مہاڈ کاایک سفر :جمعیۃ کی طرف سے خوشیوں کی تقسیم!
شکیل رشد
سریکھا ، ریکھا اور عمردراز مایا کے چہرے پر خوشیاں اور آنکھوں میں آنسو دیکھے تو احساس ہوا کہ لوگوں میں مسرت تقسیم کرنے کا عمل کس قدر پیارا اور محبت بھرا ہے ۔ شک وشبہہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ہر وہ شخص ، وہ ادارہ اور جماعت اللہ رب العالمین کی نظر میں بہترین ہے ،جو لوگوں میں خوشیاں تقسیم کرے۔ وہ ۲۱؍ مئی کا دن تھا جب مہاڈ کے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر ہال میں انہیں ، جن کے آشیانے گذشتہ سیلابی بارش میں تباہ وبرباد ہوگئے تھے ، جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی طرف سے بنوائے گیے مکانات کی چابیاں تقسیم کی گئی تھیں۔ اس کام میں کوکن کی جمعیۃ علماء کا بھی حصہ تھا۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر محترم حضرت مولانا ارشدمدنی نے چابیاں تقسیم کرتے ہوئے جو بات کہی اسے رد نہیں کیا جاسکتا ، ’’جمعیۃ علماء ذات پات اور مذہب نہیں دیکھتی وہ ساری انسانیت کے لیے کام کرتی ہے ، کیا مسلمان ، ہندو اور کیا عیسائی‘‘۔ جنہیں مکانات کی چابیاں دی گئیں ان میں ہندو بھی شامل تھے ۔ سریکھا ، ریکھا اور ضعیف العمرمایا کو بھی چابیاں ملی ہیں ۔ جب میں نے ان سے ملاقات کی اور ان کے احساسات جاننا چاہے تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگیے، یہ آنسو خوشی کے تھے کہ انہیں اپنے مکانوں کی تباہی وبربادی کے کوئی ایک سال بعد پھر سے مکان مل رہے تھے ۔ اور ان آنسوؤں کے پیچھے شکر گزاری کا ایک احساس بھی تھا کہ کوئی تو ہے جس نے ان کا خیال رکھا ، اور انہیں ان کی ذات اور مذہب کی بنیاد پر مکانات سے محروم نہیں رکھا ۔ مجھ سے بات کرتے ہوئے ان کی زبان سے صرف اتنا نکل سکا ’’ہم بہت خوش ہیں ، ہمیں یوں لگ رہا تھا جیسے اب کبھی ہمیں کوئی مکان نہیں مل سکے گا ، لیکن مولانا صاحب نے چابیاں دے کر ہمیں پھر سے ٹھکانے دے دیئے ہیں ، ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ ‘‘
میں نے مہاڈ میں جو نظارہ دیکھا وہ ایک سال پہلے کے نظارے کی ضد تھا۔ بارش کی تباہ کاری کے بعد ممبئی کے چند صحافیوں کے ساتھ جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی طرف سے مجھے مہاڈ اور اطراف کے گاوؤںمیں جانے کا موقع ملا تھا۔ تباہی وبربادی کے مناظردیکھ کرمیں نے خود سے سوال کیا تھا کہ کیا کبھی یہ خطہ پھر سے رواں دواں ہوسکے گا ، یہ مکانات پھر سے بن سکیں گے ، یہ سڑکیں کیا پھر سے پختہ ہوسکیں گی؟ جب شدید بارش سے ندی ابلنے لگی اور پانی چڑھنے لگا تب لوگ اپنے مکانوں کو اور اپنے مال ومتاع کو چھوڑ کر ، اپنے بچوں کے ساتھ محفوظ مقامات پر پہنچے تھے ۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر اور کوکن کی جمعیۃ نے ان کے لیے راحت رسانی کا کام شروع کیا تھا۔ دوسری جماعتیں اور تنظیمیں بھی تھیں ۔ سرکاری راحت رسانی بھی کی جارہی تھی۔ اس دفعہ جب پھر مہاڈ پہنچا تو دیکھا کہ تباہی وبربادی کے بس نشانات رہ گیے ہیں ۔ جمعیۃ نے مکانات کی تعمیر کا کام شروع کیا تھا، جنرل سکریٹری مولانا حلیم اللہ قاسمی نے اپنی ٹیم کے ساتھ مہاڈ میں پڑاؤ ڈال دیا تھا ۔ ساری جمعیۃ مولانا ارشد مدنی سے لے کر مولانا مستقیم احسن اعظمی اور گلزار اعظمی تک راحت رسانی کے کام میں جٹی تھی۔ لوگوں کو مکانات مل گیے ہیں ،مکانات پانے والوں نے تو شکریہ ادا ہی کیا ہے ، شیوسینا ، کانگریس اور این سی پی کے لیڈران کے سربھی شکر سے جھکے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کے دلوں کو جیتنے کا آسان نسخہ یہ ہے کہ پریشانی میں انہیں راحت پہنچانے کا کام کیا جائے ، ان کے چہروں پر مسکراہٹ لائی جائے ۔ جمعیۃ علماء یہ کام کررہی ہے ، اسے بڑے پیمانے پر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جو ’غیر‘ بنے ہوئے ہیں انہیں یہ احساس ہوسکے کہ ’غیر‘ بننا غلط ہے ، یہ سب تو اپنے ہیں ۔۔۔
Comments are closed.