’’لیلتہ القدر‘‘اورکتابِ زندگی
سمیع اللہ ملک
’’لیلتہ القدر”آخری عشرے کی پانچ طاق راتوں میں تلاش کرنے کاحکم ہے۔اس شب کی عظمت وفضیلت اوراہمیت امتِ مسلمہ میں ہمیشہ سے مسلم رہی ہے اورکیوں نہ رہتی کہ یہ رات توگناہ گاروں کی مغفرت اورمجرموں کی جہنم سے نجات کی رات ہے،یہ رات تو بارانِ رحمتِ یزدانی،عنایات وظہورتجلیات ِربانی کی ہے۔ذکروفکر،تسبیح وتلاوت، درود و سلام ، توبہ واستغفار، عبادت وریاضت اوراحتسابِ عمل کی ہے۔اس مبارک ومقدس رات کے بارے میں قرآنِ مجید،فرقانِ حمیدمیں ارشادخداوندی ہے:’’بیشک ہم نے اس(قرآن)کوشبِ قدرمیں اتاراہے،اورآپ کیاسمجھتے ہیں کہ شبِ قدرکیا ہے؟شب قدرہزارمہینوں سے بہترہے۔اس (رات)میں فرشتے اورروح القدس(جبرئیل امین) اپنے پروردگارکے حکم سے ہرامر(خیر)کیلئے اترتے ہیں۔یہ(رات)سراسرسلامتی ہے،طلوعِ فجر تک”۔(سور القدر)
اس سورۃ مبارکہ سے معلوم ہواکہ اس ایک رات کی عبادت ہزارمہینوں کی عبادت سے کہیں بہتروافضل ہے۔یہ اس امت محمدیہ ﷺپراللہ کااحسانِ عظیم ہے کہ اس نے امت کو مختصر سی عمرمیں زیادہ سے زیادہ اجروثواب حاصل کرنے کیلئے اتنی عظیم رات عطافرمائی۔شبِ قدرجوبہت ہی برکتوں،رحمتوں،نعمتوں اورسعادتوں کی رات ہے۔وہ شخص جس کواس عظیم رات کی معرفت اورعبادت وریاضت نصیب ہوجائے اوروہ اس رات کو عبادت وریاضت میں گزاردے تو گویا اس نے تراسی سال اورچارمہینوں سے بھی زیادہ زمانہ عبادت و ریاضت گزارا،اوراس زیادتی کابھی حقیقی حال معلوم نہیں کہ ہزارمہینوں سے کتنی افضل ہے۔اللہ کا یہ بہت ہی بڑاانعام ہے کہ اس نے امتِ محمدیہ ﷺ کوشب قدرکی شکل میں ایک بہت عظیم اوربے پایاں نعمت عطا فرمائی ہے۔
’’لیلتہ القدر‘‘کی عظمت وفضیلت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کی قدرومنزلت میں قرانِ کریم میں ایک پوری سورہ’’ القدر‘‘کے نام سے نازل کی گئی۔اس رات کو’’شبِ قدر‘‘اس لئے کہتے ہیں کہ اس شب میں سال بھرکے احکام نافذکئے جاتے ہیں اورفرشتوں کوسال بھرکے وظائف اورخدمات پرمامورکیاجاتاہے اوریہ بھی منقول ہے کہ اس رات اللہ نے ایک بڑی قدرومنزلت والی کتاب امت کیلئے نازل فرمائی ،چونکہ اس شب میں اعمالِ صالحہ قبول ہوتے ہیں اوربارگاہِ رب العزت میں ان کی بڑی قدرکی جاتی ہے اس لئے اسے ’’لیلتہ القدر”کہتے ہیں۔یوں توکوئی لمحہ اس کی عطاسے خالی نہیں،اگراللہ کی عطانہ ہوتوساراعالم ویران ہوجائے مگراس کی نوازشوں اورانعام واکرام کاجوانداز”لیلتہ القدر”میں ہوتاہے وہ کسی اوررات میں نظرنہیں آتااوراس نعمت سے کتنی ہی نعمتوں کے دروازے کھلے ہوں گے۔اس رات کے عبادت گزاروں پرغروبِ آفتاب سے لیکر طلوع فجر تک نور برستا ہے،رحمتیں ہزارگنابڑھ جاتی ہیں۔یہ رات اپنی قدروقیمت کے لحاظ سے،اس کام کے لحاظ سے جواس رات انجام پایا،ان خزانوں کے لحاظ سے جواس رات میں تقسیم کئے جاتے اورحاصل کئے جا سکتے ہیں،ہزارمہینوں سے بہترہے،جواس رات عبادت کرے ،اس کوگناہوں کی بخشش کی بشارت دی گئی ہے۔ہررات کی طرح اس رات میں بھی وہ گھڑی ہے جس میں دعائیں قبول کی جاتی ہیں اوردین ودنیاکی جوخیروبھلائی مانگی جائے،وہ عطاکی جاتی ہے۔
اس عظیم الشان رات کی عظمت وفضیلت کاذکرکرتے ہوئے حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا:حضرت جبرئیل امین فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ زمین پراترتے ہیں اورملائکہ کایہ گروہ ہراس بندے کیلئے دعائے مغفرت اورالتجائے رحمت کرتاہے،جوکھڑے یابیٹھے ہوئے اللہ کاذکراورعبادت میں مشغول ہوتاہے۔جبکہ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ فرشتے ان بندوں سے مصافحہ کرتے ہیں۔کتناخوش قسمت،خوش نصیب اوربلنداقبال ہے وہ بندہ جواس رات کواپنے اللہ کی یادمیں بسرکرتاہے۔یہ وہ رات ہے جوصاحبانِ ایمان کیلئے مغفرت ورحمت کاپیغام لیکرآتی ہے۔وہ رات جورزق مانگنے والوں کو رزق،عافیت چاہنے والوں کوعافیت،صحت کی تمناکرنے والے کو تندرستی ،خیر کے بھکاریوں کوخیر،مغفرت کے متلاشیوں کو بخشش عطاکرتی ہے۔
یہ وہ رات ہے جوسراسرامن کی پیغامبراورسراپاسلامتی ہی سلامتی ہے۔وہ لوگ کتنے سعادت مند،خوش نصیب اورخوش قسمت ہیں جواس مبارک رات کواللہ کی عبادت وبندگی کرتے ہیں اوررزقِ حلال مانگ کرخزانہ غیب سے مالامال ہوتے ہیں۔بیماریوں اورمصیبتوں سے پناہ مانگ کران سے خلاصی حاصل کرتے ہیں۔اس رات اللہ جل شانہ کی طرف سے مسلمانوں کیلئے عام معافی کااعلان ہوتاہے۔یہ روح پروراورایمان افروزکیفیت غروبِ آفتاب سے طلوعِ فجرتک برابرجاری رہتی ہے۔
’’میں تمہارے گھرباربارآتارہوں گا،یہاں تک کہ تم میں سے کسی کوبھی باقی نہ چھوڑوں گا‘‘۔یہ الفاظ اس کے ہیں جوہرگھر،ہر عالیشان محفل اورہراس جگہ آتاہے جہاں کوئی متنفس رہتاہے۔دنیامیں کوئی انسان ایسانہیں جس کے پاس ملک الموت نے نہیں آنا۔ ہرایک کے پاس آناہے،شاہ وگداکے پاس بھی،امیروغریب کے پاس بھی،صحت منداوربیمارکے پاس بھی،نبی اورولی کے پاس بھی ،کوئی حاجب ودربان،کوئی چوکیداراورپہرے داراورکوئی تالہ ودروازہ اسے اندر جانے سے نہیں روک سکتا۔یادرہے کہ کتابِ زندگی کے ورق برابرالٹ رہے ہیں ہرآنے والی صبح ایک نیاورق الٹ دیتی ہے یہ الٹے ہوئے ورق بڑھ رہے ہیں اورباقی ماندہ ورق کم ہورہے ہیں اورایک دن وہ ہوگا جب ہم اپنی زندگی کا آخری ورق الٹ رہے ہوں گے،جونہی آنکھیں بندہوں گی،یہ کتاب بھی بندہوجائے گی اورہماری یہ تصنیف محفوظ کردی جائے گی۔۔۔۔روزانہ کیاکچھ لکھ کرہم اس کاورق الٹ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں شعورہویانہ ہوہماری یہ تصنیف تیارہورہی ہے اورہم اس کی ترتیب وتکمیل میں اپنی ساری قوتوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اس میں ہم وہ سب کچھ لکھ رہے ہیں جوہم سوچتے ہیں دیکھتے ہیں سنتے ہیں اورسناتے ہیں اس میں صرف وہی کچھ نوٹ ہورہاہے جوہم نوٹ کررہے ہیں،اس کتاب کے مصنف ہم خودہیں۔ذراسوچیں ،غورکریں کہ ہم اپنی کتابِ زندگی میں کیادرج کررہے ہیں؟اللہ تعالی ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی کتابِ زندگی میں اچھے اعمال درج کریں۔
اس عظیم الشان رات میں ذکر اذکار،گناہوں سے توبہ کرنا، اپنے ماں باپ کیلئے،اپنے عزیزواقارب کیلئے،اپنے اساتذہ کیلئے اوراپنے تمام مسلمانوں کیلئے اللہ تبارک وتعالی سے رحمت و مغفرت کی دعائیں کرنا،فراخی رزق،امن و سلامتی اوردین ودنیاکی خیراوربھلائیاں مانگنااورحضوررسول اکرم ﷺپرہدیہ درودوسلام بھیجناوغیرہ خصوصیت سے شامل ہیں۔ اللہ تعالی کی رضااوراس کے انواروتجلیات کے حصول کیلئے جس قدرہوسکے،اللہ تعالی کے حضورروروکراورگڑگڑاکراپنے گناہوں سے توبہ کی جائے اور بالخصوص مسلم امہ اورپاکستان کیلئے جواس وقت دشمنوں کی سازشوں کانشانہ بناہواہے۔
اللہ تعالی ہم سب کولیلتہ القدرکی فیوض وبرکات سے مالامال اورہماری دعائوں کوشرفِ قبولیت عطافرمائے ثم آمین
Comments are closed.