قومی نشان کے خونخوار شیر
ڈاکٹر عابد الرحمن ( چاندور بسوہ)
وزیر اعظم مودی جی نے پارلمنٹ کی نئی بلڈنگ کی چھت پر قومی نشان کی مورتی کی نقاب کشائی کی۔ اس کے بعد یہ تنازعہ کھڑا ہوا کہ قومی نشان کی مورتی میں جو شیر بنائے گئے ہیں وہ خونخوار ڈراؤنے اور دہاڑتے ہوئے ہیں جبکہ بنارس کے قریب سارناتھ میوزیم میں موجود قومی نشان کی اصل مورتی میں جو شیر ہیں وہ خونخوار اور ڈراؤنے نہیں بلکہ شاہانہ شان سے بیٹھے پرسکون اور احساس تحٖفظ دلانے والے ہیں۔ یہ تنازعہ اٹھنےکے بعد اسے بنانے والے ایکسپرٹس نے یہ صفائی دی ہے کہ پارلمنٹ پر لگائی گئی مورتی چونکہ قومی نشان کی اصل مورتی سے کئی گنا بڑی ہے اور اسے بہت نیچے سے ہی دیکھا جاسکتا یا اسکی فوٹو لی جا سکتی ہے اس لئے ایسی دکھائی دے رہی ہے ۔ لیکن یہ صفائی کافی نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہے تو دور سے دیکھے جانے پر تو یہ سمجھ میں ہی نہیں آنا چاہئے کہ ان کے منھ کھلے ہیں یا بند ، اسی طرح ان کے دانت جو باہر دکھائی دے رہے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ان میں بھی دور و نزدیک کا کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے ۔ ویسے قانونی طور پر قومی نشان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی کرنا قابل تعزیر جرم ہے تو اسے بناتے وقت یہ خیال رکھا جانا چاہئے تھا کہ دور سے بھی یہ ویسی ہی دکھائی دے جیسی حقیقت میں ہے ۔اس ضمن میں حزب اختلاف اور سماجی کارکنوں نے جب اس پر تنقید کی تو حکومت نے اس کی جانچ کروانے اور ضروری تبدیلی کر اسے اصل حالت میں لانے کی یقین دہانی کروانے کے بجائے اسے بنانے والوں کی سائڈ لینی شروع کردی ۔ یعنی جو کچھ بھی ہوا وہ حکومت کی مرضی و منشاء کے مطابق ہی ہوا ہے ۔ جس کے بعد حکومت کے حواریوں نے اس کے دفاع میں سوشل میڈیا کا میدان کارزار گرم کر رکھا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ بھارت کے دہاڑنے کا وقت ہے ، کوئی کہہ رہا ہے کہ ۱۹۴۷ کے شیر سرکس کے شیروں کی طرح غلام تھے جبکہ ۲۰۲۲ کے یہ شیر ہمت طاقت فخر اور اعتماد کی صحیح تصویر کشی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شیر کے دانت ہے تو وہ دکھائے گا ہی ۔۔۔ یہ شیر کاٹ بھی سکتا۔لیکن سوال ہے کہ یہ کسے کاٹ سکتا ہے؟یہ دانت کسے دکھائے جارہے ہیں ، یہ دہاڑ کس کے خلاف ہے ؟ ہم کیا ، ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ یہ بہادر شیر کمزوروں اور پچھڑوں کو نشانہ بنارہے ہیں اور یہ بھی وہ لوگ ہیں جو بھارت کے شہری اور اس کے ہر انچ کے اتنے ہی حصہ دار اور حق دار ہیں جتنے کہ قومی نشان کے محافظ شیروں کو خونخوار بنانے والے ہیں ۔ ہم دیکھ رہے ہیں یہ خونخوار شیر ان لوگوں پر حملہ آور ہیں جو ان کے مذہب سے الگ مذہب کے ماننے والے ہیں ، یہ ان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں جو ان کے سیاسی اور سماجی نظریہ کو نہیں مانتے، یہ ان لوگوں پر دہاڑ رہے ہیں جو ان کی معمولی مخالفت بھی کرتے ہیں یہ ان کو دانت دکھا رہے ہیں جو انصاف کے لئے لڑ رہے ہیں ان کو کاٹ کھانے کے لئے دوڑ رہے ہیں جو ان کے جھوٹ کواجاگر کرنے کا کام کررہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان شیروں کی خونخواری نے ملک کے مختلف قومی مذہبی لسانی اور علاقائی گروہوں میں صدیوں سے چلی آرہی ہم آہنگی ، امن ،سلامتی ، ہمدردی اور ایک دوسرے کے لئے اڈجسٹ کرنے کے جذبے یعنی گنگا جمنی تہذیب کو نوچ پھاڑ کر کس بری طرح مارڈالا ہے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس خونخواریت نےکس طرح اپنے مذہب کو مکمل اور آدرش مذہب بناکر پیش کرنے کے بجائے دوسرے مذاہب اور ان کے ماننے والوں کے خلاف ایک جارحانہ مذہب بنا کر پیش کیا اور ملک کے اکثریتی سماج کو اسی رنگ میں رنگ دیا ہے ۔ستیندر پی ایس نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ” پر تشدد بنانے اور پرتشدد نظر آنے کی ایک مہم چل رہی ہے ، اک آدھ بھگوان بچے ہوئے تھے ہندوستانی معاشرے میں جن کا چہرہ پر تشدد نہیں تھا ۔ ‘ بھگوان رام اور ہنومان’ کو خون نہیں چڑھا یا جاتا ہے۔۔ رام رام تاؤ، رام رام بھیا اور رام نام ستیہ ہے ‘ ہمارے دیکھتے دیکھتے ہی ‘جئے شری رام میں بدل گیا’۔ "ہم بھی دیکھ چکے ہیں کہ پہلے ٹی وی اور اخباروں میں ہندو دیوتا رام کی تصاویر ایک پر سکون اور آشیرواد دینے والے بھگوان کی ہوتی تھیں جو اب تیر کمان والے جارح دیوتا سے بدل گئی ہیں ، اور ‘جئے شری رام’ کا نعرہ اعلان جنگ ہو گیا ہے ، یہی نعرہ ہے جو مسلمانوں کے خلاف جابجا استعمال ہوا ، کئی واقعات ہو چکے ہیں کہ مسلمانوںاور مخالفین کو یہی نعرہ لگانے کے لئے مجبور کیا گیا اور یہی نعرہ مسلمانوں کی لنچنگ میں بھی استعمال ہوا ۔اب پارلمنٹ یعنی جمہوریت کے پہلے اور بنیادی ادارے کی عمارت پر لگائے گئے قومی نشان کی مورتی میں اشوک کے امن کے شیروں کو خونخوار شیروں سے بدلنا اور آئینی طور پر سیکولر ملک کے وزیر اعظم کا ہندو راشٹر کے راجا کی طرح اپنے مذہب کی پوجا پاٹ کے ذریعہ اس کی نقاب کشائی کرنا دراصل اشارہ ہے کہ کثرت میں وحدت والا یہ ملک کثرت کو بزور قوت ایک مخصوص مذہبی اور تہذیبی وحدت میں شامل کرنے کے ایک پڑاؤ پر پہنچ گیا ہے ، جو اس میں شامل نہیں ہوگا یا اس کی مخالفت کرے گا اسے اس مخصوص وحدت سے الگ کر رکھا جائے گا ،جو اس کی اور اس دیش کے راجا اور اس کی راج نیتی کے خلاف جائے گا ، جو بھی مان کر نہیں دے گا اسے یہ خونخوار شیر کاٹ کھائیں گے۔
(جمعہ ۱۵ جولائی ۲۰۲۲ )
dr.abidurrehman@gmail.com
Comments are closed.