ڈاکٹر بنانے کا نظام….. بچوں کو مریض بنا رہا ہے
خان طاہر
پرچے لیک ہوتے رہے…چہرے بدلتے رہے… مگر سوال وہی رہا: آخر قصوروار کون ہے؟
ہندوستان میں داخلہ جاتی امتحانات صرف امتحانات نہیں ہوتے، یہ غریب گھروں کی امیدوں، ماؤں کی دعاؤں، باپ کی مزدوری، بہنوں کی قربانیوں اور نوجوانوں کی جاگی ہوئی راتوں کا دوسرا نام ہوتے ہیں۔ خاص طور پر NEET، JEE، CUET اور UGC-NET جیسے امتحانات کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ “محنت کرو، کامیابی تمہارے قدم چومے گی”، مگر آج حالات یہ ہیں کہ محنت کرنے والا بھی خوفزدہ ہے اور کامیابی کے قریب پہنچنے والا بھی غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔
2017 میں حکومتِ ہند نے بڑے دعووں کے ساتھ National Testing Agency یعنی این ٹی اے قائم کیا۔ کہا گیا کہ اب امتحانات کا نظام شفاف ہوگا، نقل مافیا ختم ہوگا، پرچے محفوظ ہوں گے اور قابلیت کا حق مارا نہیں جائے گا۔ حکومت نے یہ تاثر دیا کہ ایک ایسا ادارہ وجود میں آ رہا ہے جو جدید ٹیکنالوجی، کمپیوٹرائزڈ نظام اور سخت نگرانی کے ذریعے بھارت کے امتحانی نظام کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے برابر لے جائے گا۔
مگر آج سوال یہ ہے کہ اگر این ٹی اے اتنا مضبوط ادارہ تھا تو پھر ہر چند برس بعد یہی ادارہ تنازعات کے مرکز میں کیوں آ جاتا ہے؟
یہ محض اتفاق ہے یا پورے نظام کی سنگین ناکامی کہ یو جی سی نیٹ 2024، نیٹ 2024 اور پھر نیٹ 2026 — تینوں بڑے تنازعات انہی امتحانات میں سامنے آئے جو کاغذی پرچوں کے ذریعے لیے گئے۔ تینوں معاملات نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا کہ آخر paper-based system واقعی کتنا محفوظ ہے؟ جب سوالیہ پرچے پہلے سے چھاپے جائیں، مختلف مقامات تک منتقل ہوں، strong rooms میں رکھے جائیں اور بے شمار مرحلوں سے گزریں، تو leak کا خطرہ خود بخود بڑھ جاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر scandal کے بعد نظام پر نہیں بلکہ صرف طلبہ پر مزید سختیاں بڑھا دی جاتی ہیں۔ گویا مسئلہ paper leak کا نہیں، بلکہ بچوں کی transparency bottle، dress code اور checking کا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بار بار وہی امتحانات متنازع ہو رہے ہیں جو pen-and-paper mode میں لیے جا رہے ہیں، اور یہی بات پورے امتحانی ڈھانچے پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔
نظام بدلا گیا… مگر انجام کیوں نہ بدلا؟
این ٹی اے کے ابتدائی دور میں Vineet Joshi اس ادارے کے اہم سربراہ رہے۔ ان کے دور میں کمپیوٹرائزڈ امتحانات، مرکزی نظام اور تکنیکی اصلاحات پر زور دیا گیا۔ حکومت اس دور کو این ٹی اے کے “استحکام” کا زمانہ قرار دیتی رہی۔ وہ کافی طویل عرصے تک اس ادارے سے وابستہ رہے اور ان کے دور میں بڑے قومی سطح کے تنازعات نسبتاً کم سامنے آئے۔
مگر وقت کے ساتھ ساتھ امتحانی نظام کے اندر موجود خامیاں سامنے آنے لگیں۔ نقل کروانے والے گروہ، جعلی امیدوار، اندرونی معلومات کے استعمال، سافٹ ویئر کے ذریعے دھاندلی اور کوچنگ مافیا کے اثرات جیسے معاملات سامنے آنے لگے۔
پھر آیا 2024۔
اور یہی وہ سال تھا جس نے این ٹی اے کی ساکھ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔
“ایک پرچہ لیک ہوا… اور کروڑوں خواب کٹہرے میں آ گئے”
NEET-UG 2024 controversy نے پورے ملک میں ہنگامہ برپا کر دیا۔ لاکھوں طلبہ نے سوال اٹھایا کہ:
ایک ہی مرکز سے اتنے زیادہ ٹاپر کیسے آ گئے؟
اضافی نمبر کیوں دیے گئے؟
امتحان سے پہلے سوالات ٹیلیگرام اور سوشل میڈیا تک کیسے پہنچے؟
اگر نظام محفوظ تھا تو پھر leak کہاں سے ہوا؟
یہ معاملہ صرف ایک امتحان کا نہیں رہا بلکہ پورے نظام کی ساکھ پر سوال بن گیا۔ احتجاج ہوئے، عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے گئے، طلبہ سڑکوں پر نکلے، والدین نے غصہ ظاہر کیا اور آخرکار معاملہ Supreme Court of India تک پہنچ گیا۔
اسی دوران Subodh Kumar Singh این ٹی اے کے سربراہ تھے۔ عوامی دباؤ بڑھا، میڈیا نے سوال اٹھائے اور حکومت نے انہیں ہٹا دیا۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر صرف ایک شخص ذمہ دار تھا تو پھر نظام دوبارہ کیوں لڑکھڑا گیا؟
اور اگر پورا نظام کمزور تھا تو پھر صرف ایک افسر کو ہٹانا کافی کیوں سمجھا گیا؟
چہرہ بدلا… مگر کیا نظام بدلا؟
پھر Pradeep Singh Kharola کو ذمہ داری دی گئی۔ کہا گیا کہ اب اصلاحات ہوں گی، نگرانی سخت ہوگی، پرچے محفوظ ہوں گے اور دوبارہ ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2024 سے 2026 تک کوئی بڑا قومی سطح کا اسکینڈل نمایاں طور پر سامنے نہیں آیا۔ مگر اس کے باوجود مارچ 2026 میں اچانک Pradeep Singh Kharola کو ہٹا کر Abhishek Singh کو نیا ڈی جی مقرر کر دیا گیا۔
یہ تبدیلی کئی سوالات چھوڑ گئی۔
اگر دو برس تک کوئی بڑا تنازع نہیں ہوا تھا تو پھر اتنی جلدی سربراہ کیوں بدلا گیا؟
کیا حکومت کو اندرونی کمزوریوں کا اندازہ ہو چکا تھا؟
یا پھر صرف چہرے بدل کر عوامی غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی؟
اب 2026 میں NEET-UG کے حوالے سے پھر وہی خبریں سامنے آ رہی ہیں:
پرچہ لیک،سوالات کی گردش، امتحان کی منسوخی اور دوبارہ بے یقینی۔
یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ صرف افراد کا نہیں بلکہ پورے ڈھانچے کا ہے۔
اگر 2024 کے بعد واقعی سخت اصلاحات کی گئی تھیں تو پھر 2026 میں دوبارہ یہی بحران کیوں پیدا ہوا؟
کیا ہر بار ایک نیا افسر لا کر عوام کو مطمئن کرنا کافی ہوگا؟
کیا اگلا پرچہ لیک نہیں ہوگا؟
یہ سب سے خطرناک سوال ہے۔
اور شاید اس کا جواب کسی کے پاس یقین کے ساتھ موجود نہیں۔
کیونکہ جب تک:
پرچہ چھاپنے کے مراحل محفوظ نہیں ہوں گے،
اندرونی ملی بھگت ختم نہیں ہوگی،
کوچنگ مافیا پر کارروائی نہیں ہوگی،
اور حقیقی احتساب نہیں ہوگا،
تب تک کوئی بھی حکومت یا ادارہ یہ ضمانت نہیں دے سکتا کہ اگلا پرچہ لیک نہیں ہوگا۔
اصل مسئلہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں، نیت اور نگرانی کا بھی ہے۔
ایک پرچہ لیک نہیں ہوتا… ایک پورا سماج لیک ہو جاتا ہے
جب NEET-UG 2026 کے پرچے کے لیک ہونے کی خبریں آئیں تو صرف ایک سوالیہ پرچہ باہر نہیں آیا، بلکہ پورے ہندوستانی امتحانی نظام کی کمزوریاں ننگی ہو گئیں۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس نقصان کی قیمت کون ادا کرے گا؟
ایک بچہ جو دو سال، تین سال، کبھی کبھی پانچ پانچ سال صرف NEET کی تیاری میں لگا دیتا ہے، اس کی زندگی کا حساب کون دے گا؟
کسی نے کوچنگ کے لیے دو لاکھ روپے خرچ کیے۔
کسی نے ہاسٹل کی فیس دی۔
کسی نے دوسرے شہر جا کر کمرہ لیا۔
کسی نے کھانے پینے، کتابوں، ٹیسٹ سیریز اور سفر پر لاکھوں روپے خرچ کیے۔
اب اگر امتحان منسوخ ہو جائے تو کیا ہوگا؟
کیا وہ بچہ دوبارہ کوچنگ لے؟
دوبارہ ہاسٹل کا کرایہ دے؟
دوبارہ نئے شہر جائے؟
دوبارہ کتابیں خریدے؟
دوبارہ ذہنی دباؤ جھیلے؟
اور سب سے بڑا سوال: یہ اضافی پیسہ آخر وہ کیوں دے؟
ایک غریب باپ جو پہلے ہی قرض میں ڈوبا ہوا ہے، کیا وہ دوبارہ قرض لے؟
ایک ماں جس نے پہلے ہی اپنے زیور بیچ دیے، کیا وہ دوبارہ کچھ بیچے؟
ایک بہن جس نے اپنے شوق قربان کیے، کیا وہ مزید قربانی دے؟
یہ صرف امتحان نہیں، ایک معاشی ظلم بھی ہے۔
جب دھرمیندر پردھان کے دورِ وزارت میں بار بار پرچہ لیک، امتحان منسوخی اور شفافیت کے بحران سامنے آئے، تو کیا عوام کو یہ حق نہیں کہ وہ پوچھیں:
آخر مستقل ذمہ داری کس کی ہے؟
حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر بار ثابت قدمی، صبر اور قربانی کا بوجھ صرف بچوں کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ بچے دوبارہ تیاری کریں، دوبارہ فیس دیں، دوبارہ ذہنی دباؤ جھیلیں، دوبارہ کوچنگ لیں، دوبارہ ہاسٹل کا خرچ اٹھائیں .. مگر نظام سے کبھی یہ نہیں پوچھا جاتا کہ آخر اس کی ناکامی کی قیمت کون ادا کرے گا؟
طلبہ کو امتحان سے پہلے لمبی لمبی ہدایات دی جاتی ہیں: کس طرح کے کپڑے پہن کر آنا ہے، چپل پہننی ہے یا جوتا، آدھی آستین پہننی ہے یا پوری، کان میں کچھ نہیں ہونا چاہیے، شفاف بوتل لانی ہے، جیب خالی ہونی چاہیے، بچیوں کے کلپس تک چیک کیے جاتے ہیں، بچوں کو کئی کئی مرحلوں کی تلاشی سے گزارا جاتا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پورا نظام صرف بچوں کو مشکوک سمجھ کر بنایا گیا ہو۔
مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ: اتنی تلاشی، اتنی پابندیوں، اتنی نگرانی اور اتنی سختی کے باوجود cheating آخر ہوتی کہاں سے ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ اکثر دھاندلی بچوں کے ذریعے نہیں، بلکہ انتظامیہ، اندرونی کمزوریوں، paper leak مافیا اور نظامی ناکامیوں کے ذریعے ہوتی نظر آتی ہے۔
بچوں کی جیبیں چیک ہو جاتی ہیں، مگر نظام کے سوراخ چیک نہیں ہوتے۔
طلبہ کو شفاف بوتل لانے کا حکم دیا جاتا ہے، مگر پورا امتحانی نظام ہی شفاف نظر نہیں آتا۔
بچوں کے ناخن تک دیکھ لیے جاتے ہیں، مگر اداروں کے اندر بیٹھے لوگوں کی جوابدہی نہیں دیکھی جاتی۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ: بچوں کی cheating روکنے کے لیے تو قانون، CCTV، بایومیٹرک تصدیق اور سخت نگرانی موجود ہے، مگر انتظامیہ کی cheating روکنے کے لیے کیا موجود ہے؟
paper leak مافیا کو ختم کرنے کے لیے کتنے سخت قوانین بنے؟ اندرونی ملی بھگت روکنے کے لیے کتنے افسران کو مستقل سزا ملی؟ کتنے بڑے لوگوں کو واقعی ذمہ دار ٹھہرایا گیا؟
کیا بار بار امتحان منسوخ کرنے سے بہتر یہ نہیں ہے کہ ایک بار دھرمیندر پردھان کو ہی منسوخ کیا جائے۔
آخر طلبہ کب تک ہر تنازع کے بعد صرف یہ سنتے رہیں گے:
قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا…
جبکہ کچھ مہینوں بعد وہی بحران دوبارہ سامنے آ جاتا ہے۔
پرچہ لیک کی قیمت صرف بچوں نے نہیں دی… پورے ملک نے دی
NEET-UG جیسے امتحانات کروانے میں کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر امتحان منسوخ ہوتا ہے تو اس خرچ کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟
دو سو کروڑ؟
چار سو کروڑ؟
پانچ سو کروڑ؟
جو بھی رقم خرچ ہوئی، وہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ تھا۔
پرچے چھپے، مراکز تیار ہوئے، نگرانی ہوئی، عملہ تعینات ہوا، سیکورٹی لگائی گئی، ٹرانسپورٹ ہوا، پورا نظام حرکت میں آیا۔
پھر اگر پرچہ لیک ہو گیا تو: کیا کسی افسر کی تنخواہ سے یہ رقم کاٹی جائے گی؟
کیا کسی ادارے پر جرمانہ ہوگا؟
کیا کسی وزیر نے ذمہ داری لی؟
نہیں
نقصان ہمیشہ عوام کا ہوتا ہے۔
اور جوابدہی ہمیشہ غائب رہتی ہے۔
این ٹی اے ماننے کو تیار نہیں تھا… عوام نے مجبور کیا
سب سے اہم بات یہ ہے کہ NEET-UG جیسے بڑے امتحان کا پرچہ لیک ہوا تو اس پر عوامی دباؤ بنا۔ سوشل میڈیا پر مسلسل بات ہوئی، طلبہ نے احتجاج کیا، میڈیا نے کئی دن تک خبریں چلائیں، تب جا کر این ٹی اے نے مسئلے کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔
یہ سوال بہت خطرناک ہے:
اگر عوام شور نہ مچاتی تو کیا این ٹی اے مانتا کہ مسئلہ ہوا ہے؟
این ٹی اے کے کئی بیانات اور ٹویٹس ایسے محسوس ہو رہے تھے جیسے ادارہ مسلسل یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہو کہ: “سب کچھ کنٹرول میں ہے…. سب محفوظ ہے… کوئی مسئلہ نہیں…..”
جبکہ زمین پر طلبہ چیخ رہے تھے کہ: “مسئلہ ہے…. اور بہت بڑا مسئلہ ہے….”
اگر NEET لیک ہو سکتا ہے…. تو باقی امتحانات کتنے محفوظ ہیں؟
یہاں ایک اور خوفناک سوال پیدا ہوتا ہے۔
NEET-UG بہت بڑا امتحان ہے۔ اس پر پورے ملک کی نظر ہوتی ہے۔ میڈیا اس کو دن رات دکھاتا ہے۔ عوام اس پر آواز اٹھاتی ہے۔ اس لیے اس کے تنازعات سامنے آ جاتے ہیں۔
مگر National Testing Agency صرف NEET ہی نہیں کرواتا۔
وہ:
CUET-UG،CUET-PG،UGC-NET،
اور کئی دوسرے امتحانات بھی کرواتا ہے۔
تو سوال یہ ہے: ان امتحانات کی شفافیت کی کیا ضمانت ہے؟
بہت ممکن ہے کہ چھوٹے پیمانے پر کئی امتحانات میں leaks ہوتے ہوں۔
بہت ممکن ہے کہ کچھ مراکز پر دھاندلی ہوتی ہو۔
بہت ممکن ہے کہ کچھ سوالات پہلے گردش کرتے ہوں۔
مگر چونکہ وہ امتحانات اتنے بڑے نہیں ہوتے، اس لیے نہ میڈیا انہیں اتنا دکھاتا ہے، نہ عوامی دباؤ بنتا ہے، نہ وہ قومی بحث کا موضوع بنتے ہیں۔
یعنی مسئلہ صرف NEET-UG کا نہیں، پورے ہندوستانی امتحانی نظام کا ہے۔
ڈاکٹر بنانے کا نظام…. بچوں کو مریض بنا رہا ہے
ایک بچہ چار چار سال صرف NEET کی تیاری میں لگا دیتا ہے۔ اس کی پوری جوانی “ڈاکٹر بننے” کے خواب کے گرد گھومنے لگتی ہے۔
صبح کوچنگ۔
رات ٹیسٹ سیریز۔
درمیان میں کتابیں، دباؤ، خوف، موازنہ اور مسلسل یہ احساس کہ اگر اس بار ناکام ہو گیا تو شاید زندگی رک جائے گی۔
کسی کی ماں اپنے زیور بیچ رہی ہے۔
کسی کا باپ دو گھنٹے زیادہ مزدوری کر رہا ہے۔
کسی کی بہن اپنے شوق قربان کر رہی ہے۔
کوئی بچہ بجلی کے بغیر گرمی میں پڑھ رہا ہے۔
کوئی پانی کی کمی کے باوجود رات بھر جاگ رہا ہے۔
اچانک خبر آتی ہے:
پرچہ لیک ہو گیا….. امتحان منسوخ………
یہ صرف ایک خبر نہیں، لاکھوں گھروں پر گرنے والا نفسیاتی بم ہوتا ہے۔
آج ہندوستان کے داخلہ جاتی امتحانات کا بحران ایک خوفناک سماجی اور نفسیاتی حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ NEET، JEE اور UGC-NET جیسے امتحانات اب صرف قابلیت کی جانچ نہیں رہے بلکہ ذہنی دباؤ، خوف، بے یقینی اور مسلسل نفسیاتی تھکن کا میدان بنتے جا رہے ہیں۔
National Testing Agency یعنی این ٹی اے کو اس دعوے کے ساتھ بنایا گیا تھا کہ امتحانات کو شفاف بنایا جائے گا، نقل روکی جائے گی اور ہر طالب علم کو برابری کا موقع دیا جائے گا۔ لیکن شاید “برابری” کا مفہوم کچھ اور ہی نکل آیا۔
شاید این ٹی اے کے نزدیک برابری کا مفہوم تمام بچوں کو برابری کے ساتھ پریشان کرنا ہے۔
آج ہمارے امتحانی نظام کی صورتحال کچھ ایسی ہو چکی ہے کہ یہ امتحانات اب صرف تعلیم حاصل کرنے یا قابلیت جانچنے کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ ایک ایسا بے رحم “ایلیمنیشن سسٹم” بنتے جا رہے ہیں جہاں لاکھوں بچوں کو ایک تنگ سرنگ میں دھکیل دیا جاتا ہے، اور پھر ان سے کہا جاتا ہے کہ صرف چند لوگ ہی اس سرنگ سے زندہ اور کامیاب نکل پائیں گے۔
یہ نظام بچوں کو سیکھنے سے زیادہ survive کرنا سکھا رہا ہے۔
مشہور شاعر فیض احمد فیض نے کہا تھا:
دل ناامید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آج کے طالب علم صرف “ناکام” نہیں ہو رہے، وہ اندر سے ٹوٹ رہے ہیں۔ یہ نظام ان بچوں کو ڈاکٹر بنانے سے پہلے مریض بنا رہا ہے۔ ذہنی دباؤ، بے خوابی، اضطراب، گھبراہٹ، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، خوف، احساسِ ناکامی — یہ سب اب NEET culture کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے این ٹی اے نے یہ بھی سوچ لیا ہو کہ: “ڈاکٹر اور مریض کے درمیان فرق ہی کیوں باقی رہے؟
جو ڈاکٹر بننے نکلے، پہلے اسے مریض بنا دو
اسی لیے آج ڈاکٹر بننے کی دوڑ میں شامل ہزاروں بچے:
نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں،دواؤں پر چل رہے ہیں، خوف میں جی رہے ہیں اور مسلسل غیر یقینی میں مبتلا ہیں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے این ٹی اے نے سوچا ہو کہ: “صرف وہی بچے کیوں ٹوٹیں جو کسی وجہ سے کم نمبر لاتے ہیں؟
صرف وہی گھر کیوں پریشان ہوں جو کسی وجہ سے اچھا اسکور نہیں کر پاتے؟
آؤ، اب اُن بچوں کو بھی اضطراب، دل کے دورے، ذہنی بیماری اور بے یقینی کا شکار بنایا جائے جو چھ سو، سات سو نمبر لا رہے ہیں۔
شاید اسی سوچ کے تحت “پرچہ لیک” اور “امتحان منسوخی” کا ایسا فارمولا تیار ہوا جس میں کامیاب ہونے والا بھی خوفزدہ رہے اور ناکام ہونے والا بھی۔ جو طالب علم برسوں کی محنت کے بعد سات سو نمبر کے قریب پہنچتا ہے، اب وہ بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس کی محنت واقعی اس کا مستقبل بنے گی یا کسی رات ٹیلیگرام پر گھومنے والا ایک لیک شدہ پرچہ اس کے خواب کو برباد کر دے گا۔
پہلے مائیں دعا کرتی تھیں کہ ان کا بچہ ایک بار میں نیٹ کلیئر کر لے دوبارہ پیپر دینے کی نوبت نہ آئے،لیکن اب دعائیں کریں گی کہ انتظامیہ ایک بار میں نیٹ کا پیپر کروا دے دوبارہ لینے کی نوبت نہ آئے۔
حل کیا ہو سکتا ہے؟
اگر واقعی حکومت اس بحران کو سنجیدگی سے حل کرنا چاہتی ہے تو صرف ڈی جی بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا۔
چند ممکنہ حل یہ ہو سکتے ہیں:
پورے امتحانی نظام کا آزادانہ آڈٹ کرایا جائے۔
ریاستی سطح پر امتحانات کے ماڈل پر دوبارہ غور کیا جائے تاکہ ایک ہی ادارے پر پورے ملک کا بوجھ نہ ہو۔
NEET سال میں دو مرتبہ کروایا جائے تاکہ ایک امتحان پر غیر معمولی دباؤ کم ہو۔
کوچنگ مافیا اور paper leak networks کے خلاف خصوصی قوانین بنائے جائیں۔
امتحان منسوخ ہونے کی صورت میں طلبہ کے مالی نقصان کے لیے compensation policy بنائی جائے۔
leaked exam کی مکمل عدالتی نگرانی میں جانچ ہو۔
پورے امتحانی نظام کو مرحلہ وار CBT (Computer Based Test) mode کی طرف منتقل کیا جائے۔
دیہی اور پسماندہ علاقوں میں adequate computer centres قائم کیے جائیں تاکہ CBT mode صرف شہری طلبہ تک محدود نہ رہے۔
CBT امتحانات سے پہلے nationwide mock tests کروائے جائیں تاکہ طلبہ نئے نظام سے مانوس ہو سکیں
امتحانی عمل کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے اور ہر مرحلے کی public accountability طے کی جائے۔
آخر ذمہ دار کون؟
بڑی عجیب بات ہے کہ جرم تو ہو گیا لیکن مجرم کوئی نہیں.
ہر scandal کے بعد: کمیٹی بنتی ہے، افسر بدلا جاتا ہے، بیان آتے ہیں،پریس کانفرنس کی جاتی ہے، وعدے کیے جاتے ہیں۔ مگر کچھ عرصے بعد وہی کہانی دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔ اور شاید یہی ہندوستان کے امتحانی نظام کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
آخر میں سوال صرف ایک امتحان، ایک پرچے یا ایک افسر کا نہیں رہ جاتا، بلکہ پورے نظام کی ساکھ اور اعتماد کا بن جاتا ہے۔ National Testing Agency کو کبھی اس امید کے ساتھ قائم کیا گیا تھا کہ یہ ملک کے امتحانی نظام کو شفاف، محفوظ اور منصفانہ بنائے گی۔ مگر آج لاکھوں طلبہ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا یہ واقعی “National Testing Agency” رہ گئی ہے یا پھر آہستہ آہستہ “Never Trust Agency” بنتی جا رہی ہے؟ جس امتحان کا نام NEET تھا، وہ اب neat محسوس نہیں ہوتا۔ اب بچے صرف کتابوں اور سوالات سے نہیں لڑ رہے، بلکہ بے یقینی، paper leak، exam cancellation، administrative confusion اور ایک ایسے نظام سے لڑ رہے ہیں جس پر ان کا اعتماد مسلسل کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ جب ایک طالب علم برسوں کی محنت کے بعد بھی یہ یقین نہ کر سکے کہ اس کا امتحان محفوظ اور منصفانہ ہوگا، تو مسئلہ صرف ایک ادارے کا نہیں رہتا بلکہ پورے تعلیمی ڈھانچے پر سوال کھڑا ہو جاتا ہے۔
آج ضرورت صرف نئے ڈی جی، نئی کمیٹی یا نئے وعدوں کی نہیں، بلکہ ایک ایسے امتحانی نظام کی ہے جو بچوں سے ان کی امیدیں نہ چھینے، جو غریب کے خواب کو بازار نہ بنائے، اور جو ڈاکٹر بنانے کے نام پر بچوں کو ذہنی مریض نہ بنائے۔
ورنہ تاریخ شاید ایک دن یہ لکھے گی:
اس ملک میں بچوں سے ان کی محنت نہیں چھینی گئی تھی……
بلکہ بچوں سے ان کی امید چھین لی گئی تھی۔
Comments are closed.