حج ہاؤس کوچنگ منیجمنٹ کو سینئر اسٹوڈنٹ کے تئیں اپنا نظریہ بدلنا ہوگا
یو پی ایس سی مقابلہ جاتی امتحان پاس کرنے والی مویز عبدالکریم سے گفتگو
مشرف شمسی
حج ہاؤس آئی اے ایس کوچنگ میں مسلموں کے علاوہ کمزور طبقے کے غیر مسلم طالب علموں کے ساتھ ساتھ سینئر اسٹوڈنٹ کو بھی رہنے کا موقع دیا جائے تاکہ جو مسلم طالب علم یو پی ایس سی کی کوچنگ کرتے ہیں اُن کے درمیان آپس میں ایک دوسرے سے بہتر کرنے کے لیے سخت مقابلہ ہوگا اور ساتھ ہی اُن کی کارکردگی یو پی ایس سی مقابلہ جاتی امتحان میں بھی بہتر ہوگا ایسا کہنا ہے اس سال یو پی ایس سی مقابلہ جاتی امتحان میں 386 رینک حاصل کرنے والی میرا روڈ میں قیام پذیر مویز عبدالکریم ٹاک کا۔
مویز عبدالکریم ٹاک سے نمائندہ نے میرا روڈ کے قانون گو میں اُنکے گھر پر اُن سے ایک لمبی بات چیت کی ۔مویز نے کہا کہ اُنکے خاندان میں کوئی بھی سرکاری نوکری نہیں کرتا تھا اور نہ کرتے ہیں اسکے باوجود اُنکے والد عبدالکریم نے اسے یو پی ایس سی مقابلہ جاتی امتحان پاس کرنے کی ترغیب دیتے رہے ۔مویز کے والد عبدالکریم صاحب ممبئی ہائی کورٹ میں ایک پرائیویٹ ٹائپسٹ ہیں اور اپنے ٹائپسٹ کی کمائی سے تینوں بیٹیوں کو اعلی تعلیم دلانے میں کوئی کوتاہی نہیں برتے ۔مویز کی اسکولی تعلیم بھینڈر کے نیو کمبرجِ اسکول سے ہوئی جبکہ گریجویشن میرا روڈ کے رائل کالج سے پوری کی۔ اور پولٹیکل سائنس سے ایم اے ممبئی یونیورسٹی سے اُسنے کیا ۔مویز جب حج ہاؤس میں یو پی ایس سی کی تیاری کر رہی تھی تو اُنھیں اس بات کا پتہ چلا کہ یو پی ایس سی میں کامیاب ہونے کے لئے بہتر رہنمائی دلّی میں مل سکتی ہے تو اس نے ہمدرد فاؤنڈیشن میں انٹرنس امتحان دے کر وہاں داخلہ لیا لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ صرف وہاں چار مہینے رہ پائی۔گزشتہ ایک سال سے وہ jamia RC میں اپنے آپکو بہتر کرنے میں لگی ہوئی تھیں اور jamia میں رہتے ہوئے ہی مویز نے یو پی ایس سی مقابلہ جاتی امتحان پاس کیا ۔مویز نے بتایا کہ شروتی شرما جو اس سال یو پی ایس سی میں ٹاپ ہوئی ہیں وہ اُنکے ساتھ ہی jamia میں تیاری کر رہی تھی ۔اس سال Jamia RC سے کل 23 بچّے یو پی ایس سی میں کامیاب ہوئے ہیں ۔مویز نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ممبئی میں یو پی ایس سی مقابلہ جاتی امتحان کے لئے بہتر ماحول نہیں ہونے کے باوجود اُنکے والد اُنھیں یو پی ایس سی میں کامیابی کے لئے ہمیشہ حوصلھ افزائی کرتے رہے۔ایک روایتی مسلم گھر میں پیدا ہونے کے باوجود والد نے کبھی اُنھیں کسی چیز سے روکا نہیں۔ساتھ ہی پڑھائی اور مطالعہ میں کبھی کسی چیز کی کمی ہونے نہیں دی۔مویز نے کہا کہ jamia اسلئے بہترین ہے کہ وہاں سینئر اسٹوڈنٹ کے مطالعہ کرنے سے روکا نہیں جاتا ہے۔سینئر اسٹوڈنٹ کا مطلب پوچھنے پر مویز نے کہا کہ جو اسٹوڈنٹ پچھلی کوشش میں مینس پاس کیا ہو یا یو پی ایس سی پاس کر لیا ہو لیکن بہتر رینکنگ کے لیے اور کوشش کر رہے ہوں ایسے اسٹوڈنٹ کے رہنے سے نئے بچوں کو اُن سے اچھی رہنمائی مِلتی ہے ۔مویز نے کہا jamia میں اُنکے ساتھ ایک محبُلہ انصاری تھے وہ بہتر رینکنگ کے لئے jamia میں رہ رہے تھے اُن سے اُنھیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔مویز کی پہلی پسند آئی اے ایس تھی لیکن 386 رینک ملنے کی وجہ سے اسے آئی پی ایس کا کیدر مل پائے گا اسلئے وہ چاہتی ہیں ایک سال اور یو پی ایس سی کا امتحان دیں اور اپنی رینک بہتر کر اپنی خواہش کے مطابق آئی اے ایس کی نوکری حاصل کریں۔آئی اے ایس ہی کیوں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مویز نے کہا کہ آئی اے ایس بن کر سماج کے کمزور اور نچلے طبقے کی خدمت کر اُنھیں مضبوط بنا نے کی کوشش کروں گی۔
مویز نے بات چیت میں کہا کہ حج ہاؤس سینئر اسٹوڈنٹ کو ایک سال کے بعد نکلنے نہیں کہے بلکہ جو اسٹوڈنٹ مینس پاس کیا ہو یا بہتر رینکنگ کے لئے حج ہاؤس آئی اے ایس کوچنگ کرنا چاہتا ہو اُسے روم خالی کرنے نہیں کہا جانا چاہیے کیونکہ اُن اسٹوڈنٹ سے نئے اسٹوڈنٹ کو ترغیب بھی مِلتی ہے اور رہنمائی بھی۔مویز کا کہنا ہے کہ حج ہاؤس کوچنگ کو اگر کامیاب بنانا ہے تو منیجمنٹ کو اپنا نظریہ بدلنا ہوگا اور اسٹوڈنٹ کے تئیں زیادہ کو آپریٹیو ہونا پڑےگا۔
مویز کے والد عبدالکریم صاحب نے کہا کہ ہملوگ راجستھان کے پالی ضلع کے فالنا گاؤں کے رہنے والے ہیں ۔2004 میں ممبئی آئے اور ابھی تک کرائے کے گھر میں یہاں رہتے ہیں ۔اُنہونے کہا کہ قرض نکال کر گھر لے سکتے تھے لیکن پھر بچوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں بنا سکتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ وہ بھی یو پی ایس سی کا امتحان دے چکے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہوئے لیکن اُنھیں یہ امید تھی کہ بچّے اُنکی آرزو کو ضرور پورا کریں گی ۔بڑی لڑکی بھی یو پی ایس سی میں کامیابی کے لیے مسلسل کوشش کر رہی ہیں ۔اُنھیں امید ہے کہ اگلے سال وہ بھی کامیاب ہو جائیں گی ۔
مویز کی کامیابی سے اُنکے گھر کی جانب دیکھنے کا لوگوں کا نظریہ بدل چکا ہے ۔مویز نے صرف اپنے والد کا نام فخر سے اونچا نہیں کیا ہے بلکہ میرا روڈ میں رہنے والے لوگوں کا سر بھی اونچا کیا ہے ۔
مویز نے کہا کہ حج ہاؤس میں کمزور طبقے کے غیر مسلم بچّے کو بھی موقع دیا جائے تو اس سے حج ہاؤس کوچنگ کے مسلم بچوں کی کارکردگی بھی بہتر ہوگی۔مویز نے یو پی ایس سی پاس کر کے ابھی اکیڈمی جوائن نہیں کیا ہے لیکن اُنکی بات چیت اور شخصیت کافی متاثر کن تھی۔وہ ہر ایک سوال کا جواب کافی سوچ سمجھ کر دے رہی تھیں ۔ہندی اور انگریزی میں اُنھیں عبور حاصل ہے لیکن وہ اردو بھی جانتی ہیں ۔یو پی ایس سی میں کامیابی کے بعد اسے اور اس کے پورے گھر کو مبارک باد کے مسلسل فون موصول ہو رہے ہیں اور اُن کے مبارکباد کے پروگراموں کا بھی سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔ممبئی سے لے کر راجستھان تک ہر کوئی اس سے ملنا چاہتا ہے آخر اس نے وہ کر دکھایا ہے جسے کرنے میں اچھے اچھے کا پسینہ چھوٹ جاتا ہے ۔
Comments are closed.