صبر کے غلط مفہوم نے ملت کو بزدل بنا دیا ہے
سراج الدین ندویـؔ
چیرمین ملت اکیڈمی ،بجنور
9897334419
بھارت کے موجودہ حالات میں ہر منبر و محراب سے یہی آواز آرہی ہے کہ صبر کیا جائے۔صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے ۔ضرورت بھی اسی بات کی ہے کہ صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا جائے ۔لیکن صبر کا عام مفہوم برصغیر میں یہ ہے کہ جب ہم خود کو کمزور سمجھ کر کوئی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں ،جب ہم اخلاقی سطح پر اتنے گرگئے ہوں کہ کھڑے نہ ہوسکتے ہوں تو خاموشی سے چھپ کر اپنے گھرمیں بیٹھا جائے ۔معاف کیجیے یہ صبر کا مفہوم قطعاً نہیں ہے یہ بزدلی اور پست ہمتی کا مفہوم ہے ۔یہ جواں مردی کی علامت نہیں نامردوں کا طرز عمل ہے ۔صبر کے غلط مفہوم نے برصغیر کے مسلمانوں کو بزدل اور پست ہمت بنا دیا ہے ۔جس سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
صبر عربی زبان کا لفظ ہے ۔قرآن کی ایک جامع اصطلاح ہے ۔نبی اکرم ﷺ ، صحابہ اکرام ؓ اور صلحائے امت کا شیوہ ہے۔صبر کا مسافر مکہ کی گلیوں سے ہوتے ہوئے اور بدرو احد سے گذرتے ہوئے بھی اپنی سمت سفر تبدیل نہیں کرتا۔صبر کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ انسان پر جب کوئی مصیبت اورپریشانی آئے ،جب اسے آزمائشیں چاروں طرف سے گھیر لیں ،جب اسے لگے کہ زمین و آسمان اس پر تنگ ہوگئے ہیں تب بھی وہ اپنی جگہ قائم رہے ۔اس کے پائے استقامت میں لغزش نہ آئے ،اس کے ارادوں میں تزلزل محسوس بھی نہ ہو،وہ جس بات کو درست اور صحیح سمجھ رہا تھا ،جس کی وہ تبلیغ کررہا تھا،جس میں وہ ساری انسانیت کا مفاد دیکھ رہا تھا اگر اُس بات کے درست ہونے اور مبنی برحق ہونے پر اسے کامل یقین ہے تو اسے ہزار آندھیوں کے بیچ بھی سچائی اور حق پرستی کے چراغ کو جلائے رکھنا چاہئے۔اسے مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے مقصد کی جانب گامزن رہنا چاہئے۔اسے اعلان کردینا چاہئے کہ اگر میرے ایک ہاتھ پر سورج اور ایک ہاتھ پر چاند رکھ دیا جائے ،مجھے سارے زمانے کی دولت کی پیش کش کی جائے تب بھی میں اپنے موقف سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹوں گا۔صبر کا مطلب ہے کہ انسان ہوائوں کا رخ بدلنے سے اپنی سمت سفر نہ بدلے بلکہ ہوائوں کے خلاف اپنا سفر جاری رکھے ،یہ تو ہوسکتا ہے کہ اس کی رفتار سفر کچھ دھیمی پڑ جائے لیکن یہ ہر گز نہیں ہوسکتا اس کا قبلہ و کعبہ ہی بدل جائے۔
انسان پرعام طور پر دو قسم کی پریشانیاں آتی ہیں ۔ایک کا تعلق قدرتی آفات سے ہے مثال کے طور پر سیلاب کا آجانا ،زلزلہ کا آجانا،آسمانی بجلی کا شکار ہوجانا وغیرہ ۔دوسری قسم کی پریشانیاں اس کی اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی ہوتی ہیں ،یا سماج اور سوسائٹی کی طرف سے ملتی ہیں یا نظام وقت اس کے سامنے پریشانیاں کھڑی کردیتا ہے۔ہر قسم کی پریشانی میں صبر کا مظاہرہ کرنا ایمان کا تقاضا ہے ۔بے صبری کا اظہار فسق ومنافقت کی نشانی ہے۔قدرتی آفات کے موقع پر صبر یہ ہے کہ اللہ سے منھ نہ موڑا جائے ،اس کی شان میں گستاخی نہ کی جائے ۔جزع وفزع نہ کی جائے ۔بعض لوگ اس موقع پر خدا کو برا بھلا کہنا شروع کردیتے ہیں۔اللہ کی جانب سے آئی ہوئی اس مصیبت کو بقول عامر عثمانی ؒمرحوم اس جذبہ کے ساتھ برداشت کیا جائے :
آزمائشیں اے دل سخت ہی سہی لیکن
یہ نصیب کیا کم ہے کوئی آزماتا ہے
ایسے مواقع پر اپنے گناہوں کا جائزہ لیا جائے ۔توبہ و استغفار کیا جائے ،خدا کے دامن عافیت میں پناہ لی جائے ،اس کی جانب دوڑا جائے ،اسی کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھائے جائیں،اسی سے اپنے دکھ درد کہے جائیں اور بزبان مائل خیر آبادیؒ:
آپ نے درد دیا آپ کے پاس آئے ہیں
آپ فرمائیں کہاں درد کے مارے جائیں
اگر کوئی مصیبت حق کے اقرار کی وجہ سے آئی ہے ،سچائی بیان کردینے سے آئی ہے ،خواہ وہ امیر شہر کی طرف سے ہو یا نظام وقت کی جانب سے تو اس کا مقابلہ سینہ سپر ہوکرکیا جائے ۔حق کی تبلیغ و اشاعت کے نتیجے میں پریشانیاں ہر داعی کو آتی ہیں ۔یہ اس داعی کی خوش نصیبی ہے ،یہ اس کے پیغام کے حق ہونے کی دلیل ہے ۔ یہ پریشانیاں اور آزمائشیں اس کے حوصلوں کو مزید مہمیز کرتی ہیں۔یہ مومن کے لیے غذا کا کام کرتی ہیں اس لیے حالات کتنے بھی ناگفتہ بہ ہوں حق و صداقت کا راستہ نہ چھوڑا جائے ۔
صبر کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ عجلت پسندی کا مظاہرہ نہ کیا جائے ،انسان چونکہ عاجلہ پسند ہے اس لیے اپنی کوششوں کے نتائج بہت جلد دیکھنا چاہتا ہے ۔لیکن ایک صابر انسان انجام اور نتائج کو اللہ پر چھوڑتے ہوئے اپنا مشن جاری رکھتا ہے ۔اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ اس کا مشن ایک دن ضرور کامیاب ہوگا ۔صبر یہ بھی ہے کہ کسی کے اشتعال دلانے پر مشتعل نہ ہوا جائے ۔شیطان کی چالوں میں سے ایک چال یہ ہے کہ وہ نیک اور فعال انسانوں کو مشتعل کرکے اورغصہ دلا کر ٹکرائو کی صورت حال پیدا کردیتا ہے ۔ایسے حالات میں ایک مومن کی دوراندیشی یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد پر نظر رکھے ،وہ یہ دیکھ لے کہ اشتعال میں آنے سے اس کے قدموں میں کہیں لغزش تو نہیں آجائے گی ۔
صبر اندھیری رات میں مسلسل چراغ جلائے رکھنے کا نام ہے ۔صبر خدائے واحد پر یقین محکم کا نام ہے ،کیوں کہ وہی راستے نکالنے والا ہے۔صبر کرنا بڑے نصیب کی بات ہے ۔ملک کے موجودہ حالات میں صبر یہ ہے کہ امت مسلمہ اپنے دل سے شکست کا خوف نکال کر فتح پر یقین رکھے ،اس لیے کہ ہر رات کے بعد ایک صبح ہے ۔ظلم و جبر کے مقابلے پر حوصلہ دکھائے ،کیوں کہ یہی اس کے اسلاف کا ورثہ ہے ۔ملک کے آئین کا پاس و لحاظ کرے ،سارے لوگ بھی اگر آئین کے خلاف ہوجائیں تب بھی ایک مومن کو ملکی آئین پر عمل کرنا چاہئے یہی صبر ہے ۔ملکی قانون کی دھجیاں اڑا کر اپنے لیے اور اپنی قوم کے لیے مسائل پیدا نہ کرے ،اپنی آئینی جدو جہد جاری رکھے ،اپنے عمل اور کردار کا اس پہلو سے جائزہ لیتا رہے کہ اس کے قول و عمل میں تفاوت تو نہیں ہے ،اس لیے کہ یہ تفاوت اس کو منزل سے بہت دور کردیتا ہے ،دنیا اس شخص کی بات نہیں سنتی جس کی زبان کا ساتھ اس کا عمل نہ دے رہا ہو۔قرآن مجید میں ارشاد ہوا:
اور اس سے بہتر کس کی بات ہے جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور خود بھی اچھے کام کیے اور کہا بے شک میں بھی فرمانبرداروں میں سے ہوںاور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی، (برائی کا) دفعیہ اس بات سے کیجیے جو اچھی ہو پھر ناگہاں وہ شخص جو تیرے اور اس کے درمیان دشمنی تھی ایسا ہوگا گویا کہ وہ مخلص دوست ہے۔اور یہ بات نہیں دی جاتی مگر انہیں جو صابر ہوتے ہیں اور یہ بات نہیں دی جاتی مگر اس کو جو بڑا نصیب والا ہے۔(سورہ فصلت آیت ۳۳ تا ۳۵)
بھارتی مسلمانوں کو اللہ کے بندوں کی خدمت کے لیے پہلے سے زیادہ فعال ہوجانا چاہئے یہی صبر کا اصل مفھوم ہے ۔انسانوں کی ضروریات پوری کرنا،ان کے دکھ درد میں کام آنا ،زندگی کے صحیح راستے کی جانب ان کی رہنمائی کرنا ہی ان ناگفتہ بہ حالات کا علاج ہے ۔کوئی کام نہ کرنا ،حالات کی تبدیلی کے لیے کوئی کردار ادا نہ کرنا اور خاموش ہوکر بیٹھے رہنا اپنے ساتھ ہی نہیں صبر کے ساتھ بھی ظلم ہے۔
(مضمون نگار ماہر تعلیم،سینکڑوں کتابوں کے مصنف اور ملت اکیڈمی کے چیرمین ہیں)
Comments are closed.