اسلام میں ظلم کی گنجائش نہیں
نازش ہما قاسمی
مذہب اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس میں ظلم کی ذرہ برابر بھی گنجائش نہیں ہے، اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے کسی بے گناہ کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے، یہاں ظالم کی مخالفت اور مظلوم کی حمایت کا درس دیا جاتا ہے اور اسلام عوام و خواص کے ساتھ عدل و انصاف کے روا رکھنے کا قائل ہے. مذہب اسلام کی یہی خصوصیت اسے تمام ادیان و مذاہب سے ممتاز کرتی ہے. یہی وجہ ہے کہ ادے پور میں کنہیا لال درزی کا جو قتل ہوا ملک کے مسلمانوں نے یک زبان ہوکر اس کی مخالفت کی اور اس فعل کو سراسر غیر اسلامی قرار دیا۔ ملک کے اکثریتی طبقے کی روش کی طرح یہاں کسی مسلمان نے ان ظالموں کی حمایت میں نہ کوئی ترنگا جلوس نکالا اور نہ ہی کوئی احتجاج و مظاہرہ کیا کہ انہیں چھوڑا جائے؛ بلکہ تمام مسلمانوں نے سخت سے سخت سزا دئے جانے کا مطالبہ کیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اسی راجستھان کی سرزمین پر پانچ سال قبل شنبھو لال ریگر نامی دہشت گرد نے کولکاتہ کے رہنے والے مزدور افرازالحق کا بہیمانہ قتل کیا تھا اور اس قتل کو اس نے لائیو انجام دیا تھا وہ بھی اپنے چھوٹے سے بھتجے کے ہاتھ میں موبائل تھماکر، پھر قتل کے بعد افرازالحق کی لاش کو اس نے آگ کے حوالے کرتے ہوئے ملک کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا تھا کہ جو بھی لوجہاد کرے گا اس کا یہ انجام ہوگا۔۔۔اس قتل پر بھی ہنگامے ہوئے، ملک کے مسلمانوں نے صدائے احتجاج بلند کی اور مجرم شنبھو لال جیل رسید ہوا اور ضمانت پر رہا ہوکر باہر آگیا اس کے حامیوں نے اس کے استقبال میں ریلیاں نکالیں، جشن منایا اور یہاں تک کہ اسے ہندووں کا چہرہ بناکر پیش کیا اور الیکشن میں کھڑا کردیا گیا۔ جس طرح مسلمانوں نے کنہیا لال درزی کے قتل کی مذمت کی، سفاک شنبھو لال ریگر اور اس طرح دوسرے ماب لنچنگ کرنے والے قاتلوں کی مخالفت میں ملک کے اکثریتی طبقے کی طرف سے کچھ نہیں ہوا؛ بلکہ ان کی حمایت کی گئی، عدلیہ پر ترنگے کی جگہ بھگوا لہرایا گیا اور سوشل میڈیا اور عوامی مقامات پر کھلے عام نفرت انگیز نعرے لگائے گئے اور مارنے کاٹنے کی دھمکیاں دی گئیں؛ لیکن مسلمان صبر کرتا رہا، سہتا رہا اور خاموش رہا؛ لیکن بی جے پی کی گستاخ نوپور شرما نے تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے شان اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی کی جرات کی تو مسلمان سراپا احتجاج بن گئے، مسلمان اس گئے گزرے دور میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ادنٰی سے بھی ادنی گستاخی کو برداشت کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے ، برداشت کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ حکومت کی خاموشی اور مجرم کی پشت پناہی کرنے کی وجہ سے ملک میں کچھ جگہوں پر ناخوشگوار واقعات رونما ہوئے اور اس گستاخ کو انجام تک پہنچانے یعنی اس پر مقدمات قائم کرکے جیل تک پہنچانے کا ملک کے مسلمانوں نے مطالبہ کیا، ملک کے مسلمان تقریبا دس دن تک مختلف ریاستوں میں ایف آئی آر درج کراتے رہے، احتجاج کرتے رہے؛ لیکن بی جے پی اعلی کمان نے کوئی کارروائی نہیں کی؛ لیکن جیسے ہی یہ معاملہ عرب دنیا تک پہنچا آنا فانا اسے معطل کردیا اور یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ اس پر کارروائی کردی گئی ہے کیا یہی کارروائی ہے کہ ۲۰۱۸ کے ایک ٹوئٹ کی وجہ سے زبیر کو گرفتار کرلیا جاتا ہے اور نوپور کی بدزبانی اور اس کی بے لگامی کی وجہ سے ملک کی عالمی سطح پر بدنامی کی وجہ بننے پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی، اسی کی وجہ سے رانچی کے محمد مدثر اور ساحل شہید ہوگئے اور اسی کی وجہ سے ادے پور کے کنہیا لال کا قتل ہوا اسی کی وجہ سے سہارنپور سمیت یوپی کے سینکڑوں مسلمان جیل کے اندر ہیں اور اسی کی وجہ سے طلبہ لیڈر آفرین فاطمہ کا گھر بلڈوزر ٹیررازم کا شکار ہوا۔ اگر اس ایک نوپور شرما پر کارروائی کردی گئی ہوتی تو ملک کا جو منظر نامہ ہے ابھی ویسا نہیں ہوتا۔ اگر ماب لنچنگ کے پہلے شکار دارری کے اخلاق کے قاتلوں پر کارروائی کی جاتی تو ملک میں اتنی نفرت عروج پر نہیں ہوتی اور ہندو مسلم میں جو آپسی خلیج ہے وہ بھی اتنی گہری نہیں ہوتی. آج ہر ایک کے دماغ میں نفرت بھرچکی ہے اور ایک دوسرے کی جان لینے کے درپے ہیں کیا اسی نفرت اور ہنسا والے ملک کا خواب مہاتما نے دیکھا؟۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔ اس نفرت اور ہنسا والے ملک کا خواب گوڈسے نے دیکھا تھا اور اسی گوڈسے کے حامی ملک کو جہنم کی طرف دھکیل رہے ہیں ان کی فطرت میں ظالم کی حمایت اور مظلوم کی مخالفت کرنا ہے اور جب تک یہ نفرتی ٹولہ ملک میں رہے گا پیارا ہندوستان اسی طرح سلگتا اور جلتا رہے گا۔۔۔۔اللہ ملک کی حفاظت فرمائے اور ملک کے باشندوں کو امن و سکون سے رکھے۔
Comments are closed.