عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت

لیلومہ ریاض
ذی الحجہ‘‘ اسلامی سال کاسب سے آخری مہینہ ہے۔اور اس مہینہ کا یہ نام اس لیئے رکھا گیا کیونکہ اس میں اسلام کا عظیم رکن حج ادا کیا جاتا ہے اور اللہ تعالی کے ارشاد کے مطابق یہ حرمت والے مہینے چار ہیں یعنی ذی القعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب، جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث سے ثابت ہے۔اللہ تعالی کی طرف سے کچھ مہینے، ایام اور کئی گھڑیاں ہمارے لیے لئے بطور خاص اہمیت کی حامل ہیں۔جیسا کہ رمضان کا مہینہ،جو باقی تمام مہینوں سے افضل ہے اور جس کو پالینے کی خواہش خود رسول اللہ ا سے ثابت ہے۔ایام میں یوم جمعہ ہے جو باقی ایام سے زیادہ فضیلت کا حامل ہے اور جمعہ کے دن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس دن کی گئی دعا رب کے ہاں زیادہ مقبول ہوتی ہے۔اسی طرح ذوالحجہ کا مہینہ اور اس کے دس دن جنھیں” ایام عشر‘‘ بھی کہا جاتا ہے،یہ بھی بہت اہم اور بڑی فضیلت کے حامل ہیں۔قرآن و حدیث سے اس مہینے کی عظمتیں اور برکات اور اس کے ایام کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
” دس راتیں جن کی اللہ تعالی نے قسم کھائی ہے وہ ذی لحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں "۔
اس کے علاوہ قرآن کریم کی سورۃ فجر کی آیات میں اللہ تعالی نے چند چیزوں کی قسم کھائی ہے۔،ولیال عشر، اور قسم ہے دس راتوں کی۔
جس چیز کی قسم خود اللہ رب العزت نے اٹھائی یقینا یہ اس کی عظمت کی دلیل ہے اور اس سے یہی معنی ظاہر ہیں کہ یہ بہت اہم اور افضل راتیں ہیں۔ان ایام میں کی گئی عبادات اور اعمال اللہ رب العالمین کو بہت محبوب ہیں۔
ایک روایت ہے کہ: ترجمہ:’’اللہ تعالی کے نزدیک کوئی دن ان دس دنوں سے زیادہ عظیم نھیں ہے اور ان میں کیے جانے والے عمل سے زیادہ کوئی محبوب نہیں”
ویسے تو ہر دن کیے گئے اعمال کا صلہ ملتا ہے اور عمل میں جتنا اخلاص اور پاک نیت ہو وہ اتنا ہی زیادہ ثواب رکھتا ہے اور اللہ رب العزت کے ہاں ہمارے ہر نیک عمل کی قدر ہوتی ہے لیکن ذی الحج کے دس ایام اللہ کو زیادہ محبوب ہیں۔لوگوں نے دریافت کیا یا رسول اللہا !کیا اللہ کے راستے میں جہاد بھی ان اعمال صالحہ کے برابر نھیں؟آپ نے فرمایا نھیں! مگر وہ شخص جو اللہ کے راستے میں اپنا سب کچھ لے کر نکلا ہو اور واپس نہ آئے یعنی شہید ہو جائے۔ اس طرح اس بات سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دس ایام اللہ تعالی کے ہاں کس قدر محبوب ہیں.
ذی الحجہ کے دس دنوں میں ابتدائی نو دنوں میں سے ہر دن کے روزے کا ثواب ایک سال کے روزوں کے برابر ہے۔اور ایک رات کی عبادت لیلۃ القدر کی عبادت کی طرح اجر و ثواب رکھتی ہے۔اگر باقی آٹھ دن روزے کا اہتمام نہ کیا جا سکے تو ذی الحجہ کی 9 تاریخ کو ضرور روزے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس ایک دن کی بھی مستقل اہمیت و فضیلت حدیث میں بیان کی گئی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی نو ذی الحجہ کا روزہ رکھا کرتے تھے اور انھوں نے اس کو افضل واعلی قرار دیا ہے اللہ تعالی نے روزے کو اپنے لئے چنا ہے جیسا کہ حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’روزہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کا اجر دونگا‘‘
ذی الحجہ کی ان دس راتوں میں ہر رات کی عبادت کا ثواب شب قدر کے برابر ہے ان ایام میں کی جانے والی عبادات میں تسبیح، تہلیل،تحمید اور تکبیر وغیرہ شامل ہیں۔بخاری شریف میں نقل کیا گیا ہے۔ ترجمہ:۔حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ ث ذی الحجہ کے دس دنوں میں بازار جا کر لوگوں کو تکبیر کی طرف توجہ دلانے کے لئے تکبیر کہا کرتے تھے اور لوگ ان کی تکبیر سن کر تکبیر کہا کرتے تھے عورتوں پر بھی کہنا واجب ہے البتہ عورتیں با آواز بلند تکبیر نہ کہے آہستہ سے کہے۔اس کے علاوہ تیسرے اور چوتھے کلمہ کو کثرت سے پڑھنا چاہیے بلکہ ان ایام میں اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے زبان سے یہ کلمات ادا کر کے اس عمل کو باآسانی اختیار کیا جاسکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ نوافل اور قرآن پاک کی تلاوت خصوصا اور فجر کی نماز جماعت سے پڑھنے کا اہتمام تو لازم کر نا چاہیے تاکہ حدیث کے مطابق رات بھر کی عبادت کا ثواب مل سکے۔ان راتوں کو غفلت اور کوتاہی کا شکار ہو کر گزارنا خسارے کا سودا ہے۔ اس میں جتنا ہوسکے عبادت میں وقت گزارنا چاہیے ۔حضرت ابو امامہ صسے نبی کریم ا کا یہ ارشاد منقول ہے۔
ترجمہ: جس نے عید یعنی (عید الفطر اور عیدالاضحیٰ) کی راتوں میں ثواب کی نیت رکھتے ہوئے عبادت کی اس کا دل اس قیامت کے دن مردہ نہ ہو گا ،جس دن سب کے دل مردہ ہو جائیں گے۔ذی الحجہ کے اعمال میں ناخن اور بال کاٹنے سے رکنا بھی ہے۔ نبی کریم اکا ارشاد ہے۔
ترجمہ: جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کرنے کا ہوتو اسے چاہیے قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے پرہیز کرے۔ یہ حکم اس وقت ہے جب کہ بال اور ناخن کاٹے ہوئے چالیس دن پورے نہ ہوئے ہوں ورنہ بال اور ناخن کاٹنا ضروری ہے اور نہ کرنا حرام ہے۔اس عمل کی حکمت بیت اللہ کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا ہے کیونکہ بحالت احرام حجاج یہ کام نھیں کرتے۔ اس کے علاوہ یہ کہ اضحیہ دراصل قربانی کرنے والے کی جان کا فدیہ ہوتا ہے ۔بس ناخن وغیرہ کاٹنا منع کیا گیا تاکہ تمام اجزاء کے ساتھ فدیہ ہوں۔
خلاصۂ تحریر یہ ہے کہ یہ دس دن، جن کی قسم خود اللہ پاک نے کھائی ہے نہایت عظمت،بابرکت، مقدس اور فضیلت والے ہیں۔ ان دنوں میںکی جانے والی عبادت اور نیکی اللہ کے ہاں پسندیدہ ہے۔ لہذا ان کا خاص اہتمام کرنا چاہیے نوافل، عبادات،ذکر، تلاوت کثرت سے کرنے چاہییں۔قربانی کرنے والوں کو چاند دیکھنے سے قبل ہی بال اور ناخن درست کروا لینے چاہیے تاکہ حدیث کے مطابق حجاج سے مشابہت ہو سکے، یہ مشابہت بھی انشاء اللہ ہمارے لئے رحمت اور برکت کا سبب ہو گئی۔

 

Comments are closed.