عبادت اعتکاف میں ثواب کی کثرت اور ہماری غفلت
مفتی عبید الرحمن ابن مفتی عمر صاحب جون پوری دامت برکاتہم العالیہ
خلیفہ و مُجاز حضرت قاری امیر حسن رحمہ اللہ
اعتکاف عربی زبان میں ٹھہرنے اور جمے رہنے کو کہتے ہیں۔ اصطلاح شریعت میں عبادت کی نیت سے اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے مسجد میں ٹھہرے رہنے کا نام اعتکاف ہے۔
اعتکاف ایک ایسی عبادت ہے جس میں بندہ اپنے رب کےدربار میں دنیا اور اس کی رونقوں کو خیر آباد کہہ کر صرف اور صرف اس کی رضا اور خوشنودی کو حاصل کرنے کے لیے پڑھ جاتا ہے۔
اور واقعہ یہ ہے کہ رمضان المبارک متبرک اور مسعود اوقات کی قدر اعتکاف کے بغیر کامل طور پر نہیں ہو سکتی۔اس لیے کیا آدمی عبادت کا کتنا کی شوقین ہو لیکن چونکہ کی عبادت کے علاوہ دیگر کاروبار زندگی میں مشغول ہونے کی وجہ سے عبادت کا تسلسل ختم ہو جاتا ہے اور اعتکاف ایک ایسی عبادت ہے کہ معتکف اگر مسجد میں خالی بھی بیٹھا رہے پھر بھی عبادت گذاروں میں شمار ہوتا ہے اور معتکف کا کوئی لمحہ ضائع نہیں۔
اور مسجد میں بیٹھے بیٹھے اسے بے شمار عمل صالحہ کا ثواب ملتا رہتا ہے اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ معتکف مسجد کے نورانی ماحول میں رہنے کی وجہ سے سے ایسے گناہوں سے محفوظ ہوتا ہے جس سے عام طور پر غیر معتکف محفوظ نہیں رہ سکتا چنانچہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ معتکف کے گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اسے ان تمام نیکیوں کا (جنہیں وہ اعتکاف کے سبب انجام نہیں دے سکتا) اتنا ہی بدل عطا کیا جاتا ہے جتنا نیکیاں کرنے والے کو ملتا ہے (مشکوۃ شریف جلد ١ /١٨٣)۔
نیز معتکف سے اللہ تعالی کتنے خوش ہو ہوتے ہیں اس کا اندازہ ہم صرف اس سے لگا سکتے ہیں کہ حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالی کی خوشنودی کے لیے صرف ایک دن کا اعتکاف کرے تو اللہ تعالی اس کے اور جہنم کے درمیان تین ایسی بڑی بڑی خندقیں حاںٔل فرما دیتے ہیں جن میں سے ہر خندق کی چوڑائی زمین و آسمان کے فاصلے کے برابر ہے (ترغیب وترہیب جلد ٢ /٩٦)۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جس شخص نے رمضان المبارک کے دس دنوں کا اعتکاف کیا اس کو دو حج اور دو عمروں کا ثواب عطا کیا جاتا ہے ہے (ترغیب وترہیب ٢ /٩٦)
اللہ اللہ کتنی معمولی قربانی پر اللہ تعالی کی طرف سے کس قدر عظیم نعمتوں کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔لیکن ایک بہت بڑا الم ہے کہ ان فضیلتوں کے باوجود آج ہمارا معاشرہ ان عبادتوں سے محروم ہوتا جا رہا رمضان المبارک میں جماعت کی نمازوں اور تراویح وغیرہ کا تو کچھ اہتمام ماشاءاللہ ہو ھ جاتا ہے لیکن سنت اعتکاف کی طرف رجحان بہت ہی کم دکھائی دیتا ہے اور اس عظیم سنت کے ترکی جہاں اور بھی وجوہات ہیں وہی سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم عید کی تیاریوں میں اتنا وقت لگانا چاہتے ہیں کہ کوئی ارمان باقی نہ رہ جائے۔اور یہ سمجھتے ہیں کہ اعتکاف کی وجہ سے سارے ارمان پورے نہ ہو سکیں گے تجارت پیشہ لوگ تو اعتکاف کا خیال بھی دل میں نہیں لاتے اس لئے کہ یہی ان کی سال بھر کی کمائی کا وقت ہے تو دنیا کی کمائی سے محرومی کا اتنا خیال ہے مگر نیکیوں کے اس سنہرے موقعے میں رحمت خداوندی کے حصول میں جو کمی رہ جاتی ہے اس کا کوئی احساس نہیں اگر ہمیں اس عظیم سنت پر عمل کی ذرا بھی تڑپ ہو تو آسانی سے اس کا نظام بنا سکتے ہیں کے گھر کا ایک فرد اعتکاف کیا کرے مثلا اگر تین بھائی ہیں تو ایک اعتکاف کرے اور بقیہ بھائی اس کی خبر گیری کرے اگر دکان پر کئی لوگ بیٹھے والے ہیں تو ایک آدمی ہر سال اعتکاف کے لئے متعین کریں یا ہر ایک بھائی باری باری الگ الگ رمضانوں میں اعتکاف کرے کرے انشاء اللہ اس طریقے سے اس عبادت کی قدر پیدا ہوگئی اور اس کے اثرات پورے گھرانوں میں محسوس کیے جائیں گے خاص کر نوجوانوں کو اس عبادت کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اعتکاف ان کے لیے بے شمار گناہوں سے بچنے کا ذریعہ بنے گا اور ان کو دینی تربیت کا موقع میسر آئے گا آپ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ معتکف کو یقینی طور پر شب قدر حاصل ہوتی ہے لہذا اس عظیم عبادت کے لیے مساجد میں عشرہ اخیرہ سے پہلے ہی باقاعدہ تشکیل ہونی چاہیے تاکی اس عبادت کی طرف عمومی رجحان ہو اور مسجد اعتکاف کرنے والوں سے معمور ہو جائے اللہ رب العزت ہمیں خصوصی توفیق مرحمت فرمائے۔آمین۔
Comments are closed.