قوم کا حوصلہ مت توڑئیے
ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
سابق وائس چیئرمین، بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل
میں ذاتی طور پر ان لوگوں کو بالکل پسند نہیں کرتا ہوں جو اپنی گفتگوؤں میں، تحریروں میں، جاگتے، سوتے، اٹھتے بیٹھتے مسلمانوں کو لعن طعن کرتے رہتے ہیں، ان کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں اور ہر وقت ان کو ڈیمولرائز، پست ہمت اور کمزور بنانے میں سرگرم رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خود کوئی کام نہیں کرتے۔ اپنے حصہ کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر چین سے سوتے رہتے ہیں۔ اس میں ہمارے علماء کرام، ہمارے دانش ور، ہمارے نام نہاد سیاسی لیڈران اور ہمارے اخبار نویس سب شامل ہیں۔ اگر مسلمانوں میں اس وقت کوئی کمی ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ وہ کون ہے جس نے شاہیں بچوں کو صحبت زاغ میں رکھ کر خانہ خراب کردیا ہے۔ ان کے اندر پرواز میں کوتاہی اور اطوار میں خاک بازی پیدا کردی ہے۔ قوم کا انجن قوم کی قیادت ہوتی ہے۔ وہ قیادت کہاں ہے؟
2019 کے بعد حالات نے جس تیزی سے کروٹ بدلا ہے ہمارے بہت سے سورماؤں کے اوسان خطا ہوگئے ہیں۔ وہ لوگ جو گوشہ عافیت میں تھے اور سمجھ رہے تھے کہ یہ طوفان بلا شاید ٹل جائے جب انہیں یہ احساس ہوا کہ ابھی یہ کچھ دن باقی رہنے والی ہے، تو کچھ لوگوں نے فوراً اپنا قبلہ بدل لیا اور وفاداری کا پٹہ گلے میں ڈال کر حکمراں وقت کی پاپوشی میں مشغول ہوگئے۔ کچھ لوگوں کو اس کا انعام مل رہا ہے اور کچھ کو ملنے کی تمنا ہے۔ کچھ دوسرے لوگ جو بھلائے جارہے تھے اور خاموش تماشائی تھے یکایک ان کے عضو ضعیف میں جنبش پیدا ہوئی اور حالات اور ماحول کا صحیح تجزیہ کیے بغیر میدان میں کود گئے۔ وقت تمام لوگوں کو سر جوڑ کر بیٹھنے کا تھا۔ اپنی ذاتی انا اور ذاتی غرض کو طاق پر رکھ کر ایک مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کا تھا۔ مگر ایسا کرنے کے بجائے سب نے الگ ڈفلی الگ راگ چھیڑ دیا۔ تصویریں چھپی، کچھ ہاؤ ہو ہوا، میڈیا کو نیا مسالہ ملا اور مسلمانوں کے خلاف ماحول بنانے میں اس نے بہت کام کیا۔ کہیں تو موذن اذان دے کر خود سوگیا اور کہیں قیام سے پہلے جماعت بکھر گئی۔ لوگوں کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ احتجاج برائے احتجاج کا کوئی معنی مطلب نہیں ہے۔ اس کے لیے گہرے غوروفکر، وسیع تر مشورہ، ٹھوس حکمت عملی، زمینی حقائق کی صحیح سمجھ، مخالف اور موافق طاقتوں کاتجزیہ اور عوامی رابطہ بہت ضروری ہے۔ لوگ اپنے ڈرائنگ روم میں آرام سے بیٹھ کر ایک خیالی تصور بناتے ہیں اور پھر بغیر کسی تیاری کے نعرہ ہائے انقلاب بلند کرنے لگتے ہیں اور جب لوگ ان کے ساتھ نہیں آتے تو پھر پوری قوم کو کوسنے لگتے ہیں اور ایک دوسرے پرالزام تراشی بلکہ بدکلامی کرنے لگتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ بیل نہ کبھی مونڈھے چڑھی ہے نہ کبھی چڑھے گی۔
جہاں تک مسلمان عوام کا سوال ہے وہ تو اپنی تمام ترکمزوریوں کے باوجود ہر وقت تیار ہیں ظاہر سی بات ہے مسلم سوسائٹی مثالی سوسائٹی نہیں ہے۔ غربت، جہالت اور پے در پے حالات کی مار نے ان کا جوہر اصلی چھین لیا ہے۔ لیکن اس وقت اگر آپ موازنہ کریں تو مسلمان ہندوستان کی سب سے دم دار قوم ہے۔ آپ ہمیں بتائے ہندوستان میں کوئی ایسی قوم ہے جو پچھلے تین سو سالوں سے لگاتار آزمائش جھیل رہی ہے اور جس کے سر سے ہر طرح کی قیامت گزری ہے اس کا حوصلہ نہیں ٹوٹا ہے بلکہ آج بھی وہ حالات سے لوہا لینے کو تیار ہے۔ اس لیے اپنی کمیوں کا سارا دوش مسلمان عوام پر ڈالنا کتنا غلط ہے۔ آپ نے ایک لمبے عرصے تک قوم کی بچیوں کو پڑھنے نہیں دیا۔ آپ دیکھئے ہماری بیٹیوں اور بہنوں نے کس بے خوفی اور اوالعزمی کا مظاہرہ کرکے حکومت وقت کو بتا دیا ہے کہ مسلمانوں میں خواتین قوت کا ظہور ہورہا ہے اور اس کے اندرہمالیہ پہاڑ سے بھی ٹکرانے کی طاقت ہے۔ یہ وقت خارجی عناصر سے زیادہ داخلی استحکام پر کام کرنے کا ہے۔ ہمارے اندر اچھی اور معیاری تعلیم، بہتر صحت، انٹرپرینر شپ(Enterpreneurship) کا فروغ اور نوجوانوں کے لیے ایک بہتر کیریر کی گنجائش وہ امور ہیں جو پہلی ترجیح کی طالب ہیں۔ بیج صحت مند ہوگا تو درخت کو پھل دار اور سایہ دار بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ اس لیے حوصلہ پست نہیں بلکہ حوصلہ بڑھانے کا کام کیجیے۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیر ہے ساقی۔
Website: abuzarkamaluddin.com
کالم نگار’بھارت میں انسانی حقوق کا تحفظ کیوں اور کیسے؟‘ کے مصنف ہیں۔
Comments are closed.