بلڈوزر؛قانونی چارہ جوئی ضروری ہے

ڈاکٹر عابد الرحمن (چاندور بسوہ)
فسادات یک لخت نہیں ہوتے بلکہ کئی دن پہلے سے اس کا ماحول بنایا جاتا ہے اس کے باوجود بھی کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پولس اور انتظامیہ نے کہیں فساد روکا ہو ،ہر جگہ یہی کہا جاتا ہے کہ فسادیوں کے مقابلے پولس فورس کم پڑ گئی ۔ اس سوال کا جواب آج تک کسی انتظامیہ یا سرکار نے نہیں دیا کہ جب ماحول انتہائی نا سازگار اور کشیدہ ہو تو بھی پولس فورس فسادیوں کے مقابلے کیسے کم پڑ نے دی جاتی ہے ؟ پولس فسادات کے بعد حرکت میں آتی ہے وہ بھی اس طرح کہ فسادات کا سارا الزام مسلمانوں پر ڈال دیا جاتا ہے اور مسلم نوجوانوں کی بے دریغ گرفتاریاں شروع کردی جاتی ہیں اور یہ الزام لگانے میں پولس کیا اور کس طرح کی تحقیق کرتی ہے اس کی تازہ ترین مثال مدھیہ پردیش کی ہے جہاں فساد کے الزام میں تین ایسے لوگ بھی نامزد کر دئے گئے ہیں جو مارچ کے اوائل سے ہی کسی معاملے میں جیل میں بند ہیں(NDTV online)۔ اسی طرح ایک ایسے شخص پر پتھر بازی کا الزام لگادیا گیا جس کے ہاتھ ہی نہیں ہیں یہی نہیں بلکہ اس کی دکان پر بلڈوزربھی چلا دیا گیا (انڈیا ٹوڈے آن لائن ) ۔ گرفتاریوں پر اٹھنے والے سوال یہ کہہ کر ٹال دئے جاتے ہیں کہ گرفتار شدگان اگر بے قصور ہوئے تو عدالت سے چھوٹ جائیں گے لیکن عدالت سے چھوٹنے کے لئے کتنا عرصہ لگتا ہے اور فساد کے ملزم کا لیبل لگنے کے بعد سماج اور پولس کا ان لوگوں کے ساتھ کیا رویہ رہتا ہے یہ سبھی جانتے ہیں۔
اب اس ستم کے ساتھ ساتھ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں نے اپنی مسلم مخالفت اور جانبداری کو ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے مسلم ملزمین کی املاک تباہ کرنے کا کام بھی شروع کردیا ہے ۔ جا بجا بلڈوزروں کو مسلمانوں کی مخالفت کی نشانی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ حالانکہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ یہ انہدامی کارروائیاں غیر قانونی قبضہ جات یا تعمیرات کے خلاف کی جارہی ہیں لیکن اس کا بھی کچھ کچھ نہ قانونی طریقہء کارہے جو بالکل فالو نہیں کیا جا رہا بلکہ صرف مسلمانوں کو ٹارگیٹ کرنے حراساں اور پریشاں کرنے یا ’ سبق سکھانے ‘ کے نام پر یہ کارروائیاں کی جارہی ہیں اس کی تازہ ترین مثال مدھیہ پردیش کی ہے جہاں ایک ایسے مسلم گھر پر بلڈوزر چلا دیا گیا جو پی ایم آواس یوجنا کے تحت خود سرکار نے بنواکر دیا تھا( ڈیکن ہیرالڈ ) یعنی کاہے کا اتی کرمن اور کاہے کا قانون بس مسلم گھر وں کو توڑناٹارگیٹ تھا تھا سو توڑ دیا۔
جب فسادات رکوانے ، فسادات میں مظلومین کی حفاظت کرنے اور ظالموں سے نبرد آزما ہونے کی ذمہ دار پولس اور پولس کی باس سرکار خود بھی فسادیوں ہی کی طرح ہمارے سامنے آجائے تو پھرہمارے لئے قانونی چارہ جوئی کے سوا اور کونسا راستہ بچتا ہے ؟ سو ہم نے متحد ہوکر اجتماعی طور پراپنے تمام تر ذرائع اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر سطح پر قانونی چارہ جوئی شروع کردینی چاہئے ۔لیکن اس قانونی چارہ جوئی کوکریڈٹ لینے کا فنڈا بھی نہیں بنانا چاہئے کہ ہر جماعت اور ہر لیڈر اپنی الگ عرضی لے کر کورٹ کو دوڑ لگاتا پھرے بلکہ ہمارے تمام لیڈروں نے پارٹی وابستگیوں سے اوپر اٹھ کر ایک ساتھ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہئے ۔موجودہ معاملہ میں جمیعت سپریم کورٹ میں عرضداشت کر چکی ہے اور دہلی کے کچھ متاثرین بھی کورٹ پہمچے ہیں جس پر کورٹ نے دہلی کی انہدامی کارروائی کو دو ہفتوں کے لئے روکنے کا حکم دیا ہے ۔ اب اس معاملے میںنئی عرضداشتوں کے بجائے اسی ایک کو مکمل حمایت اور مضبوط کرنے کا کام کیا جانا چاہئے ۔
حق معلومات قانون کے ذریعہ بھی اس ضمن میں اچھی خاصی معلومات سامنے آرہی ہیں جن کو قانونی چارہ جوئی کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن اس میں بھی ہم خود پیچھے ہیں دوسرے لوگوں کے ذریعہ یہ معلومات عام ہو رہی ہیں مثلاً ترنمول کانگریس کے قومی ترجمان ساکیت گوکھلے کے ذریعہ کھرگون مدھیہ پردیش میں کی گئی انہدامی کارروائی کے ضمن میں کچھ متنازعہ معلومات سامنے آئی ہیں جسے انہوں نے فیس بک پر شیئر کیا ہے کہ یہ کارروائیاں غیر قانونی قبضہ جات کے خلاف ہیں لیکن ضلع انتظامیہ نے اس طرح کی توڑ پھوڑ کا کوئی حکم جاری نہیں کیا ‘۔ تو پھر یہ کارروائیاں کس کے حکم سے کی گئیں ؟ صوبائی سرکار کے وزیر داخلہ تو پہلے ہی اعلان کرچکے تھے کہ ’جن گھروں سے پتھر بازی کی گئی انہیں ملبے میں تبدیل کردیا جائے گا ‘(ہندوستان ٹائمز آن لائن )۔تو اس ضمن میں ضلع کلکٹر اور وزیر داخلہ سے عدالت کے ذریعہ پوچھا جانا چاہئے کہ یہ سب کیسے ہوگیا ؟ کس قانون کے تحت ہوا؟ اور اگر غیر قانونی طور پر ہوا تو اس کا ذمہ دار کون ؟ حالانکہ ساکیت گوکھلے نے لکھا ہے کہ وہ اس معاملے کو لے کر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ جائیں گے ،سوال ہے کہ ابھی تک ہم کیوںنہیں گئے ؟ جب ہم متاثر ہوئے تو ہم نے پہلے ہی کورٹ چلے جانا جانا چاہئے تھا۔اسی طرح ہم نے بھی ہر لیول پر مخلص آر ٹی آئی ایکٹوسٹ تیار کرنے چاہئے اور ان کی امداد کے لئے ہر طرح سے تیار رہنا چاہئے ۔چونکہ آرٹی آئی ایکٹوسٹ بھی پولس اور انتظامیہ کے نشانے پر رہتے ہیں ، موقع یا بہانہ ڈھونڈا جاتا ہے کسی طرح انہیں پریشان و حراساں کر کے ان کی ہمت توڑ نے کا ، ایسے میں ان کی مالی اور اخلاقی اعانت بہت ضروری ہے ۔ ہم میں جو آرٹی آئی ایکٹوسٹ ہیں انہیں بھی اب اس طرف توجہ کرنی چاہئے اورہمارے بڑوں کوبھی اپنا یہ رویہ ترک کردینا چاہئے جس میں کام کرنے والوںکو اگر کوئی پریشانی ہوئی تو ان کی حمایت کرکے ان کی ہمت تو نہیں بڑھائی جاتی بلکہ ’زیادہ ہوشیار ہوگئے ‘ کہہ کر الٹے ان کا مورال ڈاؤن کیا جاتا ہے ۔
اسی طرح تمام مسلمان جو زکوٰۃ دیتے ہیں انہوں نے اپنی زکوٰۃکا کچھ حصہ اس قومی کاز کے کام کرنے والوں کی امداد میں بھی خرچ کرنا چاہئے کہ اب اپنی آزادی ہی نہیں بلکہ اپنا وجود بھی خطرے میں آگیا ہے جس کیلئے ہر طرح کی کوشش اور جدو جہد ضروری ہو گئی ہے۔

Comments are closed.