مذہب خطرے میں یا جمہوریت؟

از: آفتاب اظہرؔ صدیقی
قارئین کرام! اس تبصرے کی شروعات کرنے سے پہلے ہم حکومت اور انتظامیہ سے اپیل کرنا چاہیں گے کہ سرکاری محکموں میں ایک اور محکمے کا اضافہ کیا جائے ’’ محکمہ تحفظ اخبارات‘‘ جس کا کام صرف یہ ہو کہ ہندوستان میں جتنے اخبارات شائع ہوتے ہیں ان کی نگرانی اور ان کو خریدکر پڑھنے والوں، پڑھ کر پھینکنے والوں یا ردی میں بیچنے والوں اور پھر ردی والوں سے خریدکر ان اخبارات میں سامان بیچنے والوں کی نگرانی کی جائے، نگرانی اس بات کی کہ اخبار کے صفحات میں دیوی دیوتاؤں کی جو تصویریں چسپاں ہیں ان کا استعمال کیسے کیا جارہا ہے، کہیں اخبار پڑھنے والا دیوی دیوتاؤں کی تصویر والے صفحے کو بچھاکر اس پر کھانا تو نہیں کھارہا ہے، کہیں اس اخبار کو کوڑے میں تو نہیں پھینکا جارہا ہے؟ کہیں اس اخبار کو ردی میں تو نہیں بیچا جارہاہے؟ کہیں اس اخبار میں مونگ پھلی بیچنے والا مونگ پھلی لپیٹ کرتو نہیں دے رہا ہے؟ کہیں اس اخبار میں کوئی ہوٹل والا روٹی اور چکن تو لپیٹ کر نہیں دے رہا ہے؟
قارئین! میں یہ بات اس لیے کر رہا ہوں کہ اترپردیش کے سنبھل میں ایک ہوٹل مالک طالب حسین کو صرف اس وجہ سے گرفتار کرلیا گیا کہ اس نے جس اخبار میں چکن لپیٹ کر دیا تھا اس میں دیوی دیوتا کی تصویر بنی ہوئی تھی، جبکہ ہوٹل مالک کے بیٹے نے صفائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ردی بیچنے والے سے ردی اخبار خریدتے ہیں، ابا نے چکن پیک کرتے ہوئے دھیان نہیں دیا تھا کہ اخبار کے اس صفحے پر دیوی دیوتاؤں کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد ہم سوچ میں پڑ گئے کہ کہیں اس ملک میں الگ الگ مذہب کے ماننے والوں کے لیے الگ الگ قانون تو نہیں بنادیے گئے؟ اس لیے کہ اسی ملک میں نوپور شرما ، نوین جندل اور نرسنہا نند جیسے لوگ ایک خاص مذہب کے خلاف بھونڈے تبصرے کرتے ہیں، پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں جس سے پورے ملک کے مسلمانوں کے جذبات بھڑک جاتے ہیں، مسلمان سڑک پر آکر ان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں، بات بڑھتے بڑھتے اتنی بڑھتی ہے کہ دوسرے ملکوں سے بھی بھارت کا اور بھارت کے سامانوں کا بائکاٹ ہونے لگتا ہے، دباؤ میں آکربھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنے لیٹر پیڈ پر اپنا نظریہ صاف کرنا پڑتا ہے، گستاخی کرنے والوں کو سڑک چھاپ بتاکر پارٹی سے نکال دیا جاتا ہے۔ اس کے باوجودان لوگوں کی گرفتاری نہیں ہوتی اور دوسری طرف یوپی کے سنبھل میں ایک ہوٹل چلانے والا اگر دھوکے سے کسی ایسے پیپر میں چکن لپیٹ کر دے دے جس میں دیوی دیوتا کی تصویر تھی تو اسے فوراً گرفتار کرلیا جاتا ہے، آخر ایسا کیوں ہے؟ ایک ہی ملک میں دو مذہب کے ماننے والوں کے لیے دو طرح کے قانون کا مظاہرہ کیوں ہورہا ہے؟ کیا یہی جمہوریت ہے؟ کیا آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے؟ ہر گز نہیں! آئین کی دفعات سبھی مذہب کے ماننے والوں کے لیے ایک جیسا حکم رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے قابل ججز کی طرف سے نوپورشرما کے خلاف سخت تیور دیکھنے کو ملے ہیں۔
اسی ہفتے سپریم کورٹ نے نوپور شرما معاملے میں سماعت کرتے ہوئے کئی اہم تبصرے کئے،سپریم کورٹ نے کہا کہ ملک میں گزشتہ دنوں جو کچھ ہوا خاص کر ادے پور معاملے میں نوپور شرما ہی پوری ذمہ دار ہے،نوپور شرما نے پورے ملک کے جذبات کی توہین کی ہے،نوپور شرما کو ٹی وی پر آکر پورے ملک سے معافی مانگنی چاہیے،اگرٹی وی اینکر نے بھڑکایا ہے تو اس کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟
نوپور شرما کے خلاف ملک کے الگ الگ حصوں میں ہوئے ایف آئی آر کو دہلی ٹرانسفر کرنے کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کو پھٹکا ر لگاتے ہوئے کہا کہ ابھی تک اس عورت کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی،کیا آپ نے نوپور شرما کے لیے ریڈ کارپیٹ (سرخ قالین) بچھا رکھا ہے،اقتدار کا نشہ دماغ پر حاوی نہیں ہونا چاہیے،ہم پورے معاملے سے واقف ہیں،اس ایک عورت کی وجہ سے پورا ملک خطرے میں پڑگیا ہے،اس کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا ہے؟
سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک عدد ایف آئی آر پر آپ ایک صحافی کو فوری طور پر گرفتار کرلیتے ہیں اور درجنوں ایف آئی آر پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی،دہلی میں درج ایف آئی آر پر ابھی تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟
سپریم کورٹ نے نوپور شرما کے وکیل سے کہا کہ آپ یہاں سے جاسکتے ہیں،عدالت کا ضمیر اس معاملے میں بالکل مطمئن نہیں ہے،ہم آپ کی عرضی پر سماعت نہیں کرسکتے،نوپور شرما کے وکیل نے معافی مانگتے ہوئے سپریم کورٹ سے پی آئی ایل کو واپس لے لیا تھا۔
قارئین کرام ! سپریم کورٹ کے قابل ججز کی باتیں سنتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ملک میں ابھی جمہوریت زندہ ہے، ابھی قانون باقی ہے؛ لیکن دوسری طرف کچھ جگہوں پر پولیس انتظامیہ اور بھاجپا سرکار کے کارناموں کو دیکھتے ہیں تو لگتا ہے کہ قانون کا گلا دبایا جارہا ہے، آئین کی کتاب بے معنی ہوکر رہ گئی ہے اور آئین کی دفعات صرف اقلیتوں کے لیے نافذ العمل ہوکر رہ گئی ہیں۔
قارئین کرام ! اسی ہفتے راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے ادے پور کے مقتول کنہیا لال کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے انہیں تسلی دی۔ اس کے بعد میڈیا سے بات چیت میں گہلوت نے کنہیا لال کے قتل معاملے کو گھناؤنا جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس معاملے کو فاسٹ ٹریک کورٹ میں چلانے کی کوشش کریں گے اور قصورواروں کو ایک ماہ کے اندر پھانسی کی سزا دی جائے گی انہوں نے کہا کہ این آئی اے نے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور وہ اس کے تمام پہلوؤں کی جانچ کرے گی، ہم تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری پولیس نے بہتر کام کیا ہے اور مجرموں کو فوری گرفتار کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی گہلوت سرکار نے کنہیالال کی فیملی کو اکیاون لاکھ کا چیک بھی دیا۔ گہلوت سرکار کا یہ عمل قابل ستائش ہے ، مظلوموں کوانصاف ملنا چاہیے اور مجرموں کو سزا بھی۔ واضح رہے کہ ادے پور قتل معاملے میں پورے ملک کے مسلمانوں نے اس واقعے کی مذمت کی، تمام مسلم تنظیموں نے اس قتل کو اسلام کے خلاف بتایااور سزا کا مطالبہ کیا۔ اب آئیے اسی راجستھان کی ایک پرانی خبر کی طرف، دسمبر 2017ء؁ کو شمبھولال ریگر عرف شمبھو بھوانی نے محمد افرازل نام کے ایک 50 سالہ مزدور کو بے رحمی سے قتل کر دیا تھا، پھر اس کی لاش کو پیٹرول ڈال کر جلا نے کی کوشش بھی کی تھی۔ درندگی کے اس واقعے کو انجام دینے والے شمبھو نے اس قتل کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر لائیو شیئر کیا تھا۔اس معاملے میں مغربی بنگال کے مالدہ کے رہنے والے افرازالحق کے رشتہ داروں نے افرازل کے قاتل شمبھو کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔افرازالحق کی بیوی گل بہار بی بی نے کہاتھا کہ،‘جنہوں نے ان کو جانوروں کی طرح مارکے پوری دنیا کو اس کی تصویر دکھائی ان کو پھانسی کی سزا دی جانی چاہئے۔ مجھے انصاف چاہئے۔ ان کو صرف اس لئے مار دیا گیا کیونکہ وہ ایک مسلمان تھے۔‘رشتہ داروں کے مطابق تین لڑکیوں کے باپ افرازالحق اپنی چھوٹی بیٹی کی شادی کا انتظام کرنے کے لئے گھر واپس آنے والے تھے۔ وہ 12 سالوں سے راجستھان میں مزدوری کر رہے تھے۔
قارئین کرام ! اگر آپ نے افرازل کے قتل کی ویڈیو دیکھی ہوگی تو آپ نے شمبھو نامی انسان کی حیوانیت اور درندگی کو ضرور محسوس کیا ہوگا؛ بظاہر دیکھا جائے تو ادے پور اور راجس مند کے قتل کے یہ دونوں واقعات ایک ہی جیسے نظر آتے ہیں، دونوں میں قاتلوں کے سرپر حیوانیت سوار ہے؛ لیکن کچھ باتیں ہیں جو ان دونوں قتل معاملوں کو ایک دوسرے سے الگ بناتی ہیں وہ یہ کہ ادے پور کے مقتول کنہیا لال کے قاتلوں کی تمام مسلم رہنماؤں نے مذمت کی اور اس شرم ناک واقعے کو اسلام کے خلاف بتایا؛ جبکہ افرازل کے قاتل شمبھو کے لیے ایسا دیکھنے کو نہیں ملا تھا؛ بلکہ اس کا الٹا یہ دیکھنے کو ملا تھا کہ راجستھان کے ادے پور میں شمبھو لال کی گرفتاری کے کچھ دنوں بعد کچھ تشدد پسند تنظیموں نے شمبھو کی حمایت میں ریلی نکالی تھی، ریلی میں اس کی رہائی کی مانگ کی گئی تھی، ریلی نے توڑ پھوڑ بھی کی، بازار بند کرائے، سڑکوں پر ٹایر جلاکر گرفتاری کی مخالفت کی، پولیس پرشاسن سے بھڑ گئے، ادے پور کورٹ کے اوپر چڑھ کر بھگوا جھنڈا لہرایا، شمبھو کی حمایت میں چندہ اکٹھا کیا گیا اور حد تو یہ ہے کہ 2019ء؁ کے لوک سبھا الیکشن سے پہلے ’’یوپی نو نرمان سینا‘‘ نام کے ایک سنگٹھن نے شمبھو جیسے آتنک وادی کو لوک سبھا الیکشن لڑوانے کا دعوی بھی کیاتھا۔
کیا اسی طرح کی باتیں ادے پور کے قاتلوں کے بارے میں سوچی جاسکتی ہیں، کیا ادے پور میں ٹیلر کنہیالال کے قاتلوں کی حمایت میں ریلی اور پردرشن تو دور کسی مسلم تنظیم یا کسی مسلم راہنما کی طرف سے کوئی حمایت یا بیان بازی بھی دیکھنے کو ملی؟نہیں نا، یہی فرق ہے دونوں واقعات کے درمیان۔
ادے پور کے قاتلوں کی گرفتاری کے بعد بھاجپا لیڈروں کے ساتھ اور بھاجپا کے پروگراموں میں موجود قاتلوں کی تصویریں بھی وائرل کی گئیں، جس کے بعد بھاجپا لیڈر کو صفائی دینی پڑی کہ ان قاتلوں کا بھاجپا سے کوئی تعلق نہیں ہے ؛یہ تو اکثر ہوتا ہے کہ جرم کرنے والے مجرموں کا تعلق اس وقت تک بھاجپا کے ساتھ ہی رہتا ہے جب تک ان کا کوئی بڑا جرم سامنے نہ آجائے، جوں ہی کسی بھاجپا سے تعلق رکھنے والے کا جرم سامنے آتا ہے تو بھاجپا اس سے پلہ جھاڑنے لگتی ہے۔
قارئین کرام! خبر ہے کہ’’ آلٹ نیوز‘‘ کے شریک بانی محمد زبیر کی ضمانت کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے عدالت نے انہیں 14؍دن کی حراست میں بھیج دیا ہے، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے 2018ء؁ یعنی کئی سال پہلے کے ایک ٹویٹ میں ہندو دھرم کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی بات کی ہے ، سوال یہ ہے کہ اس ٹویٹ پر کئی سال بعد کارروائی کا ارادہ کیوں بنا؟ سوال یہ ہے کہ ٹویٹ میں کی گئی بات بالی ووڈ کی ایک فلم میں بھی کی گئی ہے تو اس فلم کے بنانے والوں اور اس فلم میں کام کرنے والوں کے خلاف کب کارروائی ہوگی؟ ’’نو بھارت ٹائمز‘‘ کی خبر کے مطابق محمد زبیر پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے یتی نرسنہا نند، بجرنگ مُنی اور آنند سوروپ کو ایک ٹویٹ میں ’’نفرت پھیلانے والے‘‘ کہا تھا، یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ نفرت پھیلانے والوں کو نفرت پھیلانے والا کہنا کب سے جرم قرار دیا جانے لگا؟
(تبصرہ نگار کا یہ تبصرہ ’’ صدائے حق نیوز انڈیا ‘‘ نامی یوٹیوب چینل پر بھی اپلوڈ کیا جاتا ہے)

Comments are closed.