جناب محمد شریف قریشی-ایک چراغ تھا، گل ہو گیا

مولانا رضوان احمد ندوی
سب ایڈیٹر ہفت روزہ نقیب پٹنہ
امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے ترجمان ہفتہ وار نقیب کے مسودہ مضامین پر نظر ثانی،حذف واضافہ اور تنقیح وتسوید میں مصروف تھا کہ اچانک موبائل کی گھنٹی بجی، فون ریسیو کیا، ادھر سے ہمارے رفیق کار منیجر نقیب مولانامحمد اسعد اللہ قاسمی صاحب نے کہا کہ کچھ خبر ہے،۱۵؍جون ۲۰۲۲ء کی شب تقریباً ساڑھے نو بجے ہم سب کے محسن جناب محمد شریف قریشی صاحب رحلت فرما گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ اس اندوہناک خبر سے دل ودماغ پر سناٹا چھا گیا، ماضی کی باتیں اور یادیں تازہ ہونے لگیں، یقین مانئے کہ ان کی اچانک موت انسانی زندگی کے لئے یہ پیام ہے کہ زندگی کیا ہے ، محض ایک طائر جو شاخ پر بیٹھا اور چہچہاتا ہوا اڑ گیا، ان کی زندگی طوفانی ہنگاموں کی تو نہ تھی، لیکن تعمیری کاموں سے ضرور معمور رہی ، وہ بڑے خوش اخلاق ، خوش مذاق، اور خوش گفتار آدمی تھے، ادھر چند سالوں سے علالت کا سلسلہ چل رہا تھا، دوا وعلاج جاری تھا، مگر موت کا ایک وقت مقرر ہے، رب ذو الجلال کا حکم ہوا اور اپنے مالک جہاں سے جا ملے، ان کی نماز جنازہ مولانامحمد اسعد اللہ قاسمی صاحب نے پڑھائی اور پھرحاجی حرمین قبرستان پھلواری شریف ، پٹنہ میں ان کی تدفین ہوئی، اللہ ان کے اعمال حسنہ کے صلہ میں ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
چھپ گیا آفتاب شام ہوئی
اک مسافر کی رہ تمام ہوئی
جناب قریشی صاحب کی ولادت ۶؍جنوری ۱۹۴۶ء کوجھارکھنڈ کے گڑھوا میں ہوئی، ابتدائی تعلیم پانے کے بعد معیاری عصری تعلیم ڈالٹین گنج ، رانچی اور پٹنہ میں حاصل کی، حب تعلیم کا سلسلہ ختم ہوا تو سرکاری ملازمت سے وابستہ ہوئے اور بڑے نامی گرامی عہدوں پر فائز رہے، پہلے بہار گورنمنٹ کے کمر شیل ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ کمشنررہے، جب۲۰۰۴ء میں اس سے ریٹائر ہوئے تو ۲۰۰۵ء میںحکومتبہارکے پندرہ نکاتی پروگرام کمیٹی کے چیئرمین بنے، انہوں نے وکالت کی بھی ڈگری حاصل کر رکھی تھی، اس لئے وہ کبھی کبھی وکالت بھی کیا کرتے تھے، چونکہ انہیں لکھنے پڑھنے کا صاف ستھرا ذوق تھا اس لئے مضمون نگاری ، کالم نویسی، اور شعر وادب وسخن فہمی میں بھی طبع آزمائی کرتے رہے، چنانچہ ان کا ایک شعری مجموعہ ’’بیتے ہوئے لمحے‘‘ بھی منظر عام پر آیا، جس سے ان کے شعری ذوق کا اندازہ ہوتا ہے، ان کا کلام معیاری اور پرواز بلند ہوا کرتی تھی، ان کا ایک دوسرا بڑا علمی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ۲۰۱۸ء میں قریشی برادری کی تاریخ پر ایک دستاویزی کتاب مرتب کی جو ۲۰۱۹ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی، میرے مطالعہ سے یہ کتاب گذری ہے، اس میں انہوں نے دلائل وشواہد سے ثابت کیا ہے کہ ہندوستان میں قریشی برادری عربی النسل ہے، کچھ لوگ تجارت کی غرض سے یہاں آئے اور بود وباش اختیار کر لی اور چند اصحاب حملہ آوروں کی فوج کے ساتھ ہندوستان آئے اور کئی شہروں میں پھیل گئے ، ایک جگہ انہوں نے لکھا کہ محمد بن قاسم جب ۷۱۲ ء میں سندھ پر حملہ آور ہوے تو ان کی فوج میں زیادہ تر قریشی ہی شامل تھے، محمد بن قاسم خود بھی قریشی تھے، سندھ فتح کرنے کے بعد محمد بن قاسم لوٹ نہیں گئے بلکہ باضابطہ سندھ علاقے میں اپنی حکومت قائم کی اور نزدیک اور دور کے علاقوں کو فتح کیا، ان جگہوں پر بہت سے قریشی آباد ہوئے، پھر یہیں سے قریشیوں کی آبادی لاہور، کراچی، ہریانہ اور دہلی کے کئی علاقوں میں پھیلی(صفحہ ۱۷) اس کتاب میں انہوں نے قریشیوں کے بارے میں ایسی ایسی نایاب اور تاریخی باتیں لکھی ہیں جو اکثر عام لوگوں کی معلومات سے ماورا ہیں ، انہوں نے اپنی کاوشوں سے حقیقت واقعہ کو اجاگر کیا، اس لحاظ سے یہ کتاب نہیں بلکہ ایک دستاویز ہے جو ہندوستان کے ہر قریشیوں کے پاس رہنی چاہیے۔
یوں تو مرحوم سے اخباری بیانات کے ذریعہ غائبانہ تعارف تھا، لیکن بالمشافہ پہلی ملاقات ۱۹۹۷ء میں ہوئی اس ملاقات نے دل ودماغ پر ایک نقش چھوڑا، تعارف اور ملاقات کے بعض نقوش بہت جلد مٹ جاتے ہیں، بعض دیر سے اور کچھ نقوش انمٹ ہوتے ہیں قریشی صاحب سے ملاقات کا نقش نہ مٹنے ولاا نقش ثابت ہوا، جب وہ مستقل ملت کالونی سکتر ۳، پھلواری شریف پٹنہ میں قیام پذیر ہوئے تو میں ان دنوں ان کی رہائش کے سامنے ایک صاحب کے مکان میں کرایہ پر رہا کرتا تھا ،اس لئے اکثر ملاقاتیں ہوجا یا کرتی تھیں، جس سے روز بروز قلبی تعلق بڑھنے لگا، زمانہ تیزی سے گذرتا رہا ، لیکن تعلقات میں کبھی نا خوشگواری اور دوری پیدا نہیں ہوئی، بلکہ ان کے اخلاص اور محبت پر اعتماد بڑھتا رہا، عید کے مبارک موقعہ پر فون کرکے اپنی رہائش گاہ پر طلب فرماتے اور انواع واقسام کی لذیذ اور مرغوب غذاؤں سے خاطر ومدارات کرتے، خوش گپیاں ہوتیں،وہ گفتگو بہت شائستہ، نرم اور شریں انداز میں کیا کرتے تھے، گفتگو اس قدر پر لطف انداز میں کرتے کہ سننے والے کو اکتاہٹ نہ ہوتی، ویسے ان کی شخصیت بھی با وقار تھی، قد وقامت ، چہرہ وبشرہ سے متانت وسنجیدگی ظاہر ہوتی تھی، جن لوگوں نے ان کی زیارت کی ہے وہ اس بات کی شہادت دیں گے ، ان کی نجی زندگی بڑی پاکیزہ رہی ، صوم وصلوٰۃ کے بڑے پابند تھے، نفاست پسندی ایسی تھی کہ ہمیشہ سفید کرتا پائجامہ زیب تن کرتے جس سے ان کا وقار واعتبار دو بالا ہوجاتا تھا، گھر کا سودا سلف خود خریدتے تھے اور عمدہ ومعیاری سامان خریدتے ، اگر کسی سے کچھ کہنا ہوتا تو بر ملا اس کو کہہ دیتے تھے، بلا شبہ وہ بڑے رکھ رکھاؤ کے آدمی تھے، ملی اجتماعات میں بڑے شوق سے تشریف لے جاتے ، میٹنگوں میں بھی شریک ہوتے اور صائب رائے دیا کرتے تھے،اللہ تعالیٰ نے انہیںتین بیٹے اور چار بیٹیوں سے نوازا تھا، بلا شبہ وہ بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں کے آدمی تھے، ان کے وصال سے ملت ایک بڑے ہمدرد وغمگسار انسان سے محروم ہو گئی، اللہ تعالیٰ ان کے حسنات کو قبول فرمائے اور اعلیٰ علیین میں جگہ نصیب کرے۔ اورپس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق مرحمت فرمائے اور انہیں اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے اور ان کے مقصد زندگی کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا کرے۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔

Comments are closed.