عید الفطر بندگی اور شائستگی کا تیوہار

پروفیسر شکیل احمد قاسمی
شعبۂ اردو، اورینٹل کالج، پٹنہ
M: 9431860419

روزہ جسمانی قوت کو معتدل کرتے ہوئے روحانی طاقت میں غیرمعمولی اضافہ کرتا ہے اور جسم پر روح کی حکمرانی قائم کرتا ہے۔ روزہ سیلف کنٹرول کی مشق ہے۔آدمی کھانے پینے کی بنیادی ضرورت چھوڑ کر، آرام وآسائش کی دوسری چیزوں کو بھی اعلی مقاصد کے لئے ترک کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ صبر، تقوی، روزہ دار ایمان و احتساب کے ساتھ جب رمضان کے روزے مکمل کر لیتا ہے تو اسے کائنات کے خالق کی طرف سے انعام سے نوازا جاتا ہے گویا رمضان کا مہینہ خلوص اور ایمانداری کے ساتھ عمل کرنے کا تھا اور عید کا دن انعام پانے کا۔ مسلمان عملی طور پر عید میں اس کا اظہار کرتا ہے کہ وہ بندوں کا خدا نہیں بلکہ خدا کا خاکسار اور عبادت گزار بندہ ہے، وہ اس بات کو اپنے ذہن میں بساتا ہے کہ دنیا کو اگر رمضان کی طرح گزارنے کا فیصلہ کر لیا جائے تو آخرت عید کی طرح ہوگی۔ عید کے دن ہمیں بندگی اور شائستگی کا اظہار بھی کرنا ہے اور اپنے اعلی اخلاق اور پاکیزہ عمل کے ذریعے سماج کو یہ بھی بتانا ہے کہ ’تیوہار‘ اس طرح منایا جاتا ہے۔
عید کا چاند جب آسمان پر دکھائی دیتا ہے تو روزہ دار کہتے ہیں: رب کائنات ! اس چاند کو تمام انسانوں کے لیے امن، سلامتی، شانتی اور روحانیت کا چاند بنا دے۔ گویا نئے چاند کا استقبال اس جذبہ سے کیا جاتا ہے کہ دنیا میں لوگ خوشگوار ماحول میں پیدا کرنے والے کی ہدایت کے مطابق زندگی گزاریں۔عید امن و سلامتی کا دن ہے، اس دن خدا کے بندوں کو عہد کرنا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان ان کے خیر خواہ بن کر رہیں گے، وہ امن والے بول بولیں گے اور سلامتی والے عمل کریں گے۔رسول رحمت نے فرمایا کہ عید سے پہلے تمام لوگ صدقہ کی رقم نکالیں اور اس کو سماج کے غریب لوگوں میں تقسیم کریں تاکہ معاشرے کا ہر فرد خوشی خوشی عید منا سکے۔
فقط اپنے نشیمن کو بدل لینے سے کیا حاصل
نظام نو تو جب ہوگا کہ سارا گلستاں بدلے
عید کے روز سب لوگ سویرے اٹھتے ہیں، غسل کر کے پاک صاف ہوتے ہیں، نئے کپڑے پہنتے ہیں، خوشبو لگاتے ہیں، کچھ میٹھی چیز کھاتے ہیں پھر تمام لوگ گھروں سے نکل کر عید گاہ ،یا کسی میدان میں اکٹھا ہوتے ہیں، دو رکعت عید کی نماز پڑھتے ہیں، اس نماز میں بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ بڑا ہے، اللہ بڑا ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس دنیا میں بڑائی صرف پیدا کرنے والے کے لئے ہے، تمام انسان چھوٹے ہیں، خدا کی اس دنیا میں انسانوں کے لیے ایک ہی رویہ درست ہے کہ وہ انکساری اور ملنساری کے ساتھ لوگوں کے درمیان رہے، کوئی شخص اپنے کو دوسروں سے اونچا نہ سمجھے، کوئی کسی کے اوپر اپنی بڑائی جتانے کی کوشش نہ کرے۔ عید کی نماز کے بعد امام خطبہ دیتے ہیں، سب لوگ خاموش بیٹھ کر اسے سنتے ہیں، اس خطبے میں بتایا جاتا ہے کہ انسان خدا کا بندہ ہے، تمام انسان برابر ہیں، ہر آدمی کو اپنے عمل کا حساب خدا کے یہاں دینا ہوگا۔نماز ادا کرنے کے بعد تمام لوگ آپس میں ملتے جلتے ہیں، ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دیتے ہیں، ساتھ مل کر کھاتے پیتے ہیں ، ایک دوسرے کو تحفہ دیتے ہیں، امن اور تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے خوشیوں کے اجتماعی پروگرام مناتے ہیں۔ خوشی میں بھی آدمی کو اعتدال پر قائم رہنا ہے، تفریح کے اوقات میں بھی خدا کو نہیں بھولنا ہے۔ عید بے فکری کا دن ہے مگر اسی کے ساتھ آدمی کو یہ فکر بھی رہنی چاہئے کہ اس کی کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں اور ان ذمہ داریوں سے وہ کسی بھی حال میں سبکدوش نہیں ہو سکتا۔
پوری دنیا میں تیوہار کا طریقہ پایا جاتا ہے۔اس کا مقصد ہمیشہ اجتماعی خوشی ہوتا ہے، یہ اس لیے مقرر کیے جاتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان باہمی محبت کو بڑھایا جائے، باہمی تعلقات کو زیادہ سے زیادہ خوشگوار بنایا جائے۔ یہی مقصد عید کا بھی ہے۔ عید الفطر ایک شائستہ تیوہار ہے۔اس کو اس طرح منانا چاہیے کہ وہ کسی کو تکلیف دینے کا سبب نہ بنے، عید کے دن ہر شخص کو اہتمام کرنا چاہیے کہ دوسروں کو اس سے خوشی کا تحفہ ملے، اس کے ذریعے باہمی خوشگواری میں اضافہ ہو، سچی عید وہی ہے جو ساری انسانیت کے لیے عید کا دن بن جائے۔ عرب میں تیوہاروں کا رواج تھا مگر ان میں خوشی اور تفریح کے غیر انسانی طریقے اختیار کیے جاتے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس قسم کی تقریبات کو چھوڑ دو ، مہذب انداز میں خوشی مناؤ۔ چنانچہ اسلام میں عید کی صورت میں اسلامی تیوہار مقرر کیا گیا۔ عید میں خوشی منانا ہے مگر شور نہیں کرنا ہے، عید میں تفریح کرنا ہے مگر کسی کو ستانا نہیں ہے، عید میں ملنا جلنا ہے مگر گالی گلوج نہیں کرنا ہے، عید میں کھانا پینا ہے مگر نشہ یا اسراف سے دور رہنا ہے، عید میں چلنا پھرنا ہے مگر راستوں کو گندا نہیں کرنا ہے، عید میں مسرت کا اظہار کرنا ہے مگر دوسروں کی زندگی میں خلل نہیں ڈالنا ہے۔
آسمان میں نئے چاند کو دیکھ کر عید کا آغاز ہوتا ہے، یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ عید آفاقی اور عالمی تیوہار ہے، اس کا تعلق پوری دنیا اور دنیا کے تمام انسانوں سے ہے۔ اس موقع پر ایک دوسرے سے ملنا جلنا (انٹریکشن) ہوتا ہے،اس طرح عید کا دن عملی طور پر لوگوں سے میل ملاپ کا عمومی دن بن جاتا ہے، لوگ تحفے تحائف میں بھی دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ عید لوگوں کے اندر ایکتا کی اسپرٹ کو بڑھاتی ہے، آپس کے تناؤ کو گھٹا کر لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب کر دیتی ہے، ہر طرف محبت اور سلامتی کے الفاظ گونجنے لگتے ہیں۔ عید گویا نئی امیدوں کا تیوہار ہے۔ دوسروں سے ملنا ملانا ہمیں بتاتا ہے کہ تمام انسان ایک ہی کنبے کے افراد ہیں، عید میں غریبوں ، دوستوں اور رشتہ داروںکو کھلانا پلانا ،اس بات کا پیغام دیتا ہے کہ اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کرو، عید سے پہلے روزہ رکھنا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس دنیا میں پہلے ذمہ داری ادا کی جاتی ہے اس کے بعد حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ عید ایک اعتبار سے سالانہ تیوہار ہے اور دوسرے اعتبار سے روزے کا انعام۔
عید کے دن یکطرفہ جذبے کے تحت کام کیے جاتے ہیں۔ اس دنیا میں وہی شخص انسانیت اور اخلاق کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے جو یک طرفہ طور پر انسانیت اور اخلاق کا اصول اختیار کرنے پر راضی ہو جائے۔ اس دنیا میں آدمی کو دوسروں سے تعلق پیدا کرنا ہے خواہ دوسرا اس سے تعلق کے لیے پیش قدمی نہیں کر رہا ہو، یہاں آدمی کو اپنے پڑوسی سے محبت کرنی ہے خواہ اس کا پڑوسی اس کے ساتھ محبت کا اظہار نہیں کر رہا ہو، اس دنیا میں آدمی کو دوسرے انسانوں کو دوست بنانا ہے خواہ دوسرا انسان اس کے ساتھ دوستی کا معاملہ کرنے پر راضی نہ ہو، اس دنیا میں آدمی کو دوسرے انسانوں کے لیے نفع بخش بننا ہے خواہ دوسرا انسان اس کے لیے نفع بخش نہ ہو۔
اپنا تو کام ہے کہ جلاتے چلو چراغ
رستے میں خواہ دوست کہ دشمن کا گھر ملے
روزہ اور عید علامتی طور پر خدا کے بندوں کو یہ بتاتے ہیں کہ خدا کی زمین پر انہیں کس طرح رہنا چاہیے ۔وہ سال میں ایک بار آتے ہیںمگر پورے سال کے لئے ہماری زندگی کا کورس متعین کرتے ہیں ۔عید کا پیغام ہے کہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، پابندیوں کو نبھائیں، سماج میں دینے والے بن کر رہیں، پڑوسیوں اور تمام انسانوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں تاکہ دشمن بھی ان کے دوست بن جائیں۔عیدعبادت بھی ہے اور تربیت بھی۔ اس کا عملی نقشہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ پوری زندگی کے لیے تربیت کا کورس بن جائیں۔

Comments are closed.