سری لنکا کی عبرت ناک صورت حال سے کیاہم سبق لے سکتے ہیں ؟

یاد رکھئے جمہوریت کے ستونوں کو منہدم کرکے کوئی بھی ملک ترقی کی عمارت تعمیر نہیں کر سکتا
کلیم الحفیظ
تاریخ کے مطالعہ سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی فرقہ پرستی ، تعصب ، نفرت اور ناانصافی کو فروغ دیا گیا اور آئینی اداروں کو کمزور کیا گیا وہاں صرف و صرف تباہی ہاتھ آئی ہے۔جمہوریت کے چار اہم ستون ہوتے ہیں پہلا عدلیہ ،دوسرا عاملہ ،تیسرا مقننہ اورچوتھا صحافت۔یہ جمہوریت کی طاقت اور روح ہیں چنانچہ اگر ان کو کمزور کیا گیا تو ملک کو سری لنکا جیسا خطرہ لاحق ہوتا ہے ۔ جمہوریت میں اگر اقلیتوں کو ان کا حق نہیں دیا گیا اور ان کے ساتھ ظلم و زیادتی کی گئی تواس کا اثر دوسرے ملکوں سے ہونے والی سرمایہ کاری پر پڑتا ہے اور ملک ترقیاتی امور میں زوال پذیر ہو جاتا ہے۔ فرقہ پرستی ہو یا قوموں سے تعصب یا پھر نفرت و ناانصافی یہ وہ عمل ہیں جن سے تشدد برپا ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ صرف ملک کی تباہی ہے۔دنیا کے ان ملکوں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ جہاں فرقہ پرستی ، نفرت ،ناانصافی اور تعصب کا بول بالا ہے اور تشدد تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ان میں شام ، افغانستان ، پاکستان ،کوریا اور موجودہ منظر نامہ میں سری لنکا کو دیکھا جا سکتا ہے۔حال ہی میں آئی ایک رپورٹ کے مطابق ملک شام عالمی امن کی درجہ بندی میں 161؍ویں رینک پرہے جبکہ جی ڈی پی کی درجہ بندی میں یہ ملک 139؍ویں نمبر پر ہے۔ عالمی امن کی درجہ بندی میں افغانستان کا مقام 163؍ویں نمبر پر ہے جبکہ جی ڈی پی کی درجہ بندی میں اس کا مقام 122 ؍واں ہے ۔ عالمی امن کی درجہ بندی میں کوریا152؍ویں رینک پر ہے جبکہ جی ڈی پی کی درجہ بندی میں یہ ملک 135؍ویں رینک پر ہے۔پڑوسی ملک پاکستان بھی عالمی امن کی درجہ بندی میں 147؍ویں رینک پر ہے جبکہ جی ڈی پی کی درجہ بندی میں اس کا رینک 44؍ویں نمبر پر ہے۔اگر خود اپنے ملک کی بات کریں تو عالمی امن کی درجہ بندی میں ہندوستان کا مقام 135؍واں ہے جبکہ جی ڈی پی کی درجہ بندی میں یہ پانچویں مقام پر ہے ۔اس کے ساتھ ہی اب اگر ہم ان ممالک کا ذکر کرتے ہیں کہ جہاں تشدد نہیں ہے، نفرت ، فرقہ پرستی اور تعصب بہت کم ہے وہاں کے حالات کافی اچھے ہیں ۔ ان میں جاپان ، کناڈا ، جرمنی ، آسٹریلیا وغیرہ کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ عالمی امن کی درجہ بندی میں جاپان10؍ویں مقام پر ہے جبکہ جی ڈی پی کی درجہ بندی میں یہ ملک تیسرے نمبر پر ہے ۔عالمی امن کی درجہ بندی میں کناڈا 12؍ویں نمبر پر ہے جبکہ جی ڈی پی کی درجہ بندی میں یہ ملک 8؍ویں نمبر پر ہے ۔عالمی امن کی درجہ بندی میں جرمنی کا مقام 16؍واں ہے جبکہ جی ڈی پی کی درجہ بندی میں اس کا مقام چوتھا ہے ۔اس کے بعد آسٹریلیا کا نمبر ہے ۔ عالمی امن کی درجہ بندی میں آسٹریلیا کا مقام 27؍واں ہے جبکہ جی ڈی پی کی درجہ بندی میں اس کا مقام 13؍واں ہے ۔اب لازمی ہو جاتا ہے کہ سری لنکا کا بھی ذکر کیا جائے کیونکہ سری لنکا میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ عبرت کا مقام ہے ۔ سری لنکا کی موجودہ صورت حال تو آپ کے سامنے ہے جس کا ذکر تفصیل سے کیا جائے گا لیکن جو 2021-22کی رپورٹ ہے اس کے مطابق عالمی امن کی درجہ بندی میں یہ ملک 90؍ویں مقام پر تھا جبکہ جی ڈی پی کی درجہ بندی میں 65؍ویں مقام پر پہنچ گیا تھا۔اس رپورٹ کے بعد جو سری لنکا کا حال ہوا ہے اور وہاں حکومت کے خلاف جو بغاوت سامنے آئی ہے وہ حیران کرنے والی ہے ۔دو روز قبل سری لنکا کے صدر جمہوریہ کی رہائش پر عوام نے قبضہ کر لیا۔صدر جمہوریہ کو گھر چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرنی پڑی ۔وزیر اعظم کے مکان کو نذر آتش کر دیا گیا ۔اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا ؟ عوام اس قدر ناراض کیوں ہو گئے ؟ اس صورت حال کے لیے ذمہ دار کون ہے ؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا علم ہونا ضروری ہے اور اس کا علم راقم کے خیال میں دنیا کے ہر ملک کو رکھنا چاہئے۔میڈیا کے مطابق بودھیسٹوں کے ذریعہ سری لنکا میں مسلم مخالف مہم چلائی گئی تھی۔ حلال کا بائیکاٹ کیا گیا تھا ۔مسلمانوں کی مسجدوں ، دکانوں ،گھروں پر حملے کیے گئے تھے ۔ ان کو تباہ کیا گیا تھا۔ وہاں جو صدر کے لیے انتخابات کرائے گئے تھے وہ مذہبی منافرت اور تقسیم کی بنیاد پر ہوئے تھے۔ایک ملک ایک قانون کو نافذ کرنے کے لیے متنازعہ مونک کو ٹاسک فورس کیذمہ داری سونپی گئی تھی ۔لیگل ریفارم کے لیے بھی مونک کو پینل میں شامل کیا گیا۔ عیسائیوں کے خلاف تحریک چلائی گئی تھی اور ان کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا ۔تمل ہندوئوں کے خلاف مہم چلائی گئی ۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ان سب باتوں کے لیے راج پکشے حکومت ذمہ دار ہے؟وہاں کی حکومت اور وہاں کے گودی میڈیا نے اقتصادی صورت حال کو نظر انداز کیا۔محکمہ سیاحت، محکمہ زراعت اور محکمہ اقتصادیات کو بدعنوانی کے سبب خطرے میں ڈالا گیا ۔کورونا جیسی قدرتی آفات بھی آتی ہیں تو ان کا مقابلہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب حکومت کی اقتصادی پالیسیاں اچھی ہوں ورنہ سری لنکا جیسا حال ہو جاتا ہے ۔سری لنکا میں مہنگائی شباب پر تھی لیکن اس کی طرف سے ذہن کو بھٹکایا گیا اور اس پر مذہبی منافرت کی چادر ڈال دی گئی تھی ۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کو ملک کی سچائی بتائے۔ وہ دکھائے کہ آخر ملک کس راہ پر چل رہا ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا لیکن گودی میڈیا نے ایسا نہیں کیا ،اس نے سچ کو چھپائے رکھا اور نفرت ، تعصب ، فرقہ پرستی وناانصافی کو بڑھاوا دیا ۔یہی وجہ ہے کہ حالات اندر ہی اندر خراب سے خراب تر ہوتے گئے اور پھر جب اچانک حالات دھماکہ خیز ہو گئے اور لوگوں کو معلوم ہوا کہ ان کے پیر کے نیچے سے زمین نکل چکی ہے تو افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔لوگ حکومت کے خلاف کھڑے ہو گئے جس کی تصویر سامنے ہے ۔سری لنکا کو غیر ملکی کرنسی کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ایندھن ، خوراک و رسد اور دوا جیسی ضروری اشیاء کی درآمد کو محدود کر دیا تھا۔اس کی وجہ سے ہی اقتصادی افراتفری پیدا ہو گئی اور عوام نے حکومت کے خلاف مورچہ کھول دیا۔9؍مئی سے عوامی بغاوت شروع ہوئی اور محض دو مہینے میں پوری حکومت پر قبضہ کر لیا ۔سری لنکا کے وزیر اعظم رانل وکرم سنگھے نے استعفیٰ دے دیا تھا باوجود اس کے عوام کا غصہ کم نہیں ہوا تھا اور انھوں نے ان کی رہائش گاہ میں آگ لگا دی۔ راقم کو لگتا ہے کہ سری لنکا میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ عالمی تاریخ میں عبرت کا مقام ہے ۔اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ کوئی بھی ملک فرقہ پرستی ، نفرت ، تعصب ، ناانصافی کے ذریعہ نہیں چلے گا بلکہ عدل و انصاف ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، بھائی چارے اور پیار و محبت کے ذریعہ چلے گا ۔سری لنکا میں گزشتہ 70؍سال بعد ایسی تصویر سامنے آئی ہے کہ جب ملک اقتصادی طور پر خستہ حالی کا شکار ہو گیا ۔راقم کو لگتا ہے کہ بات صرف اقتصادی زوال نہیں بلکہ منظم سازش کے تحت عوام کو جس طرح سے گمراہ کیا گیا اور نفرت کا ماحول پیدا کیا گیا عوام اس کی وجہ سے بھی کافی غصہ میں تھے اور اسی کے خلاف وہ کھڑے ہوئے ۔اتفاق سے سری لنکا ہندوستان کا پڑوسی ملک ہے ۔سری لنکا کے حالات پر قابو پایا جا سکے اس کے لیے ہمارے ملک ہندوستان نے اس کی مالی مدد بھی کی تھی ۔ ہندوستان نے سری لنکا کو مالی تنگی سے نکالنے کے لیے 3.8؍ بلین ڈالر کی مدد کی تھی لیکن اس کا کوئی فائدہ نظر نہیں آیا ۔بہر کیف آخر میں یہی کہنا مقصود ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے عدل و انصاف کو قائم کرے۔ اقلیتوں کا خاص خیال رکھا جائے ۔ فرقہ پرستی ، نفرت ،ناانصافی و تعصب کو لگام دی جائے ۔آج جب ہم سری لنکا کی بات کر رہے ہیں تو سوشل میڈیا پر کچھ باتیں ہندوستا ن کے تعلق سے بھی منظر عام پر آرہی ہیں اور ملک کے جو حالات ہیں اس کا موازنہ سری لنکا سے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔یہاں تک خوف ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر ملک ہندوستان نے اپنا جائزہ نہیں لیا تو مستقبل قریب میں یہاں کے حالات بھی دھماکہ خیز ہو سکتے ہیں ۔میڈیا پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں ان میڈیا کے لوگوں کو بھی پھٹکار لگائی تھی کہ جو ایک خاص ایجنڈے پر کام کرتے ہیں ۔راقم کا خیال ہے کہ سری لنکا میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں اس سے پوری دنیا کو سبق لینا چاہئے اور خود کی اصلاح کرتے ہوئے ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانا چاہئے ۔

 

Comments are closed.