ملی تنظیموں کی الگ الگ میٹینگ سے آپسی انتشار کی غمازی ہوتی ھے
مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی
سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ
مسلمان ایک ملت اور ایک امت ھے ، سب کا دین ایک ، قرآن ایک اور قبلہ ایک ہے ، جس ملک میں رھتے اور بستے ہیں ، اور جن مصیبتوں سے دوچار ہورہے ہیں ، وہ مسائل بھی ایک قسم کے اور ایک فریق سے تعلق رکھتے ہیں ، اس کے باوجود مسائل کو حل کرنے کے لئے الگ الگ میٹینگ کی ضرورت کیوں پڑ رہی ھے ؟ یہ لمحہ فکریہ ھے ، جبکہ موجودہ وقت میں مسلمانوں کے مسائل پر متفقہ طور غور و فکر کی ضرورت ھے ، علماء ،دانشور اور ملی تنظیموں کے قائدین سب ایک جگہ جمع ھوتے اور متحدہ کوشش کرتے تو اس کا پیغام بھی مثبت جاتا اور طاقت کا بھی مظاہرہ ہوتا ، مگر یکجا کوشش کے بجائے الگ الگ میٹینگ کا دور شروع ھوگیا ھے ،جس سے آپسی انتشار کا پتہ چلتا ھے ، اور الگ الگ ہونے کی وجہ سے تنظیموں کی کارکردگی بھی بے اثر ثابت ہورہی ہے ، جب آپس میں ہی اتنی کمزوری جھلک رہی ھے ، تو پھر غیروں کے نزدیک اور حکومت کے نزدیک یہ باوزن اور با اثر کیسے ہوں گی ؟
موجودہ وقت میں نفرت کی فضا قائم ھے ، کچھ فرقہ پرست لوگوں نے ملک کی فضا کو مکدر کردیا ، ملک میں اکثریت کے لوگوں کو اقلیت کے خلاف بھڑکا دیا ھے ، جس کی وجہ سے اقلیت کے افراد دقت محسوس کر رہے ہیں ،خواہ وہ مسلمان ھوں یا سکھ اور عیسائی ، خاص طور پر مسلمان زیادہ دقت میں ہیں ، ایسے وقت میں ضرورت تھی کہ مسلم سماج کے لوگ آپس میں بیٹھتے اور سب مل کر اتحاد کا مظاہرہ کرتے ، ظلم و زیادتی کے تدارک کے لئے متحدہ لائحہ عمل تیار کرتے ، مگر افسوس کہ اس پریشانی کے وقت میں بھی ہم اتفاق کے بجائے آپسی انتشار کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، جس سے عام مسلمانوں کو فائدہ کے بجائے نقصان ہی پہنچنے کا اندیشہ ھے ، پہلے مجلس مشاورت کی دو روزہ کانفرنس ہوئی ، اب جمعیت علماء کی کانفرنس ہونے جارہی ھے ، ادھر مولانا توقیر رضا خان صاحب نے بھی کانفرنس کا اشارہ دیا ھے ، ایسا لگتا ھے کہ باقی تنظیمیں بھی اپنے وجود کو ثابت کرنے کے لئے میٹینگ اور کانفرنس کے انعقاد کرینگی ، جس سے مزید انتشار کے بڑھنے کا اندیشہ ھے ، یہ اس امت کا حال ھے ،جس کے پاس اسلام دین ، قرآن ہدایت کی کتاب اور جس کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ موجود ھے ،
موجودہ وقت اس کا تقاضہ کرتا ھے کہ تمام ملی تنظیموں متحد ہوں ،اور مشترکہ طور پر لائحہ عمل تیار کریں ، تاکہ اس کا اثر ظاہر ھو ، جبکہ ملی تنظیموں کا عوام و خواص میں اعتماد ھے ، اور اس میں علماء ،دانشوران اور اصحاب فکر بھی موجود ہیں ،
اس سلسلہ میں چند مشورے تحریر ہیں
(1) تمام ملی تنظیموں کا اتحاد قائم ہو ،جیسا کہ اتحاد ملت کے نام سے گزشتہ کانفرنس میں کمیٹی بنائی گئی تھی ، اگر وہ کمیٹی کام کر رہی ھو تو اس کو مضبوط کیا جائے ، اگر وہ ختم ھوئی ھو تو اس کو پھر قائم کیا جائے
(2) اتحاد ملت یا مجوزہ جو بھی نام ھو ،یہ مسلم مسائل پر کام کرے اور یہ تمام ملی تنظیموں کا مشترکہ پلیٹ فارم ھو
(3) اتحاد ملت کمیٹی کی ایک آواز ھو ، جو متفقہ طور پر میٹینگ میں منظور شدہ ھو ،
(4) تمام ملی تنظیمیں۔ اس کی پابند ھوں ، میٹینگ میں جو فیصلہ ھو اس کی پوری رعایت کریں
یہ اتحاد ملت کمیٹی دو سطح پر کام کرے
( الف ) ملک کے حالات اور اقلیت بالخصوص مسلمانوں کے مسائل حکومت وقت سے مل کر واقف کرائے ، بات چیت کرے میمورنڈم پیش کرے ، اور ہر طرح کا تحفظ فراہم کرانے کا مطالبہ کیا جائے
( ب ) برادران وطن میں زیادہ سیکولر ، اچھے اور صاف ذہن کے لوگ ہیں ، ان کے ساتھ میٹینگ کی جائے ، خاص طور پر دلت علاقوں کی نشاندھی کر کے ان علاقوں میں میٹینگ کا انعقاد کیا جائے ، اس میٹینگ میں دلت اور پسماندہ برادری کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ شریک کیا جائے ، تاکہ وہ مسلمان کے قریب آسکیں ،کیونکہ موجودہ وقت میں یہی لوگ زیادہ نفرت پھیلانے والوں کے آلہ کار بن رہے ہیں
یہ میرا مشورہ ھے ،اس پر بڑے تناظر میں غور و فکر کی ضرورت ھے ،
موجودہ وقت میں مثبت فکر پیدا کرنے کی ضرورت ھے ، جارحانہ تنقید و تبصرہ سے ضد کا راستہ کھلتا ھے ، اگر انداز مثبت ہو تو اسی سے اصلاح کے لئے راستہ بھی ہموار ھوتا ھے ، موجودہ وقت میں اس کی ضرورت بھی ھے کہ افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا جائے ، سبھی اصحاب رائے ہیں ، ایک دوسرے کا خیال رکھا جائے ،یہی وقت کی اہم ضرورت ھے.
Comments are closed.