سیاست کے خوش آئند پہلو؟
الیاس اعظمی
(سابق ممبر پارلیمنٹ )
رابطہ: 9868180355
مشہور ہے کہ دلی کا راستہ لکھنو ہوکر جاتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ اگر ۲۰۱۴ کے عام چنائو میں بی جے پی کو اترپردیش کی اسی میں سے تہتر سیٹیں نہ ملتیں تو مرکز میں مودی سرکار ہی نہ بنتی۔ اگر یوپی میں بی جے پی سرکار نہ ہوتی تو ۲۰۱۹ کے عام چنائو میں مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن مل کر ای وی ایم میں ’’کھیلا‘‘ کرکے سپا بسپا گٹھ بندھن کو کسی بھی حالت میں شکست نہیں دے سکتے تھے نہ ہی وہ بہار کی چالیس سیٹوں میں سے ۳۰ سیٹیں ہی جیت سکتے تھے جس کی وجہ سے وہ دوبارہ اقتدار میں آئے۔
میں نے پہلے بھی لکھا تھا اور اب بھی پورے اعتماد کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ ملک اور اترپردیش میں مودی اور یوگی راج کے ذمہ دار اکیلے مسلمان ہیں۔ جبکہ انہو ںنے بی جے پی کو شاید ہی چند ہزار ووٹ دیا ہو۔
اترپردیش میں پچھڑی جاتیوں کا ووٹ (ہندو بیک ورڈ) تقریباً اڑتیس فیصدی ہے جس میں نو فیصدی یادو جاتی، انیس فیصد میں درجنوں غیر یادو پچھڑی جاتیاں ہیں یہ شیڈولڈ کاسٹ اکیس فیصد ہیں جس میں تیرہ فیصدی اکیلے چمار یا جاٹو کہی جانے والی جاتی ہے، آٹھ سے نو فیصدی غیر چمار دلت ہیں، مسلمان بیس فیصد سے زیادہ اور سکھ نصف فیصد کل اکیس فیصداقلیتی ووٹ ہیں۔ باقی بیس فیصد اپرکاسٹ ووٹر ہیں جن میں آٹھ فیصد برہمن ہیں۔
یوپی میں ۲۰۱۲ سے ۲۰۱۷ تک سماج وادی پارٹی کی اکیلی اکثریت کی حکومت تھی وہ پانچ سالہ راج اس طرح چلا جیسے اکھلیش یادو کی قیادت میں یادو برادری نے اترپردیش کو بزورشمشیر فتح کیا ہو۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اونچی جاتیاں اور شیڈولڈ کاسٹ کی بھاری اکثریت نیز انیس فیصد غیر یادو بیک ورڈ جاتیاں سماج وادی پارٹی کے اسی طرح دشمن بن گئے جس طرح مسلمان بھاجپا کے اتنے مخالف ہیں کہ اگر انہیں یہ وسوسہ پیدا ہوجائے کہ میرے فلاں کوو وٹ دینے سے بھاجپا جیت سکتی ہے تو وہ فوراً اپنا اردہ بدل کر دوسرے کو ووٹ دے دیتا ہے۔
۲۰۱۴ کے چنائو میں مودی کی قیادت کو میڈیا کا سپورٹ تھا اس لیے بی جے پی کو ہرانےکےلیے مسلمانوں نے سماج وادی کا رخ کیا، غیر یادو پچھڑی جاتیوں کو خطرہ ہوا کہ مسلمانوں کی وجہ سے سماج وادی پارٹی جیت سکتی ہے لہذا ان کے انتیس فیصد میں اٹھائیس فیصد ووٹ بھاجپا کو چلا گیا، جس کے پاس تقریباً پندرہ فیصدی ووٹ تھا ہی اس لیے بھاجپا پارلیمنٹ کی ۷۳ سیٹیں جیت کر اکثریت میں آگئی، حالانکہ غیر یادو پچھڑی جاتیوں کی اکثریت نہ تو پہلے بھاجپائی تھی نہ ہی اب بھاجپائی ہے۔
جس طرح مسلمانوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بھاجپا کو روکنے کےلیے جسے چاہیں ووٹ دیں وہی حق غیر یادو پچھڑی جاتیوں کو بھی تو حاصل ہے کہ وہ اپنے ستائیس فیصدی ریزرویشن کو یادوئوں سے بچانے کےلیے جس کو دیکھیں کہ یہ سپا کو ہراسکتا ہو اسی کو اپنا ووٹ دے دیں۔ یہی واحد وجہ ہے کہ ۲۰۱۴ سے بی جے پی اترپردیش جیت رہی ہے اور جب تک مسلمان سماج وادی کو چھوڑ نہیں دیتا تب تک بی جے پی اترپردیش جیتتی رہے گی اور جس دن یہ صاف دکھنے لگا کہ اب مسلمان سپا کو ووٹ نہیں دے گا اس کے بعد اترپردیش میں بی جے پی کوئی چنائو نہیں جیت سکتی۔
اسمبلی چنائو ۲۰۲۲میں ایسا لگنے لگا تھا کہ بی جے پی سو سیٹیں بھی نہیں جیت سکتی، اس کے تابو ت میں آخری کیل بہت کس کر ٹھونکنے کی نیت سے مسلمان سپا کے لیے ’’میدان جہاد‘‘ میں اترگیا، اور ایسا نظر آنے لگا کہ اکھلیش یادو کی سرکار کو روکا نہیں جاسکتا، میں اپنے علاوہ کسی ایک آدمی کو نہیں جانتا جو اکھلیش کی اکثریتی سرکار نہ بتا رہا ہو۔
یہ دیکھ کر پہلے اپرکاسٹ کا جو ووٹر بھاجپا چھوڑ چکا تھا وہ مڑا اور پھر غیر یادو پچھڑی جاتیاں بھاجپا کی طرف واپس ہوئیں، یہاں کہ مسلمانوں کا جہاد دیکھ کر چمار جو سو فیصدی مایاوتی کا ووٹر وہ بھی صرف اکھلیش کو روکنے کےلیے نصف کے قریب بی جے پی کو چلا گیا جس کی وجہ سے مایاوتی کو صرف بارہ فیصد ووٹ ہی ملا جس میں نصف تو امیدواروں کاووٹ تھا ہی؟
میں اکیلے یہ کہتا اور لکھتا رہا کہ مسلمانوں کا سو فیصدی ووٹ لے کر سپا گٹھ بندھن سوا سو سے زیادہ سیٹیں نہیں جیت سکتا۔ انہیں غیر یادو پچھڑی جاتیوں میں سے کچھ راج بھر ووٹ ملے گا اور راج بھر برادری صرف مشرقی یوپی کے سات ضلعوں تک محدود ہے اور ان ضلعوں کی زیادہ تر سیٹیں سپا جیتی تھیں۔
یہ بات جینت چودھری سے پوچھی جاسکتی ہے کہ میں نے ان سے کہا تھا کہ اگر تم نے سپا سے گٹھ بندھن نہ توڑ ا تو مغربی یوپی میں مسلمانوں کی بھاری تعداد کے باوجود بی جے پی جیتے گی کیوں کہ جاٹ اور غیر یادو پچھڑی جاتیاں اکھلیش کو مکھیہ منتری نہیں دیکھ سکتیں؟
بہرحال اسمبلی چنائو میں مسلمانوں نے بی جے پی کے خلاف جہاد کا حق ادا کرکے اسے اکثریت سے اڑسٹھ سیٹیں زیادہ دلادیں، خوش آئند بات یہ ہے کہ چنائو کا رزلٹ آتے ہی سہارنپور سے بلیا تک انہیں یہ یقین دلانے کی ضرورت نہیں پڑی کہ تم کسی کو بھی اپنے اتحاد کے ذریعہ جتا سکتے ہو لیکن سماج وادی پارٹی کو قیامت تک نہیں جتا سکتے کیو ںکہ تقریباً نصف آبادی اکھلیش اقتدار کے اتنے ہی خلاف ہے جتنے خلاف مسلمان بی جے پی کے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ یادو غلبے کی اعظم گڑھ لوک سبھا اور مسلم اکثریت کی رام پور لوک سبھا سیٹیں بی جے پی نے جیت لیں۔ مین پوری اعظم گڑھ اور رام پور سے زیادہ سپا کی طاقت ور سیٹ کوئی بھی نہیں ہے، اس وقت صرف مین پوری سے ملائم سنگھ یادو ایم پی ہیں، خدا نہ کرے اگر وہاں بھی ضمنی انتخاب ہوئے تو وہاں بھی سپا ہار جائے گی۔
میری یہ بات ڈائری میں نوٹ کرلیں کہ اب اترپردیش میں مسلمان سپا کو ووٹ نہیں دے گا اور میں یہ بات آٹھ سال سے کہہ رہا ہوں کہ جس دن مسلمان سپا کو ووٹ دینا بند کردیا اس کے بعد اترپردیش میں بی جے پی کوئی چنائو جیت ہی نہیں سکتی۔ سپا گٹھ بندھن ٹوٹ رہا ہے، کچھ دن بعد ایم ایل اے بھاگنا شروع کردیں گے کیوں لوگ مسلمانوں کے بڑے ووٹ بینک کی وجہ سے جڑے تھے۔
اگر مسلمانوں نے میرے اندازے کے مطابق سپا کو چھوڑ دیا تو پھر بی جے پی ۲۰۲۴ کا چنائو بھی نہیں جیت سکتی اسے اترپردیش میں صرف پندرہ بیس سیٹیں ملیں تو وہ مرکز میں سرکار بھی نہیں بنا پائے گی خواہ آپ اسے دیوانے کی بڑ کیوں نہ سمجھیں؟
Comments are closed.