کیا یہ دوسری بابری مسجد ہے گیان واپی مسجد۔۔؟

عارف شجر
حیدرآباد(تلنگانہ)8790193834
ایک بار پھر ملک میںسیاسی گرم ہوا چل پڑی ہے، ملک کے لوگ جو امن و سکون سے زندگی بسر کر رہے تھے انکے بیچ اب اضطرابی کیفیت کا عالم ہے۔ایک بار پھر ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ایک بار پھر آپسی محبت و پیار کو ریزہ ریزہ کرنے کی ناپاک کوشش کی جا رہی ہے۔ایک بار پھر ملک میں نفرتوں کا زہر پھیلا کر ملک کے ایک مخصوص طبقہ کو ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسا میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ بابری مسجد شہید کے سالوں بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ ایودھیا رام جنم بھومی پرآنے کے بعد ملک کے لوگوں نے اطمینان کی سانس لی تھی کہ اب ملک میں امن و امان قائم ہو جائے گا لوگوں کا بھائی چارہ آئین اور جمہوری نظام جو کچھ شرپسندوںکے ذریعہ درہم برہم کر دیا گیا تھا وہ پھر سے پٹری پر آ جائے گا۔ ملک کے جمہوری نظام پر کسی طرح کا کوئی آنچ نہیں آئے گا آئین میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں ہوگی، گنگا جمنی تہذیب جو صدیوں سے اس ملک کا قیمتی ورثاءرہی ہے وہ قائم و دائم رہے گا۔ملک کے لوگ آپس میں خوش تھے کہ اب کسی طرح کی مذہبی ورثاءکو نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور نہ ہی کسی مذہبی ورثاءکو توڑنے اور قبضہ کرنے کے نام پر ڈرایا جائے گا۔1991 میں ایوان میںیہ قانون پاس ہوا تھا جس کے مطابق بابری مسجد کو چھوڑ کر دیگر سبھی مذہبی مقامات کو 15اگست1947کی حالات میں بنائے رکھا جانا تھا کسی بھی مذہبی مقامات پر دعویٰ یا قبضہ کی بات نہیں تھی بلکہ جس طرح جس کا اسٹریکچر ہے وہ اسی طرح قائم رہے گا خواہ وہ مندر ہو یا مسجد یا تاریخی ورثاءاس پر کسی طرح کی کوئی قانونی ضابطہ بھی عائد نہیں ہوگا۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے تھے یا سمجھتے تھے کہ بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ آخری ہے بس اگر ایودھیا میں مندر بن جائے تو اس ملک میں امن و امان چین و سکون ہمہشہ ہمیشہ کے لئے قائم ہو جائےے گا سارے تنازعے حل ہو جائیں گے، تو مجھے یہ بات کہہ لینے دیجئے کہ وہ یا تو بے حد نادان تھے یا بے حد چالاک۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ مسئلہ صر ف کاشی یا گیان واپی کا نہیں متھرا کا بھی نہیں بات صر ف تاج محل کی بھی نہیں ہے، مسئلہ قطب مینار کا بھی نہیں ہے، مسئلہ 2024 کے انتخابات کا ہے۔ ہمیںاس سیاست کو باریکی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس سچائی سے بھی انکار نہیںکیا جا سکتا کہ بی جے پی کی اقتدار کی سیڑھی اسی سے ہو کر جاتی ہے۔ ملک میں عام انتخابات ہونے میں ابھی وقت ہے لیکن جس طرح سے ابھی سے ہی ملک کا سیاسی ماحول بنایا جا رہے اور ملک کے عام لوگوں کے ذہن میں نفرت کا رس گھولا جا رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔نفرت کی اس مہم میں ملک کا چند الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا بھی پیش پیش ہے۔ تعجب تو اس بات کا ہے کہ ایک ساتھ گیان واپی ، متھرا کاشی، تاج محل اور قطب مینار پر ہندو دیوی دیوتاؤں کے ہونے اور اس دور کے مسلم حکمراں کے ذریعہ مندر کو توڑنے اور مسجد بنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے ،یہ سب کس کے اشارے پر ہو رہا ہے اورر کیوں ہو رہا ہے یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ بھلے ہی بی جے پی اور مودی حکومت یہ کہہ کر اپنا دامن جھاڑ لے کہ اس معاملے میں انکا کوئی عمل دخل نہیں ہے تو یہ بات کسی کے گلے نہیں اترتی ہے۔
بی جے پی نے نفرت کاکھیل اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات سے ہی شروع کر دیا تھا، جب اسے یہ لگنے لگا کہ انکی اقتدار کی کرسی چھین جائے گی اور اکھلیش یادو اس پر قابض ہو جائیں گے تو کرناٹک میں حجاب کا مدعا اٹھا کر ایک نیا سیاسی کھیل شروع کر دیا اور حجاب مسئلہ کو اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میںزور شور سے اٹھایا گیا، حجاب معاملے کو لے کر بی جے پی نے ’ تشٹی کرن‘ کا کھیل بڑے ہی سلیقے کے ساتھ کھیلا جسکا اندازہ سماجوادی پارٹی کو بھی نہیں ہو سکا۔ بی جے پی کو یہ سمجھ میں آگیا کہ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری ، غریبی کا کوئی مدعا ہے ہی نہیں بلکہ ابھی بھی لوگ ہندو مسلم کے نام پر ووٹ دیتے ہیں ملک میں سیکولر ہونے کا کوئی مطلب نہیں ہندو مسلم مسجد مندر کرنے سے ہی اقتدار میں قابض ہوا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے 2024 کے عام انتخابات سے قبل ہی ہندو مسلم مندر مسجد کا مدعا لگاتار اٹھاتی جا رہی ،مسلمانوں کے جذبات والے ایشو کو اٹھانے میں پوری طرح سرگرم دکھائی دے رہی ہے چاہے وہ حجاب کا معاملہ ہو، حلال ہو، لاؤڈسپیکر ہو، اذان ہو، کھلے میں نماز پڑھنے کا معاملہ ہو ، بلڈزر ہو،گیان واپی مسجد ہو، متھرا کاشی ہو، تاج محل ہو یا پھر قطب مینار ہو مسلمانوں کے سارے مذہبی جذبات سے جڑے معاملے کو اٹھا نے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ملک کو اسی مذہبی جال میں الجھا کر اپنی سیاسی روٹی سینکی جا رہی ہے یہی نہیں ا س مدعا کو بی جے پی 2024 کے عام انتخابات تک زندہ رکھنا چاہتی ہے تاکہ بے روزگاری اور مہنگائی کے سلگتے ہوئے مسئلے سے عام لوگوں کو بھٹکایا جا سکے ، بی جے پی کو یہ بخوبی پتہ ہے کہ اگر مذہبی مدعے کو نہیں اٹھایا گیا تو وہ دوبارہ مرکز میں سرکار نہیں بنا سکتی۔
گزشتہ آٹھ سالوں میں ملک کے سامنے ایسی کئی مثالیں پیش کی گئی ہیں جب ضروری چیزوں کے علاوہ عوام کو غیر ضروری مسائل میں الجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن مذہبی معاملے میں جس طرح سے تنازعہ کھڑا کیا جا رہا ہے، اس سے سچائی سے توجہ ہٹانے کی بی جے پی کی حکمت عملی کو سمجھا جا سکتا ہے۔اوراس بات کو بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ آئین کی جس طرح سے دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور ایک مخصوص طبقہ کے خلاف نعرے اور مساجدوں میں بھگوا جھنڈا لہرایا جا رہا ہے وہ دیش کے جمہوری نظام کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ حیرت تو اس بات کی ہے کہ ملک کے وزیر اعظم آئین کی دھیجاں اڑانے والوں کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہتے،جس سے آئین کی دھیجاں اڑانے والوں کے حوصلے بڑھ رہے ہیں۔
بہر حال!ہندوستان کے قوم پرست نظریے کے برعکس، فرقہ وارانہ نظریہ مسلمانوں کو غیر ملکی، مندروں کو تباہ کرنے اور تلوار کی نوک پر اسلام پھیلانے والے کے طور پر بیان کرتا ہے۔ فرقہ پرست طاقتوں کا ایک قطعی فارمولا ہے۔ کسی بھی جذباتی مسئلے کو اٹھائیں، اسے نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کریں اور پھر فرقہ وارانہ تشدد کو اسپانسر کریں۔ اس کی وجہ سے ہونے والے فرقہ وارانہ پولرائزیشن کا فائدہ ان طاقتوں کو انتخابات میں ملتا ہے۔ مجھے یہ بات کہہ لینے دیجئے کہ گیانواپی مسجد کا مسئلہ بھی اسی مقصد کے لیے اٹھایا جا رہا ہے، آج کے مسلمانوں پر اس بات کا الزام لگایا جا رہا ہے کہ سینکڑوں سال پہلے مسلمان حکمران کیا کرتے تھے۔ وہ مندر کتنے مختلف ہیں جنہیں فرقہ پرست طاقتیں جواہر لعل نہرو کے تصور کردہ مندروں سے قومی گفتگو کے مرکز میں لے آئی ہیں۔ بھاکڑا ننگل ڈیم کا افتتاح کرتے ہوئے نہرو نے اسے جدید ہندوستان کا مندر قرار دیا۔ اسی سوچ کی وجہ سے ہندوستان میں تعلیمی اور تحقیقی ادارے، صنعتیں اور اسپتال قائم ہوئے۔ ہمیں آج ایسے مندروں کی ضرورت ہے۔

Comments are closed.