پیام عید

از:ڈاکٹر محمد نصر اللہ ندوی
استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء،لکھنؤ
nasrullahnadwi@gmail.com
9236064987

عید رب کائنات کا ایک حسین تحفہ ہے،یہ خوشی ومسرت کا زریں موقع ہے،اس دن لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں،گلے شکوے دور کرتے ہیں،اور باہمی الفت ومحبت کا اظہار کر تے ہیں،دل کی کدورت دور ہوتی ہے،اور نفرت کے کا نٹوں کی جگہ اخوت ومحبت کے پھول کھلتے ہیں،رشتہ دار،اعزہ واقارب ایک جگہ جمع ہوتے ہیں،پرانی تلخیوں کو بھلا کر ایک دوسرے سے شیر وشکر ہو جاتے ہیں،اتحاد واتفاق کا ایسا دل آویز اور دل کش منظر کسی اور دن نظر نہیں آتا،یہ محض رحمت الہی اور نعمت خداوندی کا مظہر ہے،یقینا وہی رب ہے،جو دلوں میں محبت پیدا کرتا ہے،اور الفت ویکجہتی کے احساسات سے دلوں کو سرشار کر دیتا ہے،یہ وہ نعمت ہے،جو دنیا کی خطیر رقم خرچ کر نے کے بعد بھی نہیں حاصل کی جا سکتی ہے،لیکن پاک ہے وہ پروردگار،جس نے بندوں پر اپنی نعمتیں عام کر رکھی ہیں،اور جو ہر وقت اپنے بندوں پر رحمت وبر کت کی بارش کرتا رہتا ہے،خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو نعمت الہی کی دل وجان سے قدر کرتے ہیں،اور اس کی عطا وبخشش سے اپنے دامن مراد کو مالا مال کرتے ہیں۔۔۔
عید کا دن دراصل تشکر وامتنان کے اظہار کا دن ہے،شکر اس بات کا اللہ نے رمضان جیسا عظیم الشان مہینہ عطا کیا،اس مہینہ کے اختتام پر روزہ داروں کو مغفرت کا پروانہ عطا کیا جاتا ہے،اور جہنم سے معافی کا اعلان عام ہوتا ہے،یقینا ایک مؤمن کیلئے اس سے بڑا اور کیا تحفہ ہو سکتا ہے کہ،جب وہ عید گاہ سے لوٹے تو اس کے ہاتھوں میں جنت کا پروانہ ہو،اور اس کا رب اس سے راضی ہو،بخشش کے اسی احساس کے ساتھ جب وہ لوٹ کر گھر میں داخل ہوتا ہے، تواس کے چہرہ پر مسرت وشادمانی کی لکیریں ہوتی ہیں،اور اس کے دل میں جذبات کا ایک طوفان ہوتا ہے،جس کو بیاں کرنے کیلئے اظہار وتعبیر کے تمام اسباب و وسائل ناکافی ہیں۔۔
شکر وامتنان کا تقاضہ ہے کہ ہم یہ عہد وپیمان کریں کہ،رمضان سے جو سبق ملا ہے، پوری زندگی ہم اس کو یاد رکھیں گے،تقوی کو اپنا شعار بنائیں گے،خوف خدا کے سایہ میں زندگی گزاریں گے،نماز اور دیگر فرائض کی پابندی کریں گے،محرمات سے بچیں گے،سچائی،ایمانداری،عدل پروری،کرم گستری اور اقربا پروری کی روش اپنائیں گے،جھوٹ،فریب،خیانت اور غیبت جیسی مذموم صفات سے دور رہیں گے،اجتماعی مفاد کو انفرادی مفاد پر ترجیح دیں گے،اور ملت میں اتحاد واتفاق قائم کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔۔
عید کا دن عالم گیر بھائی چارہ کا احساس زندہ کرتا ہے،یہ ایک ہی ساتھ(رمضان کیاختتام پر)پورے عالم میں آتا ہے،اور ہر طرف اسلامی اخوت کی فضا قائم کردیتا ہے،اسلام کا حکم ہے کہ عید کی خوشیوں میں دوسرے بھائیوں کو بھی شریک کیا جائے،اور اصحاب حیثیت نادار لوگوں کا خیال رکھیں،تا کہ خوشی کے اس موقع پر ہر گھر میں مسرت کے دیے جلیں،ہر یتیم کے چہرہ پر مسکراہٹ ہو اور ہر بے سہارا کے دل میں خوشی کا احساس ہو۔۔
رمضان کے اختتام پر ہر سال عید آتی ہے،جو اپنے دامن میں خوشی ومسرت کا پیغام لیکر آتی ہے،اس بار عید ایک ایسے موقع پر آئی ہے،جب ہر طرف رنج والم اور ظلم وستم کی داستان بکھری ہوئی ہے،رمضان سے پہلے حجاب کا مسئلہ چھیڑا گیا،پھر اذان پر حملہ کیا گیا اور پھر مسجدوں کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش کی گئی،10 اپریل کو رام نومی کے جلوس میں نفرت وعداوت کے شعلوں کو ہوا دی گئی،سات ریاستوں میں فساد کی آگ بھڑک اٹھی،ابھی اس کے شعلے بجھنے بھی نہ پائے تھے کہ،16 اپریل کو ہنومان جینتی کی چنگاری سے دلی دھواں دھواں ہو گئی،تلواروں اور طمنچوں سے لیس زعفرانی غنڈوں نے مسجد پر بھگوا جھنڈا لہرانے کی کوشش کی،جب مسلمانوں نے مسجد کے تقدس کو پامال ہوتے ہوئے دیکھا،تو دفاع میں آگئے،مسلمانوں کے تیور دیکھ کر کرایے کے غنڈے بھاگ کھڑے ہوئے،یہ ہزیمت ان کی سرپرستی کرنے والی دلی پولیس کو راس نہیں آئی،اس نے کاروائی کے نام پر یک طرفہ مسلمانوں پر کریک ڈاؤن کیا اور جب اس سے بھی تسلی نہیں ہوئی تو بلڈوزر کا سہارا لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کمزور اور غریب مسلمانوں کے گھروں کو زمیں بوس کردیا گیا،سپریم کورٹ نے بروقت اس میں دخل دیا،تاہم سرکار نے اس کو بھی نظر انداز کردیا،جب ظالم کی نیت بگڑتی ہے،تو کوئی دلیل اور حجت کام نہیں آتی ہے،حالیہ دنوں میں بلڈوز سرکاری دہشت گردی کی ایک علامت بن چکا ہے،جس نے عدل وانصاف کے تقاضوں کو اپنے پاؤں سے کچل دیا ہے۔۔۔
مدھیہ پردیش کے کھر گون میں یہی ہوا،جہاں یومیہ کام کرنے والے مزدوروں،لا چار اور بے کس مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوزر نے تہس نہس کردیا،اب ان کے پاس سر چھپانے کی بھی جگہ نہیں ہے،مسلمانوں کی مظلومیت کی یہ نئی تصویر ہے،جو اس سے پہلے دیکھنے کو نہیں ملی،پہلے نا حق ان کو گرفتار کیا جاتا ہے،پھر ان کے آشیانہ کو زمیں دوز کر دیا جاتا ہے اور ان کے اہل خانہ نیز بچوں کو در در کی ٹھو کریں کھانے کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے،اس طرح ان پر دوہری مار پڑتی ہے اور ان کی زندگی تباہی کے دلدل میں پھنس جاتی ہے!!
عید کا موقع ان کیلئے بھی ہے،برکت کے مہینہ میں دست سخاوت دراز کیجئے اور لٹے پٹے مظلوموں کے گھر والوں اور ان کی بچوں کی خبر گیری کیجئے،یہ آپ کا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے۔دلی پر دوسال کے اندر سرکار کا دوسرا قہر ہے،ابھی کل کی بات ہے،جب این آر سی کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگ سرکاری ظلم وستم کا شکار بنے تھے،شاہین باغ اور جامعہ ملیہ کے احتجاج میں جو لوگ پیش پیش تھے،وہ ابھی تک سلاخوں کے پیچھے ہیں،ان کے شب وروز زنداں میں گزر رہے ہیں،ان کے بچے یتیمی کی کیفیت سے دوچار ہیں،کوئی ان کا پرسان حال نہیں،عید ان کیلئے بھی ہے،عید کی خوشیوں میں ان کو شریک کرنا آپ کی شرعی ذمہ داری ہے،اللہ آپ کے اجر کو ہر گز ضائع نہیں کرے گا۔۔

Comments are closed.