مہاراشٹراکا اونٹ کس کروٹ بیٹھےگا دیکھتے رہیے

محمدطفیل ندوی
اس وقت ملک کاکوئی شعبہ اپنی سنجیدگی ومتانت میں نہیں ہے،ہرشعبہ میں ایک شوروہنگامہ برپا ہے ،ایک خوف ہے جو ہرایک کے دل ودماغ میں پیوست ہے ، ہرریاست کی اپوزیشن کمزورنظرآرہی ہے ، جہاں مشترکہ حکومت ہے وہاں خطرےکی گھنٹی بج رہی ہے ، جہاں مکمل ہے انہیں بھی ڈرہے کہ کب کون بغاوت کرجائے اسلئے انہیں بھی خوف کےسایہ میں رہناپڑتاہے ،اور ہندوستان کے وہ ادارے جن کانام سنتےہی سب کانپ جاتےہیں اور چہرےکی ہوائیاں حواس باختہ ہوجاتی ہے ،سی بی آئی، ای ڈی ودیگرتحقیقی ادارے کاخوف ہرایک کےپیچھےہیں ،جوبیباک ،نڈر اور اپنےکومضبوط ومستحکم کئے ہوئےہیں وہ اپنی لڑائی لڑرہےہیں جیل کی قیدوبندکی صعوبتیں جھیل کر کشمکش میں زندگی گذار رہےہیں چاہےوہ بہارکی مشہورومعروف شخصیت لالوپرسادہویا اترپردیش کے قدآورلیڈر اعظم خاں یاپھر مہارشٹراکےسابق وزیرنواب ملک جنہوں نےابھی تک اپنی لڑائی پوری مستعدی اور مستحکم ہوکر لڑی ،لیکن جن کوڈرہےاور ان تمام چیزوں سے صاف ستھراہوناہےتو وہ اپنی پارٹی تبدیل کرلے ،جس کی صاف وشفاف مثال دیکھنےکو کئی جگہ ملی، جنہوں نے اس خوف سے اپنی پارٹی کو دی ہوئی قربانی کے باوجودباغی ہوکرتبدیل کرلی ،یاپھرمعاملہ کو رفع دفع کرکے اپنی آواز پست کردی ،فی الوقت مہاراشٹراکی سرزمین سے جو چندروزقبل سیاسی ہنگامہ آرائی منظرعام پر آئی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے جوہنوز جاری ہے ،اونٹ کس کروٹ بیٹھےگا یہ ابھی کہنا ازمشکل ہے، مہاراشٹراکی تاریخ میں شاید یہ پہلاواقعہ ہے جس نے شیوسیناکےساتھ اس طرح کی دغابازی کی ہے اورشیوسیناکو کلی طورپر اس خاندان سے ختم کرنےکاعندیہ پیش کیاہے ،اس میں کوئی دورائےنہیں کہ شیوسینا جس کو بالاصاحب ٹھاکرے نے اپنی محنت ،جدوجہداورتمام تر قوت وبیباکی کیساتھ آج سے ۵۰؍سال قبل قائم کیاتھا اور مراٹھیوں کو ایک حق دلایا ،اپنی قوم کیلئے وہ ہمیشہ ہرحال میں بیباک ونڈررہے ،کبھی انہوں نے اپنےاوپر خوف کو غالب نہیں آنےدیااس میں کوئی دورائےنہیں کہ بالاصاحب ٹھاکرےکالہجہ سخت تھا ،وہ ہرمعاملات میں سختی کالہجہ اپناتے،خصوصاقوم مسلم کے سلسلےمیں،مسلمانوں کےوہ سخت دشمن سمجھےجاتےتھے،انہوںنے اپنے آپ کو سخت ہندوکہلوایا،بابری مسجدکی شہادت پر بےخوف ہوکر اپنی گفتگو پیش کی ،لیکن یہ بھی یادرکھنا ہوگا کہ ان کے کئی دوست مسلمان بھی تھے،انہوں نے کبھی انتخاب نہیں لڑااورنہ کبھی ایم ایل سی، نگرسیوک ،ایم ایل اےاورنہ ہی ا یم پی بنے مگر بڑےبڑے سیاسی سورماؤں کواپنے سامنے جھکاکےرکھا ، بڑےبڑےسورما ان کے پاؤں چھوکر کامیابی کی آشیروادلیاکرتےتھے اورمہارشٹرتوایسالگتاتھا جیسے ان کی اپنی ریاست نہیں بلکہ گھر ہو جیسے چاہے،جس طرح چاہےحکم نافذکردیں، ان کے اشارےکی دیرہوتی تھی ،ایک آوازپر پوارامہارشٹراسکتےمیں آجاتاتھا لیکن یہ بیباک وبےخوف لیڈر ۲۰۱۲ءکو اپنی آخری سانس لےکراس دنیاکوالوداع کہدیاجس کی آخری رسومات میں کئی لاکھوں کامجمع رہا ان کےجانےکےبعداس سیناکی باگ ڈوران کے بیٹےادھوصاحب ٹھاکرے کےہاتھ میں آئی ،اوراسی نہج پر پارٹی آگےبڑھتی رہی اس سیکشن سےقبل وہ بی جےپی کیساتھ حکومت میں رہی ، کئی ممبران وزیربھی رہےاور ایک دوچند راجیہ سبھاوممبرپارلیامنٹ میں بھی اپنی نمائندگی کی پھر ۲۰۱۹ءمیں وہ انتخاب میں کامیاب ہوئی اور بی جےپی کیساتھ شرائط طےنہ ہونےپر اس سے علیحدگی اختیارکرکے کانگریس واین سی پی کیساتھ مل کرحکومت بنانےمیں کامیاب ہوگئی جس کو’’ مہاوکاس اگھاڑی ‘‘کانام دیاگیا لیکن اگرصحیح طورپردیکھاجائے تو اسی وقت سے اس پر خطرےکی گھنٹی بجتی رہی ،کئی ایسے واقعات رونماہوئے جس سے اس حکومت کوگرانے اورکمزورکرنےکی کوشش کی گئی ،مزید نیوزچینل والوں نے اس کاپوراپوراحق اداکیااس میں مرچ مسالہ لگانےکیلئے فلمی اداکارہ کو بھی کودناپڑااورجس طریقےسے انہوںنےاپنالہجہ ایک وزیراعلی کیلئے استعمال کیا وہ بالکل نامناسب اور طریقۂ کارغلط تھا لیکن جس طریقےسے اشارےمل رہےتھے وہ صاف ظاہرکررہےتھے کہ اداکارہ اکیلی نہیں ہے کسی نے شفقت کاہاتھ سرپرضروررکھاہے ،ہاںدھوصاحب کیلئے یہ ضرورکہاجاسکتاہے کہ وہ اپنے والد بالاصاحب کےبالمقابل بہت نرمی کا راستہ اختیارکیا اوروہ جس طرح سے اپنی حکومت میں برادران وطن کیلئے تھےاسی طرح قوم مسلم کیلئے بھی تھے، اگرانہوں نے ان کی بات سنی تو قوم مسلم کی باتوں پربھی اپنی توجہ مبذول کی یہی وجہ ہےکہ جس وقت وبائی (کورونا )نے پوری دنیا کو اپنی خوفناکی میں لپیٹاتو اس میں ہماراملک عزیز ہندوستان بھی آیا پھر آہستہ آہستہ ملک کا ہرصوبہ متاثرہواجس میں مہاراشٹرابھی تھا لیکن وزیراعلی نے ذرہ ذرہ برابر تعصب کا رویہ نہیں رکھا جس جانب سے انہیں یادکیاگیا ان کیلئے وہ پیش پیش رہے اورہرایک کو ساتھ لےکر اپنی خدمات پیش کرتےرہےجس علاقے میں کھاناپانی اورضروریات زندگی کی ضرورت پیش آئی انہوں نے دیا چاہےوہ ہندوکاعلاقہ ہویاپھرمسلم کا جس کی بناپر انہیں چندبہترین وزیراعلی میں انتخاب کیاگیا نیز اس درمیان میں کئی ایسے واقعات بھی پیش آئیں جس سےحکومت کوبدنام کرنےکی کوشش کی گئی ،لیکن انہوں نے پوری مستعدی سے مقابلہ کرکے اس کاخاتمہ کیا ،کیایہ سب کرنا ہندتواکی فہرست سے باہرہے ،کیاہندتواکی تہذیب وثقافت میں نرم مزاجی، خیرخواہی ، دل جوئی، ایک دوسرے کی مدد،مصائب وتکالیف میں ایک دوسرےکاساتھ یہ سب شامل نہیں ہے؟ کیوں کہ جو لیڈران بغاوت کرکے یہاں سے راہ فرار اختیارکئے ہوئے ہیں ان کایہی الزام ہےکہ موجودہ شیوسینا ہندتواسے دوری اختیارکئے ہوئی ہے،کیا بی جے پی کیساتھ ہی حکومت بنانےمیں ہندتواہوگا باقی سب پارٹیا ں ہندتواسے الگ ہے ، مشترکہ حکومت کے قائدین بھی ہندوہی ہیں ، توانہیں کیاکہاجائے،اوراس سے زیادہ افسوس اس بات پر ہے اور انسانیت پرشرم بھی ہے کہ وہ باغی لیڈران اس مقام پر اپنےآپ کو خفیہ طورپرمحفوظ سمجھ رہےہیں جہاں کی عوام سیلاب آنےکی وجہ سے اپنے آپ کو بچانہیںپا رہی ہے ،جانی ومالی نقصان ہورہاہے ،زندگی وموت سے وہ جوجھ رہےہیں ،پانی میں گردن تک غرقاب ہوکر وہ اپنی لاشیں لےجانےپر مجبورہیں ،کھانےکےایک ایک دانے کوترس رہےہیں ،لیکن کیاکرے حکومت اپنی عیاشی میں ڈوبی ہوئی ہے ،کیاوہ ان سے معذرت کرکے وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ آپ برائےکرم دوسری جگہ تلاش لیجئے یہاں ہماری عوام خود پھنسی ہوئی ہے ،خیر کیاکہاجائے یہ سب پیسہ ،نشہ اورحکومت کاکھیل ہے ،وہاں بیٹھ کر عیش وعشرت کےنشہ میں ہندتوادکھاناکیایہ اصل ہندتواہے؟ایک دن میںلاکھوں روپیہ بےوجہ اڑانا یہ کوئی عقلمندی تونہیں ہے ،اگرآپ یہ سمجھتے ہےکہ قوم مسلم سے دشمنی ،ان کےخلاف سخت لہجہ،غربا ءومفلسین کے ٹھیلےکو پھینک دینا ، ان کی روزی روٹی پر لات مارنا ، انہیں ستانا اورپریشان کرنا اگریہ سب سچ ہندتواہے تو آپ کی بےوقوفی ہے ،اوریہ صرف عوام کیلئے ایک ڈھونگ ہے،خیرکئی ریاستوں میں اس طرح کاگھنوناواقعہ پیش آچکاہے ،دوسال قبل مدھیہ پردیش میں بھی ہواتھا اگرایسےہی چلتارہا تو پھر عوام الناس کاووٹ دینا کوئی معنی نہیں رکھتاکیوں کہ کامیابی اورناکامی یہ دونوں عوام الناس کے ووٹوں پرمنحصرہے اسلئے اگرکوئی پارٹی سے بغاوت کرتاہےتو صرف پارٹی ہی نہیں بلکہ اپنی عوام سے بھی بغاوت کررہاہے ،اب کچھ دنوں کاکھیل ہے ،فیصلہ تقریبا ہوجائیگا باغی لیڈران کوسپریم کورٹ سے راحت دی گئی ہے ،لیکن یہ سیاست ہے ،کس وقت کیاہوجائے کچھ نہیں کہاجاسکتا ،کیوں کہ رات میں وزیراعلی بن کر خوشی سے فوارہ ہونےوالاصبح ہوتےہی اس کے استعفی کااعلان ہوجاتاہے ،بس دیکھتےرہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتاہے ۔

جنرل سکریٹری ! امام الہندفاؤنڈیشن ممبئی

 

Comments are closed.