عدم اعتمادتحریک:سپریم کورٹ کافیصلہ
سمیع اللہ ملک
جس امریکی سازش کابہت چرچاہورہاہے اورساری قوم کوامریکی غلامی سے نکالنے کیلئے کبھی ’’مکمل آزادی‘‘اورکبھی’’جہاد‘‘کا نعرہ بلندکیاجارہاہے،اس کے متعلق سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پرمشتمل بینچ کامتفقہ فیصلہ آگیاہے۔لیکن ضروری ہے کہ پہلے اس سازش کی حقیقت کوجان لیاجائے کہ آخریہ کیاقصہ ہے کہ جس نے قوم کومزیدانتشارمیں مبتلاکردیاہے ۔ موجودہ صورتحال میں بہت سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں،خصوصاًیہ کہ سب کیوں اورکیسے ہوااورکیاواقعی یہ امریکی سازش ہے اورموجودہ حکومت اوران کے اتحادی اس سازش کاحصہ ہیں؟اس مبینہ’’سازش‘‘کے مرکزی کردارپرتفصیلی نظر ڈالنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کی صداقت کااجمالی جائزہ لیاجائے ۔
عمران خان نے27مارچ کواسلام آبادمیں ایک جلسہ عام سے خطاب کے دوران الزام عائدکیاکہ کہ امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈلونے امریکامیں تعینات پاکستانی سفیرسے کہاکہ’’اگرعمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتمادکامیاب ہوئی تووہ پاکستان کومعاف کردیں گے۔‘‘عمران خان کااصرارہے کہ ڈونلڈلواس امریکی سازش کاحصہ ہیں جس کا مقصد ان کی حکومت کوہٹاناتھالہذا انہوں نے انتہائی عجلت میں پہلے عدم اعتمادکی تحریک کوبغیررائے شماری کے اپنے ڈپٹی سپیکرسے مستردکروایااوراس کے چندمنٹ بعد خودہی اسمبلی تحلیل کرکے قبل ازوقت الیکشن کااعلان کردیااورصدرپاکستان کواس کانوٹس جاری کرنے کاکہہ دیاجس پرفوری طورپرعدالت عالیہ نے اس تمام غیرآئینی اقدامات کومستردکرتے ہوئے پارلیمنٹ کوبحال کرکے آئینی طورپرعدم اعتمادپررائے شماری کرنے کاحکم جاری کردیا۔
ڈونلڈلونے عمران خان کی جانب سے اپنے اوپرلگنے والے بیان کاجواب تونہیں دیاالبتہ امریکی دفترخارجہ نے ان الزامات کی بھرپور تردیدکردی۔ڈونلڈلوجنوبی اوروسطی ایشیاکیلئے امریکی دفترخارجہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری ہیں اورانہیں امریکاکیلئے بطورسفارتکار خدمات انجام دیتے ہوئے30سال سے زائد ہوچکے ہیں۔ڈونلڈلوپاکستان سمیت انڈیا،
آذر بائیجان ،کرغزستان اورمتعددافریقی ممالک میں قائم امریکی سفارت خانوں میں مختلف پوزیشنزپرخدمات انجام دے چکے ہیں اورانہیں اردو،ہندی اورروسی زبانوں پرعبور حاصل ہے۔ایشیائی نژاد امریکی ڈونلڈلوامریکا کی ریاست ہوائی سے تعلق رکھتے ہیں۔ڈونلڈلوکے والدکاتعلق چین کے شہرشنگھائی سے تھاجنہوں نے تائیوان سے امریکانقل مکانی کی اورہوائی سے تعلق رکھنے والی خاتون سے شادی کی۔ ڈونلڈلوکے مطابق ایشیائی امریکی ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ انھیں چینی شہری سمجھتے ہیں لیکن انھیں چینی زبان بالکل نہیں آتی۔
ڈونلڈلو1992سے1994کے دوران پاکستان کے شہرپشاورمیں امریکی قونصل خانے میں بطورپولیٹیکل آفیسربھی تعینات رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی اہلیہ ایریل سے ان کی پہلی ملاقات بھی پشاورمیں ہی ہوئی تھی،جواس وقت وہاں بطورایڈورکرکام کرتی تھیں۔ڈونلڈلونے دومرتبہ انڈیامیں بھی سفارتی ذمہ داریاں اداکیں جس کی وجہ سے وہ خطے کی سیاسی صورتحال سے بخوبی واقف ہیں۔ڈونلڈلوکے ساتھ کام کرنے والے انہیں ایک’’پروفیشنل سفیر‘‘اورایک’’شفیق انسان‘‘کی طورپردیکھتے ہیں کیونکہ یہ تعینات ہونے والے ہرنئے افسرکیلئے وہ اپنے ہاتھ سے کوکیزیعنی بسکٹ بناتے ہیں۔ڈونلڈلوان چندامریکی سفیروں میں سے ہیں جومیڈیاکے سامنے آنے سے نہیں کتراتے جب وہ البانیہ میں سفیرتھے توانہوں نے مقامی میڈیاکے متعددچینلزکوانٹرویودیے تھے۔ ڈونلڈلو کو جب بائیڈن انتظامیہ نے2021میں جنوبی اور وسطی ایشیا کیلئے اسسٹنٹ سیکریٹری نامزدکیاگیا تو انہوں نے اس عزم کا ارادہ کیاکہ وہ پاکستان سے دوستانہ تعلقات مضبوط بنانے میں ایک مثالی کرداراداکرنے کے خواہاں ہیں اورپاکستان میں انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور امریکا وپاکستان کے درمیان دہشتگردی کے خلاف تعاون کوفروغ دینے میں مدددیں گے۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ کسی دوسرے ملک سے سفارتی رابطے کے دوران ڈونلڈلوپرسخت اوردھمکی آمیزالفاظ استعمال کاالزام لگایا گیاہو۔رواں سال فروری میں نیپال اورامریکاکے درمیان طے شدہ ایک انفراسٹرکچرمعاہدے کی نیپال کی پارلیمان میں توثیق کے معاملے پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیااورمقامی شہریوں کی جانب سے اس کے خلاف احتجاج بھی کیاگیا۔احتجاج کی وجہ یہ تھی کہ ان کے خیال میں اس معاہدے سے نیپال میں امریکی فوجی موجوگی کی راہ ہموارہوگی۔عوامی احتجاج کی وجہ سے جب نیپال کی پارلیمان کی جانب سے اس معاہدے کی توثیق میں کچھ تاخیرہوئی تونیپالی اخبارات میں ان دعوؤں پرمبنی خبریں شائع ہوئیں کہ ڈونلڈلو نے نیپالی رہنماکوایک فون کال کے دوران یہ دھمکی دی کہ اگر نیپال کی پارلیمان نے اس معاہدے کی توثیق نہیں کی توانہیں سنگین نتائج کاسامناکرناپڑسکتاہے جوکہ امریکانیپال تعلقات پراثراندازہوگا۔تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے ان الزامات کی تردیدکی تھی اور اس کے کچھ عرصے بعدہی نیپال کی پارلیمان کی جانب سے اس معاہدے کی توثیق کردی گئی۔
اوراب پاکستان کی حکومت کی جانب سے ڈونلڈلوپریہ الزام عائدکیاگیاہیکہ انہوں نے امریکامیں پاکستانی سفیرسے ملاقات کے دوران نہایت سخت الفاظ کااستعمال کیاجوعموماً سفارتکاری کے دوران دیکھنے میں نہیں آتالیکن یہ بات بھی یہاں قابل ذکرہے کہ امریکی سفارت کاروں کاپاکستانی رہنماؤں کے ساتھ دھمکی آمیزرویہ اختیارکرنے کایہ پہلاواقعہ نہیں۔سابق صدرپرویزمشرف نے بھی الزام عائدکیاتھاکہ اس وقت کے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ رچرڈآرمیٹیج نے پاکستان کودھمکی دی تھی کہ اگرپاکستان نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں ان کاساتھ نہ دیاتووہ پاکستان پربمباری کرکے اسے پتھرکے دورمیں پہنچادیں گے۔
عمران خان کے مطابق ڈونلڈلونے پاکستانی سفیرسے ملاقات سات مارچ کوکی تھی،جس میں مبینہ طورپرانہوں نے عمران خان کی جانب سے روس کے دورے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اورتحریک عدم اعتماد کی کامیابی سے متعلق مبینہ متنازع بیان دیالیکن اہم سوال یہ ہے کہ اس کے دس دن بعدہی امریکامیں پاکستان کے سفارت خانے نے انہیں17مارچ کوخواتین لیڈزسے متعلق پروگرام میں بطورمہمان خصوصی کیوں مدعوکیاتھا؟اگرڈونلڈلوکی جانب سے پاکستان کے رہنماکے خلاف دھمکی آمیزالفاظ استعمال کیے گئے تھے توکیا پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے انہیں کچھ ہی دن بعدبطورمہمان خصوصی مدعوکرنادرست اقدام تھا؟جس کی منظوری اسلام آبادمیں بیٹھے وزیرخارجہ نے دی تھی۔یہ ان بہت سے سوالات میں سے ایک جن کے جوابات اب تک سامنے نہیں آئے ہیں۔
چیف جسٹس عمرعطابندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے’’مجوزہ سازش کیس‘‘متفقہ فیصلے دیتے ہوئے اسمبلیاں بحال کرنے اورعدم اعتمادکی تحریک پرووٹنگ کیلئے قومی اسمبلی کیاجلاس کے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکرکے فیصلہ کوآئینی اختیارات کی خلاف ورزی قراردے دیاہے۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ آئین کے تحفظ کی ڈیوٹی کے تحت تین اپریل کو ڈپٹی سپیکرکے آئینی اختیارات کی خلاف ورزی پرازخودنوٹس لیاگیا۔
ڈپٹی سپیکرکی رولنگ کی وجہ سے اسمبلی میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتمادپرووٹنگ نہیں ہوسکی اورڈپٹی سپیکرکے فیصلے کے بعدقومی اسمبلی کوغیرآئینی طورپرتحلیل کرنے کے اعلان نے عوام کوغیرقانونی طورپرعام انتخابات کی طرف دھکیل دیااورملک میں ایک آئینی بحران پیداہواجس نے ہرشہری کومتاثرکیا۔اس پورے مقدمے کے دوران بینچ کے سامنے خفیہ سائفرکامکمل متن پیش نہیں کیاگیااورنہ ہی ان ممبران قومی اسمبلی کودیاگیاجن پرپاکستان کے خلاف غیرملکی سازش میں ملوث ہونے کاالزام لگایا گیاالبتہ ڈپٹی سپیکرکی رولنگ کے حق میں دیے جانے والے دلائل میں اس سائفرکے چندحصے پیش کیے گئے۔سائفرسات مارچ کو موصول ہونے کے باوجود حکومت نے اس معاملے پرکوئی تفتیش نہیں کروائی اورنہ ہی 28مارچ اور31مارچ کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں اس کے متن کاکوئی حوالہ دیاگیا۔
اس سائفرکاتعلق سفارتی تعلقات اورقومی سلامتی امورسے جڑا ہے۔ان معاملات پرایگزیکٹیوکوپالیسی اورسیاسی ضروریات کے تحت ردِعمل دیناہوتاہے۔ڈپٹی سپیکرکی رولنگ کے دفاع میں نیشنل سکیورٹی کے نکتے کوثابت کرنے کیلئے شواہدکی ضرورت ہے۔عدالتی بنچ یاقومی اسمبلی کوکوئی ایسے شواہدبھی پیش نہیں کیے گئے جن میں مبینہ سازش کاحصہ بننے والے ممبران کے نام ہوتے یاپھر دیگرممبران اسمبلی پرتحریک عدم اعتمادکاحصہ بننے کیلئے دباؤیاکسی قسم کی کوشش کے ثبوت ہوتے۔عدالتی فیصلے میں اہم نکتے کے مطابق’’ڈپٹی سپیکرکی رولنگ میں معاملے کی انکوائری کی تجویزثابت کرتی ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے اعتراف کیاکہ ان کوبیرونی سازش سے متعلق جومواددیاگیاوہ یاتونامکمل تھایاپھرسازش کوثابت کرنے کیلئے ناکافی تھے‘‘۔
قومی اسمبلی میں یہ معاملہ وفاقی وزیرقانون نے پہلی بار3/اپریل کواس وقت اٹھایاجب تحریک عدم اعتمادپرووٹنگ ہونی تھی۔2/اپریل کوحکومت کی جانب سے مبینہ بیرونی سازش کی تحقیقات کیلئے ایک کمیشن بنانیکافیصلہ بھی یہ اشارہ کرتاہے کہ ڈپٹی سپیکر کی جانب سے نیشنل سکیورٹی وجوہات پرتحریک عدم اعتمادکومستردکرنے کی رولنگ کیلئے شواہدناکافی تھے۔ ہمارے سامنے اس مبینہ سازش کے بارے میں صرف وہی معلومات ہیں جوڈپٹی سپیکرکی رائے اورخدشات کی شکل میں سامنے آئیں لیکن ان کی رولنگ یااس کی وجوہات میں انہوں نے کہیں یہ دعویٰ نہیں کیاکہ سائفرمیں یہ ثابت ہوتاہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے ممبران کسی غیرملکی ریاست کے ساتھ مل کروزیراعظم اوران کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتمادلائے ہیں۔تحریک انصاف بیرونی سازش کے شواہدبھی نہیں دے سکی ہے،اس لئے عدالت نے ملک میں آئین کے تحفظ کیلئے یہ قدم اٹھایا۔
فیصلے کے مطابق3/اپریل کوڈپٹی سپیکرکے پاس یہ موقع تھاکہ وہ تحریک عدم اعتمادسے جڑے مراسلے کے متن اوراثرات پر قومی اسمبلی میں بحث کروائیں لیکن انہوں نے قومی اسمبلی کے کسی بھی رکن کوسنے بغیر،اورعدم اعتمادپرووٹنگ کروائے بناہی وفاقی وزیرکے الزامات پرمشتمل بیان کی بنیادپراسے مستردکردیا۔ایسا کرتے ہوئے نہ صرف ڈپٹی سپیکرنے آئین کے آرٹیکل95کو ملحوظ خاطرنہیں رکھابلکہ آرٹیکل5پربھی رولنگ دے دی جوان کے اختیاراوردائرہ کارسے باہرتھا۔یہ طے شدہ قانون ہے کہ عدالتیں حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں ،صرف قیاس آرائی پرنہیں۔عدالت سے ملکی خود مختاری اورقومی سلامتی کے دفاع میں ازخود نوٹس لینے کی درخواست کی کوئی قانونی نظیرموجودنہیں اورشواہدکی غیرموجودگی میں عدالت ایسی کسی انکوائری کااختیاربھی نہیں رکھتی۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے سائفرپراپنے اضافی نوٹ پرلکھاہے کہ’’یہ بات نوٹ کی جائے کہ جس وقت ڈپٹی سپیکرنے رولنگ دی،اس وقت تک انہوں نے سائفرکامتن نہیں پڑھاتھاکیوںکہ یہ کوڈڈتھا۔ہم حیران ہیں کہ سائفرکامتن پڑھے بغیرہی ڈپٹی سپیکرکوکیسے معلوم ہواکہ کوئی سازش ہوئی ہے اورکس نے کی ہے؟اس لئے3/اپریل کوڈپٹی سپیکرکی جانب سے دی گئی رولنگ غیرقانونی تھی۔
ڈپٹی سپیکرکویاتوتحریک عدم اعتمادپرووٹنگ کروانی چاہیے تھی یاپھروزیرقانون کی جانب سے اٹھائے گئے نکتے پربحث کروانی چاہیے تھی اورپھرووٹ کی جانب بڑھناچاہیے تھالیکن انہوں نے ان میں سے کوئی قدم نہیں اٹھایااورتحریک عدم اعتمادکوغیرآئینی قراردیتے ہوئے مستردکردیا‘‘۔
عدالت کے مطابق سپیکرکے پاس آئین کی تشریح کرتے ہوئے ایسی کوئی رولنگ دینے کااختیارنہیں جس کاقومی اسمبلی کے بزنس سے تعلق نہ ہو۔آئین کے آرٹیکل5کاقومی اسمبلی بزنس سے کوئی تعلق نہیں جس میں ہرشہری کی اس ڈیوٹی کاذکرہے کہ وہ ریاست اورآئین سے وفاداری کرے گا۔اس آرٹیکل کی کسی خلاف ورزی کے خلاف شواہدکے ساتھ کسی عدالت سے رجوع کرناچاہیے جہاں جس پرالزام لگایاجائے اس کوسننے کاموقع بھی دیاجائے۔اس کیس میں یہ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین تھے جن پرمبینہ طورپرغیر ملکی ریاست کے ساتھ مل کرسازش کاالزام لگایاگیا۔کیونکہ ڈپٹی سپیکرکی رولنگ غیرقانونی تھی،اسی لیے وزیراعظم کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویزاورصدرکی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کے حکم نے بھی آئینی حیثیت کھودی ہے۔عدالت کو اس سے کوئی مطلب نہیں کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتمادکامیاب ہوتی ہے یاناکام ہوتی ہے۔ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ ملک میں آئینی نظام کوبرقراررکھاجائے جوصرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ قومی اسمبلی کوبحال کیاجائے تاکہ آئین کے تحت کام کرسکے۔
جسٹس مظہرعالم خان نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھاہے کہ آئین کاآرٹیکل69قومی اسمبلی کے اندورنی معاملات پرعدالتی دائرہ کارمکمل طورپرختم نہیں کرتا۔واضح رہے کہ تحریک انصاف حکومت کاموقف تھا کہ سپریم کورٹ کوقومی اسمبلی کی اندرونی کارروائی پرکسی قسم کافیصلہ کرنے کااختیارنہیں ہے۔سپیکرکی جانب سے اگرقواعدکے خلاف اقدامات لیے جائیں گے جوپارلیمان کے کام میں رکاوٹ بنیں توان کومکمل طورپرآئینی تحفظ نہیں دیاجاسکتا۔جب ایک بارتحریک عدم اعتمادپرووٹنگ طے ہوچکی تھی توپھرسپیکرکے پاس ایسی کوئی طاقت یا قانونی اختیارنہیں تھاکہ وہ ووٹنگ کروانے سے گریزکرتے یااس تحریک کوووٹنگ کے بغیرمستردکرتے۔یہ ایک قدم ہی،جوآئین کی خلاف ورزی ہے،عدالت کی مداخت کیلئے کافی تھا۔اب اس بات کا فیصلہ پارلیمنٹیرینزکو کرناہے کہ مستقبل میں سپیکرکے معززعہدے پر بیٹھے کسی شخص کی جانب سے ایسے کسی جانبدارانہ قدم کوکیسے روکاجائے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ اہم نوٹ بھی لکھاہے کہ قومی اسمبلی میں آئین کی خلاف ورزی کے نتائج ہونے چاہیں اورقانون کواپناراستہ لیناچاہیے لیکن آیاان اقدمات پرآئین کے آرٹیکل چھ کااطلاق ہوتاہے یانہیں،اس کا فیصلہ اراکین پارلیمان کوکرناہے کہ وہ مستقبل میں ایسے غیرآئینی اقدامات کاراستہ کھلاچھوڑتے ہیں یاپھرکوئی ٹھوس قدم اٹھاتے ہیں۔
Comments are closed.