ملک میں مذہبی منافرت کا جہانگیرپوری تک کاسفر:درد کیسے اٹھا ، کون تڑپ رہا ہے؟

خصوصی پیشکش:سعیدپٹیل جلگاؤں
سن 2014ء کے بعد ملک کے مسلمانوں نے ظلم زیادتی جبر و تکالیف کا جوسامنا کیاہے۔کیایہ تکالیف کم ہے۔نہیں کم نہیں ہے۔اس کی شروعات دادری کے مقام سے ہوئی۔جو مسلسل ہنوز جاری ہے۔ماپ لنچیگ ، گوشت کھانا یا نہیں کھانا ، موشیوں کا کاروبار کرنے والے،
قوم کے نوجوانوں کو جیلوں میں قید کرنا وغیرہ جیسے واقعات سلسلہ وار ہورہے ہیں۔یہ واقعات ملک کے کسی ایک ریاست میں نہیں بلکہ پورے ملک میں کہیں نہ کہیں ہوتے رہے ہیں۔آگے چل کر ان واقعات میں کمی آنے کی بجاۓ اس میں نۓ پن کے ساتھ اضافہ ہوتا رہا ہے۔اور اب تو ان کی ملکیت کے مکانوں
کی انہدامی کاروائی تک پہونچ گیاہے۔مسلمانوں کے بالخصوص یو۔پی میں قدآور لیڈران اور علماۓ دین تک کو جیل میں بند کیا ہوا ہے۔کرناٹک میں مسلم بہن۔بیٹیوں ، مسلم طالبات کا حجاب پہن کر اسکول و کالیج آنا ،اسے نشانہ بنایاگیا۔ہر ریاست میں کسی نہ کسی بہانے مسلمانوں کے ساتھ تشدد کے واقعات پیش ہونا اب کوئی تشویش کی بات نہیں رہی؟ حال ہی میں جو تہوار گذرے ہیں ان مواقعوں پر شرپسندوں کا فساد کرنے کے بعد مسلمانوں ہی کو فسادی کہےکر ایک اور بہت زیادہ تکلیف دہ نیا حربہ پیدا کیاگیا اقلیتی طبقہ کے افراد کو فسادی بتا کر ان کے مکانات و دکانیں مہندم کردی گئ۔اس سے قبل کرناٹک سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے مسلم ہاکرس سے اشیاء نہ خریدنے کی مہم کی خبریں بھی آرہی تھی۔پھر میلو۔ٹھیلو اور یاترا۔جترا وغیرہ کے مواقعوں پر مسلم تاجروں کو دکانیں لگانے سے روک دینے کے واقعات بھی پیش آۓ۔ان سب کو ہم سیاسی حربہ کہےکر نظر انداز نہیں کرسکتے۔؟ کیونکہ کچھ ہی واقعات ایسے ہوۓ جب ملک میں کسی ریاست میں کوئی چناؤی مرحلہ رہا ہو۔لیکن ویسے مذکورہ واقعات تو مسلسل جاری ہے۔پھر ہم اس مذہبی ،سماجی منافرت کو سیاسی حربہ نہیں کہے سکتے۔یہ سب کچھ ایک آئندہ عمل میں لاۓ
جانے والے ایجنڈے کے مطابق ہی ہورہا ہے۔جو اپنے آپ کو اپنے مشن میں کامیاب بنانے اور اب تو مظلوم کی شناخت واضع ہوجانے کے بعد بھی سدھے۔سدھے یکطرفہ کاروائی ہوتے ہوۓ ہم دیکھ سکتے ہیں۔مدھیہ پردیش اور دہلی کے فساد نے تو سیکولر ذہن برادران وطن کو بھی حیرت زدہ کردیا ہے۔کہ ہمارا ملک یہ کس جانب اور کونسی ترقی کی رہا پر
گامزن ہے۔؟ جبکہ دوسری جانب مسلمانوں میں اپنی ملی تنظیموں کے خلاف میں غصہ ہونا فطری عمل ہے۔ جو کہ مسلم عوام کا اپنا حق ہے۔کیونکہ آخر کوئی تو ہو جن سے وہ اپنے جانی ، مالی ، مذہبی و سماجی امور میں ہورہے نقصانات کے تعلق سے سوال پوچھے۔کہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں اقلیتوں بالخصوص مسلانوں کےساتھ یہ کونسا سلوک اور برتاؤ کیا جارہا ہے۔؟ اس تعلق سے ملی تنظیمیں بھی جواب دہ ہے۔کیونکہ شرپسندوں ، فرقہ پرستوں اور منافرت پھیلانےوالوں کی غیر آئینی حرکتوں اور ان خاطیوں کو کون قابو میں کرےگا۔مظلوموں کی نگہبانی کون کرےگا۔؟ قبول ہےکہ مذہبی تعلیمات میں صبرضبط اور تحمل کو بڑی اہمیت دی گئ ہے۔اس لیئے اسی راہ پر چلا جاۓ ، لیکن قوم و ملت اور سماج کا سوال تو باقی رہےگا کہ درد کیسے اٹھا ، کون تڑپ رہا ہے۔عدم تشدد کا کوئی جواب نہیں۔لیکن ہمارے خواص کی ذمہ داریوں کا کیا ہوا؟ یہ اشتعال انگیزیاں جس پر صبر ہی کیا جارہاہے۔جو قابل ستائش اور قابل مبارک عمل ہے۔صبر ایک نہایت عمد راستہ ہے۔جسے زندگی میں ہمیشہ لازمی اور ضروری سمجھنا ہے۔آج کے حالات میں ہمارے لیئے انتہائی ضروری ہے۔بس اتنا کہا جاسکتا ہےکہ کسے درداٹھا ، کون تڑپ رہا ہے۔

Comments are closed.