شیوسینا کا مستقبل
عبدالرحمان صدیقی
(ایگزیکٹیو ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
جب شیوسینا میں بغاوت کا عمل مکمل ہوگیا تھا اور شندے وزیر اعلیٰ اور فڈنویس نائب وزیراعلیٰ بن گئے تھے اس وقت ہم نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ یہ حکومت چلے گی ، فی الفور اس کو کوئی خطرہ نہیں ہے، سپریم کورٹ نے بھی جو موقف اختیار کیا ہے اس سے بھی باغی شیوسینکوں کو تقویت ملی ہے۔ ادھوٹھاکرے کے دور اقتدار میں یہ نیا واقعہ تھا لیکن جہاں تک شیوسینا کا تعلق ہے یہاں طاقتور لیڈروں کے پارٹی چھوڑنے کی تاریخ بہت پرانی ہے، بہت سے لوگوں کو یاد بھی نہیں ہے کہ سب سے پہلے شیوسینا چھوڑنے والے لیڈر آنجہانی راما رائو آدک تھے جو بعد میں مہاراشٹر کے صف اول کے کانگریسی لیڈر بنے اور نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے تک پہنچے اس کے بعد چھگن بھجبل ، نرائن رانے، گنیش نائک اور اب ایک ناتھ شندے ۔ ابتدا میں جو جھٹکے شیوسینا کو لگے اس سے شیوسینا باہر آگئی اس مرتبہ ضرب زیادہ کاری لگی ہے، ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ ادھو ٹھاکرے اس جھٹکے سے کیسے باہر آتے ہیں۔
یہ واقعہ جولائی ۱۹۹۸ کا ہے، شیوسینا کے سینئر لیڈرچھگن بھجبل ۱۷ ممبران اسمبلی کے ساتھ شیوسینا چھوڑ کر چلے گئے، شیوسینا کے سربراہ بالا صاحب ٹھاکرے نے اپنے اخبار سامنا کے ۱۸؍ جولائی کے شمارے میں اپنے دستخط کے ساتھ ایک آرٹیکل لکھا جس میں انہوں نے شیوسینا کی سربراہی چھوڑنے کا اعلان کیا اس اعلان کے ساتھ شیوسینکوں میں ہنگامہ مچ گیا ہزاروں کی تعداد میں شیوسینک اور ان کے عقیدت مند ان کی رہائش گاہ ماتوشری اور شیوسینا کے ہیڈ کوارٹر پر پہنچ گئے اور ان پر اپنا فیصلہ بدلنے کےلیے دبائو ڈالنے لگے، بالآخر بالا صاحب ٹھاکرے نے عوام کے بے پناہ اصرار پر اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔
چھگن بھجبل کے اس واقعہ کے ۳۱ سال بعد ادھو ٹھاکرے کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیالیکن یہا ںبالا صاحب ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے کے طریقہ کار میں ایک واضح فرق نظر آیا، بالا صاحب ٹھاکرے پارٹی چھوڑنے والوں کو زندہ یا مردہ اپنے سامنے پیش کرنے کا حکم دیتے تھے، لیکن ادھو ٹھاکرے نے ایسا کچھ نہیں کیا، ۲۹؍ جون کو انہوں نےو زیراعلیٰ کے عہدے اور ایم ایل سی کی سیٹ سے استعفے دے دیا، اور ۲۰ منٹ کی ایک تقریر کی جس میں انہوں نے شیوسینکوں کو پرامن رہنے کی تلقین کی حالانکہ سیاسی تجزیہ نگاروں نے اس کو قطعی غیر ضروری قرار دیا کیوں کہ توڑ پھوڑ کی اکا دکا وارداتوں اور سنجے رائوت کی بیان بازی کے علاوہ کچھ ہوا ہی نہیں اس کے بعد ادھو ٹھاکرے نے حلف لیتے ہی نئے وزیراعلیٰ ایک ناتھ شندے کو مبارک باد دینے میں دیر نہیں کی او راپنے طرز عمل سے یہ ثابت کردیا کہ بدلے ہوئے حالات میں بھی اپنا طرز عمل بدلنے والے نہیں ہیں، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ میں پیشی کے وقت سنجے رائوت کا لہجہ بھی بدلا ہوا تھا۔
ادھو ٹھاکرے نے جس ڈھنگ سے وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ کو خاموشی کے ساتھ چھوڑا وہ بھی کچھ لوگوں کو پسند نہیں آیا، سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ انہیں اسمبلی میں زورد ار تقریر کرکے اپنا موقف پیش کرناچاہئے، سینئر کانگریسی لیڈر اور مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ ادھو کو اسمبلی میں آکر وضاحت کرناچاہئے تھی کہ انہوں نے کانگریس اور این سی پی کے ساتھ مل کر حکومت کیوں بنائی ایسا کرنے کے بجائے انہوں نے فیس بک پر تقریر کرنے پر اکتفا کیا۔ اقتدار سے محرومی کے بعد اب تک ادھو ٹھاکرے نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اپنا طرز عمل تبدیل کرنے والے نہیں۔
آنے والے کچھ دنوں میں بی ایم سی کے چنائو ہونے والے ہیں، اور بی جے پی اور باغی شیوسینکوں کو بھروسہ ہے کہ وہ یہ الیکشن بھی جیت لیں گے اگر ایسا ہوا تو ادھو کی قیادت والی شیوسینا کے لیے ایک اور جھٹکا ہوگا۔ مہاراشٹر اسمبلی او رکارپوریشن چنائو میں ادھو کا ٹریک ریکارڈ بہت اچھا نہیں رہا۔ ۲۰۰۲کے کارپوریشن الیکشن میں بالا صاحب ٹھاکرے زندہ تھے اور کافی حد تک صحت مند بھی لیکن بی ایم سی چنائو ادھو کی سربراہی میں لڑا گیا، شیوسینا کو ۲۲۷ کو صرف ۹۷ سیٹیں ملیں۔ ۲۰۰۷ میں یہ تعداد ۸۴ رہ گئی اور بال ٹھاکرے کی موت کے بعد جب ۲۰۱۲ کے الیکشن ہوئے تو شیوسینا کو ۷۵ سیٹیں ملیں، ۲۰۱۷ میں شیوسینا بی جے پی نے الگ الگ چنائو لڑا تو شیوسینا کو ۸۴ سیٹیں ملیں، اسی طرح اسمبلی چنائو میں ۱۹۹۵ میں شیوسینا کو ۲۸۸ رکنی اسمبلی میں ۷۳ سیٹیں ملی تھیں اور ادھو نے ذمہ داری سنبھالی تو ۲۰۰۴ میں شیوسینا کو صرف ۶۲ اور ۲۰۰۹ میں ۶۳ سیٹیں ملیں اور ۲۰۱۹ میں ۵۶ رہ گئیں اس وقت شیوسینانے بی جے پی سے الگ ہوکر الیکشن لڑا تھا۔
مستقبل میں ادھو کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں اور خود ان کا سیاسی مستقبل کیاہے یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ چھگن بھجبل کی قیادت کے بعد آنجہانی بالا صاحب ٹھاکرے نے اپنے قریبی رشتہ داروں پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ کرناشروع کردیا تھاایسا لگتا ہے کہ ادھو بھی اپنے بیٹے آدتیہ ، اہلیہ رشمی ٹھاکرے اور چند قریبی لوگوں پر ہی انحصار کررہے ہیں، اور باہر والوں سے ان کا رابطہ اور کم ہوجائے گا، جو کچھ دیکھنے میںآرہا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے۔
Comments are closed.