ظریفانہ:فراغت کی مبارک  عید

 

ڈاکٹر سلیم خان

آداب عرض کی صدا نے للن اڈوانی کو چونکا دیا ۔ وہ بولے آداب آداب کیسے راستہ بھول گئے  ؟

کلن نقوی نے کہا میں راستہ نہیں بھولا آپ تاریخ بھول گئے ۔

للن نے کہا بھیا آج کل تاریخ جغرافیہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے سارا کچھ ریاضی یعنی حساب کتاب سے چلتا ہے۔

کلن بولا آپ کسی اور طرف نکل گئے گروجی میں تو یہ کہہ رہا تھا کہ کیا آپ کو یاد نہیں کہ آج کون سا دن ہے؟

ارے بھیا اب میں اس سلسلۂ شب و روز سے بے نیاز ہو کر صبح و شام کرتا ہوں ۔

کیا مطلب ؟ یہ فلسفہ میں سر کے اوپر سے گزر گیا۔

بس یہی کہ اب  کسی دن کے آنے اور کسی رات کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سارے دن رات ایک سے بے رنگ ہوچکے ہیں۔

کلن کو اپنے گرو کی حالتِ زار پر رحم آگیا ۔ وہ بولا آپ تو بالکل سنیاسی ہو گئے ہیں گروجی ۔

جی ہاں کلن اس  وسیع و عریض کوٹھی  کے اندر قید تنہائی میں مبتلا ہوں ۔

یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں گروجی؟

اور نہیں تو کیا   کبھی کبھار  تم جیسا کوئی بھولا بھٹکا آجاتا ہے تو دل بہل جاتا ہے۔

لیکن میں تویہاں  کئی لوگوں کی چلت پھرت دیکھ رہا ہوں ۔

یہ سب نوکر چاکر بادلِ ناخواستہ تنخواہ کے لیے خدمت میں لگے ہوئے ہیں ۔

لیکن یہاں رہتے تو ہیں؟ آپ اپنے آپکو تنہا کیسے کہہ سکتے ہیں؟

بھیا کیا بتاوں یہ نہ میری بات سمجھتے ہیں اور نہ  ان کی بات مجھے سمجھ آتی ہے۔  اس لیے ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔

لیکن گروجی  اس بار سالگرہ  کے موقع پر تو  آپ سے ملاقات کے  لیے پردھان جی بھی آئے تھے اور کیا چاہیے؟

اے بھیا وہ مجھ سے ملنے تھوڑی نا آئے تھے ۔ وہ تو اپنی تشہیر کے لیے آئے  تھے ۔

تشہیر ! میں نہیں سمجھا ؟

جی ہاں تشہیر ۔ یہ بتاو کہ کیا تمہارے ساتھ میڈیا اور کیمرے والے بھی آئے  ہیں ؟

میڈیا ! ان کا کیا کام ؟ میں تو آپ سے ملنے کے لیے آیا ہوں ۔

جی ہاں میں بھی یہی کہہ رہا ہوں ۔ تم تو مجھ سے ملنے آئے تھے مگر وہ نہیں ۔ کیا سمجھے ۔

یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔ ساری دنیا نے ان کو آپ سے ملتے دیکھا اور آپ ۰۰۰۰۰

یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ وہ ساری دنیا کو دکھانے کے لیے آئے تھے اور دکھا کر چلے گئے ۔

یہ تو نیت میں شک کرنے والی بات ہے۔ ایسا  دعویٰ آپ کیسے کر سکتے ہیں؟

دیکھو پہلی بات تو  ان کے آنے سے قبل میڈیا آگیا ۔ ساری سرگرمیاں طے ہوگئیں ۔ ریہرسل بھی ہوگیا پھر ڈرامہ کھیلا گیا ۔

جی ہاں گروجی میں نے بھی ٹیلی ویژن پر دیکھا تو کچھ ٹھیک نہیں لگا ۔

اچھا ! یہ بتاو کہ تم کو اس میں کیا چیز کھٹکی؟

مجھے ایسا لگا جیسے  سب کچھ مصنوعی ہے ۔ ہنسنا ، ملنا ، بولنا ، چلنا پھرنا سب نقلی جیسے کوئی فلمی سیٹ ہو۔

جی ہاں اسی لیے  مجھے بھی ان کے آنے سے کوئی قلبی  خوشی نہیں ہوئی۔

ہوتی بھی کیسے  ؟ جہاں اخلاص کی جگہ ریا کاری  ہو وہاں فرحت و مسرت کا کیا کام؟ 

تم نے صحیح کہا کلن ۔ ریاہر کام کو بے روح جسد میں بدل دیتی ہے۔

کلن بولا لیکن اس موقع  آپ کے چہرے کی مسکراہٹ لاجواب تھی۔

بھئی کیا کریں  ایک جعلی مسکراہٹ کو چہرے پر سجانا میری  مجبوری تھی ۔

ویسے ایک بتاوں ۔ کسی کو پتہ نہیں چلا کہ آپ اداکاری کررہے ہیں ۔ مجھے بھی نہیں ۔

للن نے کہا اس کی دو وجوہات ہیں ۔پہلی تو مجھے  اس کا پرانا تجربہ ہے۔

جی  ہاں مجھے پتہ ہے رام رتھ یاترا سے لے کر پریورتن یاترا تک  ہر یاترا میں آپ یہی کرتے تھے لیکن دوسری وجہ کیا ہے؟

 ارے بھائی  سارے کیمرے تو انہیں جانب مرکوز  تھے میں تو مجبوراً درمیان میں آجاتا تھا ۔ اس لیے اداکاری میں کوئی کمی رہتی بھی تو چھپ جاتی  ؟

لیکن ہم لوگ اب اس کے عادی ہوگئے ہیں ۔ اس بار تو جب وہ  اپنی ماتا جی ملنے گئے تو تب بھی یہی ہوا ؟

اچھا کیا ہوا؟ میں نے تو ٹیلی ویژن دیکھنا ہی بند کردیا ہے۔

وہی کہ انہوں نے اپنی ماتا کے پیر دھوکر وہ پانی  آنکھوں سے لگایا۔ اس دوران  کیمرا ماتا جی کے بجائے بیٹے جی کو فوکس کیے ہوئے تھا ۔

ارے بھیا اس سین سے پہلے نہ جانے کتنی بار ان کی ماں کا پیر دھویا گیا ہوگا ۔  خیر وہ عادت سے مجبور ہیں اس لیے ان کو چھوڑو اپنی سناو ۔

گروجی مجھے یہ جان کر تعجب ہوا کہ آپ نے ٹیلی ویژن دیکھنا چھوڑ دیا ۔

کیوں اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ اس ملک میں کروڈوں لوگ ٹیلی ویژن کی لعنت سے محفوظ ہیں ان میں سے ایک میں بھی ہوں ۔

جی ہاں ہر کسی  کی اپنی مجبوری ہوتی ہے لیکن آپ کے پاس تو وقت  ہی وقت ہے  ایسے  میں ٹیلی ویژن سے اچھا اور سستا ٹائم پاس کیا ہوسکتا ہے؟

دیکھو بھیا خرچ کی مجھے کوئی پروا نہیں ہے ۔ میں اگنی ویر تو ہوں نہیں کہ  چار سال بعد پنشن بند ۔ اس لیے سستے مہنگے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

چلیے مان لیا کہ آپ کے لیے مہنگائی کوئی  مسئلہ نہیں ہے پھر بھی آپ سیاست کے بھیشم پتامہ ہیں   ۔خبروں کے چینلس تو دیکھ ہی  سکتے ہیں؟

ارے بھیا ان چینلس پر خبریں کہاں پروپگنڈا ہوتا ہے ۔

یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں گروجی؟

ارے بھیا بار بار  ایک ہی تصویر اور اس کی تعریف سن سن کر میری آنکھیں تھک گئیں اور دماغ پک گیا ہے۔

کلن بولا  وہ چینل والے  بھی کیا کریں ؟ اپنی دوکان چلانے کے لیے ان کی  بھی مجبوری ہے ۔

وہ تو ٹھیک ہے لیکن ہم تو ہر شام ٹیلی ویژن کے پردے پر ہونے والی ہیجان انگیز تماشے کو   نہیں دیکھنے کے لیے آزاد ہیں ۔

جی ہاں گروجی لیکن جو لوگ اس کے عادی ہوچکے ہیں انہیں اس کے سوا نہ کچھ اچھا لگتا ہے اور نہ  بنا دیکھے نیند آتی ہے۔

للن نے ہنس کر کہا کہیں یہ تمہاری مجبوری بھی تو نہیں جو اس قدر وکالت کررہے ہو؟

کلن بولا پچھلے ہفتہ تک تھی لیکن اب میں نے اس پر قابو پالیا ہے۔

کیوں  بھائی ۔ اس ہفتہ میں ایسا کون سا چمتکار ہوگیا ؟ ہمیں بھی تو بتاو ۔

کلن زبردستی مسکرا کر بولا وہ ایسا ہے گروجی کہ مجھے بھی آپ کی طرح   فارغ کردیا گیا  ہے ۔

اچھا ! لیکن تم تو ابھی پچھتر ّ  سال کے نہیں ہوئے ؟ ابھی سے تمہیں سنیاس دینے کی وجہ  سمجھ میں آئی؟

وجوہات تو کئی ہیں ۔

اچھا ہمیں بھی تو دوچار اسباب بتاو۔

فی الحال  پردھان جی ایک ایک کرکے اپنے سے زیادہ تجربہ کار لوگوں کے پر کتر رہے ہیں ۔ اتفاق سے اس چھٹنی میں میرا بھی نمبر آگیا۔

ہاں ہاں تم تو ہمارے ساتھ اٹل جی کی سرکار میں رہے ہو۔ اس وقت انہیں کون پوچھتا تھا ؟

جی ہاں لیکن اب وہ ہمیں نہیں پوچھتے خیر دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ مجھے نائب صدر بنانے پر غور کررہے  ہیں ۔

اچھا  تب تو بہت بہت مبارک ہو۔

شکریہ لیکن ابھی توقف کیجیے کیونکہ ہنوز  فیصلہ نہیں ہوا۔

ارے بھائی  نہیں ہوا تو ہوجائے گا ۔ فکر نہ کرو ۔

یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟  آپ کیا سوچتے ہیں ؟

 میں تو سوچ رہا تھا کہ پچھلی بار ہی مجھے صدر بنادیا جائے گا لیکن بدقسمتی سے  دوسری بار بھی میری گاڑی چھوٹ گئی۔   

کلن بولا گروجی میں آپ کے بارے میں نہیں اپنی بابت پوچھ رہا تھا۔

اوہو غلطی سے چینل بدل گیا خیر اس عمر میں یہ ہوتا ہے۔ دراصل مسلم دنیا میں سرکار کی جو شبیہ بگڑی ہے اس کو سدھارنے کے لیے یہ ضروری ہے۔

جی ہاں مجھے بھی ایسا لگتا ہے لیکن فی الحال  وہ مجھ سے اچھا مسلم امیدوار ڈھونڈ رہے ہیں اگر کوئی نہ ملا تبھی  میری  لاٹری لگے گی۔

للن نے کہا لیکن  کوئی اچھا مسلمان اپنی عزت خراب کرنے کے لیے ان کے جھانسے میں  کیوں آئے گا؟ فکر نہ کرو بالآخر تمہاری ہی باری آئے گی ۔

آپ کے منہ میں گھی شکر لیکن ان دونوں کا کچھ ٹھیک نہیں کبھی بھی کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

للن نے پوچھا اچھا تو یہی خوشخبری سنانے کے لیے آئے تھے کیا؟  میں دعا کرتا ہوں کہ اس بار نائب اور اگلی بار صدر مملکت  بن جاو ۔

جی شکریہ لیکن میں اس  آدھی ادھوری خبر کو دینے  کے لیے حاضر نہیں ہوا ۔

تب پھر کیا سفارش کروانا چاہتے ہو؟

جی  نہیں مجھے پتہ ہے کہ فی الحال راج دربار میں کوئی سفارش نہیں  من مانی چلتی  ہے۔

تب پھر کیا بات ہے ؟

گروجی میں نےپوچھا تھا نا کہ آج کون سا دن ہے ۔ آپ نے جواب نہیں دیا ۔ آج دراصل عید ہے ۔ عید الاضحیٰ ۔

اوہو تم نے پہلے کیوں نہیں کہا ؟ بھائی مبارک ہو ۔ یہ کہہ کر للن نے کلن کو گلے سے لگا لیا۔

کلن بولا برسوں بعد اس سال آزادی کی سانس لی اور قربانی کی ہے ۔ آج ایسا لگا کہ عید منا رہا ہوں ۔

ہاں بھائی کلن اس آزادی کا بھی اپنا لطف ہے۔ بہو کو بھی ہماری طرف سے عید مبارک کہنا ۔

جی ہاں اس نے بھی پرنام کہا ہے۔

اچھا یہ بتاو کہ  اس کو اپنے ساتھ کیوں نہیں لائے؟

وہ ایسا ہے کہ  دیوالی کے موقع پر اس کے ساتھ آوں گا ۔ ابھی چلتا ہوں اجازت دیجیے ۔

ہاں بھائی  اچھا لگتا ہے تم ہر تہوار کے موقع پر آجاتے ہو اسی طرح آتے رہو ۔ اچھا لگتا ہے دل بہل جاتا ہے ۔ پھر سے ایک بار عید مبارک ۔      

 

Comments are closed.