قیادت سے مطالبہ

ڈاکٹر عابد الرحمن ( چاندور بسوہ)
پچھلے کچھ ہفتوں سے عدیم الفرصتی کے باعث کچھ لکھنے کا موقع نہیں مل سکا ۔ کل ہمارے ایک بہت ہی مخلص دوست افروز خان کا فون آیا کہ موجودہ حالات کے متعلق میرے جذبات قلمبند کر کے واٹس ایپ کیا ہوں تم انہیں اپنے مضمون میں شائع کرواؤ ۔دراصل ہمارے لئے ملک میں حالات بدترین ہو چکے ہیں ، ہم بہت تیزی سے اس مقام کی جانب ہانکے جا رہے ہیں کہ تاریخ میں جہاں قوموں کی نسل کشیاں ہوئیں ۔ آج ہمیں جن حالات کا سامنا ہے وہ اچانک واقع نہیں ہوئے بلکہ آزادی کے بعد سے مسلسل ان کی تیاری ہوتی رہی ہے اور ایسا بھی نہیں کہ ہمیں اس کا ادراک نہیں تھا بلکہ ہم نے شعور سنبھالا تبھی سے ہم مسلمانوں کے خلاف آر ایس ایس کی سازشوں اور تیاریوں کے متعلق سنتے اور پڑھتے آرہے ہیں ۔ لیکن سازشوں کے اس شور کے دوران ہم نے کبھی ان سازشوں سے بچنے کی یا ان کا توڑ ڈھونڈنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کسی بھی سطح پر نہیں کی ۔ہر ناکامی یا کم مائیگی کا محاسبہ کرنے اور خاطیوں کو الگ تھلگ کرنے کے بجائے اس کا ٹھیکرا بھی آر ایس ایس کی سازش کے سر پھوڑ کر پستی کی سمت مزید آگے بڑھنے کو ہی ترجیح دیتے رہے ،نتیجتاً پستی کا گراف مسلسل نیچے کو جاتا رہا ۔ ہم سماجی معاشی اور سیاسی طور پر اتنے کمزور (Vulnerable)ہو گئے ہیں کہ اب ایرے غیرے بھی بے خوف و خطر جب چاہے جیسی چاہے اشتعال انگیزی اور تشدد ہمارے خلاف کرنے لگ گئے ہیں ،جیسا جھوٹ چاہے ہمارے خلاف پھیلائے جانے لگے ،ہم اتنے غیر محفو ظ ہوگئے ہیں کہ خود قانون کے رکھوالے بھی ہماری حفاظت کا رسک نہیں لینا چاہتے ۔
افروز خان نے لکھا ہے کہ’’ آج بھارت میں جو ہو رہا ہے اس سے کوئی بھی چھوٹا بڑا طبقہ بے خبر نہیں ۔ دیش میں بہت سارے ’بدھی جیوی ، ساماجک کارکن ،پترکار اور وام پنتھی چنتک ‘ ہیں جو اس فکر میں گھلے جارہے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ بہت ہی نا انصافی ہورہی ہے۔ جاتی وادی طاقتیں مسلمانوں کو ٹارگیٹ کررہی اور انہیں سماجی نقطہء نظر سے کمزوراور الگ تھلگ کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔ دوسرے لوگ اس ضمن میں فکر مند نظر آرہے ہیں مگر کیا مسلم قائدین کو اس کی فکر ہے؟نہیں!ملک میں ہماری آبادی بیس کروڑ ہے اسی سے جاتی وادی طاقتوں کی نیند اڑی ہوئی ہے ۔ کیا واقعی ہم بڑی طاقت نہیں ہیں؟ یا بیس کروڑ زندہ لاشیں ہیں جو اپنی قبروں کا انتظار کررہی ہیں؟ آئے دن ایک نیا مسئلہ کھڑا کیا جارہا ہے ۔کبھی ہمارے لباس کبھی ہماری شناخت کبھی ہماری غذا کبھی ہماری عبادات کو اشو بناکر ہمیں ٹارگیٹ کیا جارہا ہے ۔تہواروں کی ریلیوں کے نام پر مساجد درگاہوں اور مسلم آبادی پر حملے کئے جارہے ہیں اور سرکار ی ایجنسیاں اس کے خلاف کارروائی کے بجائے خود مسلم نوجوانوں کو ہی گرفتار کررہی ہیں بلکہ کئی ریاستوں میں تومسلمانوں پر اور ہماری املاک پر سرکاری کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے ۔ ہماری بچیوں کو صرف اسلئے اسکول نہیں جانے دیا جارہا ہے کہ وہ حجاب پہنتی ہیں اور غریبوں کے چھوٹے موٹے بیوپار تک کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے ۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ جب جب ہم پر اس طرح کے حملے ہوتے ہیں ہمارے سیاسی سماجی اور ملی قائدین ہمارے ساتھ نظر نہیں آتے کچھ کرتے بھی ہیں تو روایتی بیان بازی اور بس! جبکہ ہندوؤں کے بڑے بڑے لیڈر اپنی کمیونٹی کے ساتھ زمینی لیول پر موجود ہوتے ہیں۔ ہمارے حق میںکوئی آواز اٹھتی ہے تو وہ بھی غیر مسلم دانشوروں کی ، لبرل سیکولر سماجی عناصر کی ۔ تو کیا ہماری لڑائی دوسرے لوگ لڑیں گے اور وہ بھی کب تک ؟ کیا دوسروں کے بل پر کوئی لڑائی جیتی جا سکتی ہے ؟‘‘افروز خان نے اپنی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ’’ وہ ملک میں مسلسل خراب ہوتے ہمارے حالات اورہمارے خلاف مسلسل بڑھ رہی نفرت تشدد اور منظم بائیکاٹ اور صوبائی سرکاروں کے رویہ کو لے کر محترم وزیر اعظم اورعزت مآب صدر جمہوریہ سے ملیں اور ان حالات واقعات کے تئیں اپنی ناراضی اور تشویش سے انہیں آگاہ کریں ، آئین و قانون کے حوالے سے انہیں ہماری حفاظت کا فریضہ یاد دلائیں ۔ اسی طرح میڈیا اور سوشل میڈیا میں ان واقعات کی پرزور مذمت کرکے کم از کم اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیں ۔ورنہ بھارت میانمار ہونے سے دور نہیں۔ ‘‘ یہ جذبات افروز خان ہی کے نہیں پوری امت کے ہیں ۔ ہم انتہائی نازک مقام پر پہنچ چکے ہیں ، اب ہماری حالت کرو یا مرو کی سی ہو گئی ہے ،ملک کی اکثریت کی اکثریت ہمارے خلاف چل رہے پروپگنڈے کے زیر اثر ہمیں ملک دشمن اور ملک کے سیاسی سماجی اور معاشی مسائل کا سبب سمجھنے لگی ہے ، بہت کم لوگ ہیں جو ایسا نہیں سمجھتے اور بہت ہی کم ہیں جو اس سوچ و فکرکونہ صرف مسلمانوں بلکہ ملک کے لئے برا سمجھتے ہیںاور گنے چنے ہیں جو اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اب ہمیں من حیث القوم بنیان مرصوص بن کر اس مسئلہ کا کوئی حل نکالنا چاہئے ۔یہ سلسلہ اس وقت نہیں توڑا جا سکتا جب تک کہ ہم خود اس کے خلاف مضبوطی سے کھڑے نہ ہوجائیں ، اور جب تک ہماری قیادت متحرک نہیں ہوگی بیس کروڑ مسلم آبادی زندہ لاشوں کی مانند بے حس وحرکت ہی پڑی رہے گی ۔ یہ زندہ لاشیں اب بھی اپنی قیادت سے آس لگائے اور قیادت کی طرف آنکھ لگائے بیٹھی ہیں ۔ اب قیادت کو اپنے ائر کنڈیشنڈ آفسس میں بیٹھ کر روایتی مذمتی بیان جاری کرنے کے بجائے لٹتے پٹتے مارکھاتے لوگوں کے درمیان زمین پر اترنا ہو گا ۔ ہماری با اثر شخصیات کے زمین پر آنے سے پوری قوم کی پوزیشن میں تبدیلی آ سکتی ہے ۔ عوام کا احساس بے بسی ختم ہو سکتا ہے ۔ پولس اور سلامتی اہلکار مظلوموں کی حفاظت اور ظالموں کے خلاف نبرد آزما ہونے کی اپنی ذمہ داری کے تئیں پریشرائز ہو سکتے ہیں ، سرکار کو بھی قانونی دھاندلی کرنے میں تھوڑی بہت ہی سہی شرم آسکتی ہے ۔ اسی طرح فساد زدگان کی امداد اور بازآبادکاری کے ساتھ ساتھ فسادیوں اور ان کے حمایتیوں کے خلاف سخت ترین قانونی چارہ جوئی بھی کی جانی چاہئے ۔ پولس اور سلامتی اہلکاروں کی کوتاہئیوں کو بھی عدالت بھی کھینچا جانا چاہئے اسی طرح سرکار کی طرف سے اگر کہیں زیادتی یا تعصب دکھائی دے تو اس کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہئے ۔ انہیں قانون کے شکنجے میں ایسے کسنا چاہئے کہ پھر کسی کو فساد کرنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑے ۔ ہمیںفسادیوں کی طرح کسی سے لڑنا کسی کو مارنا کسی کو لوٹنایا کسی مذہبی مقام کی بے حرمتی نہیں کرنی لیکن کم از کم فساد روکنے کی حالت میں ضرور آنا چاہئے، قیادت اگر زندہ ہونے کا ثبوت دے تو عوام ان سے زیادہ زندہ ہوکر دکھا سکتے ہیں ۔باقی اللہ مالک ہے۔

Comments are closed.