زندگی!تیرے قاتل بری ہوگئے
سمیع اللہ ملک
بگرام ائیربیس سے650نمبرقیدی خاتون کی چیخیں ہمارے عالی مرتبت حکمرانوں اورمنبرومحراب کے وارثوں تک تونہیں پہنچیں لیکن اس قیدی اورمومنہ بیٹی عافیہ کی ماں عصمت صدیقی جوقوم کی عصمت کااستعارہ تھیں،یقینااپنی ساری مناجات کے ساتھ خودپرگزری قیامت کی گھڑیاں اپنے دامن میں سمیٹ کررب اورمولا کے حضورحاضرہوگئیں۔ میر اضمیر اکثرمجھے کچوکے لگاکر سوال کرتاہے کہ آخرمفتیان کرام کہاں ہیں؟الرشیدٹرسٹ کے محافظین کہاں ہیں؟جامعہ بنوریہ بنوری ٹاؤن کے علمائے کرام کوکیا ہوا؟جناب مفتی تقی عثمانی صاحب، عصمت صدیقی کانمازجنازہ پڑھاتے ہوئے عافیہ صدیقی کاسوچ کراشکبارتوہوئے ہوں گے،مظلو موں کی آہ وبکاپرپہنچنے والے جما عتہ الدعوہ کے مخلصین کی توسمجھ آتی ہے کہ وہ بھی آج وفاکی قیمت اداکررہے ہیں لیکن پنجاب حکومت کے پرانے وظیفہ خوارکہاں ہیں؟آخرانبیاکے وارث کہلانے والے کسی بھی علمائے کرام کے کانوں میں یہ چیخیں کیوں نہیں پہنچیں؟ان کوچھوڑئیے ذرامذہبی سیاسی جماعتوں کوآوازد یجئے،کہاں ہیں سارے مذہبی رہنما…؟؟
کیاآج تک اسلام آبادمیں بیٹھے کسی بھی حکمران کی آنکھوں میں کبھی نمی اتری ہے؟مریم نواز،بختاوراورآصفہ کے باپ کوکسی اوربیٹی کی یہ چیخیں کیوں سنائی نہیں دیِں؟کیاحکمران قوت سماعت سے محروم ہیں یاکسی دائمی اورغفلت کی نیندمیں مبتلاہیں؟ ایوان اقتدارتک پہنچنے کیلئے مرحومہ عصمت صدیقی سے ان سیاست دانوں نے کیاکیاوعدے کئے تھے لیکن اقتدارکی ان غلام گردشوں اورنمک کی کان میں پہنچتے ہی نمک بن کربے خبرہوگئے لیکن قصرسفیدکے فرعون کی حاضری کے دوران تمام پاکستانی صحافیوں کوعافیہ کے بارے میں سوال کرنے کی ممانعت کاحکم جاری کردیاجاتاہے؟سوچتاہوں کیادانشوری بھی سورج مکھی کا پھول ہوگئی؟
کیااس قوم کے سارے بیٹے کھیت ہوئے کہ جب ان کالیڈراقتدارسے محرومی کے بعدایک کاغذ لہراکرللکارتا ہے کہ’’کیاہم کسی کے غلام ہیں؟‘‘لیکن اس پرجان فریفتہ کرنے والوں کواس بات کی اجازت نہیں کہ وہ اپنے رہنماسے یہ پوچھیں کہ ہماری بے گناہ بہن کوامریکاسے واپس لانے کاوعدہ ایفاکیونکرنہ ہوا؟کیاتم بھول گئے کہ تم نے برطانوی نومسلم بہن ایوان رڈلے کے ساتھ پاکستان میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیاوعدے کئے تھے؟کیاہم واقعی ہی وہ قوم ہیں جس کے حکمرانوں نے ڈالروں کے عوض پاکستانی سپوت ایمل کانسی کوخودگرفتارکرکے قصرسفیدکے فرعون کے حوالے کردیا،جس کے جواب میں بھری عدالت میں امریکی اٹارنی جنرل نے کہاتھاکہ پا کستانی چندٹکوں کی خاطراپنی ماں کو فروخت کردیتے ہیں!
بگرام ائیربیس کی قیدی نمبر650صرف اپنے تین بچوں کی ماں نہیں بلکہ اس قوم کی ماں بہن اوربیٹی بھی ہے۔نام اس کاڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے جس کی عافیت کی ذمہ داری ریاست پرتھی۔وہ کراچی سے اچانک اچک لی گئی۔کوئی نہیں جانتاتھا کہ اسے زمین نگل گئی یاآسمان کھاگیا۔پہلے یہ اطلاع آئی کہ وہ اپنے بچوں سے محروم کردی گئی ہے۔اس کی گودمیں پلنے والا چند ماہ کابچہ ماردیاگیاہے اوراسے نامعلوم عقوبت خانوں،قیدخانوں،تہہ خانوں اوربوچڑخانوں سے گزارکراس حال میں بگرام جیل پہنچادیا گیاکہ وہ اپنی پہچان تک بھول گئی، اس کے حواس خمسہ اس کاساتھ چھوڑگئے۔اسے زمانے کی نظروں میں ایک پاگل وجودقرار دے دیاگیا۔وہ روتی نہیں،صرف چیختی ہے۔اس کی چیخیں سننے والے قیامت کی آہٹ سنتے ہیں اورسونہیں پاتے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب وہ اپنے آپ کوفراموش کرگئی،اپنے آپ سے منہاہوگئی،اپنے حواس کھوبیٹھی،اپنے وجودمیں آپ تحلیل ہو گئی توپھروہ چیختی کیوں ہے؟اس کی آوازمیں بلاکاکرب کیوں ہے؟بگرام جیل سے امریکی عقوبت خانوں کے درودیوارپریہ لکھی ہوئی ندامت کیسی؟آخرعصمت صدیقی اورقوم کی بے گناہ بیٹی ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی دردناک چیخیں تمام عافیت خانوں کودہلا کیوں دیتی ہیں؟ شاید اس لئے کہ پاگل عورت بھی اپنے بچوں کوبھلانہیں پاتی جس طرح آخری سانس تک عصمت صدیقی کی اپنی بیٹی کے انتظارمیں آنکھیں پتھراگئیں۔شاعرنے کس کرب سے کہاہے کہ
خدانے یہ صفت دنیاکی ہرعورت کوبخشی ہے
کہ وہ پاگل بھی ہوجائے توبیٹے یادرہتے ہیں
کوئی عصمت صدیقی،ڈاکٹرفوزیہ اورڈاکٹرعافیہ صدیقی کے کرب کااندازہ نہیں کرسکتا۔اقوام متحدہ خاموش ہے اورخواتین پرتشدد کے خلاف قائم تمام بین الاقوامی تنظیمیں گویاموت کی آغوش میں چلی گئیں ہیں کہ ان کوبھیجی جا نے والی ایک بھی یادداشت پر ان تنظیموں نے کوئی بیداری کی انگڑائی لی اورنہ دکھ سے کوئی جھرجھری لی جبکہ درجنوں پلیٹ فارمزپرمیں خود دہائیاں دے چکاہوں۔رپورٹ کہتی ہے کہ بے پناہ تشددسے ڈاکٹرعافیہ صدیقی اپناذہنی توازن کھوچکی ہے۔ستم بالائے ستم یہ کہ برسوں تک انہیں نہانے اوردیگرضروریات کیلئے مردانہ غسل خانہ استعمال کرناپڑاجہاں پردے کاکوئی انتظام نہیں تھا۔وہ بگرام جیل کی واحد خاتون قیدی تھی جس کودیکھنے والی ایک باضمیربرطانوی صحافی ایوان رڈلے نے کہاتھاکہ وہ ایک بھوت کی مانندلگتی ہے جس کی شناخت دھندلاچکی ہے۔
لیکن میں سمجھتاہوں کہ اب بھی اس کی چیخیں تمام ان بے ضمیرمقتدرلوگوں کاتعاقب کررہی ہیں بلکہ اب تومعاملہ اوربھی سنگین ہوگیاہے کہ عصمت صدیقی ان تمام افرادکے خلاف ایک مضبوط ایف آئی آرکے ساتھ رب کے حضورپہنچ گئی ہیں جہاں وہ اپنی معصوم اوربے گناہ حافظہ عافیہ صدیقی کامقدمہ پیش کریں گی اوروہ معصوم بچہ جس کاآج تک سراغ تک نہ مل سکا،وہ بھی اپنی نانی کے ہمراہ اس سارے ظلم کی گواہی دینے کیلئے پہلے سے موجودہوگا۔رپورٹ کاسب سے دردناک پہلوجس نے ہر صاحب ضمیرباپ کوانگاروں پرلٹادیاہے، وہ یہ ہے کہ جیل عملے کی طرف سے اسے مسلسل جنسی زیادتی کانشانہ بنایاگیاجس کے باعث اس کاکرب انگاروں سے زیادہ تیزاورشدیدہوگیااوراب امریکی زنداں میں اس کی آبرو تھکی ہوئی اذانوں سے بوجھل اورگردوپیش کی تماشائی تنہائیوں سے چورزخمی حالت میں آسمان کی طرف منہ کرکے رب کوتوضرورپکاررہی ہے۔
میں یہ سوچ کربڑے کرب میں مبتلاہوجاتاہوں کہ ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے شب وروزایک ایسے ظلم کاروزنشانہ بنتے ہیں جیسے دیہاتی گنے کی پوروں سے رس چوستے ہیں یابے درد،بے حس اورشقی القلب حکمران اپنی رعیت کی بیٹیوں کالہوچاٹتے ہیں۔اب ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی آنکھوں کابہتاہوادردناک کاجل ہمارے مقتدرحلقوں کے قلب کی سیاہی اوراس کی دردناک چیخیں ان کی بے ضمیری کی پیداواربن چکی ہیں۔اس کی پیٹھ پرلگے گھاؤہمارے ان حکمرانوں کے گناہوں کی دستاویزبن چکے ہیں جنہوں نے محض چندڈالروں کے عوض اسے فرعونی طاقتوں کے حوالے کردیاحالانکہ عصمت صدیقی کی عظمت ملاحظہ فرمائیں کہ اپنی رحلت سے چنددن قبل خودمجھ سے فون پراوراپنی بیٹی ڈاکٹرفوزیہ کوحکم دے رہی تھیں کہ کوئی مشرف کویہ خبرکردے کہ میں نے اسے معاف کردیا،یہ اس کمانڈوپرایساگراں مایہ احسان ہے کہ ممکن ہے کہ اس کی زندگی کی آخری سانسیں کچھ ہموارہو جائیں اورجان کنی کا عمل آسان ہوجائے جبکہ اس سے قبل لال مسجدکے مولاناعبدالعزیزجن کے بھائی اورجواں سال اکلوتے بیٹے کوبرسٹ مارکراڑادیاگیاتھا،وہ بھی مشرف کومعاف کرچکے ہیں لیکن جامعہ حفصہ کی درجنوں یتیم بچیاں اوربچے جواس روح فرساحادثے میں گولیوں کاشکارہوکراپنے خون آغشتہ جسموں کے ساتھ اس طرح اللہ کے حضورپہنچ گئے کہ ان کے ساتھ درجنوں قرآن وحدیث بھی خاکسترکردیئے گئے،کیااس کاحساب نہیں ہوگا؟
ان کاخون جن افرادکے ہاتھوں پرہے،ان کوتوبہرحال حساب دیناہوگااوراپنے شب وروزمیں اگران کے ضمیرزندہ ہیں توضرورسوال کرتے ہوں گے کہ روزجزاکے دن جب اللہ کی عدالت میں شہدا پیش کئے جائیں گے تویہ معصوم یتیم شہداکن کے ساتھ کھڑے ہوں گے اورقاتلین کوکس ندامت کی قطارمیں کھڑاکیاجائے گا۔۔۔۔ڈاکٹرعافیہ کے ساتھ ایساسلوک کرنے میں معاونت کرنے والے یہ ضرورسوچیں کہ روزآخرت کیلئے اپنے اعمال نامہ میں عافیہ کی دلدوز چیخیں کیارنگ لائیں گی۔اس مکروہ عمل کاوجودتاقیامت انسانیت کیلئے ایک سوال بنارہے گا،اس کے گردگونجنے والی تکبیریں، بکھرنے والے سجدے اوربلندہونے والی اذانیں جواپنی حقیقت کھوبیٹھی ہیں،اس کی پوری ذمہ داری ان تمام معاونین پربھی عائد ہو گی جنہوں نے اس فاسق کمانڈوکے احکام کی تعمیل کی اوران سیاستدانوں پربھی یہ فردجرم عائدہوگی جنہوں نے اس عمل کاساتھ دیا۔
کبھی سوچاہے آپ نے کہ ڈاکٹرعافیہ صدیقی کاتحلیل ہوتاہواوجودہم سے سوال کرتاہے کہ وہ پاکستانی اخبارات اورجرائدکاموضوع کیوں نہیں،وہ ٹیلیویژن کی جگمگاتی ہوئی اسکرینوں پرمسکراتے چہروں کے ساتھ نمودارہونے والے میزبانوں کیلئے سوال اٹھانے کاسبب کیوں نہیں؟کیوں اخبارات وجرائدخاموش اورٹیلیویژن کی اسکرینیں گونگی اوربہری ہوگئیں ہیں؟کیاپاکستان میں ایک بھی ایسافرد نہیں جس کے کانوں میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی دردناک چیخیں اوردلدوزنالے پہنچیں؟وہ حواکی بیٹی ہے ،اگرآپ اس مقدمے پر اپنی روشن خیال اعتدال پسندی کوقربان نہیں کرناچاہتے تویشودھاکی ہم جنس اوررادھاکی بیٹی خیال کیجئے۔اس کیلئے آوازبلند کیجئے۔اہل قلم نہیں جا نتے کہ اگرفکرکی صالحیت سوجائے تو اظہارکی جامعیت کجلاجاتی ہے۔پھرحرف مستحق ہوتے ہیں کہ بے حرمت ہوں،دھتکارے جائیں اورپامال ہوں۔فقرے آوارہ قہقہے بن جاتے ہیں اوریوں ہرروزپیلے صفحات پر کالی سیاہی سے چھپنے والے سفیدجھوٹ سے دل اوبھنے لگتاہے۔
مملکت خدادادپاکستان جوکلمہ کی بنیادپرہمیں27رمضان الکریم کی مبارک شب کواس اوفوبالعہدپرعطاکیاگیاکہ ہم یہاں مکمل قرآن نافذکریں گے لیکن نہ صرف اپنے پالن ہارسے وعدہ شکنی کے مرتکب ہورہے ہیں بلکہ سودکی حمائت میں عدالتوں سے رجوع کرکے اللہ اوررسول کے خلاف کھلی جنگ کااعلان کرچکے ہیں۔ایک نیوکلئیرریاست ہونے کے باوجود اقوام عالم میں ہماری کیا حیثیت ہے کہ ہرروزنکلنے والے سورج کی روشنی میں ہمارے تاریک اعمال اورنمایاں ہوجاتے ہیں۔ مگرمیرارب جودنیاکے تمام خزائن کامالک ہے،ہم نے اس سے منہ موڑکردنیاکے استعماری آقاؤں کی غلامی قبول کرلی ہے جوہزاروں میل دوربیٹھ کرہماری قسمت کافیصلہ کرتے ہیں۔یادرکھیں کہ جسم میں سب سے چھوٹالوتھڑا’’ دل‘‘ جس سے ہماری زندگی کی ڈورجڑی ہوئی ہے،اس میں صرف ایک ہی خوف سماسکتاہے۔ اگررب ذوالجلال کاخوف اوڑھنابچھونابن جائے توساری دنیاآپ سے خوفزدہ رہتی ہے لیکن اگر دنیاکاخوف پال لیاجائے تودوسراخوف چپکے سے رخصت ہوجاتاہے اورپھردنیاکی تمام رسوائیاں ہمارامقدربن جاتی ہیں اوراس وقت یقیناہم ایسی ہی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔
مگرمیں ڈاکٹرعافیہ صدیقی کیلئے اس قوم سے کیاشکوہ کروں جس نے اپنے محسنوں کے کفن کے تاربیچے ہیں۔جس نے ام کلثوم کے منہ پرطمانچے مارے ہیں،جس نے حیدرکرار کے خیموں کی طنابیں کاٹ ڈالیں،حضرت مجدد الف ثانی کوگوالیارکے قلعے میں قیدکیا،شاہ ولی اللہ کے ساتھ ہماراسلوک تاریخ کے صفحات پرآج تک شرمندگی کی فصل اگاتا ہے ۔ شاہ عبدالعزیزکے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا،حضرت سیداحمدشہیداورشاہ اسمعیل شہیدبالاکوٹ میں مسلمانوں کی غداری سے شہیدہوئے۔تاریخ پاکستان کاتذکرہ مولانامحمدعلی جوہر کے بغیرمکمل نہیں ہوتامگرجب وہ بیمارہوئے توکوئی مسلمان نواب یارئیس نہیں پہنچابلکہ ان کی مددکو ریاست الورکاہندومہاراجہ آیاتھا۔ہندوستان میں برطانوی غلامی کے خلاف قربانی و ایثارکی روح پھونکنے والے مولاناظفرعلی خان بیماریوں میں اس طرح جئے کہ ادویات کیلئے پیسے نہیں تھے اورجب ان کاانتقال ہواتوچھٹاآدمی نہیں تھا۔دورمت جائیے،ابھی کل کی بات ہے کہ محسن پاکستان ڈاکٹرعبدالقدیرجس کامحض قصوریہ تھاکہ اس نے پاکستان کوپہلی مسلم نیوکلئیرریاست بنانے میں اپنی جان کھپادی لیکن اس کے ساتھ ہم نے کیاسلوک کیاکہ جیتے جی اس کو زندگی میں کن صدمات سے دوچارکیاکہ اسے مجبور کیاگیاکہ وہ ٹی وی پرآکراپنے ناکردہ گناہوں کی معافی مانگے اورجب وہ اس دنیاسے رخصت ہواتوملک کاسربراہ جوشب وروز پاکستان کوریاست مدینہ بنانے کادعوی کرتاتھا،اوراپنے اقتدارسے محرومی پریہ نعرہ لگاکرقوم کے جذبات سے کھیلتاہے کہ’’کیاہم امریکاکے غلام ہیں‘‘محسنِ پاکستان کے جنازے میں نہ آیاکہ کہیں مباداآقاکی نظروں میں مردودنہ ٹھہرایاجاؤں لیکن مکافات عمل کاپھربھی شکارہوناپڑااوراب اسی اقتدارسے محرومی کازخم ناقابل برداشت ہوگیاہے۔
بگرام جیل میں چیخنے والی ڈاکٹرعافیہ صدیقی اگرامریکی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہماری تاریخ کی فریاد سن سکے تواسے کچھ قرارآجائے۔ہم مسلمان تاریخی طورپرکچھ ایسے ہی واقع ہوئے ہیں۔خدافراموش،خود فراموش اوراب ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو فروخت کرنے والے تازہ بے ضمیر۔مسلمان ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے ساتھ جومرضی سلوک کریں مگرڈاکٹرعافیہ صدیقی کاوجود شہنشاہ عالم قصرسفیدمیں مقیم فرعون کے آستانہ جبروت پرایک مقدمہ بن کرہمیشہ موجودرہے گا۔کیایہ مقدمہ شہنشاہ عالم قصر سفید میں مقیم فرعون کی فرمانروائی کوجھکا دے گا؟کیایہ مغربی طاقتوں اورامریکاکی لونڈی اقوام متحدہ کے ماتھے پرکلنک کا سوالیہ نشان ثبت کرے گا؟کیایہ عالم انسانیت میں کوئی بیداری پیداکرے گا؟؟؟اس کاجواب یقینا تاریخ کے ذمہ ہے۔کئی کرداراس دنیامیں باعثِ عبرت بنائے جائیں گے اوراللہ کے کوڑے سے بچ نہ پائیں گے اورآخرت میں جہنم کی دہکتی آگ تویقیناان کی منتظرہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہم اجِرنی مِن النار۔۔۔۔۔۔اِنک انت غفورالحلِیم۔۔۔۔۔۔۔اللھم اِنک عفو تحِب العفو فاعف عنِی
منصفوں کی نظردیکھتی رہ گئی
زندگی!تیرے قاتل بری ہوگئے
Comments are closed.