کاش! ہم اپنے نبی کے امتی ہونے کا کچھ تو بھرم رکھ پاتے

ترنم پروین
بی اے اردو آنرس، نتیشور کالج، مظفرپور
آج کے زمانے میں لوگ رشتے کیا ہوتے ہیں بھول ہی گئے ہیں۔ بس جسے دیکھو اپنے مفاد کی تکمیل میں، پیسے جمع کرنے کی دھن میں لگا ہوا ہے گویا پیسہ اور ظاہری شان و شوکت ہی سب کچھ ہو۔آج کا نوجوان اس قدر مادیت گزیدہ ہو چکا ہے کہ دنیا والوں کو تو خیر جانے ہی دیجیے اسے اپنے والدین کی بھی فکر نہیں، وہی والدین جنہوں نے اسے اس قابل بنانے کے لیے نہ جانے کتنی قربانیاں دیں۔
معمولی معمولی باتوں پر لڑائی جھگڑا کرنا، رشتہ داروں اور دوستوں سے قطع تعلق کر لینا اب بالکل عام بات ہوئی گئی ہے۔ محبت ، خلوص، ایثار، قربانی جیسے الفاظ اپنی معنویت کھوتے جا رہے ہیں۔ ہماری اس اخلاقی گرواٹ کی وجہ دینی شعور کی کمی بھی ہے۔ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں، وہی نبی رحمت جنہوں نے محبت، خلوص، پیار، ایثار و قربانی، وفاشعاری، عفو و درگزر کی تعلیم دی لیکن اگر ہم اپنا جائزہ لیں تو کیا واقعی ہم ان کے امتی کہلانے کے لائق ہیں؟
آج ہم میں سے بیشتر لوگ رشتہ داروں سے قطع تعلق کیے بیٹھے ہیں جبکہ ہمارے نبی کا واضح فرمان ہے کہ ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ بات چیت بند رکھے۔
لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم سب کچھ جانتے بوجھتے بھی تعلیمات محمدی سے روگردانی کرتے ہیں اور اپنے بال بچوں کو بھی ایسا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اگر ہمارا تعلق اپنے کسی رشتہ دار سے خراب ہے تو ہم خود تو اس کے یہاں آنا جانا ختم کرتے ہی ہیں اپنے اہل خانہ اور بال بچوں کو بھی مجبور کرتے ہیں کہ وہ یہ قبیح فعل انجام دے۔
مال کی ضرورت سے زیادہ تمنا نے شاید ہمیں اس درجے تک پہنچا دیا ہے۔ یہاں میرے چند سوالات ہیں:
کیا انسان کے لئے پیسہ ہی سب کچھ ہوتا ہے ؟
کیا لوگ پیسے سے اپنے والدین کی محبت خرید سکتے ہیں؟
کیا لوگ پیسے سے اپنے بھائی کی محبت خرید سکتے ہیں ؟
یا لوگ پیسے سے اپنے لئے جنت میں گھر خرید سکتے ہیں؟
کیا لوگ پیسے سے اچھے اعمال خرید سکتے ہیں؟
اگر نہیں خرید سکتے مجھے تو پیسہ ہی سب کچھ کیوں ہیں؟؟
ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں، تقریروں میں سنتے ہیں کہ ہمارے نبی پاک کے پاس سونا چاندی نہیں تھے۔ مال کی فروانی نہیں تھی۔ وہ چاہتے تو دنیا بھر کی دولت ان کے قدموں میں ہوتی۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ مال جمع کرنے کو انہوں نے ناجائز قرار دیا لیکن انہوں نے عملی طور پر بتا دیا کہ ایک مسلمان کے نزدیک مال سے زیادہ اہمیت اس کے اخلاق و کردار کی ہوتی ہے۔ کاش کہ ہم اپنے نبی کے امتی ہونے کا کچھ تو بھرم رکھ پاتے۔

Comments are closed.