محمد زبیر: اظہار رائے  کی آزادی کا انوکھا مجاہد

 

ڈاکٹر سلیم خان

محمد زبیر کوسپریم کورٹ سے اترپردیش کے معاملےمیں  راحت کا ملنا خوش آئند ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے چونکہ  ان  کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا تھا اس لیے اسے  سپریم کورٹ میں چیلنج کیا  گیا تھا ۔ اس بابت سپریم کورٹ نے  پہلے تو پانچ دن کے لیے  عبوری ضمانت دی تھی مگر اب اس  میں تاحکم ثانی توسیع کر دی گئی ہے۔ اس ضمانت کے باوجود محمد زبیر کی رہائی عمل میں نہیں آسکی تھی کیونکہ پٹیالہ ہاؤس کورٹ کی سیشن عدالت میں ان کے خلاف  دشمنی کو فروغ دینے کے ایک مقدمہ درج ہے۔ وہاں بھی سماعت ہوئی  مگر   محمد زبیر کی درخواست ضمانت  کا معاملہ  14 جولائی تک ملتوی کر دیا گیا، شاید جج صاحب  اول الذکر سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کررہے تھے ۔ سپریم کو رٹ نے  چونکہ محمد زبیر کی ضمانت کے حق میں فیصلہ کردیا  ہے اس لیے توقع ہے کہ دودن بعد وہ رہا ہوجائیں گے ۔ محمد زبیر کے خلاف حالیہ  مہم کی ابتداء 15؍جون سے ہوئی جو تقریباً ایک ماہ کے بعد اس مرحلے  تک پہنچ سکی ۔  

حقائق کی تفتیش کرنے والی ویب سائٹ آلٹ نیوز اور اس کے شریک بانی محمد زبیر کے خلاف اس وقت   ایف آئی آر کرانےوالے کو ایک ہزار کے انعام کا اعلان کیا گیا ۔ یہ   مہم ٹویٹرپر چلائی  گئی اوراس میں کہا گیا   تھاکہ  کسی بھی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام خطے میں پہلی ایف آئی آرکرنے والے کو  ایک ہزار روپئےاور گرفتار کرواکر سزا دلوانے والے کو  50 ہزارانعام ملے گا ۔ مہم چلانے والوں  کو توقع تھی کہ 28 ریاستوں اور 8 مرکز کے زیر انتظام خطوں میں کئی  ایف آئی آر درج کی جائیں گی مگر صرف دو درج ہوئیں ۔ اس کےجواب میں   محمد زبیر کی حمایت  میں زبردست مہم  چل پڑی اور  ایف آئی آر کی مخالفت شروع ہوگئی ۔ لوگوں نے محمد زبیر کو جمہوریت کی آواز قرار دیا اور یہاں تک  لکھا  کہ اگر آپ سچ کا ساتھ دینا چاہتے ہیں تو آپ کو زبیر کا ساتھ دینا ہوگا۔ ریڈیو مرچی کی آر جے صائمہ نے زبیر کو حقیقی محب وطن قرار دیانیزبالی ووڈ اداکارہ سوارا بھاسکر نے بھی زبیر سے اظہار ِیکجہتی کیا۔

دہلی کی  چاپلوس پولیس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا ۔ اس نے 28؍جون کے دن  محمد زبیر پرمذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگا کر  گرفتار کرلیا۔ دہلی پولیس کی ایف آئی آر میں کہا گیا محمد زبیرنے اپنے الفاظ اور تصاویر سے انتہائی اشتعال انگیز اور نفرت کے جذبات بھڑکانے کاکام کیا ہے حالانکہ جس ہنومان اور ہنی مون والی پوسٹ پر اعتراض کیا گیا وہ 1983 میں بنی فلم ‘کسی سے نہ کہنا‘ سے لی گئی  تھی ۔ رشی کیش مکرجی کی اس فلم کو  سنسربورڈ کا سرٹیفکیٹ حاصل ہے اور برسوں سے دکھائی جارہی ہے۔ دوسال پرانے   اس ٹویٹ کو پوسٹ کرکے  بھکت @balajikijai نے ہنومان جی کا ہنی مون سے موازنہ کرنے کو ہندوؤں کی توہین  قرار دیا کیونکہ  وہ برہمچاری ہیں۔ اس سے  معاشرے میں نفرت پیدا کرنے کے الزام  پرکارروائی کرتے ہوئے پولیس نے زبیر کے خلاف آئی پی سی 153 اے اور 295 کے تحت ایف آئی آر درج کرکے نوٹس دیئے بنا گرفتار کر لیا جو سراسر  غیر قانونی حرکت تھی  لیکن امیت شاہ کے تحت کام کرنے والوں کو اس کی پروا نہیں ۔

اس بابت آلٹ نیوز کے بانی  پرتیک سنہا نے یہ دلچسپ انکشاف  کیا کہ زبیر کو 2020 سے ایک الگ معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے دہلی پولیس نے  بلایا تھا ۔ اس معاملہ  میں عدالت نے انہیں پیشگی ضمانت دے رکھی ہے اس لیے  لازمی معلومات فراہم   کیے بغیر ایک  نئے کیس میں گرفتار کر لیا گیا نیز  بار بار کی درخواست کے باوجود ایف آئی آر کی کاپی تک  نہیں دی گئی۔نوپور شرما کی گرفتاری سے نظریں چرانے والی دہلی پولیس نےمحمد زبیر کو جس  ہنومان بھکت کی  شکایت پر گرفتار کیا وہ فی الحال ٹوئٹر  پلیٹ فارم سے غائب ہو گیا ہے۔  زبیر کی گرفتاری کے دن اس ٹویٹر اکاؤنٹ سے صرف ایک ٹویٹ ہوئی تھی اور اس کا صرف ایک فالوور تھا  لیکن  چند ہی دنوں میں اس کے 1200 فالوورز ہو گئےلیکن ان جعلی فالوورز کے ساتھ  یہ اکاؤنٹ اب  پر اسرار طور پر ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔ یہ تفریق و امتیاز کی انتہا ہے کہ پولیس نے محمد زبیر کو  تو گرفتار کرلیا  مگر  شکایت کنندہ سے رابطہ کرنے کی زحمت  نہیں کی اور ڈھٹائی سے یہ بھی کہا کہ اس سے تفتیش پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ فی الحال پولیس شکایت کرنے والے شخص کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی تاکہ  شکایت کے بارے میں پوچھ گچھ کرسکے لیکن اس  پر  کارروائی پہلے ہی  شروع ہوگئی۔ اس کو کہتے ہیں مدعی سست( بلکہ غائب) اور گواہ چست۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ اس نے خوف کی وجہ سے اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا ہو۔یہ عجیب منطق ہے کہ جسے وزیر داخلہ کی پشت پناہی حاصل ہو وہ خوف سے روپوش ہوجائے۔

دہلی پولیس  کوجب  محمد زبیر کے خلاف نفرت انگیزی کے ٹھوس ثبوت نہیں ملے تو اس نے  بیرون ملک سے چندہ لینے کا  الزام لگا کر 35 FCRAکے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ اس کے ساتھ  آئی پی سی 201,120 (B)کے  تحت  شواہد کو تباہ کرنے (فون فارمیٹ اور ٹویٹس کو حذف کرنا)کی سازش کرنے سے جڑی نئی دفعات  بھی لگادی   گئی ۔  ایسا لگتا ہے کہ دہلی پولیس کو  زبیر کا موبائل فون اور ہارڈ ڈسک کے کھنگالنے سے کوئی خاص چیز نہیں ملی اس لیے  اس نے اور اسے  اسے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا حالانکہ ضمانت ہوجانی چاہیے تھی۔ زبیر کی ضمانت کا خارج ہوناملی بھگت کا راز کھول گیا کیونکہ شام ۷؍ بجے جاری ہونے والے حکمنامہ کی اطلاع ڈی سی پی نے دوپہر ڈھائی بجے ٹوئٹر کے ذریعہ دے دی۔   اب دہلی پولیس نے زبیر کے بینک کی تفصیلات ای ڈی کو سونپ دی ہیں۔ یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس کے اکاؤنٹ میں پچھلے تین ماہ کے اندر 56 لاکھ روپے آئے ہیں۔ یہ کوئی بہت بڑی رقم نہیں ہے اتنا کو مہاراشٹر کے باغی ارکان اسمبلی کی عیش و عشرت پر ایک ہفتے میں خرچ ہوگیا ۔ محمد زبیر کو اگر کچھ چھپانا ہوتا تو وہ رقم اپنے بنک میں کیوں منگواتا؟

  آلٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا نے اس الزام کو سفید  جھوٹ قرار دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ  پولیس آلٹ نیوز کے ذریعہ حاصل کردہ چندے  کو محمد زبیر سے جوڑ رہی ہے۔ان کے مطابق  آلٹ نیوز کو حاصل ہونے والا سارا پیسہ کسی شخص کو نہیں بلکہ تنظیم کے بینک  کھاتے میں جاتا ہے، ۔ محمدزبیر کے ذاتی  اکاؤنٹ کا  بینک روزنامچہ  اس جھوٹ کو خارج کرتا ہے۔محمد زبیر کے نام پر  ہواّ کھڑا کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ  امریکہ میں  ہندوراشٹر کےنظریہ  کو پھیلانےکے لیے جو  24 تنظیمیں کام کرتی ہیں ان کی کل مالیت کم از کم97.7 ملین ڈالرہے۔ بی جے پی کی  حکومت کے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے  2001 سے 2019 تک ان میں سے سات خیراتی گروپوں نے کم از کم158.9 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اس  رقم کا تقریباً نصف، 85.4 ملین ڈالر، 2014 اور 2019 کے درمیان خرچ کیا گیا تھا ۔کہاں 1200کروڈ اور کہاں 56 لاکھ روپیہ ،  اس کے باوجود اس قدر خوف ! ایسے ڈرپوک لوگوں کو حکومت کرنے کا کوئی حق ہی نہیں ہے۔

نوپور شرما کے معاملہ میں جس طرح حکومت کی قومی اور عالمی سطح پر رسوائی  ہوئی وہی معاملہ محمد زبیر کے ساتھ بھی ہونے جارہا ہے۔ پریس کلب آف انڈیا نےمحمد زبیر کی گرفتاری پر سوال اٹھائے ہیں۔ اس کے مطابق  یہ ستم ظریفی ہے کہ دہلی پولیس کے ذریعہ محمد زبیر کی گرفتاری ایک ایسے دن ہوئی ہے جب ہندوستان نے آن لائن اور آف لائن اظہار رائے اور رائے کے دفاع کی خاطر G7 اور دیگر چار ممالک کے ساتھ  معاہدہ کیا۔ اس طرح مودی جی منافقت جگ ظاہر ہوگئی ۔  پریس کلب نے محمد زبیر کو فوری رہا  ئی  کا مطالبہ بھی  کیا ۔ ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے محمد زبیر کی گرفتاری کو’’انتہائی تشویشناک‘‘ اور’’بے شرمی ‘‘قرار دیا ۔اس موقر ادارے نے  اپنے بیان میں کہا  کہ زبیر اور ان کی ویب سائٹ آلٹ نیوز نے  برسوں  تک جعلی خبروں کی نشاندہی کرنے اور پروپیگنڈہ مہم کا مقابلہ کرنے کے لیے بہت ہی معروضی اور حقائق پر مبنی مثالی کام کیا ہے۔ یہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ  صحافی برادری  کی متحد ہ حمایت کے باوجود حکومت کی پشت پناہی میں   انتظامیہ محمد زبیر کو پریشان کررہا ہے۔

نوپورشرما کی بدزبانی کی طرح محمد زبیر کی گرفتاری کا معاملہ بھی ملک کی سرحدوں کے  پار اقوام متحدہ  تک پہنچ چکا ہے۔ یو این او کے  سربراہ انتونیو گوٹیرس کے ترجمان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے  کہا کہ صحافیوں کو ان کی تحریر، ٹویٹ اوربیان  پر جیل میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ہراسانی  کے خطرات سے بےخوف  اظہار رائے کی آزادی ہو نی چاہیے۔ صحافی زبیر کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے کہا ،’’ دنیا  بھر میں لوگوں کو آزادی سے اظہار خیال کرنے کی اجازت بہت ضروری ہے کہ ۔ صحافیوں کے لیے  آزادانہ طور پر اظہار خیال کا موقع ہونا چاہیے – ان کے ساتھ  دھونس  دھمکی یا ہراسانی کا معاملہ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ زبیر کی گرفتاری سے متعلق ایک سوال کے جواب  میں انہوں نے کہا، ’’صحافی جو کچھ لکھتے ہیں، جو ٹویٹ کرتے ہیں اور جو کچھ کہتے ہیں اس کے لیے انہیں جیل میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ اور وہ اس کمرے سمیت دنیا میں کہیں بھی جا سکتے ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ میں  انسانی حقوق کے ادارے نے اس سے قبل  تیستا  سیتلواڑ کی گرفتاری پر بھی  تشویش کا اظہار کرکے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا  لیکن موجودہ حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔وہ تو نوپور شرما کو گرفتاری سے بچانے میں غرق  ہے لیکن امید ہے نوپور شرما کو عدالت عظمیٰ میں جو پھٹکار ملی وہی کہانی محمد زبیر کے معاملہ میں بھی دوہرائی جائے گی  اور بزدل دشمنانِ حق کو شکست فاش سے دوچار ہوکر سرخ رو ہوں گے۔ وطن عزیز میں اظہار رائے کی آزادی کی تاریخ  جب بھی لکھی جائے گی  تو اس میں محمد زبیر کا نام سنہرے حروف میں لکھا ہو گا کیونکہ ایک ایسے وقت میں جب گودی میڈیا کے نام نہاد صحافی سرکار کا تلوے چاٹنا اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے تھے زبیر جیسے لوگوں نے اپنی  جان جوکھم میں ڈال کر حریت کا پرچم بلند کیا  ۔ تاریخ ہمیشہ دلیروں کو اچھے ناموں سے یاد کرتی ہے اور بزدل ابن الوقتوں کے چہرے پر  بدنامی کی کالک پوت دیتی ہے۔  بقول احمد مشتاق(ترمیم کے ساتھ)

اہل ہوس تو خیر ہوس میں ہوئے ذلیل                     وہ بھی ہوئے خراب، صحافت  جنہوں نے کی

(۰۰۰۰۰۰جاری)

Comments are closed.