عشرہ ذی الحجہ اور اسکا منصفانہ توازن و اعتدال: قابل فخر و اتباع

 

 

از: ڈاکٹر آصف لئیق ندوی

عربی لیکچرار،مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد

موبائل: 8801589585

 

            اسلام ایک فطری مذہب اور عدالت و صداقت پر مبنی انسانوں کے واسطے قدرت کی طرف سے آخری نازل کردہ نظام حیات اور ربانی دستورہے، جس کے نظم و نسق میں بڑی حکمت وتدبیر اور اس پرعمل و پیروی میں پوری انسانیت کیلئے بڑی خیرو بھلائی پوشیدہ ہے، اس میں دنیائے انسانیت کیلئے کامیابی وکامرانی کے اسرار و رموز پنہاں ہیں، کائنات کا کوئی بھی مسئلہ یا معاملہ ہو،خالق کائنات نے ہر چیز کانظام ومیزان مقرر کردیا ہے،خواہ وہ دحج و قربانی کا اسلامی اور دینی نظام ہو یا عشرہ ذی الحجہ کی عظمت و معنویت کا عمومی فرمان ہو، سارے نظام و فرمان میں مکمل عدل و انصاف اور دینی واخلاقی مساوات کی تعلیم مخفی ہے، اسکے ہر حکم وعمل میں توازن واعتدال کا دلکش منظر جھلکتا ہے، اس کے ہرامر سے حکمت اورشائستگی ٹپکتی ہے، فضائل و اعمال میں مساوات کا جاذب نظر پہلو نظر آتا ہے، حکام ہو کہ رؤساء، امراء ہو کہ فقراء دونوں کے لیے انصاف کا پیمانہ اور قانون کاپلرہ بالکل برابر ہے اور انسانوں کو اسی بات کا مکلف بنا یا گیا ہے،جسکی ادائیگی اور اس سے اجتناب کی وہ قدرت و طاقت رکھتا ہے، شکل و صورت اور عہدہ و منصب کے اعتبار سے مذہب اسلام میں کوئی بھی فیصلہ مقررنہیں کیا گیا ہے، اسمیں امیر وغریب، حاکم و محکوم، گورے وکالے، عربی و عجمی، حکمراں و بادشاہ اور کمزور وطاقتور سب برابر ہیں، اسمیں کسی فرق وامتیاز کویکسر مٹا دیا گیاہے، قوانین الہیہ اور فرامین نبویہ کی روشنی میں عادلانہ اورمنصفانہ قوانین و احکام وضع کردیے گئے ہیں، بے سلیقگی کے احکامات وقوانین سے یہ مذہب بالکل پاک وصاف ہے،یہاں کسی کو کسی کا حق جبرا غصب کرنے کی اجازت نہیں ہے! کوئی کسی پر بے جا ظلم و زیادتی بھی نہیں کرسکتا!اور نہ ہی کسی کوکسی کا ناحق خون بہانے کااختیار حاصل ہے! قدرت کے قوانین و احکامات سے چھیڑ چھاڑکرنے والا خدا کی نظر میں بڑامجرم،فسادی اور باغی تصور کیا جاتاہے،کیونکہ یہ کسی تنظیم یا پارٹی کا وضع کردہ دستوروآئین نہیں ہے کہ اسکو چور دروازے سے بدلنے کی کوشش کی جائے، یہاں تحریف وتبدیلی کے سارے دروازے مقفل ہیں، اسی لئے اسکو دین فطرت اور نظام الہی کہا جاتا ہے، اسطرح یہ دین فطرت ہمارے دلوں سے نفرت و عداوت، بھید بھاؤ اور اونچ نیچ کے فرق کو کھرچ کھرچ کر مٹاتا ہے اور شارح شریعت نے حجۃالوداع کے موقع پر جاہلیت کے تمام برائیوں  اور برے اخلاق و اطوار کو اپنے پیروں تلے روندکر امت کیلئے دین حنیف کا پیغام مکمل کردیا اور دنیائے انسانیت کے لیے اس دین کو پسندیدہ دین اور تقویٰ و پرہیزگاری کوانسانی  معیار اور تفوق وبرتری کا اصل میزان قرار دیا اور قیامت تک کے لوگوں کے لیے اس حکیمانہ ارشادسے ذات پات،نفرت وعداوت اور بھید بھاؤ کاعنصر مٹا دیاگیا اوربتا دیا کہ ”لا فرق بین عربی ولا أعجمی ولاأبیض ولا أسود إلابالتقوی” ترجمہ: عربی اور عجمی، کالے اور گورے کے درمیان تقوی اور پرہیز گاری کے سوا کوئی فرق نہیں قائم رکھا گیا اور قرآن کریم نے اس بات پر مہر ثبت کردی ہے کہ ”ان أکرمکم عند اللہ أتقاکم” ترجمہ: اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے معزز وہ شخص ہے جو زیادہ متقی اور پرہیزگار ہے۔

 

            غرض کہ اللہ اور اس کے رسول پر کامل ایمان و اعتقاد، ان کی اطاعت و فرمانبرداری کو دنیوی و اخروی کامیابی و کامرانی کا زینہ قرار دیا گیا، قرآن و حدیث کے احکامات واوامر اور ارشادات و فرمودات کی پابندی اور مواظبت کو تقوی کے عناصر اور منکرات و نواہی سے مکمل اجتناب کو انسانیت کی شرافت وکرامت کا ذریعہ بتایا گیا اور نیکی و خوبی اور رشد وہدایت کی راہ کو انسانی معراج قراردیا گیا اور رہتی دنیا تک کے لوگوں کی فلاح و کامیابی اور بلندی و برتری کو ان کے نیک اعمال و اخلاق میں منحصر کر دیا گیا۔ اور مخصوص ایام واوقات میں اللہ کی عبادت و ریاضت کے ذریعے انکی رحمت و عنایت اور بخشش ومغفرت کے حصول کا طریقہ بھی بتا دیا گیا تاکہ کسی کو اس کے توازن اعتدال و انصاف اور پیمانہ ئمساوات میں کوئی اشکال باقی نہ رہ سکے اور امیر کو غریب پر، حاکم کو رعایا پر، گورے کو کالے پر، عربی کو عجمی پر، حاجی کو غیر حاجی پر فوقیت اور فرق مراتب میں کسی قسم کا سوئے ظن بھی پیدانہ ہوسکے اور کوئی بھی کبھی احساس کمتری کے شکار میں مبتلا نہ ہو سکے۔ اسی لیے اسلام نے نماز پنجگانہ کی جماعت کی صف بندی میں بھی اس بات کی تعلیم دی ہے اور بادشاہ و گدا کو ایک ہی صف میں ٹھہرا کرانسانی مساوات کا جوعظیم درس دیا گیا، مذہب اسلام اس سلسلے میں تمام ادیان کے درمیان اپنا قائدانہ اور مربیانہ پیغام رکھتا ہے، جو سب کے لئے قابل تقلید اورلائق  اتباع وماڈل ہے اور کسی کو بھی مذہبی اور نسلی بھید بھاؤ سے کام لینے کا بالکل اختیار نہیں دیا گیا، بلکہ ان جاہلی اوہام و خیالات کو انسانی ذہن و دماغ میں فروغ پانے کو بھی ممنوع و محظور قراردیا گیا اورایسی چیزوں کو جاہلیت کا طور وطریق گردانا گیا۔ قربان جائیے! اسلام کے ہر ہر حکم و فیصلے پر جو فطرت انسانی سے بالکل ہم آہنگ اوراسکے موافق ہے، ہر فردوبشر کیلئے دنیوی و اخروی زندگی میں خوشحالی اورنیک بختی کا ذریعہ ہے بلکہ نجات دہندہ ہے۔ نماز میں صف بندی کے اعلی نظام عدل و انصاف کو دیکھتے ہوئے شاعر مشرق علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے بڑے ہی اچھے انداز میں اسلام کے عدل و انصاف کی ترجمانی کی ہے کہ

 

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

 

نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز!!!!!!!

 

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے!!!!

 

تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے!!!

 

            اسی طرح اسلام نے حج کی استطاعت رکھنے اور غیرمستطیع افراد کے درمیان نیکیوں کے حصول میں توازن و اعتدال کو برقرار رکھنے کی جو حکیمانہ اور عادلانہ تدبیر و حکمت بتائی ہے جن سے کسی غریب و مجبور شخص کوسعادت ونیک بختی کے حصول میں کسی تفاوت اورکمی و بیشی کاکوئی گلہ و شکوہ نہ ہوسکے، اگر کسی خوش قسمت اور صاحب استطاعت مسلمانوں کو حج کی سعادت اور بابرکت فریضہ کی ادائیگی کی توفیق نصیب ہوگئی! وہ اپنے حج مبرور اور عشق ومحبت سے بھری قربانیوں کے ذریعے اپنے رب کی رضا حاصل کر لے! اپنے سابقہ تمام معاصی سے معافی حاصل کرلے! تمام کبائر گناہوں سے توبہ و استغفار کرلے اور باقی ماندہ زندگی کو تقرب الہی، عشق و محبت، اخلاص وبندگی، تسلیم و رضا، اور قربانی و رضا جوئی والی زندگی گزارنے کا اپنے رب سے معا ہدہ کرلے اور اطاعت و تابعداری کیساتھ جینا سیکھ لے اور نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین کی زندگی کے سانچے میں ڈھل جانے کا عزم مصمم کر لے!!حج کایہی مقصد و اورمرادہے۔حج پر جانے والے تمام حضرات و خواتین کو اللہ اس بات کی توفیق عطا فرمائے۔ 

 

تو وہیں غیر مستطیع افراد اور خدا ترس بندوں کے درجات میں تفاوت اور ادنی محرومی کا گلہ نہ رہ سکے، وہ بھی نیکیاں بٹورنے میں کسی حاجی سے پیچھے نہ رہ سکیں، اسلام نے عدل وانصاف کا جونسخہ پیش کیا اورنبوی فرمان نے اس پر مہر ثبت کردی اور ذو الحجہ کے دس دنوں کے اعمال کو پورے سال میں افضل ترین اعمال کا درجہ دے دیا گیا اور اسمیں کیے گیے ہر نیکی وبھلائی کو جہاد فی سبیل اللہ کے مساوی قراردے دیا گیا تاکہ امیر وغریب، حاجی و غیر حاجی، اولیاء اور موالی کے درمیان ظاہری ومعنوی دوریوں کو یکسر مٹادیا جائے اور محبوب اعمال کاجو گلدستہ اورذخیرہ خدا ترس حاجی بندوں اور متقی لوگوں کی جھولیوں میں آسکے وہ غیر حاجیوں کے حق میں بھی پورا پورا آسکے اور اللہ کا کوئی خاص اور عام بندہ ان ایام کی بشارت وخوشخبری اور رحمت ومغفرت کے پروانے سے محروم نہ رہ سکے، عشرہ ذی الحجہ کے اعمال کو سال کا سب سے پسندیدہ اور رب کے نزدیک سب سے محبوب عمل بتا کر حج اور قربانی کے اجر وثواب میں مساوی اخلاق واعمال کیطرف تمام بندوں کو ترغیب دلانا مقصود ہے جو عین نبوی منشا اور خدائی نظام کے تحت ہے تاکہ اسطرح ثواب میں بھی برابری کا عنصر باقی رہے اور عشرہ ذی الحجہ کی بابرکت چیزوں اور اسکی عظمت و اہمیت میں دنیا کے تمام امیر وغریب مسلمان برابر کے حقدارہوسکیں اور کسی کو اس بات کا ادراک و احساس بھی نہ ہوسکے کہ وہ حج کرکے منشأ خداوندی اور تقرب الہی کے حصول میں غیر مستطیع افراد سے فوقیت لے گئے  اور ہم حج نہ کر کے ان سے نیکیوں میں پیچھے رہ گئے، نیکی و بھلائی کے حصول کے اس سسٹم کومتعارف کراکراللہ نے ہرفرد کو جو جہاں ہے بہترین موقع فراہم کرایا گیاتاکہ عازمین و غیر عازمین حج میں تفاوت درجات اور نیکیوں میں کمی و زیادتی کا کسی کو احساس بھی نہ ہوسکے۔۔۔کتنے ایسے بندے ہیں جن کے اعمال کو ریاکاری اور دکھاوے کیوجہ سے دھتکار دیا جاتا ہے!اور کتنے ایسے مفلوک الحال لوگ ہیں جو بڑے بڑے مالداروں اور بادشاہوں سے نیکیوں میں سبقت لے جاتے ہیں۔۔ کاش! اللہ ہم سب کواسلامی عدل وانصاف سے بھرپور فائدہ اٹھانے والابنائے اور دین کی صحیح سمجھ نصیب فرمائے تاکہ ہم بھی حصول درجات میں کسی حاجی اور خوش نصیب بندوں سے پیچھے نہ رہ سکیں۔ ورنہ شاعر کے بقول۔۔۔۔۔۔اب تو ہی نہ چاہے تو بہانے ہزار ہیں۔

 

عشرہ ذی الحجہ میں نیک اعمال کی اہمیت ومعنویت:

 

             رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشرہ ذی الحجہ کی اہمیت و معنویت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا: کہ کسی بھی دن میں کیا ہوا عمل اللہ تعالی کو ان دس دن میں کیے ہوئے عمل سے زیادہ محبوب نہیں ہے، صحابہ نے پوچھا! اے اللہ کے رسول۔ جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟! آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں! مگر وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلے اور کچھ واپس لے کر نہ لوٹے۔ (سنن ابی داؤد 2438)۔(تشریح: یعنی ایسے شہید شخص کا مرتبہ بہرحال اونچا رہے گا جو اللہ کے راستے میں اپنی جان و مال کیساتھ شہید ہو گئے، اجر و ثواب میں کوئی انکا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ایسے خداترس شہیدوں کے جذبات واحساسات کو ہرحال میں سب پر فوقیت حاصل رہے گی اور انکا درجہ سب سے فائق رہے گا۔ بلکہ وہ زندہ شخص کی مانند رہے گا جسکو اللہ قیامت تک رزق پہنچاتا رہے گا)۔مسند احمد میں عشرہ ذی الحجہ کے ایام کی عظمت و رفعت اسطرح مذکور ہے: کہ کوئی دن اللہ تعالی کے ہاں ان دس دنوں سے عظمت والا نہیں اور نہ ہی کسی دن کا عمل اللہ کو ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہے، پس تم ان دس دنوں میں کثرت سے تہلیل: یعنی لاالہ الا اللہ، تکبیر: یعنی اللہ اکبر اور تحمید: یعنی الحمد للہ کہو۔ (مسند احمد: 5446)

 

حج کے ذریعہ سے گذشتہ گناہوں کا کفارہ:

 

            رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الحج یھدم ما کان قبلہ، حج گذشتہ سارے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، (صحیح مسلم: 321).حج مبرور اور اسکے مناسک کی سعادت و برکت سے کسی کو انکار نہیں، حج اسلامی رکن ہے جو صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے، حج کے بڑے فضائل و مسائل ہیں، اسکی وجہ سے بندہ اپنے سابقہ گناہوں سے ایسا ہی دھل جاتا ہے، جیسا کہ اس کی ماں نے اس کو آج ہی پیدا کیا ہو!! اللہ تعالی ہم سبھوں کو حج مبرورکی توفیق خاص نصیب فرمائے اور اسکے لئے وسائل و ذرائع بھی مہیا فرمائے۔آمین

 

عشرہ ذی الحجہ میں روزہ کی اہمیت:

 

            حدیث میں مذکور ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشرہ ذی الحجہ کے میں پابندی سے نو دنوں کا روزہ رکھتے تھے اور بالخصوص عرفہ کے دن سب کو روزہ رکھنے کی تاکید فرماتے تھے۔ 9 ذی الحجہ کے ایک روزہ کی حدیث میں اتنی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے کہ ہر مسلمان روزہ رکھنے کے لئے بے تاب ہو جائے۔ یوم عرفہ کا روزہ گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صیام یوم عرفۃ أحتسب علی اللہ أن یکفر السنۃ التی قبلہ والسنۃ التی بعدہ.ترجمہ: مجھے امید ہے کہ عرفہ کے دن یعنی نو ذی الحجہ کا روزہ ایک گزشتہ اور ایک آئندہ سال کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے. (صحیح مسلم 2746)۔ اللہ ہمیں بھی روزہ رکھنے کی خاص توفیق بخشے۔ ۹ذوالحجہ کا بالخصوص روزہ رکھیں۔ جہاں تک ممکن ہوسکے زیادہ سے زیادہ نفلی روزے رکھیں۔

 

قربانی کی فضیلت و اہمیت:

 

            یوم النحر یعنی قربانی کے دن اللہ کے واسطے خون بہانے سے زیادہ اسکو کو کوئی چیز محبوب نہیں! خون کا ایک قطرہ زمین پر گرتے ہی صدق دل سے کی جانے والی ہر قربانی کو اللہ قبول فرما لیتاہے اور جانوروں کے بالوں کے عوض بندوں کوبے حد و حساب نیکیاں عطا فرماتا ہے۔سورہ حج میں اللہ کا فرمان ہے جسکا ترجمہ ہے:۔”اور ہم نے تمہارے لیے قربانی کے اُونٹوں کو عبادتِ اِلٰہی کی نشانی اور یادگار مقرر کیا ہے، ان میں تمہارے لیے اور بھی فائدے ہیں، سو تم اُن کو نحر کرتے وقت قطار میں کھڑا کرکے اُن پر اللہ کا نام لیا کرو اور پھر جب وہ اپنے پہلو پر گر پڑیں، تو اُن کے گوشت میں سے تم خود بھی کھانا چاہو تو کھاؤ اور فقیرومسکین کو بھی کھلاؤ، خواہ وہ صبر سے بیٹھنے والا ہو یا سوال کرتا پھررہا ہو، جس طرح ہم نے اِن جانوروں کی قربانی کا حال بیان کیا، اِسی طرح اُن کو تمہارا تابعدار بنایا، تاکہ تم شکر بجالاؤ، اللہ تعالیٰ کے پاس ان قربانیوں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا، بلکہ اس کے پاس تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے، اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے لیے اِس طرح مسخر کردِیا ہے، تاکہ تم اس احسان پر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کرو کہ اس نے تم کو قربانی کی صحیح راہ بتائی، اور اے پیغمبر!مخلصین کو خوش خبری سنا دیجیے“۔(سورہ الحج:36-37)

 

            سورہ حج ہی میں دوسرے مقام پر اسے شعائر اللہ میں سے قرار دیتے ہوئے اس کی عظمت بتائی گئی اور قربانی کی تعظیم کو دل میں پائے جانے والے تقویٰ خداوندی کا مظہر قرار دیا ہے۔قرآن کا فرمان ہے،”وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآءِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ“۔(سورہ حج: 32)۔ترجمہ:”اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور یادگاروں کا پورا احترام قائم رکھے تو ان شعائر کا یہ احترام دلوں کی پرہیزگاری سے ہوا کرتا ہے“۔

 

ذوالحجہ کی تکبیرات  کا خوب  اہتمام کریں:

 

            صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما ان دس دنوں میں بازار کی طرف نکل جاتے اور لوگ ان کی تکبیر سن کر تکبیر کہتے اور محمد بن علی رضی اللہ عنہ نفل نمازوں کے بعد بھی تکبیر کہتے تھے،دو طرح کی تکبیرات کے کلمات احادیث میں مذکور ہیں، آپ حضرات ان میں سے جو چاہیں ان دس دنوں میں خوب پڑھیں اور نویں ذی الحجہ کے فجر سے تیرہویں ذی الحجہ کے عصر تک ہر فرض نماز کے بعد بآواز بلند پڑھیں، عورتیں بھی اسکا اہتمام کریں۔ (1) اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر وللہ الحمد.ترجمہ: سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ ہی کے لیے سب تعریف ہے۔ (مصنف ابن شیبہ 5,694. فتح الباری).(2)اللہ أکبر کبیرا والحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃً و اصیلاً (صحیح مسلم)

 

عشرہ ذی الحجہ میں کئے جانے والے اعمال کا سرسری جائزہ:

 

            غرض کے عشرہ ذی الحجہ میں نیکی کے کام کی مقدار میں ہمیں دوگنا کردینا چاہئے اور ان دس دنوں میں نیک اعمال میں خوب مداومت کرنی چاہئے۔ مختصرا ان اعمال کی طرف ہم قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ جن کا ہمیں بالخصوص ان دں وں میں اہتمام کرنا چاہئے۔ راقم السطور کو بھی اللہ اس بات کی توفیق بخشے اور قارئین کرام سے بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنے کی درخواست ہے۔

 

عشرہ ذی الحجہ میں کئے جانے والے نیک کام:

 

            پنجگانہ نماز اور نوافل کا خوب اہتمام کریں: اول وقت میں نماز ادا کریں۔ نمازخشوع و خضوع کے ساتھ ادا کریں۔ ہر رکعت میں مختلف سورتیں پڑھیں۔ اشراق و چاشت کی نوافل پڑھیں۔ تہجد میں طویل قرأت کریں. مرد حضرات جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں.

 

عید و قربانی کے اعمال:

 

             قربانی تک ناخن اور بال نہ کاٹیں۔ عید کے دن کی سنتوں پر عمل کریں۔ عید کی نماز کا اہتمام کریں۔ عزیز و اقارب سے ملاقات کریں۔ اخلاص نیت سے قربانی کریں۔ قربانی کا گوشت کھائیں اور دوسروں کو بھی کھلائیں اور باٹیں۔

 

قرآن مجید کی تلاوت و تفسیر کریں:

 

            قرآن مجید کی بکثرت تلاوت کریں۔ مختلف قراء کی تلاوت کو سننیں۔قرآن کی سورتیں حفظ کریں۔ حفظ قرآن کو دہرائیں اور اسے تازہ کریں۔قرآن مجید کا ترجمہ و تفسیر پڑھیں یا اسے سننے کا اہتمام کریں۔اسکے معنی پر خوب غور و فکر کریں۔ دوسروں تک قرآن کا پیغام پہنچائیں۔

 

خوب صدقہ و خیرات کا اہتمام کریں:

 

            زکوۃ و صدقات کی ادائیگی کا اہتمام کریں۔ زائد از ضرورت چیزیں صدقہ کریں۔کوئی پسندیدہ ترین چیز اللہ کی راہ میں پیش کریں۔ والدین، بیوی، بچوں اور عزیز و اقارب پر خرچ کریں۔

 

ذکر و دعا میں کثرت پیدا کریں:

 

             تہلیل، تکبیر اور تحمید کا اہتمام کریں۔ صبح و شام کے اذکار میں پابندی کریں۔ استغفار اور ذکر کی کثرت کریں۔ درود شریف کثرت سے پڑھیں.مقبول اوقات میں دعائیں مانگیں. خصوصا عرفہ کے دن انکا اہتمام فرمائیں۔قرآنی دعائیں اورنبوی اذکار یاد کریں۔

 

خدمت خلق کے لئے کرنے والے کام:

 

             رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کریں. پڑوسیوں کی خبر گیری کریں۔ ضرورت مندوں کی مدد کریں.دین کی تعلیم و تبلیغ میں حصہ لیں. اجتماعی بھلائی کے کاموں میں رضاکارانہ خدمت انجام دیں۔

 

متفرق اعمال کا اہتمام کریں:

 

             نیکی کا کوئی موقع ضائع اور برباد نہ کریں۔ موبائل کے منفیات میں اپنا وقت ضائع نہ کریں۔بے مقصد کاموں اور باتوں سے پرہیز کریں۔ گناہوں اور نواہی سے خوب بچیں۔ اچھی کتابوں کا مطالعہ کریں۔ مفید کتب و مضامین لکھیں اور اسکی کاپیاں سوشل میڈیا کے ذریعے خوب تقسیم کریں۔

 

             اللہ ہم سب کوحج مبرور کی توفیق عطافرمائے اورغیر مستطیع افراد کو جزائے خیر عطا فرمائے اور تمام قارئین بشمول راقم السطور کو ان اوصاف و صفات کا جامع وحامل بنائے اور ہم سب کی تمام پریشانیوں اور مصائب ومشکلات اور امراض و بلاؤں کو ملک و معاشرے سے دور فرمائے اور مسلمانوں کی ہر طرح کی دقتوں کا ازالہ فرمائے اور پوری انسانیت کو ہدایت یاب بنائے اور ہم سب سے راضی ہوجائے اور ہمارا مقام و مقصد بلند فرما ئے۔

Comments are closed.