مجرم کی حمایت سے جرم کو فروغ ملتا ہے
محمد طاہر ندوی
امام و خطیب مسجد بلال ہلدی پوکھر
راجستھان کے ادے پور میں جو کچھ ہوا اس کا اسلام اور اہل اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملی تنظیموں ، جماعتوں اور اداروں کی جانب سے صاف لفظوں میں کہہ دیا گیا ہے کہ اس قتل کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ عمل ایک غیر اسلامی ، انسانیت سوز اور انسانیت کو شرم سار کر دینے والا عمل ہے۔ یہ ملک ایک جمہوری ملک ہے اور جمہوری ملک میں کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔
ادے پور میں جو کچھ ہوا وہ دل دہلا دینے والا ایک واقعہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اس معاملے کا ذمہ دار تنہا وہ دو نوجوان نہیں ہیں یا نپور شرما کو لے کر مسلم سماج کا جو غم و غصہ ہے وہ بھی ذمہ دار نہیں ہے بلکہ ہمارا پورا سسٹم اس قتل کا اصل ذمہ دار ہے۔ جس کی مکروہ پالیسیوں ، غلط اقدامات اور مجرم کو بر وقت سزا نہ دینا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرنا اور مجرم کی پشت پناہی کرنا ، ان کے لئے ریلیاں نکالنا ، ان کے استقبال میں پروگرام منعقد کرنا ، ان کی قانونی لڑائی لڑنے کے لئے چندہ جمع کرنا، انہیں اپنی نشست و برخاست میں شریک کرنا ، انہیں اپنی سیاسی پارٹی میں شامل کرنا ان سارے وجوہات کی بنا پر ادے پور کا انسانیت سوز معاملہ سامنے آیا ہے۔
ہمارے ملک میں ایسے بہت سے واقعات سامنے آئے جس میں مجرموں کی شناخت ہونے کے باوجود انہیں سزا نہیں دی گئی بلکہ ان کی حمایت کی گئی۔ خود راجستھان میں ایک ایسا ہی معاملہ پیش آ چکا ہے جس میں” شمبھو لال ریگر ” نے ایک مسلم کا قتل کیا اس کی لاش کو آگ کے حوالے کیا اور پھر اس کی ویڈیو بنا کر وائرل بھی کیا لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی ہے بلکہ ہندوتو وادی جماعتوں کی جانب سے اسے لوک سبھا کی ٹکٹ کا آفر دیا جاتا ہے، 6 دسمبر کو اسی قاتل کے اعزاز میں پروگرام رکھا جاتا ہے، ایک مجرم اور قاتل کی قانونی لڑائی لڑنے کے لئے چندہ جمع کیا جاتا ہے۔
2017 میں الور کے پہلو خان کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ جس میں پانچ مجرموں کو رہا کر کے دو پر مقدمہ چلایا جاتا ہے اور پولیس اس معاملے میں لیپا پوتی اور کیس سے متعلق ثبوتوں اور گواہوں کو مٹانے کی کوشش کرتے نظر آتی ہے۔
دادری کے محمد اخلاق کے کیس کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟ اٹھارہ لوگ گرفتار ہوتے ہیں جس میں سترہ مجرموں کو بیل پر رہا کر دیا جاتا ہے اور ان میں سے ایک؛ جس کی پولیس کسٹڈی میں موت ہو جاتی ہے اس کی لاش کو ترنگے میں لپیٹ کر پوری عزت و احترام کے ساتھ اس کے گھر والوں کے حوالے کیا جاتا ہے جیسے کسی شہید کی لاش ہو۔ کیا ایک قاتل اس عزت و احترام کا حق رکھتا ہے ؟ اسی کیس کا دوسرا مجرم روپیندر رانا جسے لوک سبھا الیکشن کی ٹکٹ دی جاتی ہے۔ ہمارا سسٹم ایک جانب تو مجرموں کی حمایت کرتا نظر آ رہا ہے اور دوسری جانب مقتولین اور ان کے متعلقین پر ناجائز مقدمات لگا کر انہیں ہراساں کر رہا ہے۔
پندرہ سالہ حافظ جنید کے مجرموں کے ساتھ کیا ہوا ؟ اس کیس میں 6 لوگوں کی گرفتاری ہوتی ہے پھر بعد میں انہیں رہا کر دیا جاتا ہے۔
ادے پور کا معاملہ گستاخ رسول نپور شرما سے متعلق ہے جس نے کھلے لفظوں میں ناموس رسالت کے خلاف بد زبانی کی تھی۔ پورا ملک اس کے خلاف آواز اٹھا رہا تھا۔ گرفتاری کی مانگیں ہو رہی تھیں۔ عالم اسلام سے بھی آوازیں اٹھ رہی تھیں۔ امریکہ و آسٹریلیا سمیت کئی یورپی ممالک نے بھی اس کے خلاف آوازیں بلند کیں لیکن حکومت اور حکومت کے اس بدبودار سسٹم نے کوئی توجہ نہیں دی صرف اپنی پارٹی سے برخاست کر دیا جبکہ اس کی گرفتاری ہونی چاہئے تھی۔ اس پر سخت سے سخت قوانین لگنے چاہئے تھے تاکہ دوبارہ کسی کو کسی بھی مذہب کے عظیم شخصیات کے خلاف بولنے کی جرأت نہ ہو ؛ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا بلکہ یک طرفہ مسلمانوں کی گرفتاری ہوتی ہے۔ ان کے گھروں کو بلڈوز کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں سرکار کو چاہئے تھا کہ وہ مسلمانوں کے غم و غصے کا سبب بننے والی اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والی نپور شرما پر کارروائی کرتے ہوئے اسے جیل کی سلاخوں میں ڈالتی تو شاید انسانیت کو شرم سار کرنے والا ادے پور کا یہ واقعہ پیش نہ آتا۔
جہاں مجرموں کی حمایت ہوتی ہے وہاں مجرموں کا جرم پروان چڑھتا ہے۔ اس کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور معاشرے پر جرم و زیادتی کا راج ہوتا ہے اور مظلوموں کا غم و غصہ اندر ہی اندر اسے جوالہ مکھی بنا کر پورے معاشرے کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔
Comments are closed.