عید اورلباس سوگواراں

سمیع اللہ ملک
عیدپھرآئی اورچلی گئی۔یہ توخوشی کاموقع،اللہ کے انعام پرشکراداکرنے کادن۔لیکن جب میں اپنے وطن کے ان بے شمار لوگوں کو دیکھتاہوں جن کے پاس عیدکے دن بھی پیٹ بھر کر کھانے کوہے اورنہ ہی ان کے بچوں کیلئے،نئے توکیاصاف ستھرے کپڑے بھی نہیں تونجانے یہ شعرکیوں بے ساختہ میری زبان پرآجاتاہے:
ہوئی عیدسب نے پہنے طرب وخوشی کے جامے
نہ ہواکہ ہم بدلتے یہ لباس سوگواراں
اورایسے لوگ بھی توبے شمارہیں جواللہ کی عطاکردہ بے شمارنعمتوں سے اگرکچھ حصہ ان کودے دیں جوبے وسیلہ ہیں توان کے چہروں پربھی،مفقودمسکراہٹ آجائے،ان کی آنکھوں سے اداسی ایک دن کیلئے ہی سہی دورہوجائے اورخوشیاں رقص کرنے لگیں۔ مجھے مدینہ منورہ کاوہ یتیم بچہ بھی یادآجاتاہے جس کے سرپررحمت العالمین رسول اکرمﷺ نے ہاتھ رکھا تھاتواسے دنیاکی سب سے بڑی نعمت مل گئی تھی۔کیااس کے امتیوں کورحمت العالمین رسول اکرمﷺ کی یہ سنت یادنہیں رہی؟کیا قرآن کریم میں یہ نہیں کہاگیاکہ ’’تم نیکی کونہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں(اللہ کی راہ میں)خرچ نہ کروجنہیں تم عزیزرکھتے ہو۔‘‘اورپھرفرمایا’’تم نے دیکھااس شخص کوجوآخرت جزاوسزاکوجھٹلاتاہے؟وہی توہے جویتیم کو دھکے دیتاہے اورمسکین کوکھانادینے پرنہیں اکساتا‘‘۔ یعنی نہ اپنے نفس کواس کام پرآمادہ کرتاہے اورنہ اپنے گھروالوں سے کہتاہے کہ مسکین کوکھانادیاکریں اورنہ لوگوں کومسکین کی مدد پر اکساتاہے۔سبحان اللہ!رب العزت نے یتیموں اورمسکینوں سے بدسلوکی کرنے اورکھانانہ دینے یادوسروں کواس کیلئے آمادہ نہ کرنے کاتعلق’’یوم دین‘‘کوجھٹلانے سے جوڑاہے ۔ یعنی یتیموں اورمسکینوں کی مددنہ کرنے والے وہ ہیں جویوم آخرت اورجزاوسزاپرایمان نہیں رکھتے اورظاہرہے انہیں مسلمان نہیں کہاجاسکتاتوگویامسلمان ہونے اوریوم آخرت پرایمان رکھنے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ یتیموں کوگلے لگایا جائے،ان سے شفقت سے پیش آیاجائے اوریتیموں،ناداروں اورمسکینوں کوخودبھی کھاناکھلایاجائے اوردوسروں کواس پر آمادہ کرنے کیلئے باقاعدہ مہم بھی چلائی جائے۔
ان آیات مبارکہ کی روشنی میں آج اپنے اپنے کرداراورعمل کاجائزہ لیجئے۔بیشک بنیادی ذمہ داری توحکمرانوں کی ہے جو عوام سے ٹیکس اسی لئے وصول کرتے ہیں کہ عوام کی فلاح و بہبودپرخرچ کیاجائے۔بینکوں کے ذریعے سال پورانہ ہونے اورنصاب کونہ پہنچنے والی رقم پربھی زکوکا ٹ لی جاتی ہے تاکہ ناداروں پرصرف کی جائے لیکن پھربھی ناداروں غریبوں اور مسکینوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ایساکیوں ہے؟کیامسلمانوں کے حکمران یوم آخرت پریقین نہیں رکھتے یانظام زکوصحیح طورپرنافذنہیں کرسکے۔ اپنے اطراف میں نظرڈالئے آپ کوکتنے ہی نادار،مسکین اوریتیم بچے کوڑے پررزق تلاش کرتے نظرآجائیں گے۔معصوم سے بچے جوکچرے میں پھینکے گئے گلے سڑے اناروں سے اپنی بھوک مٹانے کی کوشش کرتے ہیں،ایسے بچے ہرجگہ اورہرشہرمیں آپ کوملیں گے۔”کیاتم نے دیکھاان لوگوں کوجوجزاوسزاکوجھٹلارہے ہیں”۔کیاہم بھی توان میں شامل نہیں؟ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک مسلم معاشرے میں،ایک اسلامی ملک میں جگہ جگہ ننگے بھوکے لوگوں کی بھیڑنظرآئیاورمعاشرہ ان سے آنکھیں چرالے؟ فرمان الہی تویہ ہے کہ مسلمان اس وقت تک نیکی کونہیں پہنچ سکتے جب تک وہ اپنی ایسی چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ نہ کردیں جوان کوبہت عزیزومحبوب ہیں۔ہم روزے رکھ کر،نمازپڑھ کر،حج اورعمرے کی ہرسال سعادت حاصل کرکے خودکونیکوکاروں میں شمارتوکرتے ہیں،پڑوسی بھوکاہو،محلے میں یتیم،مسکین اورناداربیوائیں بے سہاراہوں اورہم عمرے کیلئے دوڑے چلے جائیں جو فرض نہیں ہے۔حج بھی زندگی میں صرف ایک بارمخصوص شرائط کے ساتھ فرض کیاگیاہے پھربھی کتنے ہی لوگ فخریہ گنواتے ہیں کہ انہوں نے کتنے حج کرلئے۔گھرکے باہرنام کی تختی پرجلی حروف میں’’الحاج‘‘لکھوارکھاہے۔ہرکسی سے’’حاجی صاحب‘‘سننے میں سرشاری محسوس کرتے ہیں۔لیکن یہ توبتائیں کہ اللہ کی راہ میں کتناخرچ کیا،کتنے یتیموں،ناداروں اورمسکینوں کو سہارادیا،اپنی کتنی محبوب اشیا اللہ کی راہ میں خرچ کردیں،ایساہوتاتوآج کوڑے کے ڈھیرپریہ بچے نظرنہ آتے جنہیں دیکھ کریہ تمیزکرنامشکل ہو گیاہے کہ یہ انسان کے بچے ہیں یا پھر اسی کوڑے کرکٹ اورکچرے کاحصہ!اللہ کاشکرہے کہ کئی تنظیمیں ان حالات میں بھی یتیم، مسکین اورناداربیواں کی نہ صرف خودمددکررہی ہیں بلکہ دوسروں کوبھی اکسارہی ہیں۔شاید اسی لئے زلزلے آآ کرپلٹ جاتے ہیں اورآسمان سے بارش بھی برس جاتی ہے کہ کھیتیاں سوکھنے نہ پائیں لیکن ہرکوشش ناکافی ہے کہ غربت میں اضافے اوریتیموں مسکینوں ناداروں کی تعدادبڑھانے کی منظم مہم اس سے کہیں زیادہ شدیدہے۔آگے بڑھئے آپ کواپنے عزیزوں رشتہ داروں میں ایسے سفیدپوش،نادارغریب مل جائیں گے جوآپ کی توجہ اورمددکے طالب ہیں۔ان کی مددکرتے ہوئے ان کی عزت نفس کاخیال رکھنا بہت ضروری ہے۔
جب میں نے بالآخران سے عزت نفس کے خیال رکھنے کابہترین طریقہ دریافت کیاتوحسب عادت مسکرائے کہ پگلے دنیامیں سب سے آسان کام بھی یہی ہے اورسب سے مشکل بھی۔آپ آسان زباں میں کیوں نہیں بتاتے،ایسے جواب سے توالجھن بڑھتی ہے؟ فرمانے لگے’’مشکل اس لئے ہے کہ اپنے کسی عزیزیارشتہ دارکودیتے ہوئے دل کے کسی گوشے میں برتری کااحساس ہرنیکی بربادکردینے کااحتمال رہتاہے لیکن اگریہی کام اس طرح کیاجائے کہ اس عزیزیارشتہ دارکوپتہ نہ چلے کہ یہ مدد آپ کررہے ہیں،یہی کام اپنے کسی ایسے دوست کے ذریعے کریں جوان کیلئے اجنبی ہوتوپھردونوں اطراف میں خیرباقی رہتی ہے۔
ہم اپنی زیست کے پیہم مسرت خیزلمحوں سے ایک ساعت ہی سہی،انہیں صرف یادہی کرلیں جوہماری سلامتی کیلئے اپنی جان ہتھیلی پررکھ کراپنی جانیں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے اوراپناآج ہمارے کل پرقربان کررہے ہیں۔ہمارے بچوں پرباپ کاسایہ محفوظ اورہمارے اہل خانہ کی سلامتی کیلئے ان شہداکی اکثریت اپنے ورثے میں اپنے کمسن بچے اور نوجوان بیواؤں کوچھوڑجاتے ہیں۔ ملکی سلامتی کیلئے ضربِ عضب اوردالفساد آپریشن میں مصروف ہیں اورہاں!جب رمضان المبارک کی رحمتیں اوربرکتیں ہمارے گھروں پر دستک دے رہی ہوں گی،ہم اطمینان سے عیدگاہوں میں سجدہ ریزہوں گے تویہ اپنے اہل خانہ سے دوراپنے معصوم بچوں، بوڑھے اور بیماروالدین سے دور چلچلاتی گرمی میں خیموں میں عیدکادن گزاررہے ہوں گے۔
اجاڑراستے،عجیب منظر،ویران گلیاں،بازاربندہیں
کہاں کی خوشیاں،شہرکی گلیاں لہولہوہیں

Comments are closed.