خواب سے حقیقت تک

 

(کچھ حیدرآباد کے حوالے سے)

ظفر لکھیم پوری
بصیرت آن لائن

?️گھاس کے پتوں سے اڑان بھرتے جگنؤں، ندی کی بل کھاتی لہروں؛ لہلہاتے باغوں، کھیتوں، کھلیانوں ، چہچہاتے پرندوں اور پگڈنڈیوں پر ہنستے، کودتے، دوڑتے بچپن کو چھوڑ کر، بطور طالب علم، میرا پہلی مرتبہ حیدرآباد کا سفر ایک بے کیف تسلسل کے سوا کچھ نہ تھا، خوابوں کو سجائے ہوئے تمیز،تہذیب سے ناآشنا، شہری آداب و اطوار، سے نابلد، ہوشیاری،عقلمندی اور سنجیدگی سے ناواقف، خوبصورت احساس سے بھرپور یہ پہلا سفر ہر لحاظ سے معصومانہ تھا، حیدر آباد میں گزارے ہوئے میرے ابتدائی سال بے حد تلخ اور صبر آزما رہے، ماں باپ سے بچھڑ کر اتنی دور چلے آنے کا درد جب شدت پکڑتا تو دوریاں نوچنے اور کاٹ کھانے کو دوڑتیں؛ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا مستقبل کےخواب ،خواہشات اور امیدیں ، ماضی کے کرب و اضطراب پر حاوی ہوتی گئیں۔

*حیدرآباد*
چارسو سال قبل قطب شاہی فرمانروا محمد علی قطب شاہ نے جس حیدرآباد کی بنیاد ڈالتے ہوئے خدا سے دعا کی تھی کہ
،،میرے شہر کو لوگوں سے آباد رکھ، شاید وہ قبولیت کی گھڑی تھی، دعا قبول ہوئی، اور ایسی قبول ہوئی کہ بادشاہ کا بسایا ہوا شہر آباد ہوتا گیا ، نہ صرف آباد ہوا بلکہ تہذیب وتمدن، تعمیر و ترقی ، علم وعمل، فکر وفن اور زبان وادب کا گہوارہ بن گیا،
لکھنؤ اور دہلی کے بعد حیدرآباد سب سے بڑا علمی مرکز رہ چکا ہے، دکن کی سلطنت عالموں، ادیبوں، شاعروں، انشاء پردازوں کیلئے پسندیدہ جگہ تھی، بالخصوص نظام شاہی حکمران بڑے علم دوست اور ہنر مندوں کے قدردان تھے، اسی وجہ سے ہندوستان بھر سے اہل ہنر، اہل علم دکن کشاں کشاں چلے آئے۔

وہ *حیدرآباد* جہاں سورج ہر صبح اپنی پوری رعنائیاں بکھیرتا طلوع ہوتا ہے، جہاں چاند ہر شب ہلکا ہلکا سا کیف آور نشہ طاری کرتا ہوا نمودار ہوتا ہے، جہاں روشن مستقبل کی آس لئے نہ جانے کتنے پردیسی آتے جاتے رہتے ہیں، جہاں کی ہوا کے جھونکوں سے فضاء میں عجیب سا خمار برپا رہتا ہے،خدا جانے کیسی عجب کشش ہے کہ جو جاتا ہے وہیں کا ہوکر رہ جاتا ہے، جس کے آگے جذبات، احساسات، محبتیں سمٹ کر رہ جاتی ہیں، جس کی چوکھٹ پہ آنکھیں جھکانے اور جس کے وقار کے آگے گردن خم کرنےکا جی چاہتا ہے۔
میری حقیقی زندگی کا سرِّ آغاز وہی حیدرآباد ہے، جو کبھی میرا مستقبل تھا پھر حال بنا اور اب صرف خوبصورت ماضی، میں نے وہاں گیارہ بارہ سال گزارے، میرے خوابوں اور خیالوں کا اکثر حصہ وہیں سے جڑتا ہے، میرا ناتمام وجود وہیں تمام ہوتا ہے، میرا انگ انگ جس کا قرض دار اور میری ایک ایک رگ جس کی احسان مند ہے، جس کی کوکھ میں میری زبان کو گویائی،آنکھوں کو بینائی اور قلب کو دانائی ملی، میرے شعور کی آنکھیں، عقل و ہوش اور احساس کی باہیں وہیں کھلیں،
میں جو کچھ بھی بے ترتیب سا ہوں وہیں سے ہوں، میرے تمام تر حوالے وہیں سے ہیں ، میرے دل کی دھڑکنیں وہیں سے دھڑکتی ہیں، میری ہلکی پھلکی نبضیں وہیں سے چلتی ہیں، وہاں کے اچھے برے تمام حالات و حادثات میری زندگی میں ایک خوبصورت اضافہ ہیں،
عمر جب تک وفا کرے گی، ان تمام حسین ترین یادوں، ملاقاتوں، صبحوں، شاموں، اور ناقابل فراموش تذکروں کو اپنی حیات ِ مستعار کا قیمتی اثاثہ سمجھ کر سنبھال کے رکھوں گا

اب قدرت زندگی کا ایک اور ورق کھول رہی ہے ، جس میں خوابوں کی جگہ حقیقتیں، خواہشات کی جگہ ذمہ داریاں، ہنگاموں کی جگہ خاموشیاں، قربتوں کی جگہ دوریاں لیں گی، زندگی اب ایسی شاہراہ پر قدم بڑھانے جارہی ہے جہاں قدم قدم پہ خود کو ثابت کرنے کی جنگ ہوگی، جہاں خلوص کی کم دکھاوے کی زیادہ اہمیت ہوگی، جہاں لوگ ہر موڑ پر سینوں پے چڑھ کر محبتوں کی سودا بازی کریں گے، ہر لمحہ سانسوں کا امتحان ہوگا ، مجبوریاں ہوں گی، پریشانیاں ہوں گی ،لیکن اب انہیں ہنگاموں کےساتھ جینا ہے، یہی زندگی ہے اور صرف اسی کا نام زندگی ہے۔

Comments are closed.