روحِ قربانی

 

تحریر: محمد حنیف ٹنکاروی

 

اللہ تعالی نے ہم مسلمانوں کو بہت مبارک ایام عطا فرمائے ہیں، ذو الحجہ کے ایام ملنے پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے، اور بہت سے خوش نصیب بندوں اور بندیوں کو اللہ پاک نے اپنے گھر کی زیارت اور حج بیت اللہ کی سعادت سے نوازا اور ہم میں سے صاحب استطاعت لوگوں کو جانور کی قربانی کرنے کا حکم دیا۔

ہر عبادت کو انجام دینے کے بعد انسان کو دو کام کرنے چاہیے ایک تو شکریہ، شکر اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فضل و کرم سے عبادت کی توفیق عطا فرمائی۔” اللَّهمَّ لولا أنتَ ما اهتَدَيْنا ولا تصدَّقْنا ولا صلَّيْنا” (مجمع الزوائد: ٨‏/١٣٢) اے اللہ آپ کی توفیق نہ ہوتی تو نہ ہمیں ہدایت مل سکتی، نہ ہم صدقہ دے سکتے اور نہ نماز پڑھ سکتے۔ تو توفیق ملنے پر شکریہ۔دوسرا کام، اللہ تعالیٰ کی عبادت کو انجام دینے کے بعد یہ کرنا چاہیے کہ اللہ کی عبادت کا جو حق تھا (جوکوئی ادا نہیں کر سکتا، چاہے کتنی ہی زیادہ عبادت کر لیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق کوئی ادا نہیں کر سکتا تو) اس حق کے ادا نہ کرنے پر استغفار کرنا چاہیے۔ توفیق پر شکر اور انجام دینے میں جو کوتاہیاں ہوئیں اس پر استغفار، ان دو کاموں کے ذریعہ شیطان کے وساوس سے آدمی محفوظ ہو جاتا ہے اور عجب سے بھی بچ جاتا ہے۔ ہر عبادت کے بعد الحمد للہ اور استغفر اللہ یہ دو جملے ضرور پڑھنے چاہئے۔

اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دنوں میں قربانی کےجانور کا خون بہانے سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں ہے جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے، قربانی کی عبادت میں ایک خاص بات سمجھنے اور دل میں بٹھانے کی ضرورت ہے جس کے ذریعہ دین اسلام سمجھنے کا راستہ کھل جاتا ہے اور عمل آسان ہو جاتا ہے۔

ایک یہ کہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ جانور ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے۔ اگر بسم اللہ نہ پڑھے تو جانور حلال نہیں ہوگا، حرام ہوگا اور دوسری بات یہ تلقین کی جاتی ہے کہ "قُلْ إِنَّ صَلَاتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلَّهِ رَبِّ الْعَٰلَمِينَ” پڑھو،ان دونوں باتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

 

جانور ذبح کرتے وقت بسم اللہ، اللہ اکبر کیوں کہلوایا؟ اس کی چار حکمتیں ہیں۔

(١) پہلی حکمت یہ ہے کہ بلا بسم اللہ ذبح کر لیا تو جانور مردار ہوگا اور حرام سمجھا جائے گا۔ "وَلَا تَأْكُلُواْ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْه” قربانی کا ہو یا ایسے ہی کھانے کے لیے ذبح کرو، میرا نام لو، تو حلال ہوگا، سوچنے سے یہ بات واضح ہوگی کہ شریعت نے جانور کے ذبح کا جو طریقہ بتایا ہے وہ آسان اور بہترین طریقہ ہے، کسی دوسرے مذہب میں جانور کے ذبح کا ایسا مناسب طریقہ نہیں بتایا گیا۔ حدیث کا مفہوم ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کسی کو شرعی اعتبار سے سزائے موت کا فیصلہ ہو جائے تو ایسا طریقہ جس میں کم سے کم تکلیف ہو اس طریقے سے قتل کرو۔ (أبو داود: ٢٨١٥) جانور کو ذبح کرنے کا طریقہ شریعت نے بتایا کہ گلے میں چار راستے (رگیں) ہوتے ہیں۔ سانس کی نالی، جسے نرخرا بھی کہتے ہیں، کھانے کی نالی اور دو خون کی رگیں، شرعاً یہ ضروری ہے کہ چار میں سے کم از کم تین کو کاٹا جائے، اگر دو رگیں کٹی تو جانور حلال نہیں ہوگا، اب سمجھ لینا چاہیے کہ تین رگیں کاٹنے پر کیا حکمت اور فائدہ ہے؟ پہلا فائدہ یہ کہ موت آسانی سے آتی ہے، دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بدن کا پورا خون آسانی سے نکل جاتا ہے، اگر مکمل خون نہ نکلے، تھوڑا بھی اندر رہ جائے تو اندر رہ کر وہ گوشت کو خراب کر دیتا ہے، آج کل مغربی ممالک میں یہ طریقہ چل پڑا ہے کہ پہلے جانور کو بے ہوش کرو پھر ذبح کرو تاکہ جانور تڑپے نہیں اور تکلیف کم ہو، حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب ادام اللہ فیوضہم فرماتے ہیں کہ میں نے خود دیکھا ہے کہ وہ پہلے بندوق کے ذریعہ لوہے کی سلاخ جانور کی پیشانی میں داخل کرتے ہیں، جس سے جانور بے ہوش ہوکر گر پڑتا ہے اب ذبح کرتے ہیں، بعض بجلی کا کرنٹ دیتے ہیں حالانکہ یہ بے ہوش کرنے والا طریقہ ہی زیادہ تکلیف دہ ہے اور شرعی طریقہ میں آسانی بھی ہے اور خون بھی پورا نکل کر بہ جاتا ہے۔

ہاں اللہ تعالیٰ کا نام لئے بغیر ذبح کیا، بھلے اچھے طریقے سے کیا، خون بھی آسانی سے پورا نکل گیا پھر بھی اللہ کا نام لئے بغیر ذبح کرنے کی وجہ سے وہ حرام ہو جائے گا وجہ یہ ہے کہ یہ در حقیقت غافل انسان کو متنبہ کرنے کا ایک راستہ ہے کہ یہ کام جو تم کرنے جارہے ہو ہم نے حلال کیا تو آپ کھا رہے ہو، ورنہ دیکھو یہ جانور بھی جان رکھتا ہے، اسے بھی غم ہوتا ہے، اسے بھی موت سے ڈر لگتا ہے، تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ کسی بھی جانور کو ذبح کرنے کی اجازت نہ ہوتی، اسی وجہ سے دوسرے مذاہب کے لوگ جیو ہتیا کو ناجائز کہتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہمارے حکم سے ہمارا نام لے کر ذبح کرو، ہم نے تمہارے لئے حلال کر دیا ہے اور اللہ ہی نے اس جانور کو پیدا کیا اور ہمیں بھی اسی نے پیداکیا وہ ہی ہمیں حکم دے سکتا ہے اسکا احسان ماننا یہ بسم اللہ کا ایک حصہ ہے۔

(٢) دوسری حکمت بسم اللہ کے ذریعہ ذبح کی یہ ہے کہ جن جانوروں کو اللہ پاک نے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے ان میں سے اکثر وہ ہیں جو طاقت والے ہیں جیسے بھینس، اونٹ لیکن کون ہے جس نے اتنے طاقت ور جانور کو ہمارے لئے مسخر کردیا "كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُواْ اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمْ” اللہ نے جانوروں کے دل میں بات ڈال دی کہ اگر انسان مجھے پکڑے، رسی سے باندھ دے، تو اب میرے لئے تسلیم و رضا کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں، ہاں جو جانور حلال نہیں ہے ان کو پکڑ کر دیکھو جیسے شیر، چیتا، وہ خود انسان کی جان لے لیگا، اسی بھینس کو برّ صغیر میں مسخر کر دیا، بر صغیر کے علاوہ دوسرے ممالک میں اس بھینس کا جنگلی جانوروں میں شمار ہے، افریقہ میں یہ گلی، کوچے اور شہر میں دیکھنے کو نہیں ملے گی، وہاں لوگ بھینس کو دیکھ کر ڈر جاتے ہیں اور یہاں آسانی سے ذبح کر لیتے ہیں، تو اتنے طاقت ور جانور کو تمہارے لئے مسخر کرکے حلال کر دیا تو کیا تم اس اللہ کا نام نہیں لوگے؟ اس لئے بسم اللہ کے ذریعہ ذبح کرکے شکر ادا کرو کہ میرے لیے اتنے قوی جانور کو مسخر کر دیا، یہ بسم اللہ کی دوسری حکمت ہوئی۔

(٣) تیسری حکمت بسم اللہ کے ذریعہ ذبح کرنے کی وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت بالغہ کا عجیب منظر پیش کیا ہے، وہ یہ کہ انہیں جانوروں کو ذبح کا حکم دیا ہے جن کا گوشت لذت اور قوت کا سبب ہے، جو مضر ہے ان کو حرام کر دیا، درندوں کے گوشت میں لذت اور صحت نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت بالغہ کو دکھا دیا کہ ہم نے نافع کو حلال کیا ہے تو کیا پھر بھی تم اللہ کا نام نہیں لوگے؟ ان سارے انعامات کو یاد دلانے کے لیے بسم اللہ کہلوایا جاتا ہے۔

(٤) چوتھی حکمت بسم اللہ کی یہ ہے کہ انسان میں کون سے سُرخاب کے پر لگے ہیں کہ وہ کسی جاندار کو ذبح کرے، کھال اتارے اور لذت لے کر کھائے، جانور کبھی یہ نہیں کہتا کہ تم کو کس نے حق دیا مجھے مار کے کھانے کا؟ تمہارے اندر کون سے پر لگے ہیں کہ میں تیرے لئے قربان ہو جاؤں؟ ، ہاں! اللہ تعالیٰ نے جانور کے دل میں یہ بات ڈال دی ہے کہ مجھے انسان کے لئے پیدا کیا ہے اور صرف جانور ہی نہیں کائنات کی ایک ایک چیز کو تمہارے لیے پیدا کیا ہے۔” هُوَ الَّذِى خَلَقَ لَكُم مَّا فِى الارْضِ جَمِيعًا ” آسمان، زمین، چاند، سورج سب کچھ اے انسان! تیرے لئے بنایا، تمہاری کیا خصوصیت ہے کہ کائنات تمہارے لئے بنائی، تم مخدوم کائنات کیوں؟ صرف ایک کام کی وجہ سے، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بندگی، کائنات میں سے کسی کو بندگی کے لئے نہیں پیدا کیا” وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ” صرف انسانوں اور جنات کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے، لہذا انسان کو چاہیے کہ اللہ کا بندہ بن کے رہے۔ بندے کا مطلب یہ کہ اللہ جو حکم دے اس کو مانے اور جس سے روکے اس سے رک جائے، بندگی کروگے تو کائنات سے خدمت لینے کا حق پورا پورا حاصل ہے۔ بندگی کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس کے سامنے سر جھکا دے، جیسا کہ جانور قربان ہونے کے لیے اپنا سر جھکا دیتا ہے۔

تو ان چاروں حکمتوں کو سامنے رکھ کر جانور کو ذبح کرنے سے عبادت میں لذت اور کھانے میں بھی لذت محسوس ہوگی۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرما کر عبادات میں لذت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

Comments are closed.