تعلیم کے یہ نتیجے تو ہم نے سوچے نہ تھے
غریبوں کی گندگی تو جھاڑو سے صاف ہوجائے گی مگر مہذب سماج کی گندگی دور کرنے کے لیے کیا کوئی لائحہ ء عمل ہے؟
کلیم الحفیظ۔نئی دہلی
8287421080
ہم ہی کیادنیا کے تمام دانشوروں اور مفکرین و مصلحین و واعظین کی رائے ہے کہ تعلیم سماج میں خوشحالی کا ذریعہ ہے اور اس کے ذریعے انسان مہذب ہوتا ہے۔تعلیم کے اخلاقی،روحانی،معاشی اور معاشرتی فوائد پر مشتمل لٹریچر بھرا پڑا ہے۔ہر شخص کی زبان پر ہے کہ تعلیم یافتہ ہوجاؤ گے تو تمہارے سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔لیکن آج جب میں اپنے ملک کے حالات کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ ہمارے یہاں تعلیم کے منفی نتائج زیادہ برآمد ہوئے ہیں۔ ملک میں اس وقت ہند ومسلم نفرت کا جو زہر پھیلایا جارہا ہے وہ تعلیم یافتہ افراد کے ذریعے ہی پھیلایا جا رہا ہے۔دھرم سنسد میں مسلمانوں کو مارنے اور قتل کرنے کی دھمکیاں نہ صرف تعلیم یافتہ گروہ کی طرف سے دی جارہی ہیں بلکہ وہ دھرم کی تعلیم بھی لیے ہوئے ہیں۔ایک مہاراج نے تو مسلم خواتین کے ساتھ زنا بالجبر کرنے پر بھی اپنے عقیدت مندوں کو ابھارا تھا۔یعنی مذہب جو حیوان کو انسان بناتا ہے اس کے گیانی ہمارے دیش میں حیوان بن گئے ہیں۔ٹی وی چینلوں پر ہونے والے مباحث میں شریک ہونے والے افراد دانشور ہوتے ہیں۔وہ اپنی جماعت اور سماج کی نمائندگی کرتے ہیں۔لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ وہ کیسی زبان کا استعمال کرتے ہیں؟کس طرح سماج کو تقسیم کرتے ہیں؟خود ٹی وی اینکر کا رول کس قدر غیر منصفانہ ہوتا ہے؟
ملک کو لوٹنے و الوں میں بھی اہل علم شامل ہیں۔ملک میں جتنے بڑے گھوٹالے ہوئے وہ کسی ان پڑھ،غریب نے نہیں کیے تھے بلکہ وہ سارے گھوٹالے ملک کے حکمرانوں اور اعلی تعلیم یافتہ افراد نے انجام دیے تھے۔جس سماج میں ایک روٹی چرانے پر کسی غریب کی جان لے لی جاتی ہے،محلے میں کسی کی مرغی چرانے پر زدو کوب کیا جاتا ہے اسی سماج میں درجنوں گھوٹالے ہوتے ہیں اورگھوٹالہ کرنے والے مہذب بنے رہتے ہیں۔ملک کے مشہور اور قابل ذکرگھوٹالوں میں بوفورس گھوٹالہ – 64 کروڑ روپے،یوریا گھوٹالہ – 133 کروڑ،چارہ گھوٹالہ – 950 کروڑ،اسٹاک مارکیٹ گھوٹالہ – 4000 کروڑ،ستیم گھوٹالہ – 7000 کروڑ،اسٹامپ پیپر اسکام۔ 43 ہزار کروڑ،دولت مشترکہ کھیل گھوٹالہ۔ 70 ہزار کروڑ، جی اسپیکٹرم اسکینڈل۔ 1 لاکھ 67 ہزار کروڑ،اناج گھوٹالہ – 2 لاکھ کروڑ (تخمینہ)،کوئلے کی کان کے لئے مختص گھوٹالہ۔12 لاکھ کروڑ۔رافیل گھوٹالہ 7ہزار کروڑ۔ذرا سوچیے ان گھوٹالوں کی مجموعی رقم سے کتنے غریبوں کا بھلا ہوتا۔اسی طرح بینک سے اربوں روپے کا قرض لے کر فرار ہونے والے بھی تعلیم یافتہ ہیں۔
تعلیم یافتہ لوگوں کے ہاتھوں یہ کرپشن زندگی کے ہر شعبے میں ہوا اور ہورہا ہے۔فوج میں بھی مختلف طرح کا کرپشن ہوا،یہاں تک کہ تابوت گھوٹالہ منظر عام پر آیا،فرضی ڈگریوں کی بنیاد پر نوکری حاصل کرنے کے معاملات فوج اور دیگر محکموں میں سننے کو ملتے رہتے ہیں۔میڈیا کے ساتھ کرپٹ لفظ مستقل حیثیت اختیار کرگیا ہے۔کرپٹ میڈیا اور کرپٹ سیاست دانوں نے مل کر کرپشن کی نئی نئی تاریخ رقم کی۔جتنے بڑے میڈیا ہاؤسیز ہیں وہ سب امیرترین لوگوں کے کنٹرول میں ہیں۔صحافت کی آزادی ختم ہوچکی ہے۔وہ صحافی جو ضمیر کی آواز پر رپورٹنگ کرتے ہیں قتل کردیے جاتے ہیں۔یہ سب کے سب تعلیم یافتہ ہی ہیں۔
خود تعلیم کے شعبے میں کئی طرح سے زوال آیا۔جہاں ایک طرف موٹی موٹی تنخواہیں لے کر بھی سرکاری اساتذہ پڑھانے کے علاوہ سارے کام کرتے ہیں۔خاص طور پر پرائمری تعلیم کا نظام تو چوپٹ نگری چوپٹ راجہ کا منظر پیش کرتا ہے۔وہیں دوسری طرف بیشتر پرائیوٹ اداروں نے خود کوکلی طور پر کمرشیل بنالیا۔تعلیم مہنگی ہوگئی۔تعلیم کا انویسٹ منٹ بڑھ گیا۔اب تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس انویسٹ منٹ کو کیش بھی کرنا تھا۔اس لیے کیا ڈاکٹر کیا انجینئر سب نے دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹا۔
سیاست کے میدان میں ہر فرد خود کو قوم اور ملک کا خادم کہتا ہے۔اسٹیج پر خدمت قوم کی دہائی دی جاتی ہے۔الیکشن کے موقع پر سماج کا یہ خادم ہاتھ جوڑ کر ووٹ مانگتا ہے۔الیکشن لڑنے پر جو پیسہ خرچ کیاجاتا ہے وہ بھی ایک طرح سے انویسٹ منٹ ہی ہوتا ہے جسے سود کے ساتھ حاصل کیاجاتا ہے۔بیشتر سیاست دانوں کی دولت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا ہے۔قوم غریب سے غریب تر ہوتی جارہی ہے اور لیڈر امیر سے امیر تر۔
عدلیہ جس کا کام ہی انصاف کرنا تھا وہاں بھی بدعنوانی نے اپنی جگہ بنالی ہے۔بعض وکلاء کے بارے میں مشہور ہوتا ہے کہ وہ کوئی مقدمہ نہیں ہارتے۔اس کے پاس جاؤگے تو ضمانت یقینی ہے۔یقین کی یہ کیفیت اس لیے ہے کہ اس وکیل کے تعلقات جج صاحب سے بہت اچھے ہیں۔جن کی بنیاد پر وہ اپنے کام نکال لیتا ہے۔عدالتوں میں مالی بدعنوانی کے ساتھ ہی حکومت کے دباؤ میں کام کرنے کی بدعنوانی بھی ہے۔جج صاحب سرکاری اشاروں پر کام کرتے ہیں۔ملک میں بابری مسجد کا تاریخی فیصلہ اس کی مثال ہے۔بعض لوگوں کی رائے ہے کہ جج موصوف کو فیصلے کے بدلے راجیہ سبھاکی رکنیت دی گئی۔قاتل کے بدلے مقتول کو سزا ملنے کے قصے آئے دن سامنے آتے ہیں۔
یہ کرپشن صرف عصری علوم کے حامل افراد میں ہی نہیں ہے بلکہ مذہبی تعلیم یافتہ طبقے میں بھی کئی طرح کا کرپشن ہے۔جس میں سب سے بڑا کرپشن یہ کہ انھوں نے مذہب کی تعلیمات کو اپنے نفس کی خواہشات کے مطابق پیش کیا۔خدا کے قوانین میں تبدیلیاں کیں،جس سے انسانی سماج میں مذاہب کے درمیان عداوت کا رشتہ قائم ہوا۔خود ان کے اپنے سماج میں کئی مسالک وجود میں آئے۔آج حال یہ ہے کہ اسلام جو اللہ کا سیدھا سچا دین ہے اس کو سمجھنا بھی انتہائی دشوار ہے۔غیر مسلم کو تو چھوڑئیے خود مسلم نوجوان ملاؤں کے اسلام سے پناہ مانگتے ہیں۔اس کے علاوہ مذہبی اداروں میں مالی بدعنوانیاں بھی پائی جاتی ہیں۔
میں یہ نہیں کہتا کہ تمام تعلیم یافتہ افراد کرپٹ ہیں۔لیکن اوپر جو میں نے عرض کیا وہ بھی ہمارے سماج کا آئینہ ہے۔ایک قابل ذکر تعداد اس میں ملوث ہے۔حالانکہ جتنے اچھے لوگ ہیں وہ بھی تعلیم یافتہ ہی ہیں۔تعلیم کی تحریک چلانے والوں نے کبھی سوچا نہ تھا کہ اس کے اتنے خوفناک نتیجے برآمد ہوں گے۔پرانے زمانے کے چور جاہل تھے،نقب لگاتے تھے۔اس کے بعد بندوق کی نوک پر ڈاکہ زنی کا دور آیا مگر تعلیم کی بدولت اکاؤنٹ ہی ہیک کرلیے گئے اور ایک کلک پر لاکھوں کی رقم اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرلی گئی۔پاسورڈ اورمیل آئی ڈی ہیک کرکے بلیک میل کیا جانے لگا۔ایپ کے ذیعے غیر اخلاقی تصویریں اپ لوڈ کرکے تہذیب کا جنازہ نکالا گیا۔
تعلیم کے مضر اور منفی اثرات دیکھ کر سوچتا ہوں کہ وہ زمانہ کتنا اچھا تھا جب ہم پڑھے لکھے تو نہ تھے لیکن با اخلاق تھے۔جب زبانی وعدوں پر بڑے بڑے تجارتی لین دین ہوجاتے تھے،کوئی بے ایمانی نہ ہوتی تھی۔جب پڑھے لکھے جج تو نہ تھے لیکن گاؤں کے پنچ پرمیشور کا درجہ رکھتے تھے اور انصاف کرتے تھے۔جب گاؤں کی بیٹی سب کی بیٹی تھی۔جب ہولی،دیوالی اور عید سب مل کر مناتے تھے۔تیوہار آنے پر سب خوش ہوتے تھے۔جب ارتھی اور جنازے میں فرق نہ تھا،جب اذان کی آواز پر دوسری آوازیں خاموش ہوجاتی تھیں،جب مندر کی رام لیلا میں عبدل بھی رام کا کردار نبھاتا تھا۔جب گاؤں کا چھپر اٹھوانے کے لیے ہندو مسلمان ایک ساتھ زور لگاتے تھے۔کاش وہ دن واپس ہوجاتے۔
تعلیم کے منفی اثرات پیش کرنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ تعلیم حاصل نہ کی جائے،تعلیمی ادارے قائم نہ کیے جائیں،بلکہ میں چاہتا ہوں کہ آپ تعلیم کے مقاصد پر بھی نگاہ رکھیں اوراخلاقی تعلیم کو اپنے تعلیمی نظام کا لازمی جز بنائیں۔ تعلیم یافتہ سماج اپنے گریبان میں جھانکے۔ہر تعلیم یافتہ فرد کویہ جائزہ لینا چاہئے کہ اس کے ذریعے انسانی سماج میں کسی قسم کی بدعنوانی اور بد اخلاقی تو نہیں بڑھ رہی ہے۔اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ان پڑھ لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں،ان کی گندگی سے گھن کھاتے ہیں۔لیکن ان سفید پوشوں کو اس گندگی پر بھی نظر ڈالنا چاہئے جو ان کے ذریعے سماج میں پھیل رہی ہے۔غریبوں کی گندگی توصابن یا جھاڑو سے صاف ہوجائے گی مگر مہذب سماج کی گندگی دور کرنے کے لیے کیا کوئی لائحہ ء عمل ہے؟
Comments are closed.