عید الاضحیٰ کے بارہ اہم پیغامات تمام مسلمانوں کے نام

 

مولانابدیع الزماں ندوی قاسمی

چیرمین انڈین کونسل آف فتویٰ اینڈریسرچ ٹرسٹ بنگلوروجامعہ فاطمہ للبنات مظفرپور

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی مومن بندوں کو اس حقیقت سے روشناس کراتی ہے کہ اگر ہم اپنے عہد کے پابند ہیں تو حق کا یقیناًبول بالا ہوگا۔

اللہ سے محبت کے لئے ضروری ہے کہ بندہ اطاعت گزار ہو، اللہ کی ذات پر کامل یقین اور بھروسہ رکھتا ہو،خود کو مکمل طور پر اللہ کے حوالے کردے اور ہراس چیزکواختیار کرے جس میں اللہ کی رضاہواورہراس بات سے پرہیزکرے جواللہ کو ناراض کرنے والی ہو۔

ایک مسلمان کو معلوم ہونا چاہئے کہ خالق کا حق یہ ہے کہ اس کی مکمل اطاعت شعاری کا مظاہرہ کیا جائے اورمخلوق کی حد یہی ہے کہ خالق کے ہر حکم پروہ اپناسرجھکادے اور اس سے ایک قدم بھی روگردانی نہ کرے۔

ایک مسلمان کا یہ ایمان ہونا چاہئے کہ اللہ کا قانون انسان کی پوری زندگی پرمحیط ہے اور اس کی انفرادی ومعاشرتی اور ذاتی اوراجتماعی زندگی کا کوئی جزاس قانون الٰہی سے بالا تر نہیں۔

ہم عید الاضحی کے موقع پر اس عظیم قربانی کی یاد کو تازہ کرتے ہیں جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انجام دیا ، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ یہ عمل صرف ایک رسم بن کر رہ گیا ہے اور اس کے حقیقی پیغام کا قربانی دینے والوں کو نہ احساس ہوتا ہے اورنا ہی اس کا استحضار۔

اس وقت پوری دنیا میں اسلام اورمسلمانوں کے لئے حالات نہایت ہی تشویشناک ہیں، حق و باطل کا نظریاتی معرکہ پورے زوروں پر ہے، باطل اورغیر انسانی نظریات وعقائداوراعمال وافعال کوپوری شدت کے ساتھ فروغ دیا جا رہا ہے۔لادینی قوانین ، انسانیت کی پہچان کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ خود ہمارے ملک میں مسلمانوں کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کی مسلسل سازشیں رچائی جا رہی ہیں۔

اوراسلامی قوانین کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔

اِن حالات میں عید الاضحی ہم سے تقاضہ کرتی ہے کہ جانور کی قربانی پیش کرتے ہوئے ہم یہ عہد کریں کے ہم اللہ کے قانون کے سامنے خودکوسرنگوں کردیں گے اور اس قانون کی بالادستی کے لئے تن من دھن کی بازی لگا دیں گے۔

اس سبق کو ہمیں یاد کرنا ہے کہ حق پراستقامت اور اللہ کی سچی محبت ، تمام رکاوٹوں کو ریزہ ریزہ کردیں گے اور حق تو سربلند ہونے ہی کے لئے دنیا میں آیا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ حق کے عَلم بردار قربانی کے لئے تیار ہوجائیں اورحقیقی قربانی یہ ہے کہ اللہ کے ہر قانون کو ہم بلا چوں وچراتسلیمکرلیں ۔

اِس موقع پرایک اہم پیغام یہ بھی ہے کہ قربانی کے دنوں میں قربانی ضرور کریں لیکن یاد رہے کہ جن حضرات کو اللہ نے کافی مال عطا کیا ہے وہ اپنے نام کے علاوہ مرحومین اور متعلقین کے نام سے کرتے ہیں جو یقیناً باعثِ ثواب ہیں مگر اس وقت نفلی قربانی کے علاوہ سیلاب زدہ غریب بے سہارہ اور پریشان حال لوگوں پروہ مال صرف کریں انشإ اللہ اس سے زیادہ ثواب ملےگا یہ وقت کا تقاضہ ہے۔

قربانی کے بارہ اہم پیغامات :

(1)اس قربانی کے ذریعہ رب اپنے بندوں میں جذبہ ایثار اور فداکاری دیکھنا چاہتاہے۔

(2)قربانی یہ پیغام دیتی ہے کہ تقرب خداوندی کے حصول کی نیت سے حکم ربانی کے سامنے خواہشات نفسانی کو ملیامیٹ کر دیا جائے۔

(3) یہ قربانی ٖ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ جس طرح ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے آقا کے حکم پر لاڈلے لختِ جگراورنورِنظرکو قربان کرنے کا تہیّہ کر کے اپنی واقعی بندگی کاثبوت دیا اُسی طرح ہرانسان کواپنی أَنَا اپنے رب کےحکم کے سامنے فنا کر دینی چاہیے ۔

(4)قربانی یہ پیغام دیتی ہےکہ جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے اپنی عقل اپنے علم اور اپنی رشتہ داری کسی چیز کو بھی اللہ کے حکم کے مقابلے میں ترجیح نہیں دی اُسی طرح ہم کو بھی چاہیے کہ جب خدا کا حکم آ پہنچے تو وہاں نہ اپنی عقل کوترجیح دیں نہ اپنے علم کو نہ کسی اور کو۔

(5) قربانی کا ایک پیغام یہ بھی ہے کہ ہمارے اندر ایثاروقربانی اوراخلاص وللہیت کامزاج پیدا ہو ۔

(6) قربانی میں یہ پوشیدہ پیغام ہے کہ خدا کی رضا کے لئے ناموس رسالت کے لیے اسلام کی ترقی وسربلندی کے لیے ملّتِ بیضا کے عروج کے لیے اپنی خواہشات کو قربان کرنا پڑے تو دریغ نہ کرنا اپنی آرزوؤں کو چھوڑنا پڑے تو تامل نہ کرنا اپنی حسرتوں سے ہاتھ دھونا پڑے توتذبذب کا شکار نہ ہونا مال ومنال جان و اولاد سب راہِ خدا میں نچھاور کردینا یہی عید قربانی کا پیغام ہے اوریہی قربانی کاتقاضا ہے اور یہی موجودہ دور کی ملت کا بھولا ہوا سبق ہے ۔

(7)قربانی، غریبوں، مسکینوں اور عام مسلمانوں کو کھانہ کھلانے، مظلوم اور دکھی انسانیت کی خدمت کا درس دیتی ہے ۔

(8)قربانی توحید کاپیغام دیتی ہے کہ معبود ومسجود صرف ایک اللہ رب العزت کی ذات اقدس ہے اُس کے علاوہ کوئی دوسراعبادت کی کسی بھی قسم کا مستحق نہیں ہے۔

(9)قربانی اتباعِ سنّت کا پیغام دیتی ہے اور یہ کہ خلافِ سنت اعمال قبول نہیں ہوتے ۔

(10)قربانی اللہ کی راہ میں بڑھ چڑھ کر خرچ کرنے کا پیغام دیتی ہے۔

(11) قربانی ، جانوروں پر بھی رحم، شفقت اور نرمی کرنے کا پیغام دیتی ہے۔

(12)قربانی, چند عارضی پابندیوں سے گزار کر مستقل حرام اورممنوع کاموں سے اجتناب کی مشق کرواتی ہے۔

نماز پڑھنے اورقربانی کرنے والے شخص کے دشمنوں کو اللہ تعالٰی کافی ہوجاتے ہیں اور ان کی جڑ کاٹ دیتے ہیں نیز اس شخص کا تذکرہ دیر تک باقی رہتا ہے۔

Comments are closed.