اعتکاف کا روزہ و تراویح اور ماہ رمضان کے روحانی مقاصد کیلئے تکمیلی کردار

از: (مفتی) محمد توحید خان ندوی
استاد معہد دار العلوم ندوۃ العلماء سکروری لکھنؤ
ماہ مبارک کی مقدس گھڑیاں اپنی روحانی تابانیوں اور نورانی ضوفشانیوں کے ساتھ گزر رہی ہیں رحمت کا عشرہ گزر کر مغفرت کا عشرہ اپنی انتہا کے قریب ہے مسجدوں کی رونق اور دیندار و پارسا گھرانوں کی پرنور فضاؤں سے ہر طرف سکون واطمینان ، فکر آخرت اور قرآنی نغموں کا جلوہ نظر آتا ہے زمین کے وہ حصے جو ذکر خداوندی سے آباد ہیں فخر و مسرت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں اور وہ حصے جو ذکر و تلاوت ، عمل و کردار سے خالی ، کفر و الحاد ، گناہوں سے بھرے ہوئے ہیں وہ تاریک، اپنے بسنے والوں پر ماتم کناں اور لعنت بھیجتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
اس مقدس مہینے کی مخصوص عبادات میں روزہ و تراویح کا مکمل اہتمام کرنے والے روحانی ارتقاء ، ایمان و یقین ، عمل و کردار کی بلندیوں پر پہونچتے ہیں اور اس دنیائے دنیئ ، روئے زمیں پر ہی ملا اعلیٰ ، جنت المعلیٰ کے روح پرور ، تسکین بخش ، مسرت آگیں و معطر جھونکوں کو قلب و وجدان کی باطنی نسبت، روحانی قوت سے محسوس کرتے ہوئے محظوظ ہوتے ہیں یہ ایسا پر کیف منظر ، پر تاثیر ماحول ، روح افزا موقع ہوتا ہے جسے الفاظ و تراکیب بیان کرنے سے عاجز ،قلم و قرطاس احاطہ تحریر میں لانے سے قاصر ہیں یہ تو بس ادراک کرنے اور قلب و نظر سے دیکھنے کی چیز ہے خدا تعالیٰ ہر مسلمان اور صاحبِ ادراک کو نصیب فرمائے آمین۔
یوں تو رمضان کا ہر دن ہر رات حسب ظرف و کردار قرب خداوندی کا احساس دلاتی ہے مگر آخری عشرہ کے ایام اور اس کی راتیں رب العالمین کی رحمتوں کے متوالوں اور اس کے دریائےعطا و بخشش کے طلبگاروں کے لئے ایک انمول تحفہ ہے کیونکہ اسی عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی رات شب زندہ داروں کے لئے شب قدر واقع ہوتی ہے اور طالبین مغفرت ، باہمت و باتوفیق بندگان خدا اسی رات کی عبادت کی تلاش میں ماہ مقدس کے آخری عشرہ کا اعتکاف بھی کرتے ہیں شب قدر اور اعتکاف دراصل ماہ مقدس کی مخصوص عبادات روزہ و تراویح کے لئے تکمیل کا کردار ادا کرتے ہیں۔
روزہ دن کی طویل عبادت ہوتی ہے اور تراویح رات کے قیام میں چند گھنٹوں میں ادا ہوجاتی ہے جبکہ اعتکاف کی عبادت مکمل دس راتوں اور دنوں میں دنیا کے تمام کاروبار سے یکسو ہوکر سراپا و ہمہ وقت خانہ خدا میں ٹھہرے رہنے سے ادا ہوتی ہے جو اپنی فضیلت و برتری ، حقیقت و ماہیت کے لحاظ سے عبادت کی روح اور قرب خداوندی کے حصول میں سب زیادہ مؤثر و مفید کردار ادا کرتی ہے چنانچہ اسی لیے پیغمبر آخر الزماں سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے سرفراز کیے جانے سے پہلے غار حرا میں پہلا اعتکاف فرمایا یہاں تک آپکی روحانیت، قوت ملکوتی اس درجے پر پہونچ گئی کہ آپ کے قلب اطہر پر قرآن مجید کے الفاظ و معانی کا نزول شروع ہوگیا اور آپ شب قدر کی تلاش میں (جس میں قرآن مجید کا نزول شروع ہوا تھا) اپنی مدنی زندگی میں بھی آخری عشرہ کا اعتکاف فرماتے رہے یہاں تک ایک بار سفری ضرورت درپیش ہونے کی بنا پر آپ اعتکاف نہ کرسکے تو اگلے سال اس کی تلافی کے لئے دس کے بجائے مکمل بیس دنوں کا اعتکاف فرمایا صاحب معارف الحدیث حضرت مولانا محمد منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ ہر طرف سے یکسو اور سب سے منقطع ہو کر بس اللّٰہ تعالیٰ سے لَو لگا کے اس کے درپے (یعنی مسجد کے کسی کونےمیں)پڑ جائے اور سب سے الگ تنہائی میں اس کی عبادت اور اسی ذکر و فکر میں مشغول رہے یہ اخص الخواص عبادت ہے
نزولِ قرآن سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت مبارک میں سب سے یکسو اور الگ ہوکر تنہائی میں اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے ذکر وفکر کا جو بیتابانہ جذبہ پیدا ہوا تھا جس کے نتیجے میں آپ مسلسل کئ مہینے غار حرا میں خلوت گزینی کرتے رہے یہ گویا آپ کا پہلا اعتکاف تھا اور اس اعتکاف ہی میں آپ کی روحانیت اس مقام تک پہونچ گئ تھی کہ آپ پر قرآن مجید کا نزول شروع ہوجائے چنانچہ حرا کے اس اعتکاف کے آخری ایام ہی میں اللّٰہ کے حاملِ وحی فرشتے جبریل سورہ اقرا کی ابتدائی آیتیں لے کر نازل ہوئے تحقیق یہ ہے کہ یہ رمضان مبارک کا مہینہ اور اس کا آخری عشرہ تھا اور وہ رات شبِ قدر تھی.
…… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہتمام سے ہر سال رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرماتے تھے بلکہ ایک سال کسی وجہ سے رہ گیا تو اگلے سال آپ نے دو عشروں کا اعتکاف فرمایا.(جلد چہارم صفحہ 118)
اعتکاف روحانیت، قرب خداوندی، تربیت نفس، تزکیہ اخلاق، کے ان حصوں کی تکمیل کرتاہے جو بیس دنوں کے مسلسل روزوں، راتوں کی تراویح کے باوجود تشنہ رہ جاتے ہیں اس کا اہتمام ماہ رمضان کے روحانی و اخلاقی مقاصد کی تکمیل کا حصہ ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں روزہ کی فرضیت، نزولِ قرآن کے بیان کے ذیل میں اعتکاف کا ذکر آیا ہے اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ماہ مقدس کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا قرآنی ترتیب کی رعایت اور مشیت الٰہی کے عین مطابق تھا اعتکاف کرنے سے انسان کو نفس و شیطان پر قابو پانے، گناہوں سے بچنے، نیکیوں پر ثابت قدم رہنے کی زبردست قوت حاصل ہوتی ہے مسجد میں معتکف شخص بہت سے گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور رفتہ رفتہ اس میں نفس کے شہوانی مزاج کو کچلنے اور طبیعت کو معتدل و مضبوط بنانے پر پختگی اور اس کا مزاج حاصل ہوجاتا ہے
حالت اعتکاف میں بیٹھنے والا شخص گرچہ بہت سے اجتماعی اعمال، بیرونی دنیا کی نیکیوں سے محروم ہوجاتا ہے مگر اسے انکا اجر و ثواب ان میں شرکت کیے بغیر بھی ملتا رہتا ہے جب تک وہ اعتکاف سے باہر نہیں آجاتا، یہ فضیلت اعتکاف کو تمام عبادتوں سے ممتاز بنا دیتی ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في المعتكف هو يعكف الذنوب و يجري له من الحسنات كعامل الحسنات كلها.(سنن إبن ماجه رقم الحديث:1781)
ترجمہ: حالت اعتکاف میں معتکف گناہوں سے تو باز رہتا ہی ہے مسجد سے باہر نہ نکلنے کی وجہ سے جن نیکیوں سے محروم رہتا ہے وہ نیکیاں بھی باری تعالیٰ کے فضل سے اس کے ذخیرہ حسنات میں داخل ہوجاتی ہیں
اس کے علاوہ ماہ مقدس کے محض دس دنوں کے اعتکاف کا ثواب ایک حدیث میں دو حج و عمرہ کے برابر بھی بتایا گیا ہے
اعتکاف کی عبادت ایسی عبادت ہے کہ وہ سوتے جاگتے ہر وقت جاری رہتی ہے اور اسی بنیاد پر شب قدر کی عبادت معتکف کو بہر حال نصیب ہوجاتی ہے اگر چہ وہ سو کیوں نہ رہا ہے البتہ جاگ کر شب قدر پانے والا فضیلت میں بڑھا ہوا ہے
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
صاحب مراقی الفلاح کہتے ہیں کہ اعتکاف اگر اخلاص کے ساتھ ہو تو افضل ترین اعمال میں سے ہے اس کی خصوصیتیں حد احصاء سے خارج ہیں کہ اس میں قلب کو دنیا و مافیہا سے یکسو کرلینا ہے اور نفس کو مولی کے سپرد کردینا اور آقا کی چوکھٹ پر پڑ جانا ہے
پھر جی میں ہے کہ درپے کسے کے پڑا رہوں
سر زیرِ بارِ منتِ درباں کئے ہوئے
نیز اس میں ہر وقت عبادت میں مشغولی ہے کہ آدمی سوتے جاگتے ہر وقت عبادت میں شمار ہوتا ہے اور اللّٰہ کے ساتھ تقرب ہے.”
(فضائل اعمال جلد اول صفحہ 618)
اعتکاف کی اہم ترین عبادت اور اس کی اتنی فضیلتوں، روحانی و اخلاقی فوائد کے باوجود امت مسلمہ بالعموم اس سے غافل ہے رمضان المبارک میں روزوں، تراویح، تلاوت، ذکر و تسبیح، زکوٰۃ و عطیات کا اہتمام تو ماشاءاللہ بہت ہوتا ہے تاہم سنت اعتکاف جو رمضان المبارک کے مقاصد میں تکمیلی کردار ادا کرتی ہے کی طرف بحیثیت مجموعی رجحان نہ کے برابر ہے بزرگان دین اور خانقاہوں میں ان کے متوسلین کے یہاں اس کا خصوصی اہتمام دیکھنے کو ملتا ہے مگر شہروں، دیہات و قصبات میں جو اہتمام تراویح کا نظر آتا ہے وہ اعتکاف کے سلسلے میں تقریباً ناپید ہے کئ جگہوں پر تو یہ دیکھنے کو ملا کہ لوگ تراویح میں قرآن مجید سنانے کے لیے حفاظ کو لانے کی طرح اعتکاف کرنے والوں کو بھی رقومات طے کرکے کرایہ پر دوسری جگہوں سے بلواتے ہیں حالانکہ فقہاء نے لکھا ہے کہ ہر محلہ کی اس مسجد میں جہاں پنج وقتہ باجماعت نماز ہوتی ہو کم از کم ایک مقامی شخص کا اعتکاف میں بیٹھنا سنت مؤکدہ کفائ ہے جس طرح تروایح کا محلہ کی ہر مسجد میں جماعت سے قائم کرنا سنتِ مؤکدہ کفائ ہے اسی طرح اعتکاف کا بھی محلہ کی ہر مسجد میں ہونا سنت مؤکدہ کفائ ہے فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب مدظلہ العالی لکھتے ہیں:
جو حکم تراویح کا ہے وہی حکم اعتکاف کا بھی ہونا چاہیے یعنی اگر ایک محلہ میں کئ مسجدیں ہوں تو بہتر ہے کہ ہر مسجد میں اعتکاف ہو.”(کتاب الفتاویٰ جلد سوم صفحہ 454)
ضرورت اس بات کی ہے کہ اعتکاف کو صرف فقہی نقطہء نظر سے دیکھتے ہوئے سنت مؤکدہ کفائ نہ سمجھا جائے بلکہ روزہ و تراویح کی طرح اعتکاف کو بھی ماہ رمضان کے تزکیہ اخلاق، جمعیتِ خاطر، رجوع الی اللہ، اور اشتغال بالحق کے سالانہ تربیتی کورس کا تکمیلی حصہ یقین کیا جائے اور اس پہلو سے ہر شخص پورے دس دن نہ صحیح کم از کم آخری عشرہ کی طاق راتوں اور اس کے کچھ حصوں ہی کو نسبت مع الصالحین، تعلق مع اللہ، صفائی قلب، اصلاح نفس و اخلاق کا موقع سمجھتے ہوئے ان میں رمضان کے فوائد و برکات کے حصول میں رہ گئ کمی کا تدارک کرنے کی کوشش کرے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
اعتکاف رمضان کے فوائد اور مقاصد کی تکمیل کے لئے ہے اگر روزہ دار کو رمضان کے پہلے حصہ میں وہ سکون قلب، جمعیت باطنی، فکر و خیال کی مرکزیت، انقطاع الی اللہ کی دولت، رجوع الی اللہ کی حقیقت اور اس کے در رحمت پر پڑے رہنے کی سعادت حاصل نہیں ہوسکی تو اس اعتکاف کے ذریعے وہ اس کا تدارک کرسکتا ہے.(ارکانِ اربعہ صفحہ 275)
خدا تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس اہم ترین عبادت کی رغبت و عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ماہ مقدس کی اعتکاف سمیت تمام عبادات کو قبول فرمائے (آمین)

Comments are closed.