گستاخ رسول نپور شرما کے تعلق سے سپریم کورٹ کے تبصرے نے تاریکی میں روشنی پھیلانے کا کام کیا لیکن !

تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

کلیم الحفیظ
امن و امان ، عدم تشدد ، بھائی چارہ اور گنگا جمنی تہذیب کے لیے پوری دنیا میں مشہور و مقبول ہمارے پیارے ہندوستان کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ۔کورونا جیسی وبا نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر جو تباہی مچائی تھی اس کے بعد ہونا یہ چاہئے تھا کہ ملک کو ترقی کے راستہ پر لگایا جاتا،روزگار کو فروغ دیا جاتا ، مہنگائی پر قابو پایا جاتا ، بھائی چارے کو مضبوط کیا جاتا ، امن و امان کو قائم رکھا جاتا ہے لیکن اس کے برعکس نظر آ رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے ملک کی ترقی کی کسی کو فکر ہی نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی موضوع ہے ۔بے روزگاری تو جیسے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے ۔ملک میں نفرت کی ایسی آندھی چلائی جا رہی ہے کہ جیسے اس کی زد میں آکر ہر چیز فنا ہو جائے گی ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ اس خطرناک صورت حال پر قابو پانے کی بجائے اقتدار میں بیٹھے لوگ اس ملک مخالف آندھی کو طوفان میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ملک کا مسلمان جو گزشتہ 75؍سال سے نفرت کی آگ میں جل رہا ہے اس کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرکے طوفان میں اڑا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ملک کے 15؍فیصد مسلمانوں سے 85؍ فیصد ہندوئوں کو ڈرایا جا رہاہے ۔بہر کیف ملک میں اس وقت جو صورت حال ہے وہ کسی کالی رات سے کم نہیں ہے ۔ممکن ہے کہ کچھ لوگ جو فرقہ پرستی کے سبب اندھے ہو گئے ہیں وہ سنہری خواب دیکھ رہے ہوں اور ان کو محسوس ہو رہا ہو کہ شاید اچھے دن آنے والے ہیں لیکن ملک کا ایک بڑا طبقہ اس بات کے لیے فکر مند ہے کہ آخر ہندوستان کس راستہ پر جا رہا ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا ؟ ہر روز کوئی نہ کوئی ایسا مسئلہ زیر بحث لایا جا رہا ہے جو ملک میں نفرت کو مزید بڑھانے کا کام کر رہا ہے ۔ایودھیا میں بابری مسجد ۔رام جنم بھومی کا مسئلہ ختم ہوا تو گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عید گاہ کے مسئلے کو اٹھا دیا گیا۔بات تو ا س پر ہونی چاہئے تھی کہ مودی حکومت نے اپنی 8؍سالہ حکومت میں کیا کام کیا ؟کیا جو وعدے کیے تھے وہ پورے کیے ؟ کیا مہنگائی کم ہوئی ؟ بے روزگاری دور ہوئی ؟ کالا دھن آیا ؟ گنگا جمنا جیسی ندیاں صاف ہوئیں ؟ دہشت گردی پر قابو پایا جا سکا ؟ لیکن اس پر خاموشی ہے ۔نوجوان خود کشی کرنے پر مجبور ہیں۔ خود مودی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی رپورٹ ہے کہ 2018 سے 2020؍کے درمیان 9؍ہزار سے زیادہ نوجوانوں نے خود کشی کی ہے لیکن کیا اس پر کہیں کوئی مباحثہ ہوا ؟ دو سال سے فوج میں تقرری نہیں ہوئی اور جب نوجوانوں کی طرف سے دبائو بنایا گیا تو اگنی ویر جیسی متنازعہ اسکیم پیش کر دی گئی جس نے ایک نیا ہنگامہ برپا کر دیا ۔محض 22؍سال کی عمر میں نوجوانوں کو ریٹائرڈ کرنے کا منصوبہ تیار کرکے مودی حکومت اپنی پیٹھ تھپ تھپا رہی ہے ۔ملک کی شاندار اور عالمی شہرت یافتہ وراثت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ تاج محل اور قطب مینار کے خلاف مہم شروع کی جا رہی ہے ۔حالانکہ اب الہ آباد ہائی کورٹ اور محکمہ آثار قدیمہ نے جو فرقہ پرستوں کو آئینہ دکھایا ہے اس سے کچھ امید بندھی ہے تاہم اقتدار میں بیٹھے لوگوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے کوئی نہ کوئی نیا موضوع چھیڑ دیتے ہیں ۔اب گستاخ رسول نپور شرما کا ہی معاملہ لے لیجئے ۔ اگر حکومت کی نیت اچھی ہوتی اور ملک میں امن و امان چاہتی تو جیسے ہی اس گستاخ کے خلاف تھانوں میں شکایت درج کرائی گئی تھی قانون کے مطابق کاروائی کر دی جاتی لیکن ایسا نہ کرکے اس مسئلہ کو ہوا دیا گیا ۔نتیجہ کیا ہوا ؟پورے ملک میں افرا تفری پیدا ہو گئی جس کا نقصان حق پر رہتے ہوئے بھی مسلمانوں کا ہوا اور ہو رہا ہے ۔نپور شرما تو جیل نہیں گئی لیکن حق کی آواز بلند کرنے والے قریب 22؍سو توحید فرزندان کو زندان میں ڈال دیا گیا ۔ادے پور میں کنہیا کمار کے قتل نے تو آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا ۔حضرت محمد مصطفی ؐ کے نام پر قتل کو کوئی بھی جائز نہیں ٹھہرا رہا ہے ۔ ہم سب نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مجرمین کو سخت سے سخت سزا دی جائے لیکن اس کے باوجود فرقہ پرستوں کا جو ’تانڈو ‘ہے وہ آپ دیکھ سکتے ہیں ۔امراوتی قتل کی کیا سچائی ہے نہیں معلوم لیکن مہاراشٹر میں حکومت بدلتے ہی اس معاملہ کو بھی طول دے دیا گیا ۔اس کو ادے پور کی مانند قرار دے دیا گیا لیکن ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کی جانب سے جو تبصرہ کیا گیا اور مذکورہ بالا باتوں کے لیے جس گستاخ رسول کو ذمہ دار قراردیا گیا ہے اس کے خلاف اب تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی بلکہ سپریم کورٹ کے خلاف ہی مہم چھیڑ دی گئی ۔عدالت عظمیٰ کی شان میں فرقہ پرستوں کی جانب سے جو توہین آمیز باتیں کہی گئی ہیں ان کو نقل کرنا بھی راقم توہین سمجھتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ اگر سپریم کورٹ کے جسٹس سوریہ کانت نے اپنے تبصرے میں یہ کہہ دیا کہ ’’ آپ کے بیان سے ملک کا ماحول خراب ہوا ہے ۔آپ کے بیان سے ملک کی بدنامی ہوئی ہے ۔آپ نے پیغمبر اسلام پر مشتعل کرنے والا بیان دیا ہے ۔آپ کو ٹی وی پر جاکر معافی مانگنی چاہئے ۔آپ خود کو وکیل کہتی ہیں ، پھر بھی ایسا بیان دے دیا ۔‘‘تو اس میں غلط کیا ہے ؟ سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کو بھی اگر پھٹکار لگائی ہے کہ آخر ایف آئی آر درج ہونے کے بعد نپور شرما کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا ؟ لگتا ہے آپ(نپور شرما ) کے لیے دہلی پولیس نے ریڈ کارپیٹ بچھا رکھا ہے تو اس میں حیرانی کیا ہے ؟ سپریم کورٹ نے بہت واضح لفظوں میں یہ بھی کہا کہ نپور شرما کے بیان کی وجہ سے ہی ادے پور کا حادثہ ہوا ہے ،اس کے باوجود کیا نپور شرما کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ؟ کہیں مہاپنچایت کرکے اور کہیں جلوس نکال کر مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑنے کا اعلان کیا جا رہا ہے تو کہیں مسلم سبزی اور پھل فروشو ں کا سماجی بائیکاٹ کا اعلان کیا جا رہا ہے ۔ادے پور اور امراوتی کے ملزمین کی گرفتاریوں کے باوجودمسلم مخالف سیاست جاری ہے ۔نپور شرما کی حمایت پہلے کے مقابلہ بڑھ گئی ہے ۔سپریم کورٹ کے سخت تبصرے کے باوجود فرقہ پرست طاقتیں ملک کے مسلمانوں کو ہی قصوروار ٹھہرا رہی ہیں ۔اس دوران ادے پور کے تعلق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جس ریاض نام کے شخص نے کنہیا کا قتل کیا ہے اس کا تعلق بی جے پی کے اقلیتی مورچہ سے ہے۔ روزنامہ دینک بھاسکر کی جانب سے اس پر ایک پوری اسٹوری بھی چلائی گئی ہے ۔اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے بی جے پی کو گھیرا بھی گیا ہے اور جواب مانگا گیا ہے تو کیا اس کی ایماندارانہ جانچ نہیں ہونی چاہئے ۔ سوال یہ ہے کہ ملک میں ہو کیا رہا ہے ؟ کیا اقتدار کے لیے سیاست کا معیار اس قدر گرایا جا سکتا ہے ؟ بہر حال کچھ بھی ہو لیکن ’’ برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر ‘‘ والی صورت حال ہے۔اس پوری گفتگو میں جو سب سے اہم بات چھن کر آئی ہے وہ یہ کہ حزب اقتدار بی جے پی کی نظر میں سپریم کورٹ اور آئین کی کوئی عزت ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو نپور شرما کو فوری طور پر جیل بھیجا جائے اور سپریم کورٹ کی توہین کرنے والوں کے خلاف بھی کاروائی کی جائے ورنہ یہی تصور کیا جائے گا کہ اب ملک میں قانون کا راج نہیں ہے ۔ممکن ہے کہ اس پر بی جے پی کی جانب سے یہ جواب ہو کہ نہیں ہے تو نہیں ہے لیکن راقم کو کہنے دیجئے کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کو پوری دنیا دیکھ رہی ہے ۔ آزاد صحافی محمد زبیر کی گرفتاری کے خلاف کہاں کہاں آواز بلند ہوئی بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔نپور شرما کا دفاع مودی حکومت کو کتنا مہنگا پڑ رہا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے ،اس لیے راقم کا کہنا ہے کہ غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے آئین کی بالا دستی کو قائم کیا جائے ۔قصورواروں کے خلاف کاروائی کی جائے اور ملک کے امن و امان کو بحال کیا جائے اسی میں خیر ہے ۔ جہاں تک ملک کے مسلمانوں کا تعلق ہے تو ان کو یہی مشورہ ہے کہ وہ مزید صبر و تحمل سے کام لیں۔ آئین و عدالت پر اعتماد کریں۔ اپنی سیاسی قوت پیدا کریں اور سپریم کورٹ کے تبصرے سے جو روشنی ملی ہے اس میں ملک کے روشن مستقبل کو دیکھیں۔ آخر میں مندرجہ ذیل ایک شعر سے اپنی بات ختم کرتا ہوں ۔
تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

Comments are closed.