ایسے جنونیوں سے ملک اور ملت کو بچانے کی ضرورت ہے

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
سابق وائس چیئرمین، بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل

معلوم ہوا کہ اودے پور ، راجستھان میںدو جنونی شخص نے ایک شخص کو محض اس جرم پر کہ اس نے ایک متنازعہ ویڈیو شیئر کیا تھا اس کو بڑی بے رحمی سے قتل کردیا۔ اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس طرح کی حرکت کو اسلام سے جوڑنا یا اس کے لیے کوئی جواز ڈھونڈھنا پاگل پن ہے۔ یہ کھلا اور واضح جرم ہے اور از روئے قانون اس کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس کی گرفتاری ہوچکی ہے۔ اب یہ کام پولیس، حکومت اور عدالت کا ہے۔ کل میں نے اس کے چند بھائیوں کا سوشل میڈیا پر بیان سنا۔ سب نے ایک زبان ہوکر اس کے اس جرم کی مذمت کی اور سخت سزا کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود اس کی فیملی کے لوگ اس کی اس حرکت کی مذمت کررہے ہیں اور اس سے اپنی برأت کا اظہار کررہے ہیں۔ یہ جرم اس نے خود کیا ہے یا کسی اور کے بہکاوے میں آکر کیا ہے یہ پتہ لگانا انٹیلی جینس ایجنسی اور پولیس کا کام ہے۔ میں صرف یہی کہوں گا کہ جو گناہ گار ہیں انہیں تو ضرور پکڑا جائے مگر اس بہانے بے گناہوں کو محض شک کی بنیاد پر پریشان نہ کیا جائے۔ یہ تو پہلی اصولی بات ہوئی۔ اس معاملہ کے دو اور پہلو ہیں جن پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
پہلی بات یہ ہے کہ اس وقت اسلام، مسلمان اور حضورﷺ کی شان میں جس طرح کی باتیں بعض نام نہاد مذہبی اور سیاسی شخصیات کی طرف سے کہی جارہی ہیں اور میڈیا اور سوشل میڈیا کی طرف سے جس طرح اس کی تشہیر کی جارہی ہیں اس طرح کے واقعات اس کا ردِ عمل ہیں۔ جب ردِ عمل ہوتا ہے تو وہ ناپ تول کر نہیں ہوتا۔ اس وقت عقل ماری جاتی ہے اور وہ غصہ میں اپنا توازن کھودیتا ہے۔ اس کو یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ اس کا کیا اثر خود اس پر اور اس کے گھر والوں پر اور دوسرے لوگوں پر ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ایک فرد کا جرم اس فرد کا جرم نہ ہوکر پوری قوم کا جرم مانا جانے لگتا ہے اور اس کی وجہ سے پوری قوم کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس لیے تمام مذہبی شخصیات سے اور ملک کی تمام سماجی ثقافتی بلکہ سیاسی جماعتوں اور بالخصوص میڈیا سے یہ اپیل کی جاتی ہے کہ پورے ملک کو آگ میں نہ جھونکیں۔ ممکن ہے اس سے کسی سیاسی لیڈر یا جماعت کو فائدہ ہو مگر ملک اور سماج کا نقصان ہوگا اس لیے جو لوگ انسانیت پر اور دیش بھگتی میں یقین رکھتے ہیں ان سے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی اپیل کی جاتی ہے۔
دوسری بات مسلمانوں سے کہنی ہے آپ اسلام پر اور حضورﷺ پر ایمان رکھتے ہیں۔ جو لوگ اسلام پر اور حضورﷺ پر ایمان نہیں لاتے ان سے اس طرح کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں ہے کہ وہ بھی حضورﷺ کا ویسا ہی احترام کریں جیسا مسلمان کرتے ہیں۔ یہ آپ کے ایمان کا حصہ ہے ان کے ایمان کا نہیں، اس لیے وہ اگر حضورﷺ کی شان میں ناخوشگوار باتیں کہتے ہیں تو معقولیت کے ساتھ اس کا جواب دیجیے اور اپنی طرف سے حضورﷺ کے احترام میں اضافہ کردیجیے۔ یہ مسئلہ اسلام اور ایمان کا نہیں بلکہ عام اخلاق اور شرافت کا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا کوئی شخص اپنے باپ کو گالی نہ دے۔ صحابہ نے پوچھا کیا کوئی ایسا آدمی بھی ہے جو اپنے باپ کو گالی دیتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا : ہاں، جب تم کسی اور کے باپ کو گالی دو گے تو پلٹ کر تمہارے باپ کو گالی دے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر آپ اپنے باپ کو گالی نہیں دلواناچاہتے ہیں تو دوسروں کے باپ کا احترام کیجیے اور کم از کم اس کے ساتھ بدسلوکی اور گالی گلوج نہیں کیجیے ورنہ آپ کو بھی وہ سب کچھ سننا پڑسکتا ہے جس سے سماج میں فساد پیدا ہوگا۔ ہمیں حضورﷺ سے محبت ہے اور آپؐ کا احترام ہم پرواجب ہے لیکن جو لوگ اسلام سے دشمنی بغض و عناد رکھتے ہیں ان سے کسی اعلیٰ اخلاق کی توقع کرنا فضول ہے۔ ایسے موقعوں پر صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ان لوگوں کو معاف کردینا چاہیے۔

Website: abuzarkamaluddin.com
کالم نگار اردو کی بیسٹ سیلر بک’اکیسویں صدی کا چیلنج اور ہندوستانی مسلمان- بند گلی سے آگے کی راہ‘ کے مصنف ہیں۔

 

Comments are closed.