دھرم کی سیاست یا سیاسی دھرم ؟
ڈاکٹر عابد الرحمٰن( چاندور بسوہ)
جن لوگوں نے شان رسالت صلی اللہ و علیہ و سلم میں گستاخی کو آزادی ء اظہار رائے کہہ کر خارج کردیا تھا ، جو لوگ شان رسالت صلی اللہ و علیہ و سلم میں گستاخی کرنے والوں کی حمایت کررہے تھے یا ان کی حمایت میں مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کررہے تھے اب وہی لوگ دیوی ‘ کالی ماتا ‘ کی شان میں گستاخی پر واویلا مچا رہے ہیں کہ گستاخ کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اسے گرفتار کیا جائے اور ‘ اظہار رائے کی آزادی کا مطلب یہ تھوڑے ہی ہے کہ دیوی دیوتاؤں کے خلاف کچھ بھی بول دیا جائے ‘ وغیرہ ۔ شان رسالت میں گستاخی ہوئی مسلمانوں کو تکلیف ہوئی اور مسلمان گستاخوں کے خلاف قانونی کارروائی اور ان کی گرفتاری کے لئے احتجاج کرنے لگے تو پولس فورس کے ذریعہ انہیں اچھی طرح کچلا گیا ، پولس اسٹیشن میں لے جا کر بے رحمی سے پیٹ کر ان کی ہڈی پسلی توڑ ی گئی ، انہیں گرفتار کیا گیا ان پر مقدمات قائم کئے گئے اور ان کے دوکان و مکان پر بلڈوزر بھی چلا دئے گئے ، حالانکہ بلڈوزروں کے معاملہ میں کہا یہ گیا کہ وہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف چلائے گئے ہیں لیکن ان کی ٹائمنگ تو یہی ظاہر کررہی ہے کہ ان کا مقصد احتجاجیوں کو ‘ سبق سکھانے ‘ کے سوا کچھ نہیں ۔لیکن اس سب کے باوجود شان رسالت صلی اللہ و علیہ و سلم میں گستاخی کرنے والوں پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی ،۔ اب ‘ کالی ماتا ‘ کی شان میں گستاخی کے خلاف جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں وہ اسی سیاسی پارٹی سے منسلک یا اس کے حواری ہیں کہ جس میں نبی صلی اللہ و علیہ سلم کی شان میں گستاخی کرنے والے لوگ تھے ، یا ابھی بھی ہیں کہ کہا نہیں جا سکتا کہ کس مناسب وقت کوئی بڑی ذمہ داری دے کرپارٹی میں ان کی بازآبادکاری کردی جائے گی۔ ویسے بھی ان لوگوں کی ‘وچار دھارا’وہی ہے جو اس پارٹی کی یا اس کی تنظیم مادر کی وچار دھارا ہے چاہے وہ پارٹی میں رہیں یا نہ رہیں۔کالی ماتا کی شان میں گستاخی کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگ دوسروں کی عزت جذبات اور مذہب کا کتنا خیال رکھتے ہیں اس کی تازہ ترین مثال ابھی کچھ ہی دب پہلے پورا ملک کیا پوری دنیا دیکھ چکی ہے کہ شان رسالت مآب صلی اللہ و علیہ و سلم میں گستاخی کرنے والی کی ایک عرضی کی سماعت کے دوران اسے ہی پورے ملک میں ہونے والے پر تشدد اور نفرت انگیز معاملات کے لئے ذمہ دار قرار دینے والے ججوں کے خلاف سوشل میڈیا میں ان لوگوں نے خوب مغلظات بکے تھے ۔ اب یہی لوگ اپنے مذہب کے خلاف کسی کی رائے سے تکلیف محسوس کررہے ہیں اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی مانگ کو لے کر سراپا احتجاج ہیں ، ملک بھر میں جگہ جگہ ایف آئی آر درج کروائے گئے ہیں ۔بہر حال ابھی تک اس معاملہ میں بھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے ۔
شان رسالت صلی اللہ و علیہ و سلم اور اب ‘ کالی ماتا ‘ کی شان میں گستاخی کے معاملات سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس بات پر بحث کی جاتی کہ اظہار رائے کی آزادی کی حدود کیا ہوں ؟کسی مذہب اس کے اعمال و عقائد پر اپنی رائے دینے کی کتنی اور کس حد تک آزادی ہونی چاہئے ؟لیکن ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے ، جو کچھ ہو رہا ہے وہ وہی روایتی ‘ ہندو مسلم ‘ ہو رہا ہے ۔ ‘کالی ماتا ‘کا تنازعہ دراصل کینیڈا کی ایک ہند نزاد فلم ساز کی کسی فلم کے پوسٹر کے ذریعہ وجود میں آیا ہے ، یہ معاملہ شاید تھوڑا بہت پھڑ پھڑکا دم توڑ دیتا کہ فلموں کے ضمن میں کئی بار ایسا ہوا ہے لیکن اپوزیشن کی ایک سیاسی پارٹی کی لیڈر کے بیان اور آزادی ء اظہار رائے کے نام پر اسے ایک دوسری پارٹی کے لیڈر کی حمایت نے نہ صرف اس کو جلا بخش دی بلکہ مرچ مسالہ ڈال کر مزید ابال بھی دے دیا ۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ساری جوتم پیزار اس لئے نہیں کی جارہی کہ ایک دیوی کی شان میں گستاخی کی گئی بلکہ اس لئے کی جارہی ہے کہ اس گستاخی میں اپوزیشن کے لیڈران بھی شامل ہو گئے ہیں، کہ جو لوگ احتجاج کر رہے ہیںاس وقت ان کے مذہبی جذبات مجروح نہیں ہوئے تھے انکی دل آزاری نہیں ہوئی تھی انہیں اپنے مذہب اور دیوی دیوتاؤں کی عزت کا خیال نہیں آیا تھا جب خود ان کے لیڈر کو دیوتاؤں کا دیوتا کہا گیا تھا اور ہندو دیوتا کی جگہ اس کے نام کے نعرے لگا ئے تھے ۔اب احتجاج دراصل اس لئے ہو رہے ہیں کہ ایک تو ان حزب مخالف کی ان سیاسی پارٹیوں کو ‘ ہندو مخالف ” قرار دے کر ہندوؤں کو ان سے بدظن کر کے اپنی طرف پولرائز کیا جائے اور رسول صلی اللہ و علیہ و سلم کے خلاف گستاخی کرنے والوں کے خلاف ان کی بیان بازیاں اور مسلمانوں کی حمایت یاد دلا کر انہیں ‘ مسلمانوں کی پارٹیاں ‘ یا مسلم منھ بھرائی کرنے والی پارٹیاں قرار دے کر خود ہندو دھرم اور ہندوؤں کی پارٹی کا طمغہ اپنے سینے پر لگایا جائے ۔ دوسرے ان پارٹیوں سے اپنے لیڈران کے خلاف کارروائی کر نے کی مانگ کر کے ان پر دوغلے پن اور ہندو ومسلم میں تعصب کا الزام بھی لگایا جا سکے ۔یعنی جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ ‘ ماں کالی ‘ کے لئے یا ہندو دھرم کے لئے نہیں بلکہ مسلم مخالفت میں یا اپنی مسلم مخالف سیاست کے لئے ہو رہا ہے ۔لیکن ہمارے لئے دونوں بھی ایک ہی ہیں ، جن لوگوں پر مسلمانوں کی منھ بھرائی کا الزام لگایا جاتا ہے وہ بھی وہی سیاست کرتے ہیں جو کھلے عام مسلم منافرت کی سیاست کرنے والے کرتے ہیں ، دونوں ہی دراصل ہندو منھ بھرائی کی سیاست کرتے ہیں مسلم مخالفین اس ضمن میں مسلم منافرت کا ستعمال کرتے ہیں تو مسلمانوں کے ووٹوں پر نظر رکھنے والے سیکولرازم جو کہ دراصل ہر کسی کا جعلی ہے اس کے نام سےیہی ہندو منھ بھرائی کی سیاست کرتے ہیں۔اسی لئے شان رسالت میں گستاخی کرنے والوں کو ان کی پارٹی نے مسلم ممالک کی سفارتی دباؤ کے زیر اثر پارٹی سے نکال تو دیا لیکن ان پر قانونی کارروائی نہیں کی تاکہ مسلم ممالک سے تعلقات بھی اچھے رہیں اور یہاں اپنے روایتی ہندو ووٹ بنک کو کم از کم یہ تو بتایا جا سکے کہ ہم نے انہیں گرفتار نہیں ہونے دیا ۔اسی طرح ‘ماں کالی ‘ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کی پارٹی نے بھی اپنے آپ کوان الگ کرلیا ہے ، اس لئے کہ اپنے ہندو ووٹ بنک کو یہ باور کروایا جا سکے کہ وہ ہندو دیوی دیوتاؤں کی برابر عزت کرتے ہیں۔ہو سکتا ہے ہندو منھ بھرائی کے لئے وہ ان کے خلاف اسی کارروائی کے لئے مجبور ہو جائیں،جو شان رسالت میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف مجبوری میں کی گئی ہے۔ خیر جو کچھ ہو ، کہا جارہا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی اتنی ہی ہونی چاہئے کہ جس سے ملک کی کسی بھی مذہبی اکائی کی دل آزاری نہ ہو اور نہ ہی حال و ماضی کی کسی قومی یا اہم شخصیت کی تضحیک ہو ۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے مسلمانوں کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا کیونکہ جو لوگ صرف اس لئے مسلمانوں کی مخالفت کرتے ہیں کہ ان کا مذہب الگ ہے ان سے کسی کے احترام کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے ۔ وہ اگر قانون کے ذریعہ اظہار رائے کی آزادی کو ریگولیٹ بھی کرلیں تو مسلمانوں کی دل آزاری کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی اس کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا ، کیونکہ مسلم مخالفت اور مسلمانوں کی دل آزاری مسلم دوست یا سیکولر کہے اور سمجھے جانے والوں کی سیاست کے لئے بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کھلے عام مسلم منافرت کی سیاست کرنے والوں کے لئے ۔لیکن ملک کی اکثریت کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ سیاست آج مسلمانوں کے لئے جتنی خطرناک ہے کل ان کے لئے بھی اتنی ہی خطرناک ہوگی جس منافقت سے مذہب کو سیاست میں ملیا میٹ کیا جا رہا ہےاس سے یہی لگتا۔
Comments are closed.