قانون کا سہارا

ڈاکٹر عابد الرحمن ( چاندور بسوہ)
اتراکھنڈ کے رڑ کی میں بھی ہری دوار کی دھرم سنسدکی طرح ایک مہا پنچایت منعقد کی جانی تھی جس کی تاریخ ۲۷، اپریل طے کی گئی تھی ۔ منتظمین تقریباً وہی تھے جنہوں نے ہری دوار کی دھرم سنسد منعقد کی تھی مقررین بھی وہی تھے جنہوں نے ہری دوار میں مسلمانوں کے خلاف قتل عام تک کی زہر افشانی کی تھی ۔ لیکن ۲۷ ،اپریل کی یہ دھرم سنسد نہیں ہو پائی بلکہ نہیں ہونے دی گئی ۔ مذکورہ دھرم سنسد ہوتی تو اس میں وہی کچھ ہوتا جو ہری دوار کی دھرم سنسد میں ہوا تھا بلکہ اس سے زیادہ کیونکہ یہ ایسے مقام پر ہونے والی تھی جہاں ۱۶ ، اپریل کو ہنومان جینتی کے جلوس کے دوران ہندو مسلم تصادم ہوا تھا اور ہندوستان ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اس پروگرام کے شرکا اسی تشدد کے متعلق اسٹریٹیجی پر بحث کرنے والے تھے ۔ دی کونٹ ہندی کی رپورٹ کے مطابق اتراکھنڈ پولس نے اس مہا پنچایت کی اہم شخصیت سمیت تقریباً دس سے بارہ افراد کو گرفتار کرلیا سبھی ڈی جے اور اسپیکر ضبط کر لئے اور منتظمین کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا ۔ یہ اتراکھنڈ کی اسی سرکار کی کارروائی ہے جس نے ہری دوار کی دھرم سنسد میں کی گئی زہریلی تقاریر کے معاملے میں انتہائی ڈھیلی ڈھالی کارروائی کی تھی ۔ ابتدائً تو اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی بعد میں چہار جانب کی تنقید کے بعد جتیندر نارائن تیاگی کو بلی کا بکرا بناتے ہوئے نامزد کیا گیا تھا اور باقی لوگوں کو ’ نامعلوم ‘ کے ضمرے میں رکھا گیا تھا ۔ جبکہ دھرم سنسد کے باقی لوگ جیتیندر نارائن تیاگی سے زیادہ مشہور و معروف اور جانے پہچانے تھے اوران کی تقاریر کے ویڈیوزوا ئر ل بھی ہو چکے تھے لیکن ان میں سے اہم ملزم کو کافی دنوں بعد کسی دوسرے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد اس پر دھرم سنسد کا کیس لگا یا گیا تھا ۔ اب اسی سرکار اور اسی ریاست کی پولس نے نے رڑکی میں دھرم سنسد ہونے سے پہلے ہی رکوادی وجہ ؟! عزت مآب سپریم کورٹ کی سخت ترین وارننگ ۔ حالانکہ ہندوستان ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں بھی سرکاری وکیل نے قیل و قال کر کے معاملے کو ہلکا کرنے کی کوشش کی تھی ، نیز مذکورہ عرضیوںکے جائز ہونے پر سوال اٹھایا اور انہیں فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی تو عدالت نے انتہائی سختی سے انہیں لتاڑلگائی کہ اس طرح کے معاملات میں بحث کا یہ طریقہ نہیں ہے ، اور کہا کہ آپ اتنے پر اعتماد ہیں اور اگر کچھ ہوگیا تو ہم آپ کے چیف سیکریٹری ہوم سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل آف پولس کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے ۔‘ سپریم کورٹ کی اس سخت وارننگ کے بعد اترا کھنڈ کی سرکار نے رڑکی کی مجوزہ مہا پنچایت رکوادی اس کے منتظمین کو گرفتار کیا اور علاقے میں دفعہ ۱۴۴ لگاکر لوگوں کے اجتماع کو بھی روک دیا ۔
سپریم کورٹ کی یہ سخت وارننگ ایسے ہی نہیں آگئی بلکہ یہ قانونی چارہ جوئی کا نتیجہ ہے جو ہری دواراور دہلی میں ہوئی دھرم سنسد میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنے اور اس طرح کی دھرم سنسدوں اور پروگراموں کو رکوانے کے مطالبہ کو لے کر صحافی قربان علی اور پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج انجنا پرکاش نے کی تھی ۔
دوسری طرف مہاراشٹر میں راج ٹھاکرے کے خلاف کی گئی کارروائی ہے ۔ شور کیا گیا کہ مہاراشٹر پولس ہر طرح کی صورت حال سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہے پھر بھی کئی مقامات پر مسجدوں کے سامنے ہنومان چالیسہ بجائے گئے یا بجانے کی کوشش کی گئی ۔لیکن اتنا ضرور ہوا کہ کچھ خاص نہیں ہونے دیا گیا۔ کئی لوگوں کے خلاف روک تھام کے اقدامات کئے گئے کئی لوگوں کو نوٹس جاری کئے گئے کچھ ایف آئی آر درج کئے گئے اورکچھ گرفتاریاںبھی کی گئیں ۔ اورنگ آباد ریلی کے دوران نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں راج ٹھاکرے کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا ، انہیں نوٹس بھی جاری کیا گیالیکن ابھی تک ان کے خلاف کوئی کارروائی ہوتی نظر نہیں آئی ۔ عام طورپر لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کر کے سیاسی اور مذہبی لیڈران کی گرفتاریاں ٹالی جاتی ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ سب بولنے کی باتیں ہیں اگر پولس چاہے تو خواہ کوئی بھی ہو اسے گرفتار کرسکتی ہے اور لاء اینڈ آرڈر کو بھی اچھی طرح سنبھال سکتی ہے ۔ یعنی مہاراشٹر میں راج ٹھاکرے اور ان کے حواریوں کے خلاف جو بھی کارروائی ہوئی وہ سرکاروں کی روایتی ڈھیلی ڈھالی کارروائی سے ذرا زیادہ رہی ۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب بھی صرف اس لئے ہوا کہ راج ٹھاکرے نے مسجدوں کے لاؤڈ اسپیکر کا مسئلہ اچھال کر لاء اینڈ آرڈر اور ہم مسلمانوں کو نہیں بلکہ حکومت اور اس سے زیادہ شیو سینا کو چیلنج کیا ہے ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اگر چاہے تو وہ مسلمانوں کے خلاف یا کسی کے بھی خلاف کسی بھی طرح کی اشتعال انگیزی کو واقع ہونے سے روک سکتی ہے ۔ لیکن مذکورہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومتیں ایسا اسی وقت کرتی ہیں جب ایک تو قانون کے نگراں ادارے ان پر ایسا کرنے کا دباؤ بنائیں جیسا کہ رڑکی کی مہا پنچایت کے معاملے میں ہوا اور دوسرے جب معاملہ ان کی انا کا ہوا جیسا کہ راج ٹھاکرے کے معاملے میں مہاراشٹر حکومت نے کیا ۔سیاسی طور پر پورا ملک یک رنگی ہو گیا ہے اور ہم مسلمان سیاسی چارا۔ ہمارے خلاف ہر اشتعال انگیزی حکومت کے لئے فائدہ مند ہوتی ہے یا حکومتیں فائدہ اٹھانے ہی کی نیت سے انہیں ہینڈل کرتی ہیں ۔لیکن اس طرح کے واقعات ہونے سے رکوانے کے لئے حکومتوں کو مجبور کیا جا سکتا ہے اور اس کا ایک ہی راستہ ہمارے پاس بچا ہے وہ جو صحافی قربان علی اور سابق جج انجنا پرکاش نے اپنا یا ہے ۔راج ٹھاکرے کی دھمکی اور اشتعال انگیزی بھی کافی عرصے سے چل رہی ہے اگر اس معاملے کو بھی عدالت میں کھینچا جاتا تو شاید اس میں بھی کارروائی کچھ اورہوتی۔ بہر حال ہمیں ہر ہر معاملے میں قانون کو اپنا سہارا بنا کر حکومتوں کو مجبور کرنا چاہئے کہ وہ اپنا آئینی فرض ادا کریں اور قانونی چارہ جوئی کرنے والوں کی عزت افزائی بھی کرنی چاہئے تاکہ ان کا حوصلہ مزید بڑھے۔

Comments are closed.