سورہ الصافات میں قربانی کے تعلق سے باپ اور بیٹے کا مکالمہ!
محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
دگھی، گڈا (جھارکھنڈ)
سورہ یسین کے بعد سورہ الصافات ہے، یہ سورہ مکی ہے اور 182/ آیات پر مشتمل ہے ۔ مفسرین کے مطابق قرآن کی ترتیب میں یہ 37/ ویں سورہ ہے ۔ لیکن نزول کے اعتبار سے اس سے پہلے اور بھی سورتیں نازل ہوچکی ہیں ۔ یہ سورہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کے درمیانی عہد کی ہے ، جبکہ کفار و مشرکین کی مزاحمت و مخالفت کافی شدت اختیار کر چکی تھی ۔
اس سورہ میں مرکزی مضمون تو توحید کا اثبات اور شرک کا رد ہے اور اس میں واضح طور پر عقیدئہ آخرت پر گفتگو کی گئی ہے ساتھ ہی آپ کی مخالفت اور آپ کے ساتھ تمسخر و استہزاء پر کفار و مشرکین کو سخت تنبیہ کی گئی ہے اور انہیں انجام کار سے باخبر کیا گیا ہے ۔ اس سورہ کے اخیر میں میں اہل ایمان کو بشارت دی گئی ہے کہ آغاز دعوت میں جو لوگ مظلوم و مقہور اور مغلوب ہیں، یہی غالب ہوں گے اور ظالموں کو شکست دیں گے ۔
اس سورہ کے درمیان میں ایک سو سے لے کر ایک سو دس آیات میں سب سے موثر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اسمعیل علیہ السلام کو قربان کرنے سے متعلق واقعہ ہے اور اس بارے میں باپ بیٹے کا مکالمہ ہے، اور سچ یہ کہ دنیا میں اس سے زیادہ موثر دلچسپ اور حیرت انگیز مکالمہ اور کوئی نہیں ہوسکتا ۔ اس واقعہ کے دو پہلو ہیں ۔ ایک تو یہ کہ کفار مکہ اپنا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جوڑتے ہیں تو انہیں اس واقعہ سے سبق لینا چاہیے ، دوسرا پہلو اہل ایمان کے لیے نصیحت و عبرت کا ہے کہ انہیں ہر طرح سے ایثار و عمل اور قربانی کے لئے تیار رہنا چاہئے اور امت مسلمہ کی سربلندی کے لئے جب اور جس وقت جیسی قربانی چاہیے اور وقت اور حالات کا جو تقاضا ہو اس کے لئے جان و مال کے ساتھ دامے درمے قدمے اور سخنے تیار رہنا چاہئے ۔
یہ اس واقعہ کا سب سے بڑا اور موثر پیغام ہے اور اسی پیغام کو زندہ اور متحرک رکھنے کے لیے ہر سال اس سنت براہیمی اور شعار خلیلی کو دس گیارہ اور بارہ ذی الحجہ کو انجام دیا جاتا ہے کہ یہ امت قربانی کے اس سبق اور پیغام کو ہمیشہ زندہ اور تابندہ رکھے نیز قربانی والا مزاج اپنے اندر پیدا کرے۔
ذیل میں سورہ صفات کی ان آیات کی تفسیر و تشریح کی جاتی ہے ،جس میں باپ اور بیٹے کا مکالمہ ہے ، قربانی کے ایام قریب ہیں ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ سورہ صافات میں مذکور اس قرآنی مکالمہ کا ان دنوں ضرور تلاوت کرے اور اس کی تفسیر و توضیح کا مطالعہ کرے ۔
ان آیات سے حضرت ابراہیم کی زندگی کے ایک اہم واقعہ کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور وہ یہ کہ حضرت ابراہیم کو اولاد نہیں تھی ، یہاں تک کہ تورات کی روایت کے مطابق جب آپ کی عمر ۸۶ سال کی ہوگئی ، تب آپ کی دوسری بیوی حضرت ہاجرہ کے بطن سے حضرت اسماعیل پیدا ہوئے ، ( پیدائش : ۱۶ : ۱ ، ۴ ، ۱۰ ، ۱۶) اور جب عمر مبارک ۱۰۰ سال کی ہوگئی تو حضرت اسحاق پیدا ہوئے ، (پیدائش : ۲۱: ۵) چنانچہ جب حضرت اسماعیل کچھ بڑے ہوئے اور اچھی طرح چلنے پھرنے دوڑنے بھاگنے لگے ، جس کو بعض مفسرین نے ۷ سال اور بعض مفسرین نے ۱۳ سال قرار دیا ہے ، ( التفسیر المنیر : ۲۳ ؍ ۱۱۸) تو اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم کا ایک بڑا امتحان لینا منظور ہوا اور وہ اس طرح کہ آپ خواب میں تین دنوں تک دیکھتے رہے کہ آپ اپنے صاحبزادے حضرت اسماعیل کو ذبح کررہے ہیں ، پیغمبر کا خواب بھی اللہ تعالیٰ کی وحی کے حکم میں ہوتا ہے ؛ اس لئے آپ سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی آزمائش مقصود ہے ؛ چنانچہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اس عمل کو
کر گزرنے کا پختہ ارادہ کرلیا ؛ لیکن آپ نے سوچا کہ چوں کہ قربانی کا یہ عمل حضرت اسماعیل پر ہوگا ، اس لئے ان کو بھی اعتماد میں لے لیا جائے ، اگر ان کی آمادگی ہوگی تو بظاہر اس تکلیف دہ عمل کو انجام دینا آسان ہوجائے گا ؛ اس لئے آپ نے حضرت اسماعیل کو اپنا یہ خواب سنایا ، حضرت اسماعیل عرض کرسکتے تھے کہ آپ نے محض یہ خواب ہی تو دیکھا ہے ، ہوسکتا ہے کہ اس کی تعبیر کچھ اور ہو ؛ لیکن آخر وہ بھی حضرت ابراہیم کے صاحبزادے تھے ، انھوں نے بلا تأمل اپنے والد سے عرض کردیا کہ آپ کو جس بات کا حکم دیا گیا ہے ، اسے کرگذریئے ، آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے ، اب آپ کو حضرت ابراہیم منیٰ کی طرف لے گئے ، اس موقع پر شیطان نے مختلف مرحلوں پر آپ کو بہکانے کی کوشش کی ،حج کے دوران جو جمرات پر کنکریاں ماری جاتی ہیں ، وہ اسی کی یادگار ہے کہ شیطان نے حضرت ابراہیم کو بہکانے کی کوشش کی اور آپ نے اس پر کنکری پھینک کر اپنی بیزاری کا اظہار فرمایا ، بالآخر آپ اس مقام پر پہنچ گئے ، جہاں آپ اپنے صاحبزادے کی قربانی دینا چاہتے تھے اور جو اس وقت حجاج کی قربان گاہ ہے ، یہ منظر کتنا عجیب رہا ہوگا کہ ایک بوڑھا باپ اپنے اکلوتے قریب البلوغ بیٹے کو خود اپنے ہاتھوں ذبح کرنے کے لئے لے جارہا ہے ، اندیشہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بیٹے کا چہرہ دیکھ کر باپ پر محبت کا غلبہ ہوجائے ، یا چھری دیکھ کر بیٹا گھبرا جائے ، اس لئے حضرت اسماعیل کے مشورہ پر آپ نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور انھیں کروٹ کے بل یا اوندھے منھ لٹا دیا اور چھری پھیرنے لگے ، اللہ تعالیٰ کا مقصود حضرت اسماعیل کی قربانی نہیں تھی ؛ بلکہ دونوں باپ بیٹے کا امتحان تھا اور اس امتحان میں وہ پورے اُتر چکے تھے ؛ اس لئے ندائے الٰہی آئی کہ تونے اپنا خواب سچ کردکھایا ؛ چنانچہ حضرت ابراہیم جو اس آواز کی طرف متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ ایک سفید بڑی سینگوں اور بڑی آنکھوں والا صحت مند اور خوبصورت مینڈھا لےکر حضرت جبرئیل موجود ہیں ؛ چنانچہ اللہ کے حکم سے آپ نے اس مینڈھے کی قربانی فرمائی اور اس امتحان میں بھی پورے اُترے ۔ (خلاصہ از : تفسیر ابن کثیر :۴؍۱۹)
یہودیوں کا مزاج یہ رہا ہے کہ کوئی بھی فضیلت جو بنی اسماعیل یعنی عربوں کے حصہ میں آئی ہو ، وہ ان کو بڑی ناگوار ہوتی ہے اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اسے بنی اسرائیل کے کھاتے میں ڈال دیں ؛ چنانچہ اس معاملے میں بھی انھوں نے اسی کی کوشش کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے جن صاحبزادے کو ذبح کیا تھا ، وہ حضرت اسحاق ہیں نہ کہ حضرت اسماعیل ،حضرت کعب احبار جو صحابہ کے عہد میں ایمان لائے اور جو ایک بڑے یہودی عالم تھے ، انھوں نے قرآن مجید کی تفسیر میں کثرت سے تورات کی روایتیں نقل کی ہیں ؛ چنانچہ ان کے ذریعہ تورات کی یہ بات مسلمانوں میں پہنچی کہ حضرت ابراہیم نے جن صاحبزادے کی قربانی کی ، وہ حضرت اسحاق تھے اور صحابہ اور تابعین میں سے بھی بعض اہل علم نے اس کو قبول کرلیا ، مگر یہ غلط ہے اور صحیح یہی ہے کہ قربانی حضرت اسماعیل کی کی گئی ، قرآن مجید میں بھی اس کا واضح اشارہ موجود ہے ، حدیث میں بھی اس کی صراحت ہے اور تورات کی روایت کا ناقدانہ جائزہ لیا جائے تو اس سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے ، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات فرمائی ہے کہ جب حضرت ابراہیم نے عراق سے ہجرت کی ، اسی وقت آپ نے اولاد کی دُعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسے بیٹے کی خوشخبری دی جو بردبار ہوگا ، پھر اس کے بعد فرمایا گیا کہ جب وہ دوڑنے بھاگنے کی عمر کو پہنچا تو ان کو ذبح کرنے کا حکم ربانی ہوا ، ظاہر ہے کہ ہجرت کرنے کے بعد جو آپ کو پہلے صاحبزادے ہوئے یعنی حضرت اسماعیل ، اس سے وہی مراد ہوسکتے ہیں ، اور خاص طورپر ان کی صفت حلم و بردباری بیان کی گئی ہے تو اس سے بڑی بردباری کیا ہوگی کہ انھوں نے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کردیا ، دوسرے : قربانی کے اس قصے کے مکمل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق کے بارے میں خوشخبری کا ذکر فرمایا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ ان پر ہم نے برکتیں دی ہیں ، اس سے صاف معلوم ہوا کہ جن کی قربانی کی گئی ، وہ حضرت اسحاق نہیں تھے ؛ بلکہ آپ کے کوئی اور صاحبزادے تھے یعنی حضرت اسماعیل ، تیسرے : اللہ تعالیٰ نے جہاں حضرت اسحاق کی خوشخبری کا ذکر کیا ہے ، وہاں حضرت اسحاق کے بعد ان کی نسل سے حضرت یعقوب کا بھی ذکر فرمایا ہے : ’’ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ‘‘ ( ہود : ۷۱) اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ حضرت اسحاق زندہ رہیں گے اور ان سے حضرت یعقوب کی پیدائش ہوگی تو جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خوشخبری پہلے سے موجود تھی تو حضرت ابراہیم یہ کیسے سمجھ سکتے تھے کہ حضرت اسحاق کے ذبح کرنے کا حکم دیا جارہا ہے ؛ کیوں کہ اس عمر میں جب کہ ابھی چلنے پھرنے کے لائق ہی ہوئے ہیں ، اگر ان کو ذبح کردیا جاتا تو وہ حضرت یعقوب کے والد کیسے بنتے ؟ غرض کہ قرآن مجید کے واضح اشارات موجود ہیں ، جو بتاتے ہیں کہ اس سے حضرت اسماعیل ہی مراد ہیں ، حدیثیں اس سلسلہ میں اور زیادہ واضح ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’ انا ابن الذبیحتین‘ کہ میں ایسے دو شخص کا بیٹا ہوں ، جن کو اللہ کی رضا کے لئے ذبح کیا گیا ، ایک : حضرت اسماعیل جن کی حضرت ابراہیم نے قربانی کرنے کی کوشش کی ، دوسرے : آپ کے والد ماجد عبد اللہ ، ان کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے نذر مانی تھی کہ اگر زمزم کا بند پڑا ہوا کنواں کھل جائے تو ہم اپنے ایک بیٹے کی قربانی کریں گے ، یابعض روایتوں کے مطابق اگر مجھے دس بیٹے ہوجائیں تو میں ایک کو اللہ کے نام پر قربان کردوں گا ، جب یہ نذر پوری ہوگئی تو حضرت عبد المطلب نے قرعہ ڈالا اور قرعہ میں حضرت عبد اللہ کا نام نکلا ، پھر جب انھوں نے حضرت عبد اللہ کی قربانی کا ارادہ کیا تو لوگوں کے بہت روکنے پر اس سے باز آئے اور سو اونٹ کے ذریعہ فدیہ ادا کیا ، مستدرک حاکم اور سیرت کی کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے ، (الخصائص الکبریٰ للسیوطی : ۱؍۷۷ ، مستدرک حاکم ، کتاب تواریخ المتقدمین ، حدیث نمبر : ۴۰۴۸ ، و کتاب معرفۃ الصحابۃ ، حدیث نمبر : ۶۰۴۳) اس حدیث میں بالکل واضح ہے کہ حضرت ابراہیم کے جن صاحبزادے کو ذبح کرنے کی کوشش کی گئی ، وہ آپ کے جد امجد حضرت اسماعیل تھے ، پھر حدیثوں سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ قربانی کا یہ واقعہ مکہ کے قریب منیٰ میں پیش آیا ؛ لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ حضرت اسحاق کبھی مکہ کی طرف آئے ہوں ، ان کا قیام ہمیشہ شام میں رہا ، تفسیری روایتوں میں یہ بات بھی نقل کی گئی ہے کہ اس مینڈھے کی دونوں سینگیں کعبۃ اللہ سے لٹکی ہوئی تھیں ، یہاں تک کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر کے زمانے میں جب حجاج نے حملہ کیا اور کعبۃ اللہ نذر آتش ہوگیا ، اس وقت یہ دونوں سینگیں بھی جل گئی۔ (تفسیر بغوی : ۳؍۶۶۶)
تورات میں اگرچہ یہی کہا گیا ہے کہ جن صاحبزادے کی قربانی دی گئی ، وہ حضرت اسحاق تھے ؛ لیکن خود اس کی روایت میں ایک ایسا قرینہ موجود ہے ، جو ظاہر کرتا ہے کہ اس میں تحریف ہوئی ہے اور حضرت اسحاق وہ شخصیت نہیں تھے ، جن کی قربانی کی گئی ؛ اس لئے کہ دو مواقع پر تورات میں قربانی کے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ’ اکلوتے بیٹے ‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے ، (پیدائش : ۲۲ ، ۲۰۱ ، باب : ۲۲ : ۱۵ ، ۱۶ ) اور حضرت اسحاق کبھی اکلوتے بیٹے رہے ہی نہیں ؛ کیوں کہ وہ حضرت اسماعیل کے چھوٹے بھائی تھے ؛ البتہ جب حضرت اسماعیل چودہ سال کے تھے ، تب حضرت اسحاق پیدا ہوئے ، اس لئے ظاہر ہے کہ اکلوتے بیٹے سے حضرت اسماعیل ہی مراد ہیں اور یہودیوں نے تحریف کرکے حضرت اسماعیل کی جگہ حضرت اسحاق کا نام لکھ دیا ہے ، بائبل میں اس طرح کی تحریفات کثرت سے پائی جاتی ہیں ۔
حضرت ابراہیم کے اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ جب وحی کا سلسلہ جاری ہوتا تھا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض احکام اس طورپر بھی دیئے جاتے تھے کہ اس کا مقصد حکم کی تعمیل نہ ہوتی تھی ، امتحان لینا مقصود ہوتا تھا ؛ لیکن اب جب کہ وحی کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے تو شریعت میں جتنے احکام ہیں ، وہ سب مکمل طورپر عمل آوری کے لئے ہیں ، ان کی یہ تاویل نہیں کی جاسکتی کہ یہ حکم کسی اور مقصد کے لئے ہے ، عمل کرنا ضروری نہیں ہے ، دوسرے : ایک قابل ذکر مسئلہ اولاد کی قربانی کی نذر ماننے کا ہے ، قدیم زمانے سے اپنے اپنے تصور کے مطابق مختلف قوموں میں انسانی قربانی کا رواج رہا ہے ، اب بھی بعض مشرک اور توھم پرست قوموں کے یہاں اس قسم کے واقعات پیش آجاتے ہیں ، فقہاء اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اولاً تو اولاد کی قربانی کی نذر ماننی ہی نہیں چاہئے کہ یہ گناہ ہے ؛ چنانچہ امام شافعی کی رائے ہے کہ اگر کوئی ایسی نذر مان لے تو اس کو استغفار کرنی چاہئے ، ( احکام القرآن لابن العربی : ۴؍۳۳) احناف میں امام ابویوسف کے نزدیک بھی ایسی نذر سے کوئی چیز واجب نہیں ہوتی ؛ البتہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیک اگر اس طرح کی نذر مان لے تو اس پر ایک بکرے کی قربانی واجب ہے ، ( احکام القرآن للجصاص : ۳؍۴۶۴) یہی رائے مالکیہ اور اکثر فقہاء کی ہے ، ( احکام القرآن لابن العربی : ۴؍ ۳۳ ) — اس واقعہ سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ مینڈھے یا بکرے کی قربانی کرنا بمقابلہ اونٹ یا گائے وغیرہ میں حصہ لینے کے افضل ہے ۔ (المحیط البرہانی : ۶؍۹۳)
اللہ تعالیٰ نے اخیر میں حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق کو اپنی برکتوں سے نوازنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کی نسل میں نیک لوگ بھی ہیں اور بُرے لوگ بھی ، یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ صرف پیغمبر یا اللہ کے نیک بندوں کی نسل میں سے ہونے کی وجہ سے کسی شخص کی نجات نہیں ہوجائے گی ، جب تک کہ خود اس کا عمل بہتر نہ ہوگا ۔
(مستفاد و ماخوذ از آسان تفسیر قرآن شیخ عائض القرنی مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی / آسان تفسیر قرآن مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب تفسیر سورہ صافات)
Comments are closed.