڑی مشقت کرنی پڑی گوکہ پترا چال منہدم کرکے اس کی جگہ تعمیرات کرنے والے پروین راوت کے سنجے راوت سے قریبی تعلق ہے ۔
ای ڈی کے مطا بق پروین کی بیوی مادھوری راوت اور سنجے راوت کی بیوی ورشا بزنس پارٹنرہیں۔ مادھوری نے کئی سال قبل 1.6کروڑ روپے ورشا کو دیئے تھےاور اسی رقم سے ورشا نے دادر میں ایک فلیٹ خریداتھا ۔اس میں سےورشا راوت نے تقریباً 55لاکھ لوٹا بھی دئیے ۔ یہ کئی سال پرانا لین دین ہے جس پر برسوں تک ای ڈی نے کوئی کارروائی نہیں کی لیکن جس دن شیوسینا نے بی جے پی کے رہنما پروین دریکر سے دوسوکروڈ روپیہ کی بدعنوانی پرپوچھ تاچھ کی اسی دن پروین راوت کا پی ایم سی بینک سے ایچ ڈی آئی ایل کے ذریعہ لئے گئے قرض میں 59 کروڑ روپے کی ہیرا پھیری کا معاملہ منظر عام پر آگیا۔ ایسے میں وقت کا انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ یہ بدعنوانی کا نہیں بلکہ بدلے کی کارروائی ہے ۔ تازہ خبروں کے مطابق پروین دریکر کو جب تفتیش کے لیے پولس تھانے بلایا گیا تو باہر بی جے پی کے حامی جمع ہوکر ’وندے ماترم‘ گانے لگے ۔ کسی بدعنوان سیاست کو بچانے کی خاطر اس ترانے کو استعمال کرکے قوم پرست جماعت نے اپنا اصلی چہرہ دکھا دیا ہے۔ کریٹ سومیاّ سے متعلق بھی دلچسپ انکشافات ہورہے ہیں کبھی پتہ چلتا ہے وہ انڈر گروانڈ ہوگئے ہیں تو کبھی معلوم ہوتا ہے قبل از وقت ضمانت کی سعی کررہے ہیں بلکہ ان کے ملک سے فرار ہونے کی بھی خبریں گردش کرنے لگی ہیں ۔
جمہوری سیاست کے اندر اگر کسی سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل ہوجائے تو وہ بلا شرکت غیرے حکومت کرتی ہے اور حزب اختلاف کی جماعتوں کو ایک دوسرے سے لڑا کر اقتدار کی جڑیں گہری کرتی جاتی ہے۔ اس کی مثال مغربی بنگال یا اتر پردیش ہے جہاں انتخابی نتائج میں واضح کامیابی کے بعد بھی مخالفین کو کمزور کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس سے مختلف صورتحال ہریانہ میں ہے جہاں بی جے پی نے اپنے ایک مخالف جے جے پی کو ساتھ لے کر حکومت سازی کرلی اور سکون سے سرکار چلا رہی ہے۔ مہاراشٹر میں بالکل ہریانہ والی حالت تھی ۔ یہاں بھی بی جے پی اکثریت سے محروم سب سے بڑی پارٹی تھی لیکن فائدہ یہ تھا کہ اس نے شیوسینا کے ساتھ مل کر الیکشن لڑا تھا اور دونوں مل کر حکومت بنا سکتے تھے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ ہریانہ میں بی جے پی نے اپنے خلاف انتخاب لڑنے والے کو ساتھ لینے میں کامیابی حاصل کرلی مگر مہاراشٹر کے اندر وہ اپنے اتحاد میں شامل جماعت کی حمایت کو گنوا بیٹھی اور کل یگ کا چانکیہ دیکھتا رہ گیا۔ اس صوبے میں برپا سیاسی خلفشار کی بنیادی وجہ اسی ناکامی کا قلق ہے کہ جو بی جے پی ہضم نہیں کرپارہی ہے۔ اس بدہضمی کے سبب چانکیہ بار بار کوئی نہ کوئی رسواکن حرکت کرتے رہتے ہیں اورای ڈی کی یہ کارروائی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
Comments are closed.