عالم ِ اسلام کو پُر امن اور کامیاب حج مبارک ہو

ڈاکٹر محمد یوسف حافظ ابو طلحہ
کورونا مہاماری میں نہ جانے دنیا کے کتنے سسٹم اور کتنی سرگرمیوں پر ضرب لگی ہے اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے، رب العالمین کی مشیت کہ اسی کے سبب حج جیسی عظیم عبادت میں اللہ کے بندوں کی شرکت بھی دوسالوں سے بری طرح متاثر تھی، سال (1441ھ =2020ء) کے حج میں صرف دس ہزار حجاج نے شرکت کی، اور سال (1442ھ = 2021) کے حج میں صرف ساٹھ ہزار لوگوں کو حج کی سعادت نصیب ہو سکی، ان دو سالوں میں شرکائے حج کی یہ مختصر تعداد صرف سعودی شہری اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے سعودی عرب میں مقیم افراد تک محدود تھی، بیرونِ سعودی عرب سے عازمین حج کی کوئی شرکت ان دو سالوں میں نہ ہوسکی،یہ بھی حالات وظروف کی نزاکت کے پیش نظر اربابِ عقل ودانش کی نگاہ میں یقینا ایک حکیمانہ فیصلہ تھا۔
سالِ رواں (1443ھ = 2022ء) کے حج میں بہت سارے عازمین حج بالخصوص بیرونِ سعودی عرب کے عازمین کا خواب شرمندہء تعبیر ہوا، مہاماری میں گزرے دو سال کے بعد یہ پہلا حج ہے جس میں دنیا کے چپے چپے سے آئے ہوئے تقریبا نو لاکھ حاجیوں نے شرکت کی، اور اللہ کے فضل وکرم سے سال رواں کا حج اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ نہایت پُر امن، پُر سکون، کسی طرح کا کوئی قابل ذکر دلخراش حادثہ نہیں، کسی طرح کی بد امنی نہیں، کسی طرح کی انارکی نہیں؛ اسی لیے پوری امت کی زبان پر رب کریم کے حضور حمد وشکر کے کلمات جاری ہیں، اور سعودی حکومت کو چو طرفہ مبارکبادیاں اور دعائیں مل رہی ہیں، حجاج کرام کی زبان پر بھی اس حکومت کے لئے دعائیں اور شکر وسپاس کے کلمات جاری ہیں۔
سعودی حکومت نے اللہ کی توفیق وتائید سے مکمل تیاری کے ساتھ حج کو پر امن، آسان اور کامیاب بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی، اپنی تمام تر توانائیاں، تمام تر وسائل وامکانات کو حجاج کرام کی خدمت میں لگادیا، وزارتِ حج، وزارت داخلہ، وزارت دفاع، وزارت صحت، وزارت برائے دیہی وشہری امور، وزارت برائے اسلامی امور اور دیگر وزارتوں نے اپنے اپنے دائرے میں اپنا نمایاں کردار ادا کیا، اور اللہ کی توفیق سے تمام کوششیں بار آور ثابت ہوئیں، اور حج کا یہ موسم اپنی تمام تر رونقوں اور رعنائیوں کے ساتھ اپنے آخری پڑاؤ تک پہونچا۔
ذیل میں چند اعداد وشمار پیش کیے جارہے ہیں تاکہ اس جہد محکم اور سعی پیہم کا قدرے اندازہ ہوسکے جو سعودی حکومت نے اس راہ میں صرف کی ہے۔
حجاج کرام کی کل تعداد: آٹھ لاکھ ننانوے ہزار تین سو ترپن (8,99,353) ہے جن میں بیرون سعودی عرب سے آئے ہوئے حجاج کی تعداد سات لاکھ اناسی ہزار نو سو انیس (7,79,919) ہے اور اندرون سعودی عرب سے آئے ہوئے حجاج (جس میں سعودی شہری اور مقیمین سب داخل ہیں) کی تعداد ایک لاکھ انیس ہزار چار سو چونتیس (1,19,434) ہے۔
ان حجاج کی خدمت پر مختلف سرکاری اور پرائیوٹ شعبوں کی طرف سے مامور افراد کی کل تعداد: دو لاکھ اٹھائیس ہزار سات سو اکیس (2,28,721) ہے، جن میں مفتیان کرام، فوجی اور تحفظاتی عملہ، طبی عملہ، بلدیاتی عملہ، حمل ونقل کا عملہ، پانی بجلی اور کمیونیکیشن کی خدمات پر مامور عملہ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ سب داخل ہیں۔ اگر مجموعی حیثیت سے حجاجِ کرام کی تعداد کے حساب سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے حجاج کی خدمت پر مامور افراد کی نسبت نکالی جاتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ہر چار حاجی پر ایک فرد خدمت پر مامور ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سعودی حکومت حجاج کی خدمت کے تئیں اکثر عملہ کی عملی تربیت کے ساتھ ساتھ ذہنی تربیت بھی کرتی ہے کہ وہ عازمین حج کی خدمت کو اپنے لئے شرف وسعادت سمجھیں، اور اس ذہنی تربیت کا اثر گاہے بگاہے بہت سارے عملہ کی خدمات میں جھلکتا بھی ہے۔
حجاج کی سہولت کے خاطرسعودی حکومت نے عملہ کی کثیر تعداد کے ساتھ ساتھ درج ذیل مراکز ووسائل کا بھی خصوصی نظم کیا : (23) ہسپتال، (152) ہیلتھ سینٹرز، (97) ایمبولینس سروس سینٹرز، (511) ایمبولینس، (6) ایمرجنسی طیارے، (38) پولیس سٹیشن، (223) ٹریفک سینٹر، (114) انٹری چیکنگ پوائنٹ، (220) سول ڈیفنس سینٹر، (5) پاور پلانٹس، (197) فائیوجی بیس سٹیشن، (10,266) وائی فائی پوائنٹس، (16) پوسٹ آفسیز، (35) ٹرینیں، اور (17,072) بسیں۔
حجاج کے لئے مکہ اور مدینہ میں قیام کے دوران: ستاون لاکھ پانچ ہزار آٹھ سو چونسٹھ (57,05,864) لیٹر آب زمزم کی سپلائی کی گئی، اس کے علاوہ دو کروڑ سات لاکھ (20,700,000) مکعب میٹر پینے کا پانی کا نظم کیا گیا۔
مسجد حرام اور مسجد نبوی میں عازمینِ حج اور زائرین کی گوناگوں خدمت کے لئے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی جدید ترین تکنالوجی سے لیس سمارٹ روبوٹس کا استعمال کیا جانے لگا ہے: جیسے مصلیان وزائرین کے مابین مصاحف کی فراہمی کے لئے، آب زمزم کی فراہمی کے لئے ، فتوی دریافت کرنے کے لئے، سینیٹائزیشن کے لئے، اور خدماتِ حج سے متعلق حجاج کی رائے کو جاننے کے لئے۔
اللہ تعالی سعودی حکومت کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے، اور ہر اس شخص کو دنیا وآخرت میں بہترین بدلہ دے جس نے حجاج کرام کی سچی خدمت کی ہے، اور حجاج کرام کے حج کو قبول فرمائے۔

Comments are closed.